.

جمہوریت کا انتقام

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یہ کیا ریت چل پڑی۔ کرے کوئی‘ بھرے کوئی۔ جرم ایک کرتاہے‘ سزا دوسرے کو ملتی ہے۔ افسوس صد افسوس کہ اب مولانا فضل الرحمٰن جیسے قائدین بھی اس راہ پر چل نکلے۔ نہ جانے کس نے ڈاکٹر خالد سومرو مرحوم پر گولی چلائی لیکن مولانا کے حکم پر پہیہ جام ہڑتال کے ذریعے سزا عام اور غریب پاکستانیوں کو مل گئی۔ جس نے بھی مولانا پر حملے کئے اور جس نے بھی ان کے دست راست ڈاکٹر خالد محمود سومرو کو گولیوں کانشانہ بنایا‘ انہوں نے ظلم عظیم کا ارتکاب کیا۔ وہ سنگین سزا کے مستحق ہیں ۔ مولانا کے خلاف خودکش حملوں پر ان کے چاہنے والوں کا مضطرب ہونا فطری امر ہے۔ اپنے خالد سومرو جیسے ساتھی پر مولانا کو بھی خاموش نہیں رہنا چاہئے۔ ان کے کارکنوں کو اپنی آواز ہر بااختیار کے کانوں تک پہنچا دینی چاہیے اور خالد سومرو کی ہلاکت پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرنے یا پھر اپنے دیگر ساتھیوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لئے مولانا کو ہر در کھٹکھٹانا چاہئے لیکن کیا پشاور‘ بنوں‘ کوہاٹ‘ مردان ‘ لاہور‘ کوئٹہ‘ لاہور یا کسی اور شہر کی سڑکوں کو بند کرکے مقصد حاصل ہوجائے گا؟ کیا مولانا یا ڈاکٹر سومرو پر حملوں میں ان ٹرک‘ بس‘ رکشہ یا ٹیکسی ڈرائیوروں کا کوئی ہاتھ تھا جو گزشتہ اتوار کو جے یو آئی کے احتجاج کی وجہ سے اپنے بچوں کے لئے رزق نہیں کماسکے؟ کیا ان بیمار مردوں یا خواتین نے بھی اس جرم میں کوئی کردار ادا کیا تھا‘ جو اس دن سڑکوں کی بندش کی وجہ سے اسپتال نہ پہنچنے کی وجہ سے رستے میں دم توڑ گئے؟

میں سمجھنے سے قاصر ہوں کہ پاکستانی سڑکوں کی بندش اور پاکستانیوں کے کاروبار کے ٹھپ ہوجانے سے امریکہ کی صحت پر کیا اثر پڑتا ہے؟ ایران اور عرب ممالک (جو اپنی پراکسی وار پاکستان میں گرم کئے ہوئے ہیں) کو کیا تکلیف پہنچتی ہے؟ ہندوستان جیسے پاکستان مخالف ممالک کی راہ میں کیا رکاوٹ آتی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ پاکستانی حکمرانوں یا پھر اصل حکمرانوں کے معمولات اور سہولتوں میں کیا کمی واقع ہوتی ہے؟ احتجاجوں جلسوں اور دھرنوں میںرلتے غریب ہیں‘ مرتے غریب ہیں اور رسوائی حکمران سے بڑھ کر پاکستان کے حصے میں آتی ہے۔ جے یو آئی کے احتجاج کے دن بھی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اسی طرح بلٹ پروف گاڑی میں اپنے کروفر کے ساتھ حکمرانی کرتے اور شام کو اسلام آباد آکر اپنے ’’جنون‘‘ کا اظہار کرتے رہے۔ شہباز شریف‘ قائم علی شاہ‘ ڈاکٹر عبدالمالک اور میاں نوازشریف حسب عادت اقتدار کے خمار میں مبتلا رہے۔ عالمی اور ملکی اسٹیبلشمنٹ کے سرخیلوں کو تو اس طرح کے احتجاجوں کی خبر تک نہیں ہوتی۔ اسلام آباد ‘ پشاور‘ کراچی ‘ کوئٹہ اور لاہور وغیرہ کے تعلیمی اداروں میں حکمران طبقات کے بچے پڑھتے ہیں‘ ان کا اور ان کے اہل و عیال کا ان اسپتالوں میں علاج ہوتا ہے اور نہ راستوں کی بندش سے ان کوکوئی تکلیف ہوتی ہے۔ ان کے پاس سفر کے لئے ہیلی کاپٹر بھی ہوتے ہیں اور ہوائی جہاز بھی۔

دوسری طرف عمران خان صاحب ہیں۔ انتخابات کے وقت صدر آصف علی زرداری تھے‘ وزیراعظم ان کے نامزد کردہ ایک بزرگ تھا‘ چیف الیکشن کمشنر خان صاحب کے ممدوح ایک اور ضعیف فخرالدین جی ابراہیم تھے جبکہ پری پول رگنگ یا پھر پولیٹکل منیجمنٹ اصل حکمرانوں کے ہاتھ میں تھی لیکن ان کی بجائے وہ دھاندلی کے حوالے سے نعرہ زن کچھ اور لوگوں کے خلاف ہیں۔ پھر سزا ان قوتوں یا میاں نوازشریف کو دینے کی بجائے غریب عوام اور اپنے غریب کارکنوں کو دے رہے ہیں۔ ان کے احتجاج کی آڑ میں درجنوں غریب کارکن تحریک انصاف کے مر گئے۔ جینا غریب پولیس والوں کا حرام ہوگیا ہے۔ کاروبار اسلام آباد کے دکانداروں کا تباہ ہوگیا۔ نہ خان صاحب کو اپنے محل آنے جانے میں کوئی دقت ہوتی ہے اور نہ میاں نوازشریف کو۔ دونوں کے پاس ہیلی کاپٹر ہیں اوردونوں کے راستے پہلے سے پولیس صاف کردیتی ہے لیکن اسلام آباد کے پمز تک جو مریض پانچ منٹ میں پہنچتا تھا وہ اب گھنٹوں میں پہنچتا ہے۔ قضیہ لاہور کے چار حلقوں کا ہے اور سزا خیبر پختونخوا کے غریب عوام کو مل رہی ہے۔ وہ ایم این اے جو خیبرپختونخوا کے عوام نے عسکریت پسندی‘ ملٹری آپریشنوں‘ غربت‘ مہنگائی اور دیگر سنگین مسائل کے حل کے لئے قومی اسمبلی میں بھیجے تھے‘ اپنے حلقوں میں جانے یا وہاں کے مسائل پر بات کرنے کی بجائے ٹی وی ٹاک شوز میں مخالفین کی بے عزتیاں کرتے یا پھر کنٹینر پر جھومتے نظر آتے ہیں۔ اب تو خان صاحب نے لاہور‘ فیصل آباد‘ کراچی اور پھر پورے پاکستان کو بند کرنے کا اعلان کردیا۔ ادھر سے میاں نوازشریف ہیں کہ جو ماشاء اللہ اس حوالے سے اپنی مثال آپ ہیں۔ اور تو اور وہ تومخالفین کو سزا دینے کی بجائے اپنی جماعت کو سزا دینے لگے ہیں۔

جنرل پرویز مشرف کوانہوں نے ہیرو بنا دیا لیکن سزا دے رہے ہیں پیر صابر شاہ‘ سید غوث علی شاہ‘ اقبال ظفر جھگڑا اور اسی نوع کے دیگر جیالوں کو۔ مختلف طبقات کو انہوں نے آزاد چھوڑا ہوا ہے کہ ایک دوسرے کو سزا دیں لیکن پرویز مشرف کے چہیتوں کو نواز رہے ہیں۔ عمران خان سے ان کی محبت یا عقیدت کا یہ عالم ہے کہ ان کے ممبران اسمبلی کے استعفے منظور نہیں کررہے ہیں لیکن ان کا احتجاج ختم کرنے کا کوئی راستہ بھی نہیں نکال رہے ہیں تاکہ عوام کو سزا ملتی رہے۔ شاید اسی تناظر میں کہا جاتا ہے کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے۔ جس طریقے سے سب لیڈر مل کر عوام سے انتقام لے رہے ہیں‘ اس سے تو یہی لگتا ہے ۔مولانا صاحب کے احتجاج کا پہلا قدم یہ ہونا چاہئے کہ وہ اس حکومت سے الگ ہوجائیں جو ان پر حملہ کرنے والوں کا سراغ نہیں لگا سکتی اورجس کے وزیرداخلہ ان کو فون کرنے کی زحمت تک گوارا نہیں کرتے۔ عمران خان صاحب کے پاس احتجاج کا پہلا قدم یہ ہونا چاہئے کہ وہ خیبرپختونخوا اسمبلی تحلیل کردے اور ڈرامہ بازی ختم کرکے قومی اسمبلی کے اراکین کو استعفوں کی تصدیق کے لئے اسپیکر کے پاس بھجوادیں۔

پورے پاکستان کی مبینہ بندش سے میاں صاحب کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا لیکن خیبرپختونخوا اور قومی اسمبلی سے حقیقی استعفوں (اس وقت استعفوں کے معاملے پر ملی بھگت ہے) سے ان کی حکومت ہل جائے گی۔ میاں صاحب بھی ڈرامہ بازی چھوڑ دیں اور واقعی اگر وہ عمران خان کی سیاست کو ملک کے لئے نقصان دہ سمجھتے ہیں تو عوام کو سزا دینے کی بجائے ان کے استعفے منظور کروادیں۔ نہیں تو وہ وقت دور نہیں جب مظلوم عوام اٹھ کر ان سب لیڈروں سے انتقام لینے پر مجبور ہوجائیں گے یا پھر وہ لوگ اقتدار پر قابض ہوجائیں گے جن کا اقتدار اس جمہوریت سے بھی بڑا انتقام ہوتا ہے۔ یہ کیا ڈرامہ بازی ہے کہ جس احتجاج کی قیمت خود ان لیڈروں کو ادا کرنی پڑے چاہے وہ حکومت چھوڑنے یا پارلیمنٹ سے مستعفی ہونے جیسی غیرمضر شکل میں ہی کیوں نہ ہو‘ وہ احتجاج یہ لیڈران نہیں کرتے لیکن اس راستے کو اپناتے ہیں جس میں عوام کو تکلیف ہوتی ہے۔

جس میں ملک کا نقصان ہوتا ہے اور جس میں ان کو خطابات اور پریس کانفرنسیں کا موقع ملتا ہے۔ احتجاج کا اصل مدعا دنیا اور حکمرانوں تک اپنی بات پہنچانا ہوتا ہے۔ اب تو ٹی وی‘ اخبار اور انٹرنیٹ کے ذریعے یہ موقع ہر وقت میسر رہتا ہے۔ پھر عوام کو ذلیل کرنے اور رہا سہا کاروبار تباہ کرنے کا کیا جواز؟ لیکن اگر واقعی ہمارے لیڈران احتجاج ہی کو واحد راستہ سمجھتے ہیں اور اگر وہ سیاسی ڈرامہ بازی کرنے کی بجائے ایک دوسرے کے خلاف سنجیدہ ہیں تو پھر اگر مولانا صاحب نے بند کرنا ہے تو واشنگٹن یا پنڈی کو بند کردیں جن کی طرف وہ اشارہ کرتے رہتے ہیں۔ عمران خان صاحب نے اگر بند کرنا ہے تو غریبوں کے روزگار کو بند کرنے کی بجائے وزیراعظم ہائوس یا پھر رائے ونڈ محل بند کردیں۔ اور اگر میاں صاحب نے بند کرنا ہے تو بنی گالہ یا پھر لال حویلی کو بند کردیں۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.