.

یہ مذاکرات کا وقت ہے

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آج تین دسمبر ہے۔ میری خواہش تھی کہ میں 1971 کے اسی روز آپ کو واپس لے جائوں جب پاک بھارت دوسری جنگ کاا ٓغاز ہوا، اس جنگ میں پاکستان نے دشمن کو پہل قدمی کے فوائد سے محروم کر دیا تھا کیونکہ مشرقی پاکستان میں کشیدگی کی وجہ سے مغربی سرحد پر فوج پوری طرح چوکس اور مورچہ بند تھی۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ

(۱)بھارت کو لاہور کے مرکزی محاذ پر جارحیت کی جرات ہی نہ ہو سکی حالانکہ پینسٹھ میں یہی وہ محاذ ہے جس پر بھارتی فوج کئی کلو میٹر اندر گھس آئی تھی اور اس نے بی آر بی نہر کے مشرقی کنارے تک قبضہ جما لیا تھا۔

(2) اسی طرح بھارتی فوج کو ظفرر وال چونڈہ سیکٹر میں بھی پیش قدمی کا حوصلہ نہ ہوا۔ پینسٹھ میں اسی علاقے میں ٹینکوں کی سب سے بڑی عالمی جنگ لڑی گئی۔

(3)سلمانکی محاذ پر پاک فوج نے دشمن کو کئی کلو میٹر تک اس کے علاقے میں دھکیل دیا، یہی وہ محاذ ہے جس پر میجر شبیر شریف نے داد شجاعت دیتے ہوئے نشان حیدر کا اعلی تریں اعزاز پایا، وہ موجودہ سپاہ سالار جنرل راحیل شریف کے بڑے بھائی تھے۔

(4)پاک فوج کو سب سے بڑی فتح قصورکے حسینی والامحاذ پر حاصل ہوئی جہاں قصر ہند کے بھارتی حصار کو روند ڈالا گیا۔دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کی منجینو لائن سے زیادہ مضبوط دفاعی حصار پاک فوج کی دلیری اورشجاعت کے سامنے تار عنکبوت ثابت ہوا۔

(5) یہی وہ جنگ ہے جس میں سولہ روز تک بھارتی فوج کو مشرقی سرحد پر ایک انچ کا علاقہ بھی قبضے میںنہ لینے دیا گیا۔سولہ دسمبر کو پلٹن میدان میں جو کچھ ہوا ،ا س کا جواب جناب بھٹو سے لینا چاہئے جنہوں نے تین روز پہلے سلامتی کونسل میں پولینڈ کی جنگ بندی کی قرار داد پھاڑ کر بھارت کو آخری برق رفتار ہلے کا موقع فراہم کیا۔انہوں نے ا س سرنڈر کی بنیاد اسی روز رکھ دی تھی جب یہ اعلان کیا کہ ادھر ہم، ادھر تم!

میں یہ کہانی یہیں چھوڑتا ہوں،مسٹر بھٹو اس دنیا میں نہیں ہیں۔ مگر ان کے بیانات اور اعمال کی تشریح و توضیح کرنا ان کی پارٹی کا فرض ہے ، سلمانکی سیکٹر کا فاتح بھی اس دنیا میںموجود نہیں، لاہور اور سیالکوٹ کے محاذ پر دشمن پرہیبت طاری کرنے والے کون تھے، ان کو تاریخ میں دفن کر دیا گیا۔ میرے شہر قصور کے محاذ پر قصر ہند کے فاتحین کو ایک ایک کر کے میںنے بہت تلاش کیا، کرنل غلام حسین شہید ہلال جرات اور میجر زاہد یاسین اللہ کو پیارے ہو چکے، کرنل حبیب، میجر اشرف، میجر چیمہ، کیپٹن پرویز اقبال، صوبیدار صفدر کو میں کوشش کے باوجود تلاش نہیں کر سکا، کسی روز اس فتح مبین کے سپاہ سالار جنرل عبدالمجید ملک سے رابطے کو کوشش ضرور کروں گا، وہ مسلم لیگ کی سیاست میںا ٓ گئے تھے۔

