.

امریکہ میں سیاہ فام آبادی کی نسل کشی

پروفیسر شمیم اختر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

19 اگست کو 18 سالہ نوجوان مائیکل براؤن کو ایک گشتی پولیس اہلکار Darrel Wilson نے امریکی ریاست مزوری کے قصبے فرگوسن میں گولی مار کر ہلاک کر دیا جبکہ اس نے وسن کے للکارنے پر اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھا دیا تھا۔ ایسی صورت میں ضابطۂ پولیس کے تحت اس مشتبہ فرد کو گولی مارنے کا اختیار نہیں ہے۔ خواہ اس نے واقعی کوئی جرم کیا ہو۔ لہٰذا پولیس اہلکار کے اپنے اختیار سے تجاوز کرنے کے اس اقدام کے خلاف اس قصبے کی سیاہ فام آبادی میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور جب پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی اور ڈنڈوں سے ہجوم کے افراد کی پٹائی شروع کی تو ریاست کے دوسرے شہروں میں بھی یوں فساد ہونے لگا لیکن جب انتظامیہ نے عوامی احتجاج پر اس پولیس اہلکار پر قتل کا مقدمہ درج کر کے اسے عدالت کے سپرد کر دیا تو صورت حال میں تبدیلی پیدا ہوئی کیونکہ عوام نے احتراماً مقامی عدالت کو انصاف کرنے کا موقع دیا۔

یوں تو امریکہ کے ڈھنڈھورچی اپنے نظام عدل کی تعریف کرتے نہیں تھکتے لیکن حقائق کچھ اس کے برعکس ہیں۔ اس معاملے میں ایک عجیب بات دیکھنے میں آئی کہ جب سیاہ فام آبادی ملزم کو کیفر کردار تک پہنچانے پر تلی ہوئی تھی تو اس کے ہم وطن گوروں نے ملزم کی صفائی کے لیے چندا کر کے رقوم جمع کرنا شروع کر دیا تا کہ اس کے لیے کسی شاعر وکیل کی خدمات حاصل کریں۔ اس طرح یہ بات دیکھنے میں آئی کہ امریکی قوم سیاہ فام اور سفید فام باشندوں میں تقسیم ہو چکی ہے اور آثار یہ بتاتے ہیں کہ اس محاذ آرائی کے نتیجے میں امریکہ ایک بار پھر 1863ء کی طرح خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے۔ اور جلد ہی اس کے شواہد بھی منظر عام پر آ گئے۔ امریکہ میں جیوری کا نظام جاری ہے جس کے مطابق فوجداری کے مقدمات میں جج کی معاونت کے لیے جیوری ہوتی ہے جس کے ارکان معتبر معزز شہریوں میں سے منتخب کر لیے جاتے ہیں اور ان کی تعداد پانچ سات، نو ہوتی ہے کیونکہ اس امر کا خیال رکھا جاتا ہے کہ مبادا اختلاف آراء کی صورت میں ان کی تعداد مساوی ہو جائے۔

