.

حسنی مبارک کی برّیت اور انقلاب اِن ٹربل

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے برطرف صدر حسنی مبارک اب ماضی کی ایک علامت ہی رہ گئے ہیں۔وہ مصر کی نئی حکومت کے لیے کبھی خطرہ نہیں رہے،کیونکہ ان کے پاس کوئی سماجی طاقت ہے اور نہ کوئی حقیقی سیاسی تحریک۔

ان کا سیاسی کیرئیر فروری 2011ء میں اپنی موت مر گیا تھا۔ان کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک اور ان کے زیرحراست ہونے سے قبل ہی ہوائیں ان کے مخالف چل رہی تھیں،فوجی ادارہ بھی ان کے حق میں نہیں تھا۔ان کی اقتدار سے رخصتی یقینی تھی اور کسی کو بھی یہ واہمہ نہیں تھا کہ وہ دوبارہ اقتدار میں آسکتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ یہ توقع کی جارہی تھی کہ انھیں گرفتاری کے بعد جلد ہی رہا کردیا جائے گا۔تاہم وہ حراست میں رہے اور اگر عدالت ان کی رہائی کی منظوری نہ دیتی تو وہ شاید جیل ہی میں اگلے جہان سدھار جاتے۔

عبوری دورحکومت میں ان کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے پرزور عوامی تحریک کے باوجود سیاسی مصالحت کے لیے آوازیں بلند ہوتی رہی تھیں۔البتہ اس وقت یہ کہا جا رہا تھا کہ اس معاملے کا فیصلہ ایک قانونی صدر کو کرنا چاہیے۔ڈاکٹر محمد مرسی نے جب مصر کے پہلے منتخب صدر کی حیثیت سے اقتدار سنبھالا تو معاملہ بالکل الٹ ہوگیا۔انھوں نے عام معافی دینے اورمصالحت کے ایک نئے دور کا آغاز کرنے کے بجائے صرف اپنی جماعت اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے قیدیوں ہی کو معافی دے کر رہائی دلائی۔ان کی صدارت ایک سال تک چلی اور اس دوران انھوں نے عدلیہ کو کنٹرول کرنے اور عمومی پراسیکیوشن ہی پر توجہ دی۔انھوں نے اپنے دور حکومت میں عدلیہ اور سکیورٹی کے شعبوں سے اپنے مخالفین کو نکال باہر کرنے کی کوشش کی۔وہ ریاستی امور کو بہ طریق احسن چلانے کے بجائے انتقام کی روش پر چل نکلے اور نتیجتاً ان کی حکومت ایک سال کے بعد ہی ڈھے پڑی۔ عوامی مظاہروں کے بعد مسلح افواج کے سربراہ نے انھیں چلتا کیا تھا۔

یہ فطری امر ہے

یہ ایک فطری امر ہے کہ مصریوں کا ایک دھڑا حسنی مبارک کی بریت اور ان کی رہائی کی مذمت کررہا ہے اور یہ بھی ایک فطری امر ہے کہ مصریوں کا ایک اور دھڑا ان کی مسلسل حراست کو مسترد کررہا تھا کیونکہ حالیہ تاریخ میں جدوجہد تو اپنے اختتام کو پہنچ چکی تھی۔

تاہم سوال ان کو مقدمے سے بری کرنے یا ان کی رہائی کا نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ حسنی مبارک نے جب اقتدار سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا تھا تو پھر ان کو گرفتار کیوں کیا گیا تھا حالانکہ انھوں نے فوج کے اپنے خلاف ہونے کے باوجود انقلابیوں کی مخالفت نہیں کی تھی۔ویسے ہم اس طرح کے سوالات کیوں پوچھ رہے ہیں جب ان کی اچانک رخصتی سے ملک افراتفری کا شکار ہونے سے بچ گیا تھا۔

انتقامی جذبات سے معمور بیشتر حکومتیں استحکام اور زیادہ دیر اقتدار میں رہنے میں ناکام رہتی ہیں۔فرانس سے بالشویک انقلابوں تک اور عرب ممالک میں فوجی بغاوتوں تک یہی معاملہ پیش آیا تھا۔اس کا حالیہ ایک اہم کیس عراق میں جاری لڑائی ہے۔عراق کے سابق صدر صدام حسین اور ان کے ساتھیوں کا جب قلع قمع کردیا گیا تو اس کے بعد وہاں لڑائی شروع ہوگئی تھی۔تاہم جنوبی افریقہ میں نیلسن مینڈیلا نہ صرف فاشسٹ سفید فام حکومت کے خاتمے میں کامیاب رہے تھے بلکہ وہ اس سے بھی زیادہ بہت کچھ حاصل کرنے میں کامیاب رہے تھے۔انھوں نے قصور وار افراد کو ایک عدالت میں بھیجا جہاں وہ اپنے جرائم کا اعتراف کرتے اور پھر انھیں معافی مل جاتی تھی۔اس طرح انھوں نے مختلف سماجی طبقات کو مل جل کر رہنے پر آمادہ کر لیا تھا۔

محمد مرسی حسنی مبارک اور ان کے مصاحبین کے پیچھے پڑ گئے تھے اور ان کے اس اقدام سے ان کے مخالفین کے لیے یہ بہت آسان ہوگیا تھا کہ وہ بھی دوسرے انقلاب کے وقت ان کے ساتھ اسی طرح کا معاملہ کریں۔میرے خیال میں ان کے دور حکومت میں انتقام ہی ایک واحد تشویش ناک پہلو تھا اور اسی چیز نےاخوان المسلمون کی حکمرانی کو ختم کردیا تھا۔

آزادی دیکھنے کے لیے زندگی

اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ حسنی مبارک کو اگر رہا کردیا جاتا ہے تو وہ اپنی آزادی سے انجوائے کرنے کے لیے کوئی زیادہ دیر زندہ رہیں گے کیونکہ وہ گذشتہ ایک عشرے سے علیل ہیں اور اسی علالت کی وجہ سے ان کے اور ان کے بیٹے جمال کے درمیان مرکزی حیثیت کی حامل ریاست کا انہدام ہوگیا تھا۔وہ ایک احمق آمر تھے لیکن خون کے پیاسے نہیں تھے جیسا کہ بعض افواہوں کے ذریعے یہ باور کرانے کی کوشش کی جاتی رہی تھی۔

ان کا احمقانہ پن یہ تھا کہ وہ تاریخی لمحات کا ادراک کرنے میں ناکام رہے تھے۔وہ ان سے فائدہ اٹھا کر مصر کو جمہوری سول حکمرانی کی پٹڑی پر ڈال سکتے تھے۔اس طرح وہ لافانی کردار بن سکتے ہیں اور ان کے پیش رو تین صدور جو کچھ حاصل نہیں کرسکے تھے،وہ یہ سب کچھ حاصل کرسکتے تھے۔انھوں نے 2005ء میں ریفرینڈم کے بجائے صدارتی انتخابات کے نظام کی منظوری دے دی تھی اور انھوں نے یہ سب کچھ مغربی طاقتوں کے اپنے خلاف دباؤ کے بعد کیا تھا۔اس کے بعد وہ اس سسٹم میں الجھ کر رہ گئے،اپنے مخالفین کا صفایا کرنے لگے اور اقتدار سے چمٹے رہنے کے لیے اقدامات کرنے لگے۔ درحقیقت ان کے خلاف انقلاب اس سب کچھ کا ممکنہ نتیجہ تھا۔

حسنی مبارک ایک مطلق العنان حکمران تھے،وہ سخت مزاج اور دھوکے باز شخص تھے لیکن وہ خطے کے دوسرے حکمرانوں کی طرح خون کے پیاسے نہیں تھے۔مصر میں مسلسل مقدمات کا چلایا جانا اس بات کی علامت ہے کہ اس ملک میں سیاسی صورت حال تہس نہس ہوچکی ہے اور مصالحت کے بغیر مصری معاشرہ تھکاوٹ کا شکار ہوجائے گا۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.