.

کچھ تلخ حقائق کو تسلیم کرلیں

ایاز امیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام پانچ بجے تک ڈی چوک اسلام آباد میں کچھ خالی جگہیں دکھائی دے رہیں تھیں۔ میں نے اپنے آپ سے کہا کہ عمران خان کا جلسہ اتنا کامیاب ہوتا دکھائی نہیں دیتا جتنی توقع کی جارہی تھی ۔ بمشکل ایک گھنٹے کے بعد میں خود سے کہے ہوئے الفاظ واپس لے رہا تھا۔ ایک ٹی وی چینل کے بنائے ہوئے مچان نما پلیٹ فارم، جہاں ہم اپنی اپنی آراء دے رہے تھے، سے اتر کرجب میں جناح ایونیو کی طرف جا رہا تھا تو میں عوام کے ایک امنڈتے ہوئے سیلاب کو دیکھ کر دم بخود رہ گیا۔ پریڈ ایونیو میں عوام کی تعداد میںمسلسل اضافہ ہوتا جارہا تھا۔ اپنے سابق اندازے پردل ہی دل میں قدرے شرمندگی محسوس کرتے ہوئے میںجیو آفس میں گیا کیونکہ چائے کے ایک کپ کی طلب ہورہی تھی۔ میں وہاں دوپہر بارہ بجے سے ہی موجود تھا۔ جب میں دوبارہ جناح ایونیو پرآیا تو عوام کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ ہو چکا تھا اور کہیں تل دھرنے کی جگہ بھی نہیں بچی تھی جبکہ لوگ تھے کہ امڈے چلے آرہے تھے۔ جب میں نے چند ایک سے تاخیر کی وجہ پوچھی تو اُنھوںنے بتایا کہ مولانا فضل الرحمٰن کے حامیوںنے سڑکیں بند کردی تھیں،چنانچہ اُنہیں سڑکیں کھلنے اور اسلام آباد کی طرف اپنا سفر جاری رکھنے کے لئے گھنٹوں تک انتظار کرنا پڑا۔

یہ بات سوچنے کی ہے کہ جے یو آئی ایف کے رہنماءکا لاڑکانہ ،سندھ، میں قتل ہوا لیکن اُن کے حامیوں نے خیبر پختونخوا کی سڑکیں بند کردیں۔ اس پر کیا ہم یہ یقین کرلیں کہ وہ صرف مقتول رہنماکا سوگ منا رہے تھے اور اُنہیں پی ٹی آئی کی ریلی سے کوئی سروکار نہ تھا؟ اگر اُس روز پی ٹی آئی کے کارکن اور حامی قدرے کمزوری دکھاتے ہوئے واپس لوٹ جاتے تو خیبر پختونخوا سے آنے والے شرکا کی تعداد میں کمی واقع ہوتی اور لازماً جلسے کا حجم کچھ سمٹ جاتا۔ اس کا مطلب ہے کہ عمران کے جلسوںمیں آنے والے کرائے کے شرکا نہیں بلکہ جوش و جذبہ رکھنے والے افراد ہیں۔ میں اس معمر خاتون کوکبھی نہیں بھلاسکوں گا جسے اُس کے خاندان کی کچھ لڑکیاں سہارا دے کر جلسے میں لارہی تھیں۔ میں اُن سے پوچھا کہ وہ کہاںسے آرہی ہیں تو جواب ملاکہ وہ پشاور سے آرہی ہیں ۔ وہ وہاںسے صبح دس بجے چلی تھیں۔ اُس معمر خاتون کی عمر بیاسی سال تھی۔ اسی دوران ایک نوجوان آدمی بیساکھیوں کے سہارے تیزی سے چلتاہوا جلسہ گاہ کی طرف جاتا دکھائی دیا۔