کو جج جیوری کے ارکان کی رہنمائی کرتا ہے تاہم مقدمے کا حتمی فیصلہ جیوری ہی کرتی ہے چنانچہ نو ارکان جیوری نے اکثریت سے ملزم کو تمام الزامات سے بری قرار دے دیا۔ یہ بات لوگوں کے حلق سے نیچے نہیں اتری کہ دن دھاڑے قتل کی واردات کا ایک ملزم رہا کر دیا گیا۔ یہ امریکی نظام کا نقص ہے کہ ججوں اور ارکان جیوری کی ہمہ گیر اکثریت سفید فام ہوا کرتی ہے اور وہ کالوں کے خلاف متعصب برتتی ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے سزا یافتہ مجرموں کی اکثریت سیاہ فام افراد پر مشتمل ہے جبکہ ان کی آبادی امریکہ کی مجموعی آبادی کی صرف پندرہ فیصد ہے۔ اسی طرح ججوں، ارکان جیوری اور پولیس میں سفید فام بھرے پڑے ہیں اور کالے خال خال نظر آتے ہیں۔ ایسی صورت میں جبکہ سفید فام اکثریت نسل تعصب کا شکار ہو اور اس کا ملک پر غلبہ ہو تو اقلیت کی بیچارگی بآسانی سمجھ میں آجاتی ہے۔ اس مقدمے میں پولیس اہلکار نے اپنی صفائی میںیہ کہا کہ وہ اس طرح مقتول نوجوان کے شکنجے میں پھنس گیا تھا کہ وہ کوئی دم اس کے (مائیکل براؤن) ہاتھوں ہلاک ہو سکتا تھا لہٰذا اسے اپنی جان بچانے کے لیے مقتول کو گولی مارنی پڑی۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ ملزم کو دیکھتے ہوئے ارکان جمہوری نے اس کے مضحکہ خیز بیان کو کیسے تسلیم کر لیا کیونکہ ولسن کا قد چھ فٹ چار انچ جبکہ وزن دو سو دس پاؤنڈ ہے اور اس کے مقابلے میں مائیکل براؤن اٹھارہ سال کا لڑکا اس پر کیسے غالب آ سکتا ہے؟ ارکان جیوری نے کھلے عام بے ایمانی کی۔ یا تو انہوں نے سفید فام آبادی سے جو ملزم کے لیے چندہ جمع کر رہی تھی رشوت لے لی ہو یا وہ نسلی تعصب میں اتنے اندھے ہو گئے ہوں کہ انہیں بے ایمانی کرتے شرم نہیں آئی۔

یہ کوئی انوکھا واقعہ نہیں ہے بلکہ امریکہ کا معمول ہے۔امریکی پولیس، ایف بی آئی، سی آئی اے اور عدلیہ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے ساتھ کیسا سلوک کیا تھا! کیا اسے انصاف کیا جا سکتا ہے؟ سیاہ فام افراد تو پھر بھی سڑکوں پر نقل آتے ہیں جسے وہ ولسن کی رہائی کی خبر سن کر نہ صرف فرگوشن بلکہ سینٹ لوئی، نیو یارک، بوسٹن اور لاس اینجلس میں پولیس سے لڑ پڑنے ان کی دو درجن گاڑیاں جلا دیں، تھانوں پر حملے کیے اور دکانوں کو نذر آتش کر دیا لیکن وہاں مقیم بیچارے مسلمان تو سہم کر بیٹھ گئے کیونکہ ان کے خلاف اتنا نسلی اور مذہبی تعصب پیدا کر دیا گیا ہے کہ وہ احتجاج کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ ہم یہاں یہ سوال کرنے پر مجبور ہیں کہ امریکہ کے مظلوم سیاہ فام تو اپنی پولیس اور عدلیہ کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ کتنی متعصب اور بد عنوان ہے پھر وہ امریکی حکومت اور فوج کی جانب سے مسلمانوں پر کیے گئے مظالم، افغانستان ، عراق پر حملوں اور پاکستان پر ڈرون طیاروں کی بمباری پر احتجاج کیوں نہیں کرتے؟

امریکہ کا سفید فام صلیبی ٹولہ امریکہ کے حقیقی باشندوں Red Indians کی تو مکمل طور پر نسل کشی کر چکا ہے اور اب اپنی سیاہ فام آبادی کی بھی نسل کشی کر رہا ہے لیکن اس سے بڑی بھول ہو گئی ہے کہ اس نے ایک ارب سے زائد کلمہ گو آبادی پر ہاتھ ڈالا ہے جو بحر کاہل، بحر ہند، بحیرہ روم و بحرائلانٹک تک پھیلی ہوئی ہے اور جسے شہادت سے اتنا ہی پیار ہے جتنا یہود و ہنود و نصاریٰ کو اس دار فانی کی زندگی سے پیار ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.