قوموں کی کرپشن کے علاوہ جہالت کا سروے بھی کیا جائے

منو بھائی
منو بھائی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

حکمرانوں اور تحریک انصاف کے رہنمائوں کے درمیان الزامات کی جنگ بھی جاری ہے اور دونوں کے درمیان معاہدے بھی ہورہے ہیں اورتیس نومبر کے بعد دونوں فریق مذاکرات کی میز پر بھی بیٹھ سکتے ہیں۔ گزشتہ روز کھٹمنڈو کی سارک کانفرنس میں ہندوستان اور پاکستان کے وزرائے اعظم کی ایک دوسرے سے ناراضگی اور پھر ہاتھ ملانے کا جو ڈرامہ ہوا وہ بھی پیش نظر رہنا چاہئے۔ شکوک و شبہات میں اتنا زیادہ اضافہ بھی نہیں ہونا چاہئے کہ کچھ بھی قابل اعتبار نہ رہے اور جب کچھ بھی قابل اعتبار نہیں رہے گا تو لوگ اپنے آپ پر اعتبار بھی نہیں کریں گے۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں جس قدر کرپشن اوربددیانتی کی موجودگی کا شور مچایا جاتا ہے۔ پاکستان میں اس قدر کرپشن اور بددیانتی کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ ’’ورلڈ جسٹس پراجیکٹ‘‘ کے عنوان سے دنیا بھر کے ملکوں کی کرپشن اور بددیانتی ناپنے کا دعویٰ کرنے والے ایک ادارے نے ابھی حال ہی میں دنیا کےننانوے ملکوں میں بددیانتی، رشوت ستانی اور کرپشن کے دیگر ذرائع کا سروے فرمایا ہے اور اس سروے کی رپورٹ بھی جاری کردی ہے۔

WJP ورلڈ جسٹس پراجیکٹ کی سروے رپورٹ کے مطابق کرپشن کے معاملات میں ننانوے ملکوں میں پاکستان کا مقام 91 ہے۔ جب کہ سب سے زیادہ کرپٹ یعنی 99 ملکوں میں 99 نمبر پر ملک افغانستان ہے اور سری لنکا ابھی صرف 80 ویں نمبر تک ہی پہنچ پایا ہے۔ پاکستان کا کرپشن میں اگر 91 کا درجہ ہے تو سول انصاف میں درجہ 94 بتایا گیا ہے۔

پی آئی اے کے مرحوم عمر قریشی بتایا کرتے تھے کہ عالمی سطح پر مختلف سروے کرنے اور ان کی رپورٹ جاری کرنے کا بہت بڑا کاروبار ہے جس میں اربوں کا لین دین چلتا ہے۔ قریشی مرحوم نے اپنے ایک اخباری کالم میں بھی لکھا کہ ایک سروے کرنے والی پارٹی ان کے رابطہ میں بھی آئی تھی اور اس پارٹی کے نمائندے نے چند لاکھ ڈالروں کے عوض پی آئی اے کو دنیا کی سب سے بہترین فضائی کمپنی قرار دینے کی پیش کش کی تھی۔ پی آئی اے کے پاس اگر چند لاکھ ڈالرز فالتو ہوتے تو شائد ایئرمارشل اصغر خان بھی یہ سروے کرانے کی پیش کش شکریے کے ساتھ مسترد نہ کرتے اور پی آئی اے آج بھی دنیا کی بہترین فضائی کمپنی ہوتی۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت کرہ ارض پر ہزاروں سروے کمپنیاں سروے کرنے میں مصروف ہیں۔ ضرورت ان سروے کرنے والی کمپنیوں یا اداروں کا سروے کرنے کی بھی ہے جس کے ذریعے ان کمپنیوں یا اداروں کی گریڈنگ کی جاسکے۔ ان کمپنیوں اوراداروں کا وہی کردار بتایا جاتا ہے جو ہمارے بچپن کے زمانے کے فال رمل، دلیل، دست شناسی ، قیافہ شناسی اور نصیبوں کا حال بتانے والوں کا ہوتا تھا جن کو دیسی زبان میں ’’ہرڑ پوپو‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔

فی زمانہ سب سے زیادہ ’’ہرڑ پوپو‘‘ انگلستان میں پائے جاتے ہیں جو ولایت میں روزگار کمانے والے پاکستانی محنت کشوں کی شکوک و شبہات میں مبتلا بیویوں کو ان کی خانگی زندگی کے بارے میں خبردار کرتے رہتے ہیں۔ ان بیویوں کے دلوں میں یہ شبہ معلوم نہیں کس وجہ سے جگہ حاصل کرلیتاہے کہ انگلستان کی عورتیں پاکستانی مردوں کو بہت پسند کرتی ہیں۔ ہرڑ پوپو شک و شبہ میں مبتلا ان بیویوں کے شکوک و شبہات کو اپنی آمدنی کا ذریعہ بناتے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کرپشن اور بددیانتی کے عالمی سروے کی بجائے جہالت اور بے وقوفی کا سروے کیا جائے۔ شکوک و شبہات میں مبتلا معاشروں کے استحصال کرنے والوں کا سروے کیا جائے۔ جعلی اور نقلی سروے کرنے والوں کے احتساب کا سروے کیا جائے، یقینی طور پر کسی بھی معاشرے کے لئے جہالت کرپشن اور بددیانتی سے کہیں زیادہ نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے بلکہ ثابت ہورہی ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں