.

جنوبی ایشیا کے بدلتے حقائق اور ہمارے قائدین؟

عظیم ایم میاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیا اور سنٹرل ایشیا بھارتی نژاد امریکی نیشا بسوال ان دنوں نیپال، بنگلہ دیش، بھارت، ازبکستان کا دورہ مکمل کررہی ہیں اس دورے کا مقصد ان ممالک سے امریکہ کے دو طرفہ تعلقات اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔ کھٹمنڈو میں ہونے والی سارک کانفرنس میں بھی وہ بطور مبصر امریکہ کی نمائندگی کررہی تھیں وہ نئے سال میں جنوری میں امریکی صدر اوباما کے دورہ بھارت اور بھارت کے یوم جمہوریہ کی تقریب میں شرکت کے بارے میں بھی تفصیلات اور پروگرام طے کریں گی اور ازبکستان کے بعد سوئٹزر لینڈ ہوتی ہوئی 5دسمبر کو اپنا دو ہفتے کا دورہ مکمل کریں گی۔ وہ اپنے اس دورے میں پاکستان نہیں آئیں گی۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اور اعلان کے مطابق ایک اور امریکی نائب وزیر خارجہ برائے سیاسی اور ملٹری امور بھارتی نژاد امریکی پنیت تلوار بھی اس وقت بھارت کا دورہ کررہے ہیں اور بھارتی حکام سے دفاع، خطے میں سیکورٹی، دفاعی سازو سامان کی تجارت اور دفاع کے شعبے میں بھارت۔امریکی مشترکہ پروجیکٹس کے معائنہ اور معاملات پر گفتگو کریں گے۔ پنیت تلوار اس وقت پولیٹکل اور ڈیفنس کے امور کے شعبے کے سربراہ ہیں اور اس سے قبل ایران سے امریکہ کے مذاکرات، مسلم ممالک کےا مور کے انچارج رہ چکے ہیں۔ موجودہ امریکی نائب صدر جوزف بائیڈن جب سینیٹ کی امور خارجہ کمیٹی کے چیئرمین تھے تو اس وقت بھی پنیت تلوار ان کے معاون تھے۔

امریکی نظام کے اس قدر تفصیلی تجربہ کے بعد اب وہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے امریکی محکمہ خارجہ کے اس اہم عہدے پر فائز ہیں۔ اسسٹنٹ سیکرٹری برائے سائوتھ اینڈ سینٹرل ایشیا نیشا بسوال کی طرح پنیت تلوار بھی پاکستان نہیں آئیں گے۔ اس طرح کی متعدد مزید مثالیں بھی ہیں جہاں بھارتی نژاد۔امریکی اہم اور مؤثر عہدوں پر بھارت۔ امریکہ تعلقات کی مانیٹرنگ، پالیسی سازی اور دیگر ذمہ داریاں ادا کررہے ہیں۔ اس تمہید کا مقصد اپنے قارئین پر یہ واضح کرنا ہے کہ عالمی سپر پاورا مریکہ کی جنوبی ایشیا میں ترجیحات بدل چکی ہیں اب ’’پاک۔بھارت تنازعات‘‘ کی امریکہ کی نظر میں نہ تو وہ اہمیت رہی ہے اور نہ ہی پاکستان اور بھارت کے ساتھ مساویانہ سلوک کی پالیسی رہی ہے بلکہ بھارت اور امریکہ اپنے قریبی تعاون اور اتحاد کے اس نئے محور میں تعلقات کو لے جاچکے ہیں جہاں 60سال کے پاک۔امریکہ سیکورٹی معاہدوں فوجی اشتراک اور جنگوں میں اتحادی کردار ادا کرنے والا پاکستان، بھارت کے مقابلے میں امریکہ کیلئے اپنا مساویانہ کردار و اہمیت کھو چکا ہے۔ اب ہم اس زمینی حقیقت کو تسلیم کرکے ناامیدی کی بجائے اپنے وسائل کو یکجا کرکے خود اپنے اوپر انحصار کرنا سیکھیں اور اپنے دیگر دوست ممالک سے تعاون اور قربت کی باوقار انداز میں راہ اختیار کریں۔ امریکہ میں اپنے 40سال کے قیام کے دوران میرا یہ مشاہدہ ہے کہ ہمارے قائدین محض رسمی جملوں، دیر تک ہاتھ ملانے اور چند روایتی معمول کے ریمارکس کو ہی ملاقات کی اہمیت اور افادیت سمجھ کر امریکیوں سے ملاقاتوں اور مذاکرات کی کامیابی قرار دیتے ہیں یا پھر اپنا بیان کردہ موقف ہی کافی سمجھ کر میڈیا اور پاکستانی عوام کے سامنے دہرا کر ثابت کرتے ہیں کہ ہم نے سب کچھ کہہ ڈالا۔ مگر یہ نہیں بتاتے کہ ہماری معروضات اور موقف کے جواب میں دوسری طرف موجودہ امریکی یا غیر ملکی ہم منصب نے کیا جواب دیا اور کتنا اتفاق یا اختلاف کیا۔ کاش کہ ہم اپنے عوام کو اپنے غیرملکی دوروں کے بارے میں کامیابی کی میٹھی گولی دینے کی بجائے زمینی حقائق سے آگاہ کرنے کی روش اختیار کرلیں خواہ وہ کتنے ہی تلخ کیوں نہ ہوں۔ ہمیں ڈپلومیسی اور عالمی یا علاقائی کردار کو اپنے وسائل اور جغرافیہ کی حدود میں رکھنے کی بجائے عالمی طاقتوں کے اختلافات اور تصادم میں کسی ایک کا اتحادی بن کر اپنا سب کچھ دائو پر لگانے کی روش کو اب ترک کرنا ہوگا۔ ایک عرصہ تک ڈاکٹر رواں فرہادی اقوام متحدہ میں افغانستان کے سفیر رہے وہ ایک نفیس، متحمل مزاج اور فکر و نظر والے انسان تھے۔ اکثر اقوام متحدہ کے دریچوں اور کمروں میں ملاقاتوں میں ہم دونوں میں پاکستان اور افغانستان کے حالات اور واقعات کے بارے میں تبادلہ خیال رہتا۔ وہ پاکستان کے فلسفہ اسٹرٹیجک گہرائی (DEPTH) کے سخت خلاف تھے اور اکثر کہتے کہ ایک دن پاکستانی حکمرانوں کو افغانستان میں اپنے لئے اسٹرٹیجک گہرائی کے شوق کی بھاری قیمت ادا کرنا ہوگی اور دونوں ملک تباہی کا شکار ہوں گے اور عالمی طاقتیں ہم کو استعمال کرکے چھوڑدیں گی۔ کابل پر طالبان کے قبضہ کے دور میں شمالی اتحاد کے حامی اس افغان سفیر نے پاکستان اور افغانستان کے مستقبل کے بارے میں جس رائے کا اظہار کیا تھا آج دونوں ملک ڈاکٹر فرہادی کی رائے اور تجزیہ کی عملی تعبیر نظر آتے ہیں۔ ہم حقائق کا سامنا کرنےا ور مستقبل کے بارے میں سوچنے کا عمل کب اپنائیں گے؟ مایوس ہونے کی ضرورت نہیں اپنے حالات اور بنیاد کو خاموشی سے مضبوط بناکر اگلا قدم اٹھانا ہی بہتر ہے۔ ہمیں داخلی کشمکش اور ملکی معیشت کو اپنے ہی ہاتھوں تباہ کرنے سے فرصت نہیں توتحمل اور بالغ نظری سے مستقبل کی منصوبہ بندی کون اور کیوں کرے؟

اقوام متحدہ کا ذکر آیا تو یہ حقائق بھی عرض کردوں کہ ایک دور تھا جب پندرہ رکنی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں توسیع کی تجویز آئی جس کا مقصد ایشیا سے بھارت، یورپ سے جرمنی، لاطینی امریکہ سے برازیل وغیرہ کو سلامتی کونسل کی مستقل نشست دلانا تھا۔ پاکستان کے ذہین سفیر منیر اکرم نے تمام حقائق کو پیش نظر رکھ کر ہر براعظم میں ان ممالک کے ہم پلہ اور یکساں اہمیت اور ارادے والے ممالک سے ڈائیلاگ کیا تو جرمنی کے مقابلے میں اٹلی، برازیل کے مقابلے میں میکسیکو اور ظاہر ہے بھارت کے مقابلے میں جاپان اور پھر پاکستان بھی مستقل نشست کے خواہشمند تھے۔ حقائق حالات اور مفادات کو یکجا کرکے سلامتی کونسل کی توسیع کا راستہ روکنے کی سفارتکاری سفیر منیر اکرم نے کی اور آج تک سلامتی کونسل کی توسیع رکی ہوئی ہے۔ اب ہمارے انتہائی تجربہ کار سفیر مسعود خان بھی گزشتہ روز سلامتی کونسل کی توسیع کے خلاف بڑے عمدہ طریقے سے سفارت کاری کررہے ہیں۔ مگر اب حالات بدل چکے ہیں۔

امریکہ سلامتی کونسل میں بھارت کے لئے مستقل نشست کا اعلانیہ حامی ہے۔ پاکستان داخلی بحرانوں میں گھرا ہوا ہے اور امریکی مطالبات کے دبائو کا شکار ہے۔ آج دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کی اپنی بقاء کی جنگ بن چکی ہے اور سابقہ اتحادی تعاون کے وعدہ تک محدود ہے۔ پڑوسی بھارت اب پاک۔بھارت تنازعات کے حل کی پروا بھی نہیں کرتا بلکہ سرحدوں پر اشتعال انگیزیاں کرکے بھارت کے انتہا پسند عناصر کی تسکین کررہا ہے۔ امریکی نظام میں پاکستان دوست عوامل بہت کم رہ گئے ہیں جنوبی ایشیا کے حوالے سے صورتحال ہمارے لئے ناموافق ہے اور یہ خود ہمارے حکمرانوں اور قائدین کے غلط فیصلوں اور اقدامات کا نتیجہ ہے جسے ہم نے ہی درست کرنا یا مزید بگاڑنا ہے امریکہ بھی معیشت، امیگریشن، اوباما انتظامیہ کی ری پبلکن اکثریت کی کانگریس کشمکش، پولیس کے نسلی رویے پر ملک گیر احتجاج اور دیگر مسائل کا یقیناً شکار ہے لیکن ملک کا نظام مضبوط اور بااعتماد بنیادوں پر ہے۔ لہٰذا امریکہ آج بھی دنیا بھر کے انسانوں کے لئے ایک کشش رکھتا ہے۔ ہم نے تو پاکستان کو خود اپنی نئی نسل کے لئے بھی پرکشش بنانے میں کوتاہی کی ہے۔ بدلے ہوئے حالات اور حقائق کا جائزہ لے کر کسی مثبت سمت میں عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.