میں پاک فوج سے توقع رکھتا ہوں کی وہ اکہتر کی جنگ کے سرنڈر کے سانحے سے باہر نکلے اور اس جنگ کے فراموش شدہ ہیروز کے شاہنامے مرتب کرکے قوم کے سامنے لائے، ان کا ساراریکارڈ جی ایچ کیو میںموجود ہے یا پھر مجھے اس ریکارڈ تک رسائی دی جائے تاکہ میں اکہتر کی بدتریں شکست کا داغ دھونے کے لئے پاک فوج کی جنگی کامیابیوں کا شاہنامہ لکھوں۔میرے پاس جو کچھ تھا،اسے میں اپنی دو کتابوں میں اکٹھاکر کے چند دنوں تک قارئین تک پہنچا دوں گا، ایک کتاب ضرب عضب سے متعلق ہے اور دوسری کتاب ۔۔اے وطن کے سجیلے جوانو۔۔ کے عنوان سے ہے۔

اب آیئے آج کے منظر نامے کی طرف۔یہ بڑا خوفناک ہے۔ عمران خاں کو تاریخ کا شعور ہوتا یا اس کے ارد گرد کوئی بھی تاریخ کے شعور سے بہرہ مند ہوتا تو اسے سولہ دسمبر کی تاریخ کو پورا پاکستان بند کرنے کے اعلان سے روکتا۔عمران کو ماضی کی تاریخ ہی نہیں، حال کی بھی خبر نہیں ، انہوںنے لاہور کو بندکر نے کی جو تاریخ دی، اس روز مینار پاکستان پر جماعت الدعوہ کا عظیم الشان اجتماع ہو رہا ہے، اس اجتماع کے سامنے عمران کا سارا شو بونا دکھائی دیتا۔ اب عمران کی پارٹی نے یہ تاریخیں بدل دی ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قائد اور پارٹی کے مابین پیشگی مشاورت کا کوئی نظام نہیں اور عمران جو چاہے اعلان کر گزرتے ہیں۔اسی ترنگ میںانہوںنے اوور سیز پاکستانیوں کوہنڈی نہ بھیجنے کی تلقین کر دی تھی اور پاکستانیوں کو سول نافرمانی کی راہ پر چلتے ہوئے سرکاری واجبات کی عدم ادائیگی پر اکسایا تھا ،مگر دونوں اعلانات ہو ا ہو گئے، کسی نے ان پر نہ تو عمل کرنا تھا ، اور نہ ہی عمل کیا، عمران کے حصے میں صرف خفت اور خفت آئی۔

عمران کے بارے میں دوسرا تاثر یہ ہے کہ وہ ایک ضدی بچہ ہے۔ مگر اب اس کے رویئے کو دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ وہ ایک فائٹر ہے، ویسا ہی فائٹر جیسا کرکٹ کے میدان میں تھا ، مگر یہ میدان سیاست ہے، یہاں ہٹ دھرمی نہیں چل سکتی، مصلحت سے کام لینا ہوتا ہے، کہیں جھکنا بھی ہوتا ہے مگر وہ مسلسل اکڑفوں دکھا رہا ہے، تو اب اس کے مد مقابل سیاستدانوں کا فرض ہے کہ وہ تصادم سے بچیں اور مصلحت سے کام لیں۔ اور کچھ جھک کر وقت گزارنے کی کوشش کریں، صدر زرداری نے پانچ سال جھک کر نکال لئے۔ن لیگ نے عمرا ن کا جتنا مذاق اڑانا تھا، اڑا لیا، ، وہ اب بس کرے۔اسے عمران کی عزت کرنا ہو گی ورنہ وہ مزید ضد چڑھ جائے گا اور ضد کا نتیجہ ہم نے سولہ دسمبر اکہتر کو دیکھ لیا تھا، مشرقی صوبے کے لوگوںنے ایسی ضد پوری کی کہ پاکستان دو لخت ہو گیا، اب ہم ایسی حرکت کے متحمل نہیں ہو سکے۔ ہمارے پاس گنوانے کو کچھ نہیں، گیا تو خدا نخواستہ سارا جائے گا۔