اس بیان کا مقصد پی ٹی آئی کی تعریف یا عمران خان کی توصیف کرنا نہیں بلکہ بتانا مقصود یہ ہے کہ یہ ہماری سیاست میں ابھرنے والا نیا منظر نامہ ہے۔ عمران خان سیاست میں نووارد نہیں، درحقیقت وہ گزشتہ اٹھارہ برسوں سے اس دشت نوردی میں مصروف ہیں۔ اتنا طویل عرصہ جدوجہد کے بعد عام آدمی شاید مایوسی کی گرد میں کھوجاتا، لیکن عمران کی ثابت قدمی نے اُسے ایک اہم ترین سیاسی شخصیت بنا دیا ہے۔ اب آپ اُنہیں پسند کریں یا نہ کریں، وہ ایک حقیقت ہیں۔ اُنھوں نے جوانوں، ادھیڑعمراور حتیٰ کے معمر افراد کو جس جوش و جذبےسے آشنا کیا ہے اور جس طرح تعلیم یافتہ درمیانہ طبقہ، جس کے لئے اس سے پہلے سیاست کے دربام شجر ِ ممنوعہ کا درجہ رکھتے تھے،اور نوجوان لڑکیاں اور خواتین جلسوں اور ریلیوں میں شامل ہورہے ہیںاور جو ان کے جلسوں کا ماحول ہے ، اُس کا کوئی شائبہ تک ہمارے ہاں ہونے والے روایتی جلسوں میں نہیں ملتا تھا۔ اس حقیقت سے انکاری حکمران جماعت کے رہنمائوں کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ یہ ولولہ انگیز ماحول ، جیسا کہ وہ توقع لگائے بیٹھے ہیں، کہیں نہیں جائے گا۔ بعض جذبات پتھر کی طرح اٹل ہوتے ہیں، عوام میں تبدیلی کی خواہش بھی ان میں سے ایک ہے۔ اس سے نگاہیں چرانے سے حقیقت تبدیل نہیں ہوگی۔ پی پی پی کم ازکم پنجاب کی حدتک اپنی فعالیت کھو چکی ۔پی ایم ایل (ن) بھی دور ِگزشتہ کی پیدا وار ہے اور اس کی مقبولیت کا دور تمام ہوا چاہتا ہے۔ اس دوران پی ٹی آئی نیا جوش و جذبہ لئے قومی افق پر ابھرنے والی ایک متحرک اور نسبتاً جوان جماعت ہے۔ وہ ناقدین اور سیاسی مخالفین ، جو یہ امیدلگائے بیٹھے ہیں کہ جلد ہی عمران کے غبارے سے ہوا نکل جائے گی، خود کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ یہ درست ہے کہ کپتان سے غلطیاں سرزد ہوئی ہیں... جیسا کہ اس کا سول نافرمانی کا نعرہ، لیکن یہ کوتاہیاں ان کی حاصل کردہ کامیابی کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ یہ عظیم کامیابی پاکستانی سیاست کے ساکت پانی میں ہلچل پیدا کرنا اورعوام کی مایوسی اور سیاست سے اکتاہٹ کو ایک پرعزم اور بامقصد سیاسی جدوجہد میںتبدیل کردیناہے۔ آپ انہیں تضحیک کے نشتر چبھوئیں، تنقید کی توپوںکے دہانے اُن کی طرف وا کریں، ان کا مذاق اُڑائیں لیکن اگر آپ کو تبدیلی کے آثار نہیں دکھائی دے رہے یا آپ کہیںکہ ان جلسوںسے کیا فرق پڑتا ہے تو آپ اپنا مذاق اُڑائیں گے کیونکہ آپ کو ایک واضح حقیقت دکھائی نہیں دے رہی ہوگی۔

اب حکمران جماعت پر حالات کی تفہیم کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ وہ اس میں جتنی دیر لگائے گی، اس کو درپیش مسائل اتنے ہی سنگین ہوتے جائیں گے۔ اگر نواز شریف یہ سوچتے ہیں کہ سعد رفیق کے طنزیہ بیانات اورپرویز رشید کی جملے بازی سے عمران کی طرف سے درپیش چیلنج اپنی موت آپ مرجائے گا تو وہ خیالوں کی دنیا میں رہتے ہوئے حقیقت کو نظر انداز کرنے کا خطرہ مول لے رہے ہیں۔ وہ اس تحریک کے بڑھتے ہوئے حجم سے چشم پوشی کا ارتکاب کررہے ہیں۔ جب گزشتہ اگست کو لانگ مارچ لاہور سے نکلا تھا تو وہ زیادہ متاثر کن نہ تھا۔ اس کے بعد دھرنا اور کنٹینر سے کی جانے والی تقاریر بھی اپنی طوالت کی وجہ سے بوراور اکتادینے والی ہوگئیں۔ تاہم جس دقت ایسا دکھائی دیتا تھا کہ اب عمران ایک بند گلی میں پہنچ چکے ہیں اور ان کے پاس باعزت واپسی کے راستے مسدود ہوتے جارہے ہیں، اُنھوں نے ملک گیر جلسوں کا اعلان کیا۔ ان جلسوں کو غیر معمولی طور پر عوامی پذیرائی ملی۔اس کا عروج تیس نومبر کو دیکھنے میں آیا ۔ اُس دن بھی، جیسا کہ میں نے شروع میں کہا، شام پانچ بجے تک حاضرین کی تعداد متاثر کن نہ تھی لیکن پھر جیسے دریاکے کنارے بہہ نکلے ہوں، عوام کا ایسا اژدحام اسلام آبادنے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ سیاسی پنڈتوں کے تمام اندازے اور ناقدین کی تمام توقعات کو عوامی جوش نے روند ڈالا تھا۔

میںایک مشہور ٹی وی میزبان چوہدری ٖغلام حسین اور نسیم زہرہ کو بتانے جارہا تھا کہ یہ جلسہ اپنے افسوس ناک انجام کی طرف بڑھ رہا ہے، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے ہماری آنکھوں کے سامنے صورت ِحال تبدیل ہونے لگی۔ عقل حیران تھی کہ یہ لوگ یکایک کہاں سے آرہے ہیں۔ ایسا لگتا تھا کہ پی ٹی آئی کو دست ِ غیبی سے مدد ملی ہے اور پنڈال بھرنا شروع ہوگیا۔ پھر تل دھر نے کو بھی جگہ نہ رہی اور پھر حد ِ نگاہ تک انسانوں کا سمندر موجیں ماررہا تھا۔ ایک بات نوٹ کرنے کی تھی کہ اگرچہ جلسہ گاہ آدمیوں اور نوجوان لڑکوں سے بھری ہوئی تھی لیکن جیسے ہی کوئی فیملی جس میں نوجوان لڑکیاںاور خواتین ہوتی تھیں، وہاںسے گزرتی تو لوگ نہایت احترام سے راستہ دے دیتے۔ یہ نوجوان لڑکیاں، جن میں سے اکثر نے جینز پہنی ہوئی تھیں، بڑی آزادی اور بغیر کسی فکر کے، ادھر اُدھر گھوم رہی تھیں۔ یہ پاکستانی ہجوم کے حوالے سے ایک معجزانہ تبدیلی تھی یا نہیں؟میں نہیں جانتا کہ ’’نئے پاکستان ‘‘ کا اور کیا مطلب ہوتا ہے۔ پی ایم ایل(ن) کی حکمت ِ عملی یہ تھی کہ کپتان چیخ و پکار کرنے کے بعد تھک ہار کر بیٹھ جائے گا، لیکن وہ غلطی پر تھے۔ اب ان کی مزید غلطی یہ ہوگی کہ وہ اس تبدیل ہوتی ہوئی سیاسی حقیقت، جو روز ِ روشن کی طرح عیاں ہے، سے نگاہیں چرائیں گے۔ پی ٹی آئی ان کے اندازوں سے کہیں زیادہ سخت جان ثابت ہوئی ہے۔ اب اس کے حامی برگر فیملی نہیں بلکہ سخت جان افراد ہیں جو موسم کی سردی گرمی اور پولیس تشدد کے سامنے کھڑے ہونے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔

اگر جے یو آئی ایف ایک صوبے کی سڑکیں بلا ک کرسکتی ہے تو پی ٹی آئی اُس سے کہیں زیادہ عوامی حمایت رکھتی ہے۔ حکمران جماعت کو اس زعم میںنہیں رہنا چاہیے کہ وہ کچھ نہیں کرپائے گی۔ اس وقت اس کے سامنے بحران کہیں زیادہ سنگین ہے۔ ٹی وی پر چلنے والی منفی مہم سے اندازہ ہوتا ہے کہ عمران حکمران جماعت کے اعصاب پر کس قدر سوار ہے۔ اس وقت مسئلہ یہ ہے کہ نہ تو نواز شریف امن کے ساتھ کسی کی بات مان لینے کے عادی ہیں اور نہ ہی عمران خان انتخابی دھاندلی کی تحقیقات سے دستبردار ہونے کو تیار ہیں۔ یہ تحقیقات حکمران جماعت کو تیزاب کی طرح محسوس ہوتی ہیں۔ اگر یہ صورت ِحال برقرار رہتی ہے تو ہمارے سامنے ایک تفریح کا سامان تو رہے گا لیکن ہماری تاریخ اس سے بہت سے ممنوعہ امکانات نکال لیتی ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.