.

خیبرپختونخوا میں بہتی دودھ اور شہد کی نہریں

محمد بلال غوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہم بار بار اس دل ناداں کو آزما چکے ،قطرہ ٔ خون تو نہیں نکلتا مگر پہلو میں شور بڑھتا ہی جا رہا ہے ۔30 نومبر کے بعد اب پلان سی کا انتظار ہے کہ اس کی کوکھ سے کونسی نئی ڈیڈ لائن جنم لے گی ۔ جب مسافر دائروں کے سفر میں کھو جاتے ہیں تویوں ہی غلام گردشوں میں بھٹکتے رہتے ہیں مگر منزل تو کجا نشان منزل بھی نہیں ملتا۔ خیبر پختونخوا میں تو نئے پاکستان کا سحرٹوٹ رہا ہے اور رومانویت مایوسی میں بدل رہی ہے مگر پنجاب میں یہ تاثر عام ہے کہ خیبر پختونخوا میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ بعض افراد کا خیال ہے کہ تبدیلی کا سونامی اٹک کے اس پار ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔ ایک وقت آئے گا جب نئے پاکستان کی یہ لہر پنجاب سمیت پورے ملک میں پھیل جائے گی اور سب کی قسمت بدل جائے گی۔ چونکہ میرا بیشتر وقت خیبر پختونخوا میں گزرتا ہے اس لئے میرے لئے یہ قریب کے ڈھول سہانے نہیں رہے اور آٹے دال کا بھائو خوب معلوم ہے۔

کچھ عرصہ سے لاہور اور اسلام آباد مصروفیت کے باعث میں پشاورجانے سے قاصر تھا ۔اس دوران پی ٹی آئی کے ایک جیالے سے لاہور میں ملاقات ہوئی تو اس نے تعریفوں کے پُل باندھ دیئے۔ اس کی باتوں سے یوں لگ رہا تھا جیسے پختونوں کے دن بدل چکے ہیں،دن دگنی رات چوگنی ترقی ہو رہی ہے ،سرکاری اسپتالوں میں مفت علاج کی سہولت اس قدر پرکشش ہو چلی ہے کہ لاہور ،اسلام آباد اور کراچی سے لوگ مستفید ہونے کے لئے خیبر پختونخوا کا رُخ کر رہے ہیں،خیبر پختونخوا کی پولیس اس قدرفرض شناس ہوچکی ہے کہ لندن کی میٹرو پولیٹن پولیس کا ایک وفد ان دنوں پشاورآیا ہوا ہے تاکہ خیبر پختونخوا پولیس سے فرض شناسی اور جرائم پر کنٹرول کرنا سیکھ سکے،پٹواریوں کو تو تیرکی طرح یوں سیدھا کر دیا گیا ہے کہ وہ نہ صرف فرد ملکیت گھر پہنچا کرجاتے ہیں بلکہ رشوت نہ لینے کے باعث بیچارے بائیسکل پر سفر کرنے پہ مجبور ہیں....میں مجسم حیرت بنے یہ روداد سنتا رہا اور محض اتنا کہہ پایا کہ گزشتہ دو یا غالباً ڈھائی ماہ سے میں خیبر پختونخوا سے دور ہوں، اگر اس دوران کوئی انقلاب برپا ہو گیا ہے تو میں کچھ کہنے سے عاجز ہوں وگرنہ اس سے پہلے کے حالات مجھے خوب معلوم ہیں۔

اس بار جب میں پشاور کے سفر پر روانہ ہوا تو موٹروے پر چڑھتے ہی نواز شریف پہ تبریٰ بازی شروع کر دی کہ اگر ا نہوں نے حکومت کپتان کے حوالے کر دی ہوتی تو آج پورے پاکستان کے حالات بدل چکے ہوتے۔ سفر تھا کہ ختم ہونے میں نہیں آ رہا تھا۔ بہرحال انہیں خیالات میں گم پشاور ٹول پلازہ سے نیچے اترکر گاڑی کا رُخ جی ٹی روڈ کی طرف موڑا تو ماسوائے کھجور کے چند درختوں کے کچھ نظر نہ آیا۔ مجبور و مقہور لوگ ویسے ہی پرانی طرز کی گاڑیوں سے لٹک کر سفر کرتے دکھائی دیئے اور اس دوران مقامی اخبار پر نظر گئی تو پرویز خٹک کا یہ بیان منہ چڑاتا دکھائی دیا کہ جنگلہ بس شروع کرنے کیلئے بہت دبائو ڈالا گیا لیکن میں نے انکار کر دیا۔ یادش بخیر میٹرو بس منصوبے سے متعلق خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے تمام اخبارات میں اشتہارات بھی شائع کرائے گئے تھے عین ممکن ہے کہ وہ اشتہارات بھی وفاقی حکومت نے گن پوائنٹ پرجاری کرائے ہوں۔ ویسے اچھا کیا کہ آپ نے میٹرو بس چلانے کا منصوبہ ختم کردیا وگرنہ لوگوں کی عادتیں خراب ہوجاتیں اور وہ لاہوریوں کی طرح تساہل پسند ہوجاتے۔ ویسے اگر ہو سکے تو ایک اور کام بھی کر گزریں ،خیبر پختونخوا کے شہریوں پر پابندی عائد کر دیں کہ وہ اسلام آباد یا لاہور نہ جاسکیں کیونکہ جب وہ پشاور سے باہر نکلتے ہیں اورترقی کی چکا چوند سے ان کی آنکھیں چندھیانے لگتی ہیں تو وہ سوچتے ہیں کہ کیا وہ بھی اسی پاکستان کے شہری ہیں؟

پشاور میں تو حالات جوں کے توں تھے ہی مگر اگلے دن جب میں رشکئی انٹرچینج سے اتر کر براستہ مردان تیمرگرہ پہنچا تو راستے میں جا بجا یہی مناظر دکھائی دیئے۔ تخت بھائی میں سڑک کے بیچوں بیچ ایک چھوٹا سا پُل بنانے کیلئے تعمیراتی سامان بکھرا ہوا تھا اور ٹریفک رینگ رینگ کر گزررہی تھی۔ گزشتہ ڈیڑھ سال سے کام جاری ہے مگر جب بھی یہاں سے گزرنے کا اتفاق ہو تو یوں لگتا ہے جیسے حالات جوں کے توں ہیں اور کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہ منصوبہ آئندہ چارسال کے دوران بھی مکمل ہو سکے گا۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہاں سے پی ٹی آئی کے علی محمد ایم این اے جبکہ افتخار مشوانی ایم پی اے ہیں۔ علی محمد ٹاک شوز میں جاکر دانشوری دکھانے کے ساتھ ساتھ کچھ وقت اپنے حلقے کے لئے بھی نکال لیتے تو یہ صورتحال نہ ہوتی۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اس طرح کے منصوبے پنجاب میں محض دنوں میں مکمل ہو سکتے ہیں تو یہاں سالہا سال میں مکمل کیوں نہیں ہو پاتے؟

آخر شہباز شریف کے پاس ایسی کونسی گیدڑ سنگھی اور الہ دین کا چراغ ہے جو یہاں کی صوبائی حکومت کے پاس نہیں؟ ہمارے ہاں پنجاب کو گالی دینا فیشن سا بن گیا ہے اور جہاں بھی محرومی ہو وہاں پنجاب کو موردالزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ ہو سکتا ہے وسائل کی تقسیم کے ضمن میں کوئی فرق روا رکھا گیا ہو لیکن جو وسائل دستیاب ہیں ، اگر وہ استعمال نہیں ہوتے ، تعمیراتی منصوبے بروقت مکمل نہیں ہو پاتے، صوبائی حکومت اپنی نااہلی کے باعث لوگوں کی توقعات پوری کرنے میں ناکام رہتی ہے، لوگوں کو روزگار کے مواقع فرام نہیں کیے جاتے تو اس میں کسی اور کا کیا قصور ہے؟

اگر پنجاب حکومت ترکی اور چین سے براہ راست سرمایہ کاری کے لئے رجوع کر کے اقتصادی منصوبے شروع کر سکتی ہے تو خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کو کس نے روکا ہے؟ اگر وہاں کے منتخب نمائندے کوتاہ دستی کا شکار ہیں، صوبائی حکومت مجرمانہ غفلت کی مرتکب ہے تو پھر انہیں منتخب کرنے والے دوسروں کو مورد الزام ٹھہرانے کے بجائے خود اپنا محاسبہ کیوں نہیں کرتے۔ جب بھی عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کی بات کی جائے تو پی ٹی آئی کے نمائندے ایک گھسا پٹا جواب دیتے ہیں کہ ہمارا مقصد نظام بدلنا ہے ، محکموں کی کارکردگی بڑھانا ہے،تعمیراتی منصوبے مکمل کرنا نہیں۔ گویا مواصلات کا نظام ان کے مجوزہ نظام میں شامل نہیں اور ان کا خیال ہے کہ سڑکیں اور پل نہ ہوں،ٹریفک کا نظام درست نہ ہو اور لوگوں کو آنے جانے میں دشواری کا سامنا ہو تو کوئی حرج نہیں بس محکموں کی کارکردگی بہتر ہونا چاہئے۔

چلیں اگر اس جانب بھی انہوں نے کوئی کا رہائے نمایاں سرانجام دیئے ہیں تو ان کی تفصیل عوام کے سامنے پیش کر دیں۔ اگر حکومت محکموں کی کارکردگی پیش کرنے میں تذبذب کا شکار ہے تو بادل نخواستہ یہ کام میں کرنے کو تیار ہوں۔صوبائی حکومت سے جب کارکردگی کا سوال کیا جاتا ہے اور پنجاب میں تعمیر و ترقی کا حوالہ دیا جاتا ہے تو یہ تاویل پیش کی جاتی ہے کہ وہاں توشریف خاندان برسہا برس سے تخت نشین ہے اور ہمیں اقتدار میں آئے محض ڈیڑھ برس ہوا ہے۔ میں کہتا ہوں چلیں آپ ماضی کو چھوڑیں اس ڈیڑھ برس کا موازنہ کر لیں کہ کس صوبے میں کتنی ترقی ہوئی۔ اگر صوبائی حکومت کی کارکردگی بہتر نہ ہوئی اور یہی لچھن رہے تو لا محالہ تحریک انصاف کا انجام بھی اے این پی سے زیادہ مختلف نہیں ہوگا۔ میرا خیال ہے کہ عمران خان کو بھی اسی انجام کی توقع ہے اورشاید یہی وجہ ہے کہ تبدیلی کے دعوے اب محض پنجاب تک محدود ہو کررہ گئے ہیں اور پلان سی میں پشاور کا دور دور تک کوئی ذکر نہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.