.

تبدیلی کا محرک

اکرام سہگل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یہ کریڈٹ میاں محمد نواز شریف کو جاتا ہے کہ انھوں نے وزیر اعظم کی حیثیت سے معیشت کے دروازے کھول دیے اور ایک غیر معمولی کاروباری ذہنیت کے باعث وہ آنے والے سالوں میں وطن عزیز کے لیے اور بہت کچھ بھی کر سکتے تھے یہی وجہ ہے کہ خود میں نے بھی میاں صاحب کے ساتھ بہت اونچی امیدیں وابستہ کر لی تھیں لیکن بدقسمتی سے زرداری صاحب کی شدید مخالفت کرنے کے بجائے جو کہ ان کی مبینہ کرپشن کی وجہ سے میاں صاحب پر واجب تھا لیکن ایسا محسوس ہوا جیسے انھوں نے آپس میں کوئی خاموش سمجھوتہ کر لیا ہے۔

ہمارا ہولناک انتخابی نظام استحصال کی کھلی چھٹی فراہم کرنے کے لیے ہی تشکیل دیا گیا ہے۔ 2013ء کے انتخابات عمومی طور پر غیر جانبدارانہ تھے جیسا کہ دیگر ممالک میں بھی ہوتا ہے اور جہاں تک تھوڑی بہت کسر رہ گئی تھی تو وہ بھی عمومی حالات کا حصہ ہوتی ہے لیکن سینیٹ کے بلاواسطہ انتخابات صاحبان اختیار کے لیے بہت کھلے مواقع پیدا کرتے ہیں۔ 2013ء کے انتخاب کے دن آخر حقیقت میں ہوا کیا تھا یہ ابھی تک واضح نہیں ہوا۔

وائے اس کے کہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری اور سابق جسٹس رمدے کے کردار کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی کیونکہ پنجاب میں ریٹرننگ افسروں (آر اوز) کی تعیناتی انھی کے سپرد تھی ایسے ہی 1977ء میں ذوالفقار علی بھٹو کے مصاحبین نے یہ کوشش کی کہ ساری کی ساری نشستیں پی پی پی ہی جیتے غالباً اسی قسم کی کوشش اب پی ایم ایل (این) کی طرف سے بھی محسوس ہوتی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) جس کا قیام 30 نومبر 1967ء کو ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر لاہور میں عمل میں آیا تھا جس کی بنیاد جمہوری سوشلسٹ نظریہ پر رکھی گئی تھی لیکن اس کے رہنماؤں نے اپنے نظریات سے انحراف کیا۔ بائیں بازو کے لوگوں میں نمایاں نام ڈاکٹر مبشر حسن‘ جے اے رحیم‘ معراج محمد خان‘ شیخ رشید وغیرہ کے تھے جب کہ ان کے مقابلے میں دائیں بازو کے ہیوی ویٹ جاگیردار شامل تھے جن میں غلام مصطفی کھر‘ مخدوم محمد زمان طالب المولیٰ، بھٹو صاحب کا ٹیلنٹڈ کزن ممتاز بھٹو‘ غلام مصطفی جتوئی وغیرہ کھڑے تھے۔

پی پی پی کے پہلے سیکریٹری جنرل جے اے رحیم ملک کے سیکریٹری خارجہ بھی رہے تھے ان کا تعلق کلکتہ کے قریبی قصبے مدنہ پور سے تھا اور وہ اردو بولنے والے بنگالی تھے انھوں نے 9 دسمبر 1967ء کو پارٹی کا پہلا منشور جاری کیا۔ اسلام ہمارا دین، جمہوریت ہماری سیاست، سوشلزم ہماری معیشت اور اقتدار کا منبع عوام ہیں۔

پی پی پی کا نعرہ روٹی کپڑا اور مکان بے حد مقبول ہوا جس نے ساری قوم کے تصورات کے لیے کشش پیدا کر لی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے ارد گرد بے حد قابل لوگ موجود تھے جس کی وجہ سے بھٹو کی شخصی کشش اور ان کی دانشورانہ تحریک عمل کی بنا پر وہ صرف چار سال کے عرصے میں اقتدار کے سنگھاسن پر پہنچ گئے جو کہ ان کی منزل تھی۔

ان کے اقتدار پر پہنچنے میں 1971ء کے سانحے نے بھی اثر پذیری کی جس کے نتیجے میں ملک دو ٹکڑے ہو گیا تھا۔ محترمہ بینظیر بھٹو نے حالات کا بنظر غائر مطالعہ کر کے جو سبق سیکھے ان کا فائدہ انھیں 1997ء کے انتخاب میں ہوا اور اگرچہ ان کے شوہر زرداری صاحب پر مسٹر 10% کا لیبل لگایا گیا تھا جس کی وجہ سے 2007ء میں وہ پارٹی کے اصلی ایجنڈے سے انحراف کرتے محسوس ہوئے۔ اگر یہ کہا جائے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے تصورات ان کے داماد آصف علی زرداری کی سوچ سے ذرا بھی لگا نہ کھاتے تھے اس کے باوجود وہ بھٹو کی مایہ ناز صاحبزادی کا شوہر ہونے کے ناطے اقتدار میں آ گئے۔

اس موقع پر پارٹی کے بانی اراکین نے اپنی ابدی آرام گاہوں میں ضرور بے چینی سے کروٹ بدلی ہو گی۔ سوائے اعتزاز احسن اور ان کے ساتھ جو چند ایک دوسرے ساتھی ہیں انھوں نے 47 سال قبل معرض وجود میں آنے والی اپنی پارٹی کی سالگرہ منائی۔ پیپلز پارٹی کی بنیاد سوشل ازم پر تھی لیکن اب سوشل ازم ان کے لیے محض زبانی جمع خرچ کے لیے رہ گیا ہے۔ جب کہ پارٹی پر فیوڈل اور سرمایہ دار عناصر کا مکمل تسلط ہے۔

1970ء کے عشرے میں بھٹو اور بعد میں ان کی صاحبزادی نے پارٹی کو پاکستان کے اہم سیاسی کھلاڑیوں میں شامل کر دیا تھا ۔اب زرداری صاحب نے محترمہ کے صاحبزادے اور بھٹو کے نواسے کو پارٹی کا چیئرمین نامزد کر دیا اور اپنے لیے انھوں نے معاون چیئرمین کا ٹائٹل لیا ہے تا کہ اندرون سندھ پارٹی کا اقتدار قائم رہ سکے۔ زرداری کوئی معمولی سیاستدان نہیں حقیقت تو یہ ہے کہ وہ نہایت غیر معمولی سیاستدان ہیں جنہوں نے پانچ سال تک نہایت کامیابی سے حکومت کی جب کہ ان کی بڑی اپوزیشن مسلم لیگ نواز تھی جسے انھوں نے بڑی آسانی سے مائل کر لیا اور دوسری طرف سے اسٹیبلشمنٹ کو بھی خاموش رکھا۔ اوران پر کرپشن کے الزامات بھی لگے۔

عوام کے موڈ میں تبدیلی کے لیے عمران خان نے بھٹو اور ان کی صاحبزادی کا طریقہ کار اپنایا ہے جس کی وجہ سے وہ عوام کی نگاہوں اور ان کی امنگوں کا مرکز بن گئے ہیں۔ یہ درست ہے کہ ان کے ترش اور سخت لہجے کے باعث بہت سے لوگ ان سے دور بھی ہو رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی دوسرے ہزاروں لوگ ان کے ساتھ شامل ہو رہے ہیں۔ اتفاق کی بات ہے کہ 1970ء کے انتخابات میں بھٹو کو بھی اسی قسم کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا جو سیاست کو ڈرائنگ روموں سے نکال کر سڑکوں اور کھلیانوں میں لے آئے۔ جس کے نتیجے میں انھیں قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں توقع سے کہیں زیادہ نشستیں مل گئیں۔ 1970ء کے بعد خواتین کے تمام ووٹ 2008ء تک بھٹو کو ملتے رہے اب دیکھنے کی بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ شامل ہونے والی خواتین کی شرح کیا ہے۔

قبل ازیں نوجوانوں کے ووٹ پیپلز پارٹی کو ملتے رہے لیکن اب وہ پی ٹی آئی کی طرف راغب ہیں۔ اس وقت عوام کی اکثریت عمران کے ساتھ لگتی ہے۔ ان کی تقاریر اور ان کی شخصی کشش عوام کو ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر کی طرح ہی اپنی طرف کھینچ رہی ہے۔ 30 نومبر 2014ء کو لاہور میں ان کے ساتھ جاگیردار اور کرپشن کے ’’اسٹیٹس کو‘‘ کے حامی عناصر کھڑے تھے حالانکہ بھٹو اور ان کے مصاحبین نے 1967ء میں یہ اسٹیٹس کو توڑنے کی بات کی تھی۔ اسلام آباد میں پی ٹی آئی کا جلسہ اصلی پی پی پی کا منظر پیش کر رہا تھا۔

اس سے قبل اگست 2014ء میں، میں نے عمران خان اور ان کے قریبی ساتھیوں کو مشورہ دیا تھا کہ صرف ایک مطالبے پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔ 18 ستمبر 2014ء کو میرا مضمون ’’گیمز پیپل پلے‘‘ (کھیلیں جو لوگ کھیلتے ہیں) کے عنوان سے چھپا تھا جس میں ’’کِیپ اِٹ سِمپل اسٹوپڈ‘‘ (کے آئی ایس ایس) کا فارمولا پیش کیا گیا تھا۔ جس میں مشورہ یہ تھا کہ عمران کو اپنی توجہ صرف اور صرف انتخابی اصلاحات پر مرکوز رکھنی چاہیے۔

جس کے نتیجے میں عمران خان نے وزیر اعظم کے استعفے پر اصرار ختم کر دیا۔ اب مسلم لیگ نواز کو پارلیمنٹ کے ذریعے انتخابی اصلاحات کا جائز مطالبہ ضرور پورا کر دینا چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عمران کا دھرنا ضرورت سے زیادہ طوالت اختیار کر گیا ہے اور عوام اب اتنی شدید سردی میں آسمان تلے بیٹھنے پر شدید مشکل محسوس کریں گے۔ لہٰذا انھیں پلان سی اور پلان ڈی ترک کر دینا چاہیے۔ عمران خان کو اقتدار برائے اقتدار حاصل نہیں کرنا چاہیے بلکہ انھیں چاہیے کہ وہ انتخابی اصلاحات کا موجب بنیں تا کہ پارلیمنٹ میں صرف بہترین لوگ ہی جا سکیں نہ کہ بدترین جاتے رہیں اور یہ اسی صورت ممکن ہے جب ووٹ ڈالنے کی مشق درست انداز میں کی جائے گی۔ جس سے عوام کی امنگوں اور آرزوؤں کی آبیاری ہو کیونکہ صحیح جمہوریت کا یہی مقصد ہے کہ اس کے ثمرات نچلی ترین سطح (گراس روٹ) تک پہنچیں۔

بشکریہ روزنامہ"ایکسپریس"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.