.

ملک کو سٹیٹ ایکٹرز سے زیادہ خطرہ ہے

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاک فوج کی قربانیوں اور خدمات کے اعتراف میں میری ایک نہیں، اکٹھی دو کتابیں مارکیٹ میں ہیں۔ ایک ضربِ عضب، جس میں ضربِِِ عضب کے مخالف عناصر کو چُن چُن کا نشانہ بنایا گیا ہے اور ان کے خلاف ایک کھلی چارج شیٹ بھی پیش کی گئی ہے، دوسری، اے وطن کے سجیلے جوانو۔ میں نے ان کے لئے نغمے تو نہیں لکھے، نہ گائے، مگر میرے پاس لکھنے کو ایک قلم تھا جو نثر لکھ سکتا تھا، میں نے وطن کے سجیلے جوانوں کا عزم نامہ لکھا، رزم نامہ لکھا، جو کئی شاہناموں سے زیادہ تابدار ہے۔ مگر آج میں سخت مشکل میں ہوں۔ ایک طرف پاک فوج کے لئے میری اندھی عقیدت، مگر دوسری طرف سپاہ سالار کی کراچی تقریر کے مندرجات جن پر مجھے اظہار خیال کرنا ہے اور جان کی امان پائے بغیر کرنا ہے۔

جنرل راحیل فرماتے ہیں کہ نان سٹیٹ ایکٹرز ملک و قوم کی سلامتی کے لئے سنگین خطرہ ہیں۔ بالکل سچ کہا، سو فی صد درست کہا اور یہ بھی یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اس خطرے کا احساس ہر پاکستانی کو ہے، چنانچہ جنرل صاحب کی وارننگ میںکوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ عوام اسے پہلے ہی بھگت رہے ہیں اور خدانخواستہ حالات درست نہ ہوئے تو آئندہ بھی بھگت لیں گے مگر مجھے پاک فوج کی صلاحیتوں پر کامل یقین ہے، اس نے فاٹا کو چھ برسوں میں صاف کر دیا ہے اور اب ضرب عضب آپریشن سے شمالی وزیرستان کا بچا کھچا علاقہ بھی میرے خیال میں صاف ہو چکا ہے، اسی لئے تو مجھے اپنی کتاب ضرب عضب مارکیٹ میں لانے کا حوصلہ ملا ہے۔

عالم عرب میں اس وقت داعش کا عروج ہے جو سر قلم کرتی ہے، پھانسیوں پر لٹکاتی ہے اور خلافت کا پھریرا لہراتی ہے، پاکستانی قوم نے داعش سے زیادہ ظالموں کو بھگتا ہے، سوات شہر کے چوک میں روزانہ سر اڑائے جاتے تھے اور پھر فوج کو ایک آپریشن کرنا پڑا تھا، شاید یہ آپریشن راہ نجات تھا۔ پچھلے بارہ برس میں پاکستانی عوام ساٹھ ہزار جانوں کی قربانی دے چکے ہیں، داعش والوںنے ابھی اتنے لوگوں کو شہید نہیں کیا ہو گا، پھر ہم نے دیکھا کہ ہمارے فوجیوں کو قیدی بنایا گیا اور ان کے سر قلم کئے گئے اور ان کے سروں کو فٹ بال کی طرح ٹھڈے مارے گئے اور ان دلدوز اور ہلاکو خانی مناظر کی فلمیں بڑے فخر کے ساتھ سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی گئیں۔ پاک فوج نے ضرب عضب میںمیران شاہ کو قبضے میں لیا تو وہاں ایک ایسا ٹارچر سیل ملا جہاں ایک پھٹے پر لٹا کر قیدیوں کو ذبح کیا جاتا تھا اور ان کی لاشیں مُردار بکرے کی طرح ایک رسے سے لٹکا دی جاتیں۔ پاکستان کے لوگ بہت کچھ دیکھ چکے ہیں، بہت کچھ بھگت چکے ہیں، اس لئے میرا خیال ہے کہ جو کچھ بیت چکا، اس سے بڑی قیامت اب کیا آئے گی، شاید آ جائے کیونکہ ملک میں نان سٹیٹ ایکٹرز نے پھن لہرا رکھا ہے۔

مگر مجھے کوئی خطرہ نظر آتا ہے تو اسٹیٹ ایکٹرز سے ہے۔ ابھی ماڈل ٹائون میں دن دیہاڑے چودہ لاشیں تڑپی تھی، ان میں ایک حاملہ خاتون بھی تھی، نوجوان بھی اور بوڑھے بھی، ایک دو روز ہوئے ہیںکہ لاہور کی مال روڈ پر پنجاب پولیس نے اندھے نوجوانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا، اس مقابلے میں اصلی اندھا کون تھا، احتجاجی مظاہرین یا ان کے مقابل صف آرا اسٹیٹ ایکٹرز جو پولیس کی وردی میں تھے۔ ماڈل ٹائون میں بھی پولیس ہی نے گولی چلائی، پولیس گردی کوئی نئی بات نہیں، یہ ہمیں ورثے میں ملی، انگریز استعمار نے اپنے تحفظ کے لئے یہ فورس کھڑی کی تھی، اسے ظلم، جبر اور تشدد کی با قاعدہ تربیت دی، ہمارے حکمرانوںنے انگریز استعمار کی اس نشانی کو سینے سے لگایا بلکہ اس میں اضافے کئے، کسی نے ایف ایس ایف بنائی اور دلائی کیمپ کھولے، کسی نے نیب بنائی اور مخالفین کا نمدا کسا، زرداری کو جمہوریت بہت اچھی لگتی ہے مگر اسی جمہوریت نے اسے برسوں قید و بند میں ڈالا اور اس کی زبان تک کاٹنے کی کوشش کی۔

میں یہ پولیس کا کیا قصہ لے بیٹھا ہوں، اس کے ایک چھتر کی مار نہیں سہہ سکتا، چلئے پٹواری کی بات کرتے ہیں ، کلرک کی بات کرتے ہیں، یہ بھی اسٹیٹ ایکٹرز ہیں، ان کو خصوصی تربیت دی گئی ہے کہ وہ عوام کی گردن دبوچ دیں، ذرا بجلی کی کمپنیوں کی طرف دیکھ لیں، یہ فرعونوں سے بڑھ کر جابر اسٹیٹ ایکٹر ہیں، ہر ماہ پہلے سے زیادہ بل، دو ماہ کے بعد میٹر کاٹ لیتے ہیں۔ فالتو یونٹ ڈالتے ہیں اور ملک کا وہ خزانہ بھرتے ہیں جسے حکمران اپنی عیاشی میں اڑا دیتے ہیں، یہ حکمران الگ قسم کے اسٹیٹ ایکٹرز ہیں، ان کی مراعات دیکھیں، ان کا کروفر دیکھیں۔ ہم قارون کو ناحق گالی دیتے ہیں، نئے دور کے ان قارونوں کے سامنے اس بے چارے غریب کی کیا حیثیت۔

یہ بات اچھی نہیںلگی تو ذرا ہسپتالوں پر نگاہ ڈالئے، یہاں ایسے اسٹیٹ ایکٹرز ہیں جو دن کو سرکاری خزانے سے تنخواہ پاتے ہیں اور شام کو نجی ہسپتالوںمیں پریکٹس کرتے ہیں، پریکٹس تو بہت چھوٹا کام ہے، وہ نوٹ چھاپنے کی مشینیں چلاتے ہیں۔ کس اسٹیٹ ایکٹر کا نام لوں اور کس کا نہ لوں، ایک سے ایک بڑھ کر موذی ہے اور عوام کی رگوں سے خون نچوڑ رہا ہے۔ عمران بے چارہ دُہائی دے رہا ہے کہ اس نظام کو بدلنا ہے مگر اسے چوکوں، سڑکوں اور پارکوں میں رول دیا گیا ہے، قادری تو مایوس ہو کر واپس جانے پر مجبور کر دیا گیا، عمران کو بھی یہ اسٹیٹ ایکٹرز تھکا تھکا کر ماریں گے اور اسٹیٹ ایکٹرز یونہی ڈکارتے پھریں گے۔

کچھ اسٹیٹ ایکٹرز تو باقاعدہ بیرونی طاقتوں کی طرف سے مسلط کئے جاتے تھے، محمد علی بوگرہ، معین قریشی اور شوکت عزیز، ان کے پیچھے اصلی اور وڈی طاقتیں ہوا کرتی تھیں، اس لیے عوام ان کا جبر سہنے پر مجبور تھے مگر یہ جو جمہوریت کے نام پر مسلط ہو جاتے ہیں انہیں جبر، ظلم اور ہلاکو خانی کے لئے کس کی پشت پناہی حاصل ہے۔ کیا چین، جرمنی، برطانیہ، امریکہ کی حکومتیں انہیں ظلم و تشدد کی کھلی چھٹی دیتی ہیں، کیا نیٹو یا یورپی یونین کی طرف سے انہیں آشیر باد حاصل ہے کہ جو چاہو کرتے پھرو۔

یہ سارے اسٹیٹ ایکٹرز جو تباہی مچاتے ہیں، کیا نان اسٹیٹ ایکٹرز اس سے زیادہ ظلم کرتے ہیں۔ اس کا تو حساب لگانا پڑے گا مگر جٹکا حساب یہ ہے کہ اسٹیٹ ایکٹرز کے ہاتھوں کروڑوں لوگ ہر لمحے ایذا کا شکار ہیں جبکہ نان اسٹیٹ ایکٹرز کسی محدود علاقے یا جگہ پر ظلم ڈھاتے ہیں۔ کسی بھی سرکاری دفتر میں چلے جائیں، لوگ فریاد کناں دکھائی دیں گے۔ چھوٹی گاڑیوں والوں سے جبری طور پر زندگی بھر کا ٹوکن ٹیکس وصول کر لیا گیا ہے اور بڑی گاڑیوں کو کسٹم میں ہر طرح کی چھوٹ دے دی جاتی ہے، انکم ٹیکس، درآمد، برآمد کے افسران اور اہلکاروں کی بربریت پر لوگ چیختے پھرتے ہیں۔ محکمہ تعلیم کے اسٹیٹ ایکٹرز تو بچوں کو مرغا بنا کر حظ محسوس کرتے ہیں، کچی جماعت سے لے کر درجہ بدرجہ اگلی کلاسوں کے بچوں پر بستے کے نام پر گدھے کے برابر وزن لاد دیا جاتا ہے۔ تعلیم ایک مقدس پیشہ تھا، اب اسے تجارت بنا لیا گیا ہے اور نان ا سٹیٹ ایکٹرز اس پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

ملک کے عوام کے سامنے دو چوائس ہیں: اسٹیٹ ایکٹرز کی غلامی کا جبر سہتے رہنا یا نان اسٹیٹ ایکٹرز کے ہاتھوں پھانسی پر جھول جانا، گلے کٹوا لینا اور ہر غم سے آزاد ہو جانا۔ قوم مایوسی کا شکار ہے، تبدیلی دور دور تک نظر نہیں آتی، کیا اسٹیٹ ایکٹرز کی قیامت کے بعد نان اسٹیٹ ایکٹرز آسمان سر پر گرا دیںگے۔

بہ شکریہ روزنامہ نوائے وقت

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.