حکیم صاحب کی حکمت عملی!

عطاء الحق قاسمی
عطاء الحق قاسمی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

اخبارات میں ایک اشتہار شائع ہوا ہے۔ یہ اشتہار تین کالمی سرخیوں کے ساتھ چھپا ہے۔ سرخیاں ہیں ’’معروف معالج حکیم ..... کی کراچی آمد پرمریضوں کا بے پناہ رش‘‘ ....... ’’ہزاروں مریضوں کوٹائم نہ ملنے کی وجہ سے مایوس ہو کر واپس جانا پڑا‘‘ ....... اس قدر سنسنی خیز سرخیوں کے بعد ممکن نہ تھا کہ اس کےمتن کا مطالعہ کیا جاتا۔ پورا متن تو بہت طویل ہے مگر اس کا کچھ حصہ آپ بھی ضرور پڑھیں۔ میں نے حکیم صاحب کا نام اور پتہ درمیان میں سے حذف کردیا ہے کیونکہ ان کے پاس پہلے ہی بے پناہ رش ہے۔ بہر حال اس اشتہار کے کچھ اقتباسات ملاحظہ فرمائیں۔

گزشتہ روز حکیم صاحب نے اپنے بڑے بھائی کے ساتھ کراچی شہر کا دورہ کیا اور بے شمار مریضوں کو دیکھا۔ حکیم صاحب نے9 بجے اپنے دیئے ہوئے پتے پر پہنچنا تھا مگر رش زیادہ ہونے کی وجہ سے صبح 6 بجے ہی جانا پڑا۔ حکیم صاحب اپنے دیئے ہوئے پتے پر پہنچے تو ان کاشاندار استقبال کیا گیا۔ حکیم صاحب کے پہنچنے سے پہلے مریضوں کی لمبی لمبی قطاریں لگی ہوئی تھیں۔ قطار میں کھڑے ہونے کے باوجود ٹائم نہ مل سکا..... بعض مریضوں نے اپنی باری نہ آنے کی وجہ سے ہنگامہ آرائی بھی کی..... کئی دولت مند لوگوں نے حکیم صاحب سے صرف چند منٹ مشورہ کی خاطر ہزاروں روپوں کی پیشکش کی مگر حکیم صاحب نے یہ پیشکش ٹھکرا دی کہ میں یہاں غریب اور مفلس مریضوں کے لئے آیا ہوں جو کہ گوجرانوالہ میں میرے مطب پر نہیں پہنچ سکتے اس لئے میں پہلے انہی لوگوں کو دیکھوں گا ۔کسی بھی سرمایہ داریا دولت مند کو میں خصوصی ٹائم نہیں دے سکتا!

کراچی کے دورہ کے دوران بڑے بڑے سرمایہ داروں، صنعت کاروں، زمینداروں، وڈیروں، سیاستدانوں اور اعلیٰ افسران نے حکیم صاحب سے اپنے تعلقات بڑھانے کی کوشش بھی کی مگر حکیم صاحب نے فرمایا ’’میں یہاں امیر لوگوں سے تعلقات بنانے کے لئے نہیں آیا بلکہ یہاں کے لوگوں کو طبی اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے کے لئے مفید مشورے دینے کے لئے آیا ہوں۔ ‘‘ ...... بعض لوگوں نے حکیم صاحب کے نسخے چوری کرنے کے لئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کئے مگر وہ کسی طرح بھی حکیم صاحب کے شاگردوں کی مداخلت سے کامیاب نہ ہوسکے۔ کئی تاجروں اور صنعتکاروں نے حکیم صاحب کو کراچی میں اپنا مطب بنانےکے لئے بھاری رقم اور مفت جگہ کی پیشکش کی اورمطالبہ کیا کہ کراچی کے لئے مہینہ میں ایک ہفتہ ضرور وقف کریں مگر حکیم صاحب نے صاف انکار کردیا ’’جس نے ملنا ہے وہ میرے مطب گوجرانوالہ میں آ کر ملے۔ یہاں میں کلینک یا مطب فی الحال نہیں بنا سکتا!‘‘

حکیم صاحب کی فلائٹ کا ٹائم بھی ہو رہا تھا اور ادھر رش بڑھتا جارہا تھا۔ حکیم صاحب نے چھ بجے والی فلائٹ پر واپس لاہور جانا تھا اور حکیم صاحب کی کوشش تھی کہ کسی طرح بھی مریضوں سے فارغ ہو کرایئرپورٹ پہنچا جائے مگر مریض حکیم صاحب کو اٹھنے نہیں دے رہے تھے۔ جب حکیم صاحب نے بڑی مشکل سے ایئرپورٹ پر آنا چاہا تو بہت سے مریضوں نےان کا پیچھا کیا ا ور راستے میں ٹائم لینے کے لئے اپنی اپنی گاڑیاں کھڑی کردیں۔ بڑی مشکل سے نکل کر جب حکیم صاحب ایئرپورٹ پر پہنچے تو ایئرپورٹ پر بے شمار لوگ موجود تھے۔ حکیم صاحب نے سب لوگوں سے معذرت کی اور کہا کہ جس نے بھی علاج کروانا ہے وہ گوجرانوالہ تشریف لائے یا فون نمبر ...... پر رابطہ کرے!

میرا ارادہ ابھی اس اشتہار میں سے مزید اقتباسات پیش کرنے کا تھا مگر مجھے خدشہ پیدا ہوا کہ کہیں اس صورت میں میرے اس کالم کا معاوضہ میری بجائے حکیم صاحب کو نہ روانہ کردیا جائے اور سچی بات یہ ہے کہ حکیم صاحب ’’ڈیزرو‘‘ بھی کرتے ہیں کہ جو کالم نگار اس اشتہار پر کالم لکھے ان کے معاوضوں میں سے کچھ رقم بطور رائلٹی حکیم صاحب کو ارسال کی جائے بلکہ میرا ذاتی خیال تو یہ ہے کہ مندرجہ بالا اشتہار، اشتہار کی ذیل میں آتا ہی نہیں بلکہ اسے کالم کے طور پرشائع کیا جاسکتا تھا۔ آخر پہلے بھی توکئی ’’اشتہار‘‘ بطور کالم اخبارات میں شائع ہوتے ہیں۔ اب خیر تیر کمان سے نکل چکا ہے لیکن اگر حکیم صاحب اپنی بے پناہ پروفیشنل مصروفیات میں سے وقت نکال سکیں تو میرا مشورہ ہے کہ وہ کالم نگاری اختیار کریں۔ میں یہ مشورہ اس لئے دے رہا ہوں کہ یہ اشتہار پڑھنے کے بعد میرا ارادہ حکیم بننے کا ہے!
حکیم صاحب کے کسی گمنام اور بے لوث مداح کی طرف سے شائع شدہ یہ اشتہار پڑھ کر مجھے حکیم صاحب پر بہت رشک آیا ہے۔ میں نہیں جانتاکہ گوجرانوالہ میں ان کے مطب پر کوئی رش ہوتا ہے یا نہیں لیکن جو احوال انہوں نے کراچی کا بتایا ہے اس سے یہ بات ایک دفعہ پھر ثابت ہو جاتی ہے کہ:

عزت اسے ملی جو وطن سے نکل گیا

بلکہ مجھے لگتا ہے کہ حکیم صاحب نے کراچی میں اپنے استقبال کے ضمن میں خاصے انکسار سے بھی کام لیا ہے کیونکہ انہوں نے اس جگہ کا نام نہیں بتایا جہاں وہ مریضوں کو دیکھ رہے تھے اور بے شمار مریض ٹائم نہ ملنے کی وجہ سے ہنگامہ آرائی پر بھی مجبور ہوئے تھے۔ اگر حکیم صاحب اس علاقے کا نام لکھ دیتے تو پھر اس علاقے کے لوگوں کو اخبارات میں مراسلے لکھنا پڑتے کہ حکیم صاحب نے مریضوں کی تعداد کے ضمن میں غلط بیانی سے کام لیاہے کیونکہ مریض ہزاروں نہیں،لاکھوں کی تعداد میں تھے اورٹائم نہ ملنے والے مریضوں کا معاملہ صرف ہنگامہ آرائی تک محدود نہیں بلکہ پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج بھی کیا اور آنسو گیس بھی پھینکی مگر حکیم صاحب خاصے صلح کل اور منکسر المزاج لگتے ہیں چنانچہ انہوں نےاس کنٹروورسی میں پڑنے کی بجائے ’’جائےواردات‘‘ کا ذکر ہی گول کر دیا تاکہ کسی کوشکایت کا موقع نہ مل سکے۔
ابھی اگلی شرافت کے نمونے پائےجاتے ہیں۔

ویسے یہ اشتہار پڑھ کر اہل لاہور کی بدقسمتی پر رونابھی آیا ہے کہ اتنے بڑے حکیم صاحب صرف چالیس میل کے فاصلے پر موجود ہیں اور ان کے بارے میں انہیں کچھ خبر ہی نہیں۔ دراصل ہم لوگ ماضی پرست واقع ہوئے ہیں۔ چنانچہ ابھی تک مسیح الملک حکیم اجمل خان اور شفا الملک حکیم محمد حسن قرشی کے سحر میں زندہ ہیں اور اردگرد نظر دوڑاتے ہی نہیں۔ اس میں کچھ قصور قبلہ حکیم صاحب کا بھی ہے کہ وہ کراچی جا کر بھی لوگوں کو گوجرانوالہ آنے پراصرار کرتے رہے۔ ممکن ہے یہ ان کے نسخوں کی ضرورت بھی ہو کہ جس معیار کے بٹیرے اور چڑے گوجرانوالہ میں ملتے ہیں وہ کراچی یا لاہور میں دستیاب نہیں تاہم اس کے باوجودحکیم صاحب کو چاہئے کہ وہ اپنے مریضوں کی مجبوری کا خیال رکھیں۔ انہوں نے اچھا کیا کہ کراچی میں کلینک کھولنے کے لئے بڑے بڑے صنعت کاروں اور سرمایہ داروں کی پیشکش کو پائے حقارت سے ٹھکرا دیا کہ حکیم صاحب کی درویشی کا تقاضا یہی تھا کہ مگر میرا ایک دوست جو اس وقت میرے پاس بیٹھا ہے اور ساتھ ساتھ یہ کالم پڑھتا جارہا ہے اہل لاہور کی طرف سے ایک پیشکش اس نے بھی کی ہے اور درخواست کی ہے کہ قبلہ حکیم صاحب یہ پیشکش قبول فرمائیں کہ یہ کسی سرمایہ دار کی طرف سے نہیں۔ پیشکش یہ ہے کہ حکیم صاحب ہفتے میں صرف ایک دن لاہور بھی تشریف لایا کریں اور یہاں لکشمی چوک، سرکلر روڈ وغیرہ کے کسی گوشے میں ہر جمعے کو اپنے فیض عام کا اہتمام فرمائیں۔ جمعہ کےروز ان مقامات پر بعض جعلی حکیم بھی مجمع لگا کر بیٹھے ہوتے ہیں جو سادہ لوح مریضوں کی صحتوں سے کھیلتے ہیں۔ قبلہ حکیم صاحب اگر یہ غریبانہ پیشکش قبول فرمائیں جوہرگز ہرگز ان کے شایان شان نہیں تو ان کے دست مسیحا سے جعلی حکیموں کاپردہ چاک ہو جائےگا اوریوں یہ عوام کی بے پناہ خدمت ہوگی۔ میں اپنے دوست کی فرمائش اپنے کالم میں کبھی نہ دہراتا اگراشتہار کے مندرجات سے مجھے یہ تاثر نہ ملا ہوتا کہ حکیم صاحب کو مال و دولت اورشان و شوکت سے کوئی غرض نہیں بلکہ ان کی اس درویشی اور کراچی میں ان کی بے پناہ پذیرائی سے تو مجھے یہ تاثر بھی ملا ہے کہ وہ حکیم نہیں بلکہ 1990 کے ’’حکیم الامت‘‘ہیں جن پر خلق خدا ٹوٹ کر گری ہے۔
چنانچہ میں اپنے دوست کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے ان سے درخواست کروں گا کہ پہلوانوں کےشہر گوجرانوالہ میں ان کی افادیت زیادہ نہیں بلکہ مستقبل بھی محفوظ نہیں کہ اس قسم کے اشتہارات کے بعد پہلوان قسم کے مریض تو ان کے مطب کے دروازے اکھیڑ ڈالیںگے اور یوں حکیم صاحب کا سکون غارت ہو جائے گا لہٰذا میری د رخواست ہے کہ حکیم صاحب میرے دوست کی درخواست پر غور فرمائیں۔ لکشمی چوک یا سرکلر روڈوغیرہ پر ہفتہ وار عارضی مطب کے لئے تھوڑا بہت نذرانہ پولیس والوں یا کارپوریشن کے اہل کاروں کو پیش کرنا پڑتا ہے۔ حکیم صاحب اس کی فکر نہ کریں۔ اہل لاہور قبلہ حکیم صاحب سے اپنی عقیدت کے ثبوت کے طور پر یہ حقیر سی رقم اپنی جیب سے ادا کریںگے۔ (قند مکرر)

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size