بچوں سے بڑوں تک

عبدالقادر حسن
عبدالقادر حسن
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

لاہور کے قریب ایک اسکول بس نالے میں گر گئی ہے۔ ایک سو سے زائد بچے سوار تھے جن میں سے تین ماں باپ کو روتا چھوڑ کر جا چکے ہیں اور کئی ایک زخمی ہیں اور یہ زخمی کیسے ہیں کیا یہ اپنے زخم عمر بھر کے لیے اپنے ساتھ لے کر جائیں گے یا تھوڑی بہت مرہم پٹی کے بعد بھلے چنگے ہو جائیں گے نہ جانے کیا ہو لیکن یہ ان مسلسل حادثوں میں سے ایک ہے جو ہم دیکھتے اور سنتے ہیں۔

ہم پاکستانیوں کی عجیب قسمت بن گئی ہے یا ہم نے اپنے اعمال سے اپنی یہ قسمت بنا لی ہے کہ جب پیدا ہوتے ہیں تو بھوک پیاس اور بیماری سے مر جاتے ہیں اور جب بڑے ہوتے ہیں تو کسی دھماکے میں ختم ہو جاتے ہیں اور ان سب کا ماتم کرنے کے لیے کچھ باقی بچ جاتے ہیں۔ ہمارے سیاست دان جو کسی بے معنی غیر ملکی سفر پر کروڑوں سرکاری روپے صرف کر دیتے ہیں ایسے شوقیہ سفروں پر وہ اپنے اہل خاندان اور دوستوں کو بھی لے جاتے ہیں۔

ان کے بھرے ہوئے بینکوں میں سے ایک پیسہ بھی ان سفروں پر خرچ نہیں ہوتا۔ وہ بڑی بے حیائی کے ساتھ اس بھوکی مرتی قوم کو لوٹتے ہیں اور اپنی عیاشی پر خرچ کر دیتے ہیں کیونکہ انھوں نے کسی نہ کسی طرح قوم سے یہ احتیار لے لیا ہے کہ وہ قومی دولت کے ساتھ عیش کرتے رہیں کیونکہ وہ الیکشن میں جیت کر وزارتیں حاصل کر لیتے ہیں۔ ہمارے بچے اسپتالوں میں مر جائیں یا کسی سڑک پر ٹریفک کے کسی حادثے میں یہ ہماری قسمت ہے۔

جو ہے ہی ایسی نامراد کہ ہمیں جیتے جی مار دیتی ہے۔ اس قسمت کے تماشے دیکھیں کہ تھر کے ویران علاقے میں تو ایسی حالت ہو سکتی ہے کہ بچوں اور ماؤں کو کھانے پینے کو کچھ نہ ملے اور ملے تو انسان کے کھانے پینے کے قابل نہ ہو لیکن میرے سابقہ ضلع سرگودھا میں نوزائیدہ بچے اسپتالوں میں مرنے لگے تو میں حیرت زدہ ہو گیا کہ یہ بھوک اور بیماری کہاں سے آ گئی۔ ایسا خوش و خرم اور خوشحال علاقہ اور اس کے کسی اسپتال میں بچے مر جائیں یہ لعنت ہے ہم سرگودھیوں پر اور ہماری معاشی خوشحالی پر۔ معلوم ہوا کہ سرگودھا میں کچھ تو اسپتالوں میں ضروری علاج کا بندوبست نہ تھا اور کچھ ان اسپتالوں کے خواتین و حضرات لاپروا تھے۔ اسپتالوں میں ہر روز مریض مرتے رہتے ہیں یہ کون سی نئی بات ہے موت فوت تو زندگی کا حصہ ہے۔

بچے تھر میں مر رہے ہوں یا سرگودھا میں یہ ذمے داری وہاں کی حکومت پر ہے اور ان کے اعمال نامے میں یہ اموات درج کر دی گئی ہیں۔ جدید دور میں خاص طور پر اور پرانے زمانے میں بھی حکومت کا مطلب ہے کہ وہ انسانوں کے مال و متاع اور زندگی کی حفاظت کرے گی جو حکومت ایسا نہ کرے وہ گردن زدنی کی مستحق ہے لیکن بعض حکمران جو حکومتوں کے محاسب بھی خود ہی ہوتے ہیں اور احتساب کے تمام اختیارات بھی ان کے پاس ہوتے ہیں وہ اگر خوف خدا اور خوف عوام سے محفوظ ہوں تو پھر ان کے اسپتالوں میں نومولود بچے مرا کرتے ہیں اور جب وہ بڑے ہوتے ہیں تو لاپروا ڈرائیوروں کے شکار ہو جاتے ہیں۔ سچ ہے کہ کسی بھی حکومت میں جزا اور سزا اگر نافذ نہ ہوں تو وہ حکومت ایک ظالم حکومت بن جاتی ہے۔
جس ملک میں قتل کی سزا صرف قید ہو اس ملک میں قتل کو کون روک سکتا ہے کیونکہ قید کاٹ لینا اگر جیب میں کچھ ہو تو مشکل نہیں ہوتا اسی طرح کسی لاپروا ڈرائیور کو بھی زیادہ سے زیادہ معمولی سی قید ملتی ہے کیونکہ کسی حادثے کے ہزار بہانے ہیں۔ اس وقت ٹی وی پر عمران خان کی الیکشن میں دھاندلی کے بارے میں ایک خبر چل رہی ہے عمران نے خود ہی اس کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ اب الیکشن کمیشن نے ان الزامات کا جواب دینا شروع کر دیا ہے اور دیکھئے گا کہ یہ سارا مقدمہ الزامات اور جوابات میں ہی غرق ہو جائے گا۔ باقی ہماری آپ کی گپ شپ رہ جائے گی۔

حکومت کی کوتاہیوں اور لاپروائیوں سے کون بے خبر ہے۔ ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں ہر روز یہ تماشا دیکھتے ہیں لیکن دیکھنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں کر سکتے کیونکہ ہم اپنے پیچھے خود ہی پڑے ہوئے ہیں۔ اب آئندہ جو الیکشن ہو گا ہم اس میں پھر سے ان ھی لوگوں کو ووٹ دیں گے جن کو ہم نے پہلے بھگتا ہے اور بہت روئے ہیں۔ ہم تو یاجوج ماجوج کی اس قوم کی طرح ہیں جو سد سکندری کو چاٹ چاٹ کر باریک کر دیتی تھی اور پھر تھک کر کہتی تھی کہ اب تھوڑی سی رہ گئی اسے کل ختم کر دیں گے لیکن جب دوسرا دن طلوع ہوتا تو یہ دیوار رات بھر میں پھر سے پہلے کی طرح موٹی ہو گئی ہوتی تھی۔

دیوار کی یہ روایت بہت قدیم ہے لیکن یہ ہمارے جیسی قوم کی ترجمانی کرتی ہے اور اس کی تصویر کھینچتی ہے۔ اس لیے بھی یہ روایت زندہ چلی آ رہی ہے کہ ہم اسے مرنے نہیں دیتے۔ موجودہ سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادت پر جب نظر ڈالتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ ان میں سے شاید ہی کسی جماعت کا کوئی دین و ایمان ہو یعنی وہ بعض واضح قومی نظریات پر یقین رکھتی ہو اور انھیں نافذ کرنے کی علمبردار ہو۔ کسی نہ کسی نام سے مسلم لیگ زندہ چلی آ رہی ہے لیکن اس کا قیام پاکستان کا ایک مقصد تھا جو اس نے حاصل کر لیا اسے حاصل کر لینے کے بعد وہ قیام پاکستان کے بعد کے مقاصد کو یکسر بھول گئی اور اب تو نئی اور قسم قسم کی مسلم لیگوں کے ذہنوں میں ان مقاصد کا نام و نشان بھی باقی نہیں ہے۔

ایک زمانے میں مسلم لیگی لیڈر کہا کرتے تھے کہ یہ ملک ہم نے بنایا ہے اس لیے اس پر حکومت کرنا ہمارا حق ہے۔ انھوں نے کئی بار اس پر حکومت کی لیکن اس نے حکومت کرنے کا حق کبھی ادا نہیں کیا۔ اب بھی ملک پر مسلم لیگ کی حکومت ہے اور یہ پاکستان کا اور پاکستان کے باشندوں کا حق جس طرح ادا کر رہی ہے وہ سب ہم پر گزر رہی ہے۔ مسلم لیگ کو چھوڑیں پیپلز پارٹی اب کہاں ہے۔ یہ تو کل کی بات ہے لیکن پیپلز پارٹی والوں کو بھول گئی ہے۔ دوسری محدود جماعتیں موجود ہیں زندہ رہیں تو رونق بھی رہتی ہے اور توازن بھی برقرار رہتا ہے۔

بس ایک جماعت جو شروع دن سے ہی اپنے مقاصد پر قربان ہے وہ جماعت اسلامی ہے۔ اس میں کچھ تبدیلیاں آئی ہیں اور بعض بنیادی اصول ترک کر دیے گئے ہیں مثلاً شخصیت پرستی کا اس میں کوئی جواز نہیں تھا لیکن قاضی مرحوم کے بعد اب سراج الحق صاحب نے گویا یہ جماعت اپنے ذاتی قبضہ میں لے لی ہے کیونکہ اس کے اجتماع کے اشتہارات سے جو جماعت نے جاری کیے یہی تاثر ملا کہ جماعت اسلامی اب سراج الحق صاحب کو دے دی گئی ہے اور ان کے نام سے ہی پہچانی جاتی ہے۔

تعجب ہے کہ جماعت کے ذہنی طور پر مضبوط اور واضح اراکین نے یہ سب کیسے قبول کر لیا۔ بلاشبہ سراج الحق صاحب ایک نیک اور قلندر قسم کے بے لوث انسان ہیں لیکن جماعت کوئی خانقاہ نہیں ہے یہ ایک سیاسی جماعت ہے جو اسلام کے اصولوں پر چلتی ہے اور ان کے فروغ اور نفاذ کے لیے کام کرتی ہے۔ جماعت کی اصل طاقت یہی ہے ورنہ یہ بھی ایک عام سی دوسری سیاسی جماعتوں میں سے ایک ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ایکسپریس

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size