.

عمران خان کی سیاست کا بائولنگ ایکشن

منو بھائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کے جو بائولرز زیادہ وکٹیں لے رہے ہوتے ہیں ان کے ’’بائولنگ ایکشن ‘‘ پر اعتراض کر دیا جاتا ہے اور انہیں ٹیم سے باہر کر دیا جاتا ہے کہ اپنے بائولنگ ایکشن کو صحیح کرنے کی پریکٹس کریں۔ اس سلسلے میں تازہ ترین بائولر سعید اجمل ہیں جو ان دنوں اس پریکٹس میں مصروف ہیں اور امید ہے کہ ورلڈ کپ کے معرکے تک وہ اپنا بائولنگ ایکشن صحیح اور قانونی کر چکے ہوں گے ۔

عمران خان پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان کے علاوہ زبردست بائولر بھی تھے مگر ان کے بائولنگ ایکشن کو کبھی مشکوک قرار نہیں دیا گیا مگر علامہ طاہر القادری کے ساتھ دھرنوں کی سیاست شروع کرنے پر ان کے بائولنگ ایکشن پر اعتراض کیا جا رہا ہے مگر ان کے ایکشن کا جائزہ لینے والا کوئی عالمی ادارہ نہیں ہے چنانچہ ان کے بائولنگ ایکشن پر واویلا کرنے والوں کا واویلا ضائع جا رہا ہے اور وہ تیس نومبر کو پھر اپنا بائولنگ ایکشن دکھانے جارہے ہیں۔وہ ایک ہی گیند سے کئی وکٹیں اڑانے کا دعویٰ بھی کر رہا ہے۔ جس روز دبئی میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم نیوزی لینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میچ کی تیاری کر رہی تھی۔ اس روز اسلام آباد پولیس 30نومبر کوفیلڈنگ کی ریہرسل کرتی دکھائی جا رہی تھی۔

گزشتہ دھرنے میں آنسو گیس کے زیر اثر بیمار ہو جانے والے علامہ ڈاکٹر پروفیسر طاہر القادری نے کہا ہے کہ عوام انہیں عام انتخابات میں دو تہائی اکثریت سے کامیابی دلوائیں تو وہ ملک کا نظام بدل کر رکھ دیں گے مگر ملک کا نظام تو علامہ صاحب کی پارٹی کو دو تہائی انتخابی کامیابی دلانے سے ہی بدل جائے گا ۔علامہ صاحب مزید کیا بدلنا ہو گا؟ عوام کا روپ دھار کر سیاسی جماعتوں کو دو تہائی اکثریت فراہم کرنے والے عناصر ہی جمہوریت کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ ان نام نہاد عوام کی دھاندلیوں کے خلاف ہی تو یہ دھرنے لگائے جا رہے ہیں۔یہ سوچنا کہ دوتہائی اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے والے نظام بدل کر رکھ دیں گے ایسے ہی ہے جیسے سوچا جائے کہ ملک کے سب لوگ قانون اور آئین کی پابندی کرنے لگیں تو ملک میں آئین و قانون کی بالادستی قائم ہو جائے گی۔ سب لوگ واجب الادا ٹیکس ادا کرنے لگیں تو غیر ملکی قرضوں کی ضرورت نہیں رہے گی۔

ملک کے سب لوگ پڑھنے لکھنے کے قابل ہو جائیں تو ملک سے جہالت کے اندھیرے غائب ہو جائیں گے۔ سب لوگ دیکھنے لگیں تو ملک میں کوئی اندھا نہیں رہے گا ۔علامہ قادری نے اپنے انقلاب کے نفاذ کے بعد غریبوں کو اشیائے ضرورت کی فراہمی آدھی قیمتوں پر کرنے کی بشارت دی ہےمگر علامہ صاحب جانتے ہیں کہ سرمایہ داری نظام کے اندر رہتے ہوئے وہ یہ کبھی بھی نہیں کر سکیں گے۔ اگر یہ کرنے کی کوشش کریں گے تو ان کی پارٹی کا انجام ہندوستان کہ ’’عام آدمی پارٹی ‘‘ کے انجام جیسا ہو گا۔ جو نظام منافعوں کی شرح برقرار رکھنے کے لئے منوں اور ٹنوں کی مقدار میں اشیائے ضرورت سمندر میں پھینک دیتا ہے وہ بازاری معیشت پر اس نوعیت کے حملے کی اجازت کیسے دے سکتا ہے ؟

امیر جماعت اسلامی نے بھی اعلان فرمایا ہے کہ ملک کو سودی نظام سے نجات دلا دیں گے۔ یہ دعویٰ بھی علامہ صاحب کے دعوے جیسا ہے ۔ سرمایہ داری نظام کی حفاظت کرنے والے نہ جماعت اسلامی کو اپنا نظام ختم کرنے دیں گے نہ علامہ صاحب کو ضروریات زندگی آدھی قیمت پر فروخت کرنے دیں گے۔چند سال پہلے میاں نواز شریف نے اعلان کیا تھا کہ وہ لاہور کو پیرس بنا دیں گے ۔ ان کالموں میں عرض کی گئی تھی کہ وہ لاہور کو پیرس بنانے سے پہلے لاہور ہی بنا دیں تو ان کا کارنامہ ہو گا ۔ ایک کالم نگار نے لکھا تھا کہ وہ لاہور کو پیرس بنانے سے پہلے رکشوں اور ٹیکسیوں میں کرایوں کے میٹر ہی لگوا دیں۔ عوام کو پینے کا صاف ستھرا پانی ہی پلا دیں ، دودھ میں پانی یا پانی میں دودھ ملانے والے کو قانون کی گرفت میں لانے کی کوشش فرما دیں ۔ مگر وہ لاہور کو پیرس بنانے سے پہلے کرنے کے کام نہیں کر سکے تھے چنانچہ لاہور بھی پیرس بنتے بنتے رہ گیا تھا۔ اندیشہ ہے کہ کہیں عمران خان کا نیا پاکستان اور علامہ قادری کا انقلاب بھی ایسے ہی آتے آتے رہ نہ جائے، شاعر نے کہا تھا ؔ
آتے آتے یوں ہی دم بھر کو رکی ہوگی بہار
جاتے جاتے یوں ہی پل بھر کو خزاں ٹھہری ہے
مگر موسموں کو اس کی کوئی اطلاع ہی نہیں تھی!

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.