ن لیگ نے اچھا کیا ہے کہ اسحق ڈار کو مذاکرات کی کمان سونپ دی ہے، وزیر خزانہ سے بہتر لین دین کون کر سکتا ہے۔وہ اپنا نقصان بھی نہیں ہونے دے گا اور دوسرے فریق کا بھی سارا نقصان پور اکر دے گا۔ اس کے لئے اسحق ڈار کو اپنی بہترین صلاحتیں صرف کر نا ہوں گی، اب ان کے سر پر فوجی بوٹوں کا سایہ نہیں ،وہ خاطر جمع رکھیں، ان سے ڈنڈے کے زور پر کوئی کام نہیں کرایا جائے گا۔ وہ جو کچھ کریں گے، آزاد مرضی سے کریں گے مگر تاریخ کے لئے یہ بیان کسی لاکر میںمحفوظ نہ کر جائیں کہ بندوق والوں نے ان سے کوئی مخصوص معاہدہ کروایا۔ عمران کے پیچھے اس وقت بندوق والے نہیں، عمران نے تو ایک بندوق والے سے دو ہزار دو کے الیکشن میںدس سیٹیں لینا گوارا نہیںکی تھیں، وہ اب بندوق والوں کو کیا خاطر میں لائے گا۔

عمران نے کال تو دے دی ہے اور اس کال میں تبدیلی بھی کر دی گئی ہے مگر عمران اپنے مطالبے پر بدستور قائم ہے،ا س سے جو بھی مذاکرات ہونے ہیں، اسی مطالبے کے ارد گرد ہونے ہیں۔اس نے پچھلے الیکشن کی ہوا نکال دی ہے، جس کسی نے پنکچر لگائے ، وہ کچے نکلے، عمران کے پرو پیگنڈے کے سامنے نہیں ٹھہر سکے۔عمران نے کرپشن کا ڈھنڈورا بھی خوب پیٹا ۔ اسے یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں تھی کہ موجودہ نظام کرپٹ ہے، ا سلئے کہ قدم قدم پرا س کرپٹ نظام سے واسطہ خود لوگوں کو پڑتا ہے۔ اس کرپشن کو مزید کرپشن سے چھپانے کی کوشش کامیاب نہیںہو سکتی، سیاہی کو سفیدی میںنہیں بدلا جا سکتا۔حکومت دو سوستر کروڑ خرچ کر چکی، اس سے دگنی رقم بھی مزید لگا دے، وہ اس نظام کے حق میں راہ ہموار نہیں کر سکتی،ا س نظام کو اب ہر صورت بدلنا ہے، جاناہے۔ گوئبلز نے بڑی کوشش کی کہ ہٹلر کو فرشتہ ثابت کر دے ، مگر ہٹلر ، ہٹلر ہی رہا، آج بھی اس کا نام فاشزم کی علامت کے طور پر لیا جاتا ہے، چنگیز اور ہلاکو کے ساتھ لیا جاتا ہے، پاکستان کے گوئبلز بھی کوشش کر دیکھیں ، وہ کرپشن کو کرپشن سے نہیں دبا سکتے، یہاں شفافیت کا راج آ کر رہے گا، آج نہں تو کل۔تبدیلی کی ہوا چل پڑی ہے اور تبدیلی یہ ہے کہ لوگ تبدیلی کے حق میں آواز بلند کر رہے ہیں، تبدیلی کی خواہش کاا ظہار کر رہے ہیں۔یہی تبدیلی ہے جس کا راستہ دو سو ستر کروڑ کے خزانے سے روکنے کی کوشش ناکام ہو گی۔

بہ شکریہ روزنامہ نوائے وقت

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.