.

اندھے بہروں کا ملک!

بشریٰ اعجاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نابیناؤں کا عالمی دن آیا اور تخت لہور کی ایک مصروف سڑک پر ٹھہر گیا۔ یہ سڑک آنکھ والوں کی تھی۔ جس پر اس ملک کے مہاپرش یعنی صدرِ پاکستان کی سواری بادِ بہاری کا روٹ لگ چکا تھا۔ چنانچہ ’’آنکھیں رکھنے والے‘‘ اس ملک کے قانون اور اس کے رکھوالوں نے، سفید چھڑی اور بریل کوٹٹول کر، علم حاصل کرنے اور خود کو اس معاشرے کا کار آمد فرد بنانے کی خاطر آنکھوں کی سیاہ پتلیوں میں ہمیشہ سے بسیرا کر لینے والی ظلمتوں کو چیلنج کرنے والے بے ضرر انسانوں کو یوں آنکھیں دکھائیں کہ پورے ملک کی آنکھیں شرمندگی سے جھک گئیں۔ وہ اخلاقی کتابیں جن میں اندھے کو راستہ دکھانے اور سڑک پار کرانے والوں کو شریف النفس اور نیک دل کہا جاتا ہے، ان کے حروف شرمندگی کے مارے منہ چھپانے لگے۔

انسانیت اور انسان کو افضل سمجھنے والوں کی پیشانیوں عرق ندامت سے تر ہو گئیں اور یہ معاشرہ، اس کے قوانین و ضوابط، اس کی اخلاقی قدریں، اس کی انسانی قدریں اور اس کا کردار ایک دفعہ پھر سوالیہ نشانوں سے بھر گیا۔ اس ملک کی جمہوری قدروں کی قسمیں کھانے والے، حکمران اور جمہوریت کا تحفظ کرنے میں ان کے حامی و مدد گار، مطلق العنانیت اور آمریت کا ایسا سمبل نظر آنے لگے جسے ہزار بار بھی جمہوریت کی قبا پہنا دو، آمریت اور مطلق العنانیت جھلک جھلک کر باہر آنے لگے گی۔ اس کے باوجود دختر شاہ یعنی مریم نواز شریف کی ’’بے خبری اور معصومیت‘‘ کا جواب نہیں۔ جنہوں نے سڑکوں پر قانون اندھا ہے۔۔۔

قانون کے رکھوالے اندھے ہیں۔ ان رکھوالوں کو پالنے والے اندھے ہیں اور ان اندھوں کو خود پر حکومت کی اجازت دینے والے اندھوں کی سرکار نمائندگی کرتے ہوئے یہ کہہ کر ’’رحم دلی‘‘ کی انتہا کر دی، افسوس کی اخیر کر دی ’’کاش وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ ملک میں ہوتے‘‘ دوسرا تبصرہ ’’قطر نہ گئے ہوتے تو ذمہ داروں کو سزا دلواتے‘‘۔ جس کے بعد نابیناؤں کا عالمی دن جو تخت لہور کی ایک سڑک پر صرف ایک دن کی ہمدردی حاصل کرنے نکلا تھا، اسے تو چپ ہی لگ گئی۔ کالے چشمے، ہاتھوں میں بینر جن پر ’’ہمیں جینے کا حق چاہیے‘‘۔ ’’ہمیں سرکاری خزانے میں، ہمارے لیے مختص دو فیصد کوٹے سے اپنا حصہ چاہیے‘‘ جیسے بے ضرر مطالبات تحریر تھے، ٹی وی سکرینوں پر، ان بینروں کو پھٹتے، ٹوٹتے، پاؤں تلے چرمراتے تو دیکھا ہی مگر جب ان بینروں کو تھامنے والوں کو تھپڑ، مکے، لاٹھیاں برسا کر انہیں زمین پر بے دردی سے گھسیٹا جا رہا تھا تو دیکھا نہ گیا۔۔۔

پنجاب پولیس جس نے چند ماہ قبل ماڈل ٹاؤن میں آنکھیں رکھنے والوں کے سامنے اس ملک کے معصوم و بے گناہ شہریوں کو خاک و خون میں نہلا کر اپنے لیے ہلاکو خان کا کردار پسند کیا تھا، اور آنکھ والوں کے لیے ، اندھے بہروں کا۔ اس دفعہ اس پنجاب پولیس نے ایک دفعہ پھر ثابت کر دیا دنیا کی کوئی پولیس بے رحمی میں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی اور جس اندھے نظام کا وہ حصہ ہے، اس کی تبدیلی آسان نہیں۔

صدر ممنون حسین جن کا چہرہ بھی پوری طرح اس ملک کے عوام نے نہیں دیکھا ہوا ان کے کردار کی فعالیت کا ذکر کیا جائے تو حالیہ طویل سیاسی بحران ہو یا سیلاب جیسی ناگہانی آفت کہیں انہیں دیکھا گیا، نہ وہ پائے گئے۔ یہ خاموش کردار جس پر قوم کا اربوں کا ٹیکس اُڑ رہا ہے، کی سواری کے لیے ہٹو بچو کا ماحول اور اس میں خصوصی افراد پر خصوصی تشدد جب ہو رہا تھا تو اپنے شریف سے صدر پر مغل اعظم کا گمان گزرتا تھا، اور نابینا افراد پر ان غلاموں کا جو شاہی سواری کے پاؤں تلے کچلے جاتے ہیں محض اس گستاخی پر کہ وہ غلطی سے، سواری کے راستے میں موجود تھے! جمہوریت اگر اس فرعونیت کا نام ہے تو پھر کیا آمریت اس سے بڑی ہے؟ آنکھوں جیسی نعمت سے محروم افراد کو بے ضرر احتجاج پر، جب بدترین پولیس گردی کے ذریعے، محرومی کی سزا دی جا رہی تھی اور بعد ازاں جب وہ سڑک پر دھرنا دیئے، پورے آٹھ گھنٹے سے انصاف کی راہ دیکھ رہے تھے تو اس ملک پر کسی وسیع پاگل خانے کا گمان گزرتا تھا، جہاں ابنارمل روپے نارمل مانے جاتے تھے اور نارمل لوگوں کو زبردستی ابنارمل بنانے کا انتظام کیا جاتا ہے۔

اس شرمناک واقعے کے بعد جب وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کی غیر موجودگی کا ذکر اس طور کیا جا رہا تھا، جیسے وہ ملک میں موجود ہوتے تو یہ واقعہ نہ گزرتا، تو ان کے بذات خود شہر میں موجودگی کے دوران ہو گزرنے والے کچھ سانحات خواہ مخواہ ہی یاد آ رہے تھے جن میں مسیحی کالونی پر پولیس کا دھاوا، ماڈل ٹاؤن میں پندرہ گھنٹے پولیس کی وحشت و بربریت، مسیحی جوڑے کا بھتے میں زندہ جلایا جانا، نابالغ بچیوں کا دن دہاڑے ریپ اور بہیمانہ قتل اور ملزمان کا تادم تحریر اس ملک کے اندھے قانون کا ٹھٹھہ اڑانا، تھیلسیمیا کے بچوں کو ایڈز کا خون لگا کر انہیں ایڈز میں مبتلا کر دینا، سرگودھا کے سول ہسپتال میں نوزائیدہ بچوں کا مرنا اور پھر مرتے ہی چلے جانا، اور انتظامیہ کا رسمی کارروائی کے بعد اپنی جملہ ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہو جانا۔ یہ چند واقعات بطور نمونہ ہیں وگرنہ جرائم کی وہ فہرست نہ لکھی جا سکتی ہے نہ پڑھی، جو جناب خادم اعلیٰ پنجاب کی چھبیس گھنٹے کی ان تھک موجودگی کے دوران اس دھرتی پر انجام پاتے رہتے ہیں اور رپورٹ بھی نہیں ہوتے۔ رہا یہ واقعہ جس میں افسردہ دل مریم نواز اپنے ذی مرتبہ والد صاحب اور چچا صاحب کی غیر موجودگی پر دل گرفتگی کے عالم میں فرما رہی تھیں، اگر وہ ہوتے تو۔۔۔ ایسا ہرگز نہ ہوتا۔ اب ان محترمہ سے کون یہ پوچھنے کی جسارت کرے کہ کیا وزیراعظم اور وزیراعلیٰ جب ملک سے باہر تشریف لے جاتے ہیں تو قانون کو جیب میں ڈال کر ساتھ لے جاتے ہیں۔ انصاف کو اپنے بھاری سامان میں پیک کر کے ہمراہ رکھتے ہیں تا کہ چوری نہ ہو جائے۔

متذکرہ بالا واقعات کیا ان کی موجودگی میں نہیں وقوع پذیر ہوتے؟ اور وزیراعظم صاحب جو اس پورے ملک کے حکمران ہیں کیا سندھ، بلوچستان، کراچی، کے پی کے، سوات، ان کی عملداری کا حصہ نہیں، جہاں برابر آگ لگی رہتی ہے اور اندھوں کے اس پورے ملک میں وزیراعظم و خادم اعلیٰ پنجاب تو کجا ایک کو ابھی دکھائی نہیں دیتا جو اس آگ پر چونچ میں قطرہ بھر پانی ڈالنے والا ہو، اس آگ کو بجھانے کی تمنا رکھنے والا ہو۔ قانون و انصاف کو جیبوں میں رکھ کر، بیرونی دورے فرمانے والے، ہمارے صاحبان بصارت حکمران جب ملک کو اپنی موجودگی سے ’’رونق‘‘ بخشتے ہیں تو اس قانون کو سرہانے رکھ کر سوتے ہیں۔۔۔ اور اتنا سوتے ہیں کہ مخلوق خدا کی دہائی بھی ان کے کانوں تک نہیں پہنچتی۔ یہی وجہ ہے یہ ملک اندھوں اور بہروں پر مشتمل انسانوں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔۔۔ جہاں ابنارمل رویوں کی پیداوار میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ کوئی مانے نہ مانے۔۔۔ مجھے تو یہ ملک واقعی اک بڑا سا پاگل خانہ لگتا ہے، جہاں سبھی ایک دوسرے کو نوچ کھسوٹ رہے ہیں۔ پتھر مار رہے ہیں اور پاگل خانے کا انچارج اونچی مسند پر بیٹھا یہ سب کچھ اطمینان سے دیکھ رہا ہے۔۔۔ وہ جانتا ہے، یہ پاگل ذہنی طور پر صحت مند ہو گئے، تو اس کے مسند رہے گی، نہ اس کا اقتدار!

بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.