.

پاپائے روم کا دورہ ترکی

ڈاکٹر فرقان حمید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاپائے روم پوپ فرانسیس نے گزشتہ ہفتے ترکی کا سرکاری دورہ کیا۔ پاپائے روم ایک مذہبی اور روحانی پیشوا ہونے کے ساتھ ساتھ اٹلی کے شہر روم میں موجود ویٹیکن مملکت کے سربراہ بھی ہیں۔ یہ دنیا کی سب سے چھوٹی ریاست ہے اور یہاں پوپ کے الفاظ اور حکم آئین کی حیثیت رکھتے ہیں اور انہیں انتظامیہ، عدلیہ اور مقننہ کے سربراہ کا مقام بھی حاصل ہے۔

علاوہ ازیں اس ریاست کی ایک چھوٹی سی فوج بھی موجود ہے۔ 1929ء میں’’ لیٹرانو‘‘سمجھوتے کی رو سے روم کو ایک مقدس شہر اور ویٹکن کو کیتھولیک ریاست کے طور پر قبول کر لیا گیا۔ اس لئے پوپ کو کسی غیر ملکی دورے کے دوران مذہبی اور روحانی پیشوا ہونے کے ساتھ ساتھ مملکت کے سربراہ کی بھی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ پاپائے روم پوپ فرانسیس کا یہ دورۂ ترکی، مختلف مذاہب اور تہذیبوں کے درمیان تصادم کو ختم کرنے اور آپس میں ہم آہنگی اور امن و امان کی قیام کے لحاظ سے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ ان کے دورے کا مقصد مسلمان رہنماؤں سے تعلقات اور روابط کو مضبوط بنانا ہے۔

پوپ فرانسیس سے پہلے تین پوپ ترکی کے دورے پر تشریف لا چکے ہیں ۔ پہلا دورہ پوپ پال ششم نے 25 جولائی 1967 کو کیا اور اس وقت کے صدر جودت ثنائی نے ہوائی اڈے پر ان کا استقبال کیا تھا جبکہ اس کے بعد پوپ جین پال دوم نے28 تا 30 نومبر 1979ء کو ترکی کا دورہ کیا اس کے بعد 28 تا 30 نومبر 2006ء کو پوپ بینڈیکس نے( یہ تاریخ حضرت عیسیٰ کے پہلے شاگرد سینٹ انڈریاس کی تاریخ پیدائش سمجھی جاتی ہے) ترکی کا دورہ کیا اور اس بار پوپ فرانسیس 28 نومبر کو جب انقرہ پہنچے تو ہوائی اڈے پر صدر رجب طیب ایردوان نے ان کا استقبال کیا۔ پوپ فرانسیس نے انقرہ میں سب سے پہلے مزارِ اتاترک پر حاضری دی اور اتاترک کو خراجِ عقیدت کے طور پر ترک جمہوریہ کے بانی کے مزار پر پھولوں کی چادر بھی چڑھائی۔

انہوں نے بعد میں صدر رجب طیب ایردوان سے ملاقات کرتے ہوئے وسیع تر بین المذاہب مکالمے اور مختلف مذاہب پر ایمان رکھنے والے تمام لوگوں کے یکساں حقوق کی بنا پر بنیاد پرستی اور دہشت گردی کے خاتمے سے متعلق اپنی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس موقع پر عراق اور شام میں مسیحیوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں پر کئے گئے حملوں کی مذمت کی اور ان حملوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے ترکی کی جانب سے 16 لاکھ سے زائد شامی مہاجرین کو پناہ دینے پر ترکی کا شکریہ بھی ادا کیا اور بین الاقو امی برادری سے مہاجرین کی دیکھ بحال کے بارے میں ترکی کو تنہا نہ چھوڑنے کی اپیل بھی کی۔


اگلے روز پوپ فرانسیس استنبول تشریف لے گئے۔ استنبول میں بھی پوپ فرانسیس کا شاندار استقبال کیا گیا ۔ ان پر استنبول میں حملے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا جس کی وجہ سے سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے ۔ اس کی ایک وجہ چند سال قبل ایک ترک باشندے محمد علی آعاجا کی جانب سے ویٹکن میں اُس وقت کے پوپ جین پال پر قاتلانہ حملہ کرنا قرار دیا جاتا ہے اور ترکی مزید کسی قسم کا کوئی رسک لینا نہیں چاہتا تھا۔ پوپ فرانسیس کو ہوائی اڈے سے استنبول کی تاریخی بلیو یا نیلی مسجد ( سلطان احمد جامع مسجد ) لے جایا گیا۔ سلطان احمد جامع مسجد پہنچنے پر استنبول کے مفتی رحمی یار ان نے ان کا استقبال کیا ۔استنبول کے مفتی کی جانب سے کروائی جانے والی دعا میں پوپ نے بھی شرکت کی۔ استنبول مفتی نے مسجد کی محراب اور ممبر کے بارے میں روشنی ڈالی استنبول کے مفتی نے بلیو یا نیلی مسجد (سلطان احمد جامع مسجد )کی چینی کی ٹائلوں نقش و نگاری اور بنائے گئے" گلِ لالہ " کے "اللہ " کے نام کو عربی زبان میں پیش کئے جانے سے بھی آگاہ کیا۔

پوپ کی اگلی منزل آیا صوفیہ (حاجیہ صوفیہ) تھا جو کہ مذہبِ عیسائیت کے پیروکاروں کے لئے بڑی اہمیت کی حامل عبادت گاہ ہے۔ پوپ فرانسیس کے آیا صوفیہ میں وقت گزارنے سے متعلق معلومات فراہم کرنے سے قبل آیا صوفیہ چرچ کے بارے میں مختصر سے معلومات فراہم کرتا چلوں۔ کونسٹانینوپل یا قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) کے رومی شہنشاہ جسٹینیان نے 532ء میں ایک شاندار کلیسا کی تعمیر کا حکم دیا۔ وہ ایک ایسا چرچ دیکھنا چاہتے تھے جو ’’حضرتِ آدم کے دور کے بعد سے اُس وقت تک تعمیر نہ کیا گیا ہو اور اس کے بعد بھی اس جیسا کلیسا کوئی تعمیر نہ کر سکے۔‘‘ اس حکم نامے کے 15 برس بعد ہی اس گرجا گھر کے بنیادی ڈھانچے کا افتتاح عمل میں آ گیا۔ شہنشاہ جسٹینیان نے قسطنطنیہ میں آیا صوفیہ کی تعمیر میں 150 ٹن سونے کی مالیت کے برابر پیسہ خرچ کیا ۔ آیا صوفیہ کو"چرچ آف وزڈم" کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ ساتویں صدی کے تقریباً تمام ہی شہنشاہوں کی تاجپوشی کی رسم اسی کلیسا میں ادا کی گئی۔ 1453ء میں سلطان محمد فاتح نے کونسٹانینوپول (قسطنطنیہ) پر بازنطینی حاکمیت کا خاتمہ کردیا اور شہر پرفتح کرنے کے بعد آیا صوفیہ کو ایک مسجد میں تبدیل کردیا اور صلیب کی جگہ ہلال نے لے لی اور مینار بھی تعمیر کئے گئے اور عثمانی حکمران اس مسجد ہی میں نمازِ جمعہ ادا کرنے لگے۔

طویل عرصے مسجد کے طور پر استعمال کی جانے والی اس عبادت گاہ کو 1935ء میں اس وقت کی حکومت کے حکم سے میوزیم میں تبدیل کردیا گیا اور اس کی تزئین و آرائش کے کام کے بعد بازنطینی دور کے تمام نقش و نگار پھر سے بحال کر دیے گئے۔ صوفیہ کی جنوبی دیوار پر چھوٹے چھوٹے پتھروں سے بنائی گئی تصاویر جن کا تعلق چودہویں صدی سے تھا تجدید اور مرمت کے بعد پھر سے بحال کیا گیا ۔ ان تصاویر کے وسط میں حضرت عیسٰی ہیں، اُن کے بائیں جانب حضرت مریم جبکہ دائیں جانب یوحنا ہیں۔ یہ عبادت گاہ پہلے کلیسا پھر مسجد اور 1935ء کے بعد سے میوزیم کے طور پر استعمال کی جا رہی ہے لیکن اسلامی حلقے اسے مسجد کے طور پر ہی استعمال کرنے کے خواہاں ہیں اور اس سلسلے میں ان حلقوں نے پندرہ ملین سے زائد افراد کے دستخط بھی جمع کررکھے ہیں لیکن انہیں اس سلسلے میں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے اور ویسے بھی اس تاریخی شاہکار کو یونیسف نے اپنی ثقافتی میراث کی فہرست میں لے رکھا ہے جس کی وجہ سے اب اسے مسجد میں تبدیل کرنا بڑا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

آیا صوفیہ پر مختصر سے روشنی ڈالنے کے بعد اب واپس آتے ہیں پاپائے روم کو دورۂ ترکی کی جانب۔ پاپائے روم بلیو یا نیلی مسجد ( سلطان احمد مسجد) کی زیارت کے بعد اسی مسجد کے بالمقابل کھڑے آیا صوفیہ چرچ تشریف لے گئے۔ یہاں پہنچنے پر پوپ فرانسیس کو دو کتابیں تحفے کے طور پر پیش کی گئیں جس میں اس عظیم الشان عمارت کے بارے میں تفصیلات موجود تھیں ۔ بعد میں پوپ حاربیے میں سینٹ ایسپریٹ کلیسا تشریف لے گئے جہاں انہوں نے آرتھو ڈوکس فینر یونانی کلیسا کے پیٹرک بارتھو لومیوس سے ملاقات کی یہاں پر پوپ کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے بڑی تعداد میں اورتھوڈوکس عیسائی موجود تھے۔ اس کے بعد پوپ فرانسیس فینر یونانی پیٹرک خانے تشریف لے گئے جہاں آیا یورگی کلیسا میں پوپ فرانسیس اور پیٹرک بارتھولو میوس نے مذہبی تقریب میں حصہ لیا اور انجیل مقدس کے متعدد حصوں کو خشوع و خضوع سے سنا ۔اس مذہبی تقریب کے خاتمے کے بعد پوپ فرانسیس شام کو وطن واپس روانہ ہوگئے۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.