.

ماہ دسمبر: زخم تازہ ہونے لگے

نجم الحسن عارف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ماہ دسمبر کے آتے ہی پاکستان اور اس کے سیاسی نقشے پر جاگیر دارانہ اور جرنیلی سیاست کے لگائے گئے گھاو تازہ ہو جاتے ہیں۔ چار دہائیوں سے کچھ زیادہ عرصہ ہوا پاکستان پر ایک جرنیل اور اس کے اتحادی جاگیر داروں کا مشترکہ حکومتی وینچر مکمل ہو رہا تھا۔ آج پھر پاکستان اور پاکستان کی سیاست ہی نہیں ملکی وسائل اور وسائل سے محروم غربت زدہ عام آدمی پوری طرح خود غرض، موقع پرست اور پرانے اور نئے شکاری ٹولوں کی زد پر ہیں۔ گویا سقوط پاکستان کے تنتالیس سال گذرنے کے بعد بھی ایسا کچھ نہیں بدلا جسے مثبت، امید افزاء اور ماضی سے مختلف کہا جا سکے۔

کچھ لوگوں کو خوش گمانی تھی کہ میڈیا کی بدولت بہتری آئے گی۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو میڈیا کا کردار ماضی کے مقابلے میں اگرچہ وسعت پذیر تو ہوا ہے لیکن آج بھی سیاست کی ڈگر کی طرح میڈیا بھی الاّ ماشاء اللہ اسی ڈگر پر ہے اور اس کی اپروچ میں کوئی ایسی جوہری تبدیلی نہیں آ سکی۔ جس کی بنیاد پر میڈیا عام آدمی کو پاکستان کے مالک اور وارث کے طور پر پیش کرتا، بلکہ واقعہ یہ ہے کہ روایتی اہل سیاست اور روایتی اہل صحافت کے درمیان ایک غیر رسمی سہی مگر پختہ ''انڈر سٹینڈنگ'' نظر آتی ہے کہ'' من تراحاجی بگویم تو مرا حاجی بگو،'' میڈیا نے ملکی سیاست کے ماضی سے سبق سیکھنے کی نہ خود کوئی سبیل پیدا کی ہے اور نہ ہی عام آدمی کو اس طرف جانے کے لیے راہ سجھائی ہے۔ ایک روایتی عینک کے ساتھ خود بھی چیزوں کو دیکھنے کا عادی رہا ہے اور دوسروں کو بھی اسی نمبر کی عینک کا عادی کیے ہوئے ہے۔ جو سیاست کے تیس چالیس سال پہلے ہیرو تھے وہی آج ہیرو ازم کے ابلاغی نصاب میں ممدوح و محبوب، کرشمہ ساز اور کرشماتی شخصیات کے طور پر موجود ہیں۔

اس مثال کو ذرا عمومی راہ سے ہٹی ہوئی مثال سے واضح کرنے کی کوشش کی جائے تو بالکل ایسے ہی جس طرح پاکستان کی سول اور ملٹری بیورو کریسی سے تمام تر اور سالہا سال کی زخم خوردگی کے باوجود آج بھی اس سول اور ملٹری بیورو کریسی کی اہم ترین اور اولین مادر علمی گورنمنٹ کالج کی تعریف و توصیف کے پہاڑ قطع نظر اس کے کھڑے کیے جاتے ہیں کہ سب جانتے ہیں اس بیورو کریسی نے پاکستان کو بنانے سے زیادہ توڑنے میں کردار ادا کیا، ملک کو گرانے اور خود کو سنبھالنے میں اس بیورو کریسی نے جو مثالیں قائم کیں کیں ان کے بارے میں سوائے اس کے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ اس بیورو کریسی کا سر فخر سے بلند ہے اس کی ملک کے اندر اور باہر خوب عزت ہے لیکن پاکستان اور اہل پاکستان جن کی خدمت و حفاظت اس کا اولین فریضہ تھا وہ کل عالم میں میں بے چارگی اور بری شناخت کی مثال کے طور پر موجود ہیں۔ اس کے باوجود ایسی بیورو کریسی کی جنم بھومی گورنمنٹ کالج ہے کہ سب کے سروں کا تاج ہے۔ اگر ایک مختلف عینک کے ساتھ دیکھا جائے تو آئین سازی مین رکاوٹوں سے لے کر آئین شکنی کے حوالوں مین بھی اس مادر علمی کے خوشہ چینوں کا کردار واضح رہا ہے۔ ملک میں تعلیم اور صحت ہی نہیں ہر شعبہ زندگی کے میں پسماندگی و درماندگی کا کھرا اسی بیورو کریسی تک جاتا ہے۔

لیکن افسوس اس امر پر زیادہ کیا جانا چاہیے کہ گورنمنٹ کالج میں بہترین اساتذہ کی کمی نہ ہونے کے باوجود اس پہلو پر کم ہی سوچا گیا کہ یہاں کے سابق طالبعلم عملی زندگی میں صرف اپنی جھولیاں بھرتے کی شہرت پانے اور بہترین بابوآنہ زندگی یقینی بنا لینے سے زیادہ کامیاب ہو کر عوام کی محرومیوں کا مداوا کرنے کے لیے کمر بستہ ہونے کی شناخت کیوں نہیں حاصل کر پاتے ہیں۔

یہی مثال پاکستان کے کرشماتی سیاستدانوں، جمہوریت کے نغمہ خوانوں اور عوام کے مہربانوں کی ہے۔ ان کے ادوار میں ملک ٹوٹنے کی بنیاد پڑی، ملک دو لخت ہوا، کشمیر اقوام متحدہ کی فائلوں میں کھو گیا، سیاچن پر بھارتی فوج نے قبضہ کر لیا، ملکی خزانے کی لوٹ کھسوٹ کی نئی تاریخ رقم ہوئی، تعیلم کا بیوپار پروان چڑھا، اخلاق باختگی کا کلچر عام ہوا، سیاست منفعت بخش کاروبار بنی، ملکی آبادی کا چالیس فیصد خط افلاس سے نیچے چلا گیا، غیر ملکی قرضوں کا بوجھ بڑھتا ہی چلا گیا، سیاسی جماعتوں کا ادارہ موروثیت کا ناسور بنا دیا گیا، جمہوریت اقربا پروری کا استعاراہ بن گئی، عام آدمی پر نہ صرف تعلیم ،صحت اور روزگار کے ہی دروازے بند ہوگئے بلکہ ملکی سیاست کے ایوانوں میں بھی اس کا داخلہ مکمل طور پر ناممکن بنا دیا گیا۔ لیکن اس کے باوجود پاکستان کے میڈیا نے ملک و قوم کے ان رہنماوں، قائدین اور سرخیلوں کو ہیروز کے طور پر پیش کیا۔

کبھی سولہ دسمبر اور اس قبیل کے دوسرے ایام کی فہرست سامنے رکھ کر قوم و ملک کو کاٹ پھینکنے اور توڑ ڈالنے والوں کے نظریات اور اثرات سے سیاست کو پاک کرنے کی کوشش میڈیا کی سطح پر بھی نہ کی گئی۔ پاکستان میں قائم ہونے والے کمیشنوں کی ناکامی کا رونا رونے کے ساتھ ساتھ ابلاغی اداروں میں سے کسی نے از خود ہمہ جہت ملکی تباہی کے ذمہ دار کرداروں کے چہروں کا تقدس نوچا نہ ان کے گھناونے پن کو بے نقاب کیا۔ جاگیر داروں کے جلو میں عام آدمی کا جذباتی استحصال کرنے والوں کے کھوکھلے پن کو نمایاں کیا گیا نہ قوم کو یہ بتایا گیا کہ قوم کے خادم اعلیٰ کا نعرہ لگانے والوں اور قوم کے عام آدمی کا آپس میں اصلاً ایک دوسرے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

میڈیا نے اپنی روایتی عینک بدلنے کی کوشش کی نہ عوام کو دور و نزدیک اور ماضی و حال اور مستقبل کو یکساں دیکھنے والی عینک کی ضرورت کا احساس دلایا۔ بلکہ عوامی یادداشت کو کمزور کرنے اور تاریخ کو کھرچ ڈالنے کی کشش نظر آئی۔ حد یہ کہ ملک میں طرح طرح کے جھگڑوں کو مزے لے لے کر بڑھانے کا شغل عام کیا گیا۔ باہم دست و گریبان سیاسی جماعتوں اور سیاسی قائدین کو قومی ایجنڈے پر لانے کے بجائے انہیں مرغوں اور بٹیروں کی طرح لڑا کر ریٹنگ بڑھانے میں بروئے کار لایا گیا، یہ سمجھے بغیر کہ لڑائیوں کا بیج ملک کو استحکام اور ترقی دینے کاذریعہ نہیں بن سکتا۔ عالمی برادری میں ملک و قوم کی ریٹنگ کم ہو سکتی ہے۔

ایسے میں سولہ دسمبر کا ایک مرتبہ پھر آجانا زخموں کو تازہ کرنے اور مستقبل کے بھی انہیں لٹیروں لپاڈوں کے حوالے ہوتے رہنے خوف بڑھا دینے کا ذریعہ سمجھ کر پریشان ہونا فطری ہے۔ کہ سولہ دسمبر کا باعث بننے والے کردار آج بھی بہ انداز دگر موجود ہیں، ذرائع ابلاغ آج بھی انہیں ہیرو بنا بنا کر پیش کرنے کو قومی خدمت سمجھتے ہیں اور نہیں بتاتے کہ اپنے بچوں کو ملک سے باہر سیٹل کرنے والے، انہیں تعلیم اور علاج ہی نہیں کاروبار اور رہائش کے لیے ملک سے باہر رکھنے والے اس ملک کے ساتھ وفاداری نبھانے کا دعویٰ تو کر سکتے ہیں لیکن ان سے عملاً ایسی توقع باندھنا درست نہیں ہو سکتا۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.