.

افغانستان اور پاکستان۔ تبدیلی آگئی ہے؟

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے اندر ہونے والے ماضی کے اور 2014 کے صدارتی انتخابات میں بنیادی فرق یہ ہے کہ اُن کے نتیجے میں حامد کرزئی صاحب ہی صدر منتخب ہوتے اور ان کی ٹیم بھی زیادہ تر سابقہ ہی ہوتی لیکن اب کے بار ان کی جگہ ایک دوسری طرح کا پس منظر اور سوچ رکھنے والے ڈاکٹر اشرف غنی احمد زئی صدر بنے ہیں جبکہ ٹیم بھی بڑی حد تک نئی ہے ۔ حامد کرزئی صاحب کی حکومت میں بھی کئی اگرچہ کلیدی عہدوں پر شمال سے تعلق رکھنے والے افغانی تعینات ہوتے تھے اور بعض پختون قوم پرست یہ شکوہ کیا کرتے تھے کہ یہ پختونوںکے نام پرغیرپختونوں کی حکومت ہے لیکن ان کی حکومت میں اپوزیشن کا کردار عملاً تاجک ‘کبھی یونس قانونی‘ کبھی مارشل فہیم اور کبھی ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کی زیرقیادت ادا کرتے رہے۔

طالبان کے بارے میں چونکہ تاجک‘ ازبک اور ہزارہ لیڈروں کی سوچ یکسر مختلف تھی‘ اس لئے حامد کرزئی طالبان سے متعلق اپنی کسی پالیسی کو کھلے دل کے ساتھ عملی جامہ نہیں پہنا سکتے تھے۔ اب کے بارازبک رشید دوستم اور ہزارہ سرور دانش‘ ڈاکٹر اشرف غنی کے پینل سے نائب صدر منتخب ہوئے۔ عبداللہ عبداللہ جوکہ ڈاکٹر اشرف غنی کے خلاف میدان میں تھے‘ بعدازاں امریکہ کی کوششوں سے ہونے والی ڈیل کے نتیجے میں چیف ایگزیکٹو منتخب ہوگئے لیکن یہ صرف ایک عہدہ نہیں جو شمال کے افغانوں کو مل گیا بلکہ اس سے ان کا یہ دیرینہ مطالبہ بھی بڑی حد تک پورا ہوگیا جس کی رو سے وہ افغانستان کے آئین کی صدارتی ہیئت کو تبدیل کرکے پارلیمانی بنانا چاہتے تھے۔ ماضی قریب میں ایک بہتر قدم پاکستان کی طرف سے اٹھایا گیا تھا کہ اس نے شمال کے مذکورہ لیڈروں کے ساتھ تعلقات بہتر کئے تھے۔ اس کے نتیجے میں گزشتہ صدارتی انتخابات کی مہم کے دوران کسی بھی امیدوار نے پاکستان کے خلاف تقاریر نہیں کیں۔

پاکستانی حکام سب امیدواروں کے ساتھ رابطے میں رہے اور یہ پہلی مرتبہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ ڈاکٹر اشرف غنی پاکستان کے ساتھ قربت بڑھانے کی جو کوشش کررہے ہیں‘ اس میں ان کو شمال کے تما م لیڈروں کا تعاون بھی حاصل ہے اور پاکستان سے متعلق احمد ضیاء مسعود سے لے کر عبداللہ عبداللہ تک کم وبیش سب ایک صفحے پر ہیں۔ ماضی میں پاکستان کو گالی دینے کے حوالے سے مقابلہ ہوا کرتا تھا لیکن اب کی بار بڑی حد تک پاکستان کے قریب آنے کے لئے مقابلہ جاری ہے۔

حامد کرزئی صاحب کے لئے ان کا ماضی مصیبت بنا ہوا تھا۔ وہ لمبے عرصے تک پاکستان میں مقیم رہے تھے ۔ ان کے رشتہ دار بھی یہاں مقیم تھے۔ کسی زمانے میں انہوں نے پاکستانی شناختی کارڈ بھی حاصل کیا تھا۔ وہ مجاہدین کی حکومت میں بھی نائب وزیر رہے تھے اور ابتداء میں طالبان کے بھی سپورٹر رہے۔ پاکستانی ایجنسیوں کے ساتھ نہ صرف انہوں نے کام کیا تھا بلکہ وہ آئی ایس آئی اور پاکستانی فوج کے تعاون سے پہلی مرتبہ صدارت کے منصب پر تعینات ہوئے تھے۔ یوں وہ ذہنی ندامت کا شکارتھے۔ انہیں پاکستان کا ایجنٹ ہونے کا طعنہ آخری وقت تک ملتا تھا۔ اس لئے وہ ایک خاص حد سے زیادہ پاکستان کے قریب نہیں آسکتے تھے اور بعض اوقات محض اپنی ساکھ کی بحالی کے لئے پاکستان کے خلاف سخت زبان استعمال کردیتے تھے لیکن ڈاکٹرا شرف غنی نہ پاکستان میں رہے ہیں اور نہ انہوں نے ماضی میں پاکستانی ایجنسیوں کے ساتھ کارندے کے طور پر کام کیا ہے۔ اس لئے وہ اس طرح کی کسی الجھن کا شکار نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے اصرار کے باوجود سابق صدر حامد کرزئی اپنے فوجی افسران کو تربیت کے لئے پاکستان بھجوانے پر آمادہ نہ ہوسکے لیکن ڈاکٹر اشرف غنی نے آتے ہی اس پر آمادگی ظاہر کردی۔ اسی طرح حامد کرزئی صاحب بنیادی طور پر ایک سیاستدان تھے اور وہ خارجہ پالیسی میں بھی سیاست سے زیادہ کام لیتے تھے لیکن ڈاکٹر اشرف غنی بنیادی طور پر ماہر معیشت اور دانشور ہیں اوراس قسم کے لوگ پڑوسی ممالک کے ساتھ تجارت پر مبنی بہتر تعلقات کو ترجیح دیتے ہیں۔ ماضی میں یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ جب پاکستان اور افغانستان قریب ہوتے تو امریکہ کے ساتھ دونوں یا کسی ایک کے تعلقات خراب ہوتے۔ جب افغانستان اور امریکہ قریب آتے تو پاکستان دور رہتا اور جب امریکہ اور پاکستان کی قربت ہوتی تو امریکہ اور افغانستان کے تعلقات کشیدہ ہوتے یا ہوجاتے۔ ایسا بہت کم دیکھنے کو ملا ہے کہ جب تینوں قریب یا تینوں ایک صفحے پر ہوں۔

یہ پہلی بار دکھائی دیتا ہے کہ پاکستان‘ افغانستان اور امریکہ ایک ساتھ ایک صفحے پر ہیں۔ ڈاکٹر اشرف غنی اورعبداللہ عبداللہ‘ امریکہ کی کوششوں سے حکمران بنے ہیں اور اس عمل میں امریکہ اور مذکورہ دونوں شخصیات کو پاکستان کا تعاون حاصل رہا۔ دونوں رہنما انتخابات سے قبل پاکستانی حکام کے ساتھ رابطے میں رہے۔ ملاقاتیں بھی ہوتی رہیں اور وعدے وعید بھی ہوئے۔ ایک بنیادی فرق پاکستان میں بھی واقع ہوا ہے اور وہ یہ کہ جس قدر کئی دیگر معاملات پر پاکستان کی سول قیادت اور فوج میں ہم آہنگی کا فقدان ہے‘ اس قدر افغانستان سے متعلق وہ دونوں ایک صفحے پر ہیں۔ افغانستان سے متعلق جو کچھ ہوا اور ہورہا ہے‘ وہ فوجی اور سول قیادت مل کر کررہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آرمی چیف نے بھی کابل کا دورہ کیا۔ ڈی جی آئی ایس آئی نے چارج سنبھالتے ہی اگلے دن کابل کا دورہ ضروری سمجھا اور ڈاکٹراشرف غنی کے دورہ پاکستان کے موقع پر انہیں جی ایچ کیو میں گارڈ آف آنردیا گیا۔ یہ پہلی مرتبہ ہورہا ہے کہ پاکستانی سیاسی قیادت ‘افغان سیاسی قیادت ‘ پاکستانی فوج ‘ افغان فوج اور پاکستانی انٹیلی جنس‘ افغان انٹیلی جنس کے ساتھ ادارہ جاتی بنیادوں پر تعلق استوار کررہی ہے۔

ابھی عملی اقدامات کا آغاز ہونا باقی ہے اور زمین پر بدستور بڑی حد تک سابقہ پالیسیوں پر عمل ہورہا ہے لیکن اصولی اتفاق اس بات پر ہوگیا ہے کہ سرحد کے آر پارعسکریت پسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے گا۔ افغانستان کے ساتھ پاکستان تعاون کرے گا کہ وہ اپنے مخالفین سے نمٹے اور پاکستان کے ساتھ افغانستان تعاون کرے گا کہ وہ اپنے ہاں حالات قابو میں لائے۔ افغان حکومت نے تو سرحدی علاقوں میں دونوں ممالک کی فوجوں کے مشترکہ آپریشن کی تجویز بھی پیش کی ہے۔ اسی طرح بارڈر مینجمنٹ پر بھی اتفاق ہوا ہے۔ دونوں ممالک کی اس قربت کو نہ صرف امریکہ اور برطانیہ کی شہ حاصل ہے بلکہ وہ نگرانی بھی کررہے ہیں۔ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے اور پاکستان کے لئے افغانستان کی توقعات پر پورا اترنا یا پھر افغانستان کے لئے پاکستان کی توقعات پر پورا اترنا‘ اتنا آسان بھی نہیں۔ تاہم یہ تبدیلی کوئی معمولی تبدیلی نہیں کہ پاکستان سے متعلق افغانستان کے اہم کردار ایک صفحے پر آگئے ہیں جبکہ افغانستان سے متعلق پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت ایک صفحے پر آگئی ہے۔ اسی طرح امریکہ و برطانیہ پہلی مرتبہ کھل کر پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر قضیے کا حل نکالنے کا موقع دے رہے ہیں بلکہ اس کے لئے نگرانی کے ساتھ ساتھ دبائو بھی ڈال رہے ہیں۔ یقینا یہ حقیقی اور بہت بڑی تبدیلی ہے لیکن یہ تبدیلی بہت بڑا چیلنج بھی ہے۔ وہ یوں کہ یہ سب فریقوں کے پاس آخری موقع بھی ہے۔ اگر ڈاکٹر اشرف غنی‘ پاکستان سے مایوس ہوکر دوسری طرف چل دیئے تو پھر ان کو دوبارہ قریب لانا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوگا۔ اسی طرح پاکستان کی طرف سے بھی افغانستان کو آخری موقع دیا جارہا ہے اور اگر نئی افغان حکومت پاکستان کی توقعات پر پورا نہ اتری تو پھر پاکستان بھی مستقل طور پر دوسری طرف نکل جائے گا۔ اسی طرح اب کی بار بات نہ بنی تو اس کے بعد امریکہ اور برطانیہ بھی اسٹک اینڈ کیرٹ (Stick and Carrot)والی پالیسی چھوڑ کر صرف اسٹک کے آپشن کو اپنائے گا۔ گویا اس کے بعد ان قوتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ ہی کرنا ہوگا اور تعاون یا دوستی کے آپشن کم سے کم ہوجائیں گے۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.