.

پاکستان کے خلاف اعلانِ جنگ!

عطاء الحق قاسمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عمران خان کی 30 نومبر والی تقریر سنی تو دل کو بہت دکھ ہوا میاں شہباز شریف نے بجا طور پر اسے پاکستان کے خلاف اعلان جنگ قرار دیا ہے۔ ایک شخص جو بہت اچھی اپوزیشن کر سکتا تھا، وہ اپوزیشن کی بجائے ’’پوزیشن‘‘ حاصل کرنے کے چکر میں خود کو ضائع کر بیٹھا اور اب انتقامی طور پر پاکستان کو بھی تباہ کرنے کے درپے ہے 16 دسمبر کو پورا پاکستان بند کرنے کے اعلان پر ابھی بات کریں گے اس سے پہلے اس دکھ کا اظہار کہ ان کی متذکرہ تقریر بھی جھوٹ اور بہتان کا پلندہ تھی، اس تقریر میں چین کے ساتھ بجلی کے معاہدوں پر ان کی تکلیف بہت واضح طور پر نظر آئی اور اب تو لگتا ہے کہ چینی صدر کے دورہ پاکستان کے حوالے سے شور و غوغا کے ذریعے ان کا دورہ ملتوی کرانا ایک باقاعدہ پلاننگ کا حصہ تھا، خان صاحب اپنی ’’وزارتِ عظمیٰ‘‘ ہاتھ سے جاتے دیکھ کر اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھے ہیں اور موجودہ حکومت کے ترقیاتی پروگراموں میں بھی کیڑے نکالنے لگے ہیں اور تو اور انہیں میٹرو بس پر بھی اعتراض ہے جو وہ خود کے پی کے میں بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں، ان کی یہ بات تو اتنی مضحکہ خیز تھی کہ اس منصوبے میں کمیشن لیا گیا ہے، پنجاب کے لوگ یقیناً ان کے اس بیان سے بہت محظوظ ہوئے ہوں گے کیونکہ شہباز تو وہ شخص ہے جو بیرونی دورے بھی اپنے خرچ پر کرتا ہے اور ٹکٹ، ہوٹل میں قیام، میزبان کو دیا گیا عشائیہ اور دیگر تمام اخراجات سرکاری خزانے کی بجائے اپنی جیب سے ادا کرتا ہے.

مگر خان صاحب کے پے در پے جھوٹ، متضاد بیانیوں اور بہتانوں کے سبب اب اِن باتوں کی حیثیت فروعی نوعیت کی ہو کر رہ گئی ہے اب ان کی تقریر میں اپنی ناکامیوں کا بدلہ ریاست پاکستان سے لینے کا ارادہ بہت واضح طور پر سامنے آنے لگا ہے، انہوں نے اپنی حالیہ تقریر میں لاہور، فیصل آباد اور کراچی کو وقفے وقفے کے بعد (SEAL)کرنے کا اعلان کیا ہے، آفتاب اقبال نے اپنے پروگرام ’’خبرناک‘‘ میں خان صاحب کی ان در فنطنیوں کو اِن کی ہیلیوسینیشن کا نتیجہ قرار دیا، ہیلیوسینیشن ایک ذہنی بیماری ہے، جس کا مریض اپنے توہمات کو حقیقت سمجھنے لگتا ہے، چنانچہ ماضی میں اسی ذہنی کیفیت کے ’’بل بوتے‘‘ پر خان صاحب نے ’’پاکستانی عوام‘‘ کو سول نافرمانی کا ’’حکم‘‘ دیتے ہوئے کہا کہ وہ بجلی کا بل ادا نہ کریں، حکومت کو کوئی ٹیکس نہ دیں بیرون ملک مقیم پاکستانی زر مبادلہ بینکوں کی بجائے ہونڈی کے ذریعے ارسال کریں تاکہ اس کا فائدہ پاکستانی ریاست کو ہونے کی بجائے خود کو ہو، ان کی ذہنی کیفیت کے مطابق اِن کے اس حکم پر چشم زدن میں عمل ہو جانا تھا مگر عوام کے علاوہ خود اُن کی پارٹی کے رہنمائوں نے بھی اپنے رہنما کی سراسر نافرمانی کی، اب ان کا حالیہ حکم جو لاہور، ملتان اور کراچی اور اس کے بعد 16دسمبر کو سارا پاکستان بند کرنے کے حوالے سے ہے، اِن کا ایک اور خواب ہے جو پاکستان کے لئے نہیں خود ان کے لئے ایک ڈرائونا خواب ثابت ہو گا اور اس کے بعد ان کی ذہنی کیفیت مزید زوال کی طرف چلی جائے گی اور انہیں اپنی ’’میڈیسن‘‘ کی ’’ڈوز‘‘ مزید بڑھانا پڑے گی، خان صاحب یہ بات ذہن سے نکال دیں کہ وہ لاہور اور فیصل آباد ’’سیل‘‘ کرنے میں کبھی کامیاب ہو سکیں گے، ان کی خواہش یہ ہے کہ اس حوالے سے ان کے کارکنوں اور پولیس میں تصادم ہو، کچھ لوگ مارے جائیں اور ان کی سیاست چمکنے کے مواقع پیدا ہوں، مگر خان صاحب یاد رکھیں، ان کا یہ خواب لاہور اور فیصل آباد کے عوام، کاروباری طبقہ اور خود ان کی جماعت کے سلیم الطبع لوگ کبھی پورا نہیں ہونے دیں گے، ان کا ووٹ بینک اپر کلاس میں ہے، ان علاقوں میں ممکن ہے انہیں جزوی کامیابی ہو مگر یہ جزوی کامیابی اتنی ’’جزوی‘‘ ہو گی کہ وہ محدب شیشے سے دیکھنا پڑے گی۔

باقی رہا کراچی، تو مظہر عباس کی یہ بات سو فیصد درست ہے کہ ایم کیو ایم کے اشتراک ہی سے وہ کراچی کو بند کر سکتے ہیں، لیکن کیا ایم کیو ایم اپنے پائوں پر خود کلہاڑی مارنے پر رضا مند ہو جائے گی، کراچی ایم کیو ایم کا شہر ہے اور وہاں پہلے ہی تحریک انصاف پر پرزے نکال رہی ہے، اگر تحریک انصاف وہاں پہیہ جام کرانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ دن ایم کیو ایم کے لئے لمحہ فکریہ کا دن ہو گا، باقی رہی یہ بات کہ عمران خان الطاف حسین پر کتنا گند اچھال چکے ہیں، ان کو ’’انجام‘‘ تک پہچانے کے لئے کیا کیا دعوے کر چکے ہیں اور خود ایم کیو ایم کے رہنما، خان صاحب کو ان کی ’’ناجائز بیٹی‘‘ کا طعنہ دیتے رہے ہیں تو اس ’’اتحاد‘‘ پر عوام اِن دونوں جماعتوں کے بارے میں کیا سوچیں گے، تو یہ اِن دونوں جماعتوں کا مسئلہ ہے تاہم مجھے لگتا ہے کہ ایم کیو ایم پی پی پی سے حالیہ ناراضگی کے باوجود اپنے نئے حریف کو پھلنے پھولنے کا موقع فراہم نہیں کرے گی۔

یہ بات میں بلا کسی تعصب کے کہہ رہا ہوں کہ عمران خان کی متذکرہ دھمکی نے پاکستانی عوام کو اِن سے مزید دور کر دیا ہے، ان کی ایک سپورٹر خاتون نے مجھے ایس ایم ایس بھیجا ہے جس میں نواز شریف حکومت سے بھی بیزاری کا اظہار کیا ہے مگر اس کے ساتھ کہا ہے کہ ’’عمران خان پاگل ہو گیا ہے‘‘ لوگ حیران ہیں کہ خان صاحب ’’سونامی‘‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں جو تباہی اور بربادی کی علامت ہے، اسلام آباد کی طرف مارچ 14اگست کو کرتے ہیں اور پاکستانی عوام کے یوم آزادی کے رنگ میں بھنگ ڈالتے ہیں، اب 16دسمبر جو پاکستان کی ذلت اور بربادی کا دن ہے، اس دن سارا پاکستان بند کر کے پاکستانی معیشت کو تباہی اور بربادی کی طرف لے جانے کا ایک اور پروگرام بناتے ہیں، کیا انہیں بالکل یاد نہیں رہا کہ پاکستان نے انہیں کیا کچھ دیا اور یہ اس کے جواب میں اسے ذلت اور بربادی سے دوچار کرنا چاہ رہے ہیں، آج میرے ایک قاری جاوید ظفر نے مجھے ایک میسج میں اتنے دکھ اور درد کا اظہار کیا کہ وہ خود بھی آپے میں نہ رہ سکے اور عمران خان ہی کی زبان میں اپنا مدعا بیان کیا، چنانچہ میں یہاں اس کا متن درج نہیں کر رہا، صرف خان صاحب کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ وہ ہیلیوسینیشن سے باہر آ جائیں، ان کے لئے باہر کی دنیا ان کی اس دنیا سے بہت مختلف ہے، جو انہیں عالم خمار میں نظر آتی ہے!

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.