.

عمران خان کا سیلانی عزم

نجم سیٹھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نواز شریف حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے عمران خان کا دھرنا اتنے موڑ مڑ چکا ہے کہ اب اُن کے اگلے قدم کی پیش گوئی کرنا بہت دشوار ہے۔ کیا یہ سب کچھ پہلے سے طے شدہ ہے یا پھر وہ کسی نہ کسی طریقے سے اپنے سامنے سیاسی امکانات کھلے رکھنے کا جتن کر رہے ہیں؟ ایک وقت تھا جب عمران خان چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بہت بڑے مداح تھے کیونکہ اُس وقت سپریم کورٹ این آراو کے پیچھے پڑی ہوئی تھی، ایک وزیر ِ اعظم کو منصب سے ہٹا چکی تھی جبکہ عدالت کے ایوان میں میمو گیٹ کی باز گشت بھی سنائی دے رہی تھی۔ تاہم جب عدالت عظمیٰ نے انتخابی دھاندلی کے خلاف عمران خان کی درخواست سماعت کے لئے منظور نہ کی تو اُنھوں نے الزام لگایا کہ ’’چیف جسٹس بھی انتخابی دھاندلی کے ذمہ دار ‘‘ ہیں۔ ایک وقت تھا جب عمران خان جیو ٹی وی کی تعریف میں حد سے گزر جایا کرتے تھے۔

اُن کا کہنا تھا کہ جیو ٹی وی کا پاکستان میں کوئی ثانی نہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اُس وقت جیو اُنہیں اپنے ائیر ٹاک ٹائم کا تقریباً بیس فیصد دیا کرتا تھا۔ اس نے عمران خاںکی سیلاب سے متاثرہ افراد کے لئے فنڈ اکٹھے کرنے میں بھی مدد کی ۔ اس چینل نے خاں صاحب کو پاکستان کے سنہری مستقبل کی امید کے طور پر اجاگر کیا، تاہم جب جیو نے محسوس کیا کہ اسے اپنی نشریات میں توازن لاتے ہوئے تمام سیاست دانوں کی طرح عمران خان کا بھی تنقیدی جائزہ لینے کی ضرورت ہے تو خاں صاحب آپے سے باہر ہوگئے۔ اُنھوں نے اس پر نواز شریف کا آلہ کار ہونے اور ملک سے ’’غداری‘‘ کا ارتکاب کرنے کا الزام لگایا۔

ایک وقت تھا جب ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین پر الزامات عائد کرنے کے لئے عمران خان لند ن گئے۔ پھر اُنھوں نے الطاف حسین پر 2013ء کے انتخابات میں کراچی میں دھاندلی کرنے کا الزام بھی لگایا، تاہم آج کل وہ الطاف بھائی کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں تاکہ ان کے کراچی کے دھرنے کسی مشکل کا شکار نہ ہوں۔ ایک وقت تھا جب عمران خان پنجاب کے نگران وزیر ِ اعلیٰ (راقم الحروف) کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملادیتے تھے ۔ اُن کا کہنا تھا کہ پنجاب میں ملک کی سب سے زیادہ غیر جانبدار انتظامیہ ہے، لیکن اب نگران وزیر ِ اعلیٰ پر’’پنتیس پنکچر‘‘ لگانے کا الزام لگاتے ہیں.... گویا نگران وزیر ِ اعلیٰ نے پی ایم ایل (ن) کو مبینہ طور پر پنتیس نشستیں جیتنے میں مدد کی۔

کبھی خاں صاحب نے فخر الدین جی ابراہیم کی بطور چیف الیکشن کمیشن تقرری کا خیر مقدم کرتے ہوئے اُنہیں پاکستان کی تاریخ کا سب سے غیر جانبدار سی ای سی قرار دیا تھا۔ اُب اُن کا کہنا ہے کہ فخروبھائی بھی انتخابی دھاندلی میں شریک تھے۔ انتخابی مہم کے دوران ا سٹیج سے گرنے کے بعد جب وہ اپنے اسپتال کے بستر پر تھے تو اُنھوں نے انتخابی نتائج کو کھلے دل سے قبول کرتے ہوئے اپنی شکست تسلیم کرلی۔ اسد عمر نے کھلے عام نواز شریف کو کامیابی کی مبارک باد دی، تاہم اب پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ نہ صرف پنجاب، بلکہ تمام پاکستان میں ان کی جتتی ہوئی نشستیں کسی اور کی جھولی میں ڈال دی گئیں۔ گزشتہ تین ماہ سے جاری احتجاجی تحریک، جس میں اُنہیں بے پناہ میڈیا کوریج ملی، عمران خان مخالفوں پر گرجنے چمکنے کے علاوہ کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہ کر سکے۔ اُنھوں نے با رہا ڈیڈلائن دی کہ وہ دھاندلی کے ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ سامنے آئیں گے لیکن اُس دن سوائے الزامات کے اور کچھ بھی سامنے نہ آسکے۔ اُنھوں نے اتنی اخلاقی جرأت کا مظاہرہ بھی نہیں کیا کہ وہ عدالت میں اپنے الزامات کا کوئی ثبوت ہی پیش کر دیں۔

اس وقت تک عمران خان کے دھرنے بہت تکلیف دہ ہو چکے ہیں۔ چودہ اگست کوزبردست تحریک کے نتیجے میں نواز حکومت کو گرانا اُن کا پلان اے تھا۔ تاہم جب ’’تھرڈ امپائر ‘‘ کی انگلی نہ اٹھی اور ’’کزن‘‘ ، طاہر القادری، کینیڈا سدھارے تو پلان اے کے غبارے سے ہوا نکل گئی۔ پلان بی تیس نومبر کو عوامی طاقت سے حکومت کا خاتمہ تھا لیکن یہ افسوس ناک حد تک ناکام رہا اور حکومت کہیں نہیں گئی۔ خفت کے مارے افراتفری کے عالم میں پلان سی کا اعلان کر دیا گیا۔ اس کے مطابق دسمبر کی چار، اٹھ اور بارہ تاریخ کو بالترتیب لاہور، فیصل آباد اور کراچی اور سولہ دسمبر (سقوط ِڈھاکہ کے دن) کو تمام پاکستان کو بند کر دیا جائے گا۔ تاہم اگلے ہی دن یہ تاریخیں تبدیل کرکے آگے بڑھا دی گئیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ اب ملک اور شہر وں کو بند کرنے کی بجائے پی ٹی آئی کے نوجوان کارکن احتجاجی ریلیاں نکالیںگے، لیکن کاروباری سرگرمیوں میں خلل نہیں ڈالا جائے گا۔

اب پلان سی کی ناکامی کے بعد پلان ڈی، جسے ’’مدر آف آل پلانز ‘‘ قرار دیا جارہا ہے، کی دھمکی دی جارہی ہے۔ خدا ہی جانتا ہے کہ پاکستانیوں کی قسمت میں کیا ہے، ورنہ انگریزی کے حروف تو زیڈ پر ختم ہوجاتے ہیں، اس لئے بعد خاں صاحب کیا کریںگے؟ایک بات طے کہ اب ان کا جوش ماند پڑتا جارہا ہے۔ بہت دیر سے وہ کہہ رہے تھے کہ عمران اگست سے آگے نہیں جائیں گے، اب دسمبر کراس کرنا مشکل ہے۔ تاہم احتیاطً اگلے سال عید کی ڈیڈلائن بھی دے دی ہے۔ بدقسمتی سے انا اور غرور انسان کو لچک دکھانے کے قابل نہیں رہنے دیتی اور سیاست میں سخت گیر روئیے نہیں چلتے ہیں۔ خفیہ اداروں کی مدد سے حکومت الٹنے کا خواب چکنا چور ہوگیا ہے۔ خان صاحب کے انکوائری کے لئے کیے گئے مطالبات بھی غیر حقیقی ہیں۔ اس کے لئے وہ جتنی جلدی کرنے کی ڈیڈلائن دے رہے ہیں، اتنی جلدی ممکن نہیں ہے۔

ان تمام معروضات کے باوجود عمران خان کے مطالبات درست ہیں۔ انتخابات شفاف ہونے چاہئیں، دھاندلی ، بدعنوانی اور اقرباپروری جمہوریت کے نام پر بدنما داغ ہیں۔ پاکستان کو تبدیلی کے مراحل سے گزرتے ہوئے ترقی کرنی چاہیے، لیکن اس کے