نرم و گرم نہیں آہنی مصافحہ

عبدالقادر حسن
عبدالقادر حسن
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

ہماری سیاست میں اگرچہ اطفال بہت سے ہیں کچھ عمر کے حساب سے اور کچھ سیاسی تجربے کے حساب سے۔ میں نے ایسے ایک بزرگ سیاستدان کو ٹی وی کیمرے کے سامنے دو گولیاں دوائی کھاتے دیکھا ایسے کہ دوائی ہتھیلی پر اور نظریں کیمرے پر۔ یہ تھے شمس العلماء مولانا ڈاکٹر طاہر القادری وہ ان دنوں شاید نا موافق سیاست کی وجہ سے بیمار پڑ گئے ہیں وہ علاج کے لیے امریکا جانا چاہتے ہیں مگر نادان پاکستانی ڈاکٹروں نے فی الحال یہیں پاکستان میں ہی آرام کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

یاد آتا ہے مشرقی پاکستان کے انقلابی لیڈر مولانا بھاشانی بھی کبھی بیمار پڑ جاتے تھے اور خبر ملتی کہ مولانا اسپتال میں داخل ہیں بطور رپورٹر حاضر ہوتے تو مولانا ٹانگیں پھیلا کر اسپتال کے بستر پر سو رہے ہوتے اس کا پتہ ان کے خراٹوں سے چلتا۔ یہاں لاہور میں ان کا قیام ایک انقلابی جاگیردار میاں افتخار الدین کے بنگلے پر ہوا کرتا تھا لیکن بیماری کی سیاسی خبر اسپتال میں بنتی تھی اس لیے وہ بیمار ہو کر اسپتال میں داخل ہو جاتے تھے۔ ان کی بیماری بھی بہت مشہور تھی۔ ہمارے غیر انقلابی مولانا بھی بیمار ہونے شروع ہو گئے ہیں خدا انھیں جلد از جلد صحت کاملہ عطا فرمائے کہ وہ دھرنا نہ سہی جلسے ہی کرتے رہیں۔ مولانا کی طرح ان کا دوست لیڈر 62 سالہ نوجوان عمران خان ان دنوں ایک بہت بڑے مخمصے میں ہے۔

آنے والے کل کو وہ کوئی معرکہ برپا کر رہے ہیں اور حکومتی حلقوں میں ایک ہلچل سی برپا ہے اور حکومت اپنی اس اپوزیشن کے جلسے کی خوب پبلسٹی کر رہی ہے اوپر سے نیچے تک کے سرکاری لیڈر یعنی وزیر وغیرہ بیانات جاری کر رہے ہیں جن میں کوئی نہ کوئی دھمکی سرفہرست ہوتی ہے۔ لگتا ہے حکومت اس نہتے اپوزیشن لیڈر کی طرف سے پریشان ہو گئی ہے حالانکہ فی الوقت اس کے پاس بلّا تک نہیں ہے اور اس کے جو ساتھی ہیں وہ اتنے دولت مند ہیں کہ جرات مند ہو ہی نہیں سکتے۔ دولت اور جرات دو متضاد چیزیں ہیں۔ دولت مند لوگوں کو اپنے کارندوں کے ذریعے جرات و جسارت دکھانی چاہیے جیسے گلو بٹ نہ کہ بذات خود کسی معرکے میں اترنا چاہیے۔ مجھے خطرہ ہے کہ عمران نے بہت بڑا چیلنج کر دیا ہے۔

اسے یا تو کسی نے اس پر اکسایا ہے یا اس کی اندرونی بے قراری نے اسے اس عجلت پر مجبور کر دیا ہے۔ وہ ایک غیر معمولی بے مثال دھرنے سے ابھی فارغ نہیں ہوا کہ اس نے اپنے تمام لاتعداد دھرنوں کے برابر ایک ’’دھرنا‘‘ دینے کا نعرہ لگا دیا ہے۔ ان کے ساتھی ان کے ساتھ کیا کرتے ہیں یہ دیکھ لیں گے کہ صرف ایک دن کی تو بات ہے۔ کہیں میاں صاحب والی بات نہ ہو کہ ’’قدم بڑھاؤ نواز شریف ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘ لیکن میاں صاحب کے بقول پیچھے مڑ کر دیکھا تو کوئی بھی نہ تھا۔ ہمارے مایوس نوجوان اس وقت عمران کو اپنا لیڈر مان چکے ہیں اور پرامید ہیں ان کی مایوسی خطرناک ہو سکتی ہے۔

میرے جیسے معمر لوگ بھی عمران میں اپنا ’مستقبل‘ دیکھ رہے ہیں کہ اس پاکستان کی ایک جھلک دیکھ لیں جسے پیدا کرنے کے لیے ہمارے قافلے کبھی چلے تھے لیکن دھڑام سے منہ کے بل گر گئے اور کپڑے جھاڑ کر اٹھے تو سامنے انگریز کے پلے ہوئے کھوکھلی بے جان زندگیاں گزارنے والے اشرافیہ کھڑے تھے اور پھر چل سو چل آج کا دن آ گیا جب پھر ایک نا تجربہ کار مگر بے نقص لیڈر دکھائی دیا بظاہر بے عیب کہ اس کے کہنے پر وہ ایک نا ممکن سیاسی عمل سے گزرنے لگے۔ کیا کسی نے کبھی اس قدر طویل اور پر جوش دھرنے کا تصور بھی کیا تھا جو عمران خان کی اپیل پر شروع ہوا اور چل رہا ہے۔ بہر کیف اب ایک دن بعد دیکھ لیں گے کہ کیا ہوتا ہے اب کے حکومت بھی پوری طرح میدان میں اتر رہی ہے جس کے پاس بہت کچھ ہے دوسری طرف جوش ہی جوش ہے اور فلک شگاف نعرے ہیں۔ کل تک صبر۔

سارک کا اجلاس ختم ہوا۔ اس اجلاس پر شروع سے آخر تک ایک تذبذب جاری رہا کہ سارک کے دو بڑے ملک بھارت اور پاکستان کے وزراء اعظم آپس میں ملتے ہیں یا نہیں۔ ملے تو وہ نہیں لیکن خبروں کے مطابق پرجوش مصافحہ ضرور ہوا اور چند باتیں بھی۔ بھارت کی بے اعتنائی اور نخرے بازی کا مجھے خوب اندازہ ہے۔ میں سارک کے سیاسی اجلاس میں بطور رپورٹر موجود تھا۔ اس وقت ڈھاکا کی فضا بھی ایسی ہی تھی جیسے کٹھمنڈو کی تھی۔ صدر ضیاء الحق نے ہم صحافیوں سے باتوں باتوں میں کہا کہ سارک کا انحصار بھارت پر ہے وہ چاہے گا تو یہ تنظیم چلے گی ورنہ نہیں۔ اس دفعہ فضاء کو تھوڑا سا مختلف ہونا چاہیے تھا کہ اب پاکستان کے پاس بھی ایٹم بم ہے اور بھارت کی کسی بڑی شرارت کا جواب موجود ہے۔

بھارت تو ایسا ہے کہ ادھر مصافحہ ہو رہا تھا اور ادھر لائن آف کنٹرول پر توپیں چل رہی تھیں۔ بھارت کی طرف سے یہ چار و ناچار مصافحے کا جواب تھا۔ پاکستان کے لیے لازم ہے کہ بھارت کے ساتھ کسی آہنی مصافحے کے لیے تیار رہے۔ نرم ملا ئم ہاتھوں والے دست پنجے کو بھارت محسوس نہیں کرتا۔ گزشتہ 67 برسوں کی زندگی میں یہ طے ہوا ہے کہ بھارت کے ساتھ دوستی کی توقع ایک حماقت ہے۔ سیدھی بات ہے کہ بھارت پاکستان کو اپنی مادر وطن کا ایک کٹا ہوا ٹکڑا سمجھتا ہے اور یہ مشن رکھتا ہے کہ وہ ایک نہ ایک دن اس ٹکڑے کو اپنے ساتھ ملا لے گا۔

یہ بات پاکستانیوں کو معلوم ہے لیکن ہمارے مسلسل بزدل حکمرانوں نے کبھی اس کا عملی اعتراف نہیں کیا ہے اور اب تو بھارت کی جو حکومت ہے اس نے الیکشن ہی اعلانیہ مسلم اور پاکستان دشمنی پر لڑا ہے اور بھارتی وزیر اعظم مسلمانوں کے قاتل کے طور پر مشہور ہیں اور بھارتی ہندو اس پر بہت خوش ہیں اور بجا طور پر خوش ہیں کہ وہ 67 برس بعد اپنے جذبات کو عمل کی دنیا میں دیکھ رہے ہیں لیکن دوسری طرف ہم پاکستانی بھی پاکستان کے قیام سے ایک مقصد لے کر آئے تھے جو ہم نے قطعاً فراموش کر دیا بلکہ حیران کن حد تک جب بھارت کی طرح ہمارے وزیراعظم کو بھی بھاری اکثریت کے ساتھ ووٹ ملے تو ہمیں کہیں سے خواب آیا کہ یہ ووٹ تو بھارت کے ساتھ دوستی کے ووٹ ہیں چنانچہ ہم نے اپنے خواب کو بڑے فخر کے ساتھ برملا بیان بھی کر دیا۔

بس بھارت اور ہمارے درمیان یہی فرق ہے جب کہ میں اور لاتعداد پاکستانی یہ یقین رکھتے ہیں کہ ڈاکٹر قدیر خان کے بنائے ہوئے اپنے بم کے بعد ہم دنیاوی اسلحہ میں بھی ایک دوسرے کے برابر آ گئے ہیں اور جہاں تک جرات اور شجاعت کا تعلق ہے وہ اس ایمان پر ختم ہو جاتی ہے کہ ہمیں دشمن کے مقابلے میں شہادت پر جو زندگی ملتی ہے وہ دائمی ہے ’’تم انھیں مردہ نہ سمجھو یہ تمہاری طرح کھاتے پیتے ہیں مگر دکھائی نہیں دیتے‘‘۔ ہمیں اس مصافحے کی گرفت کو بدلنا ہو گا۔

بہ شکریہ روزنامہ ایکسپریس

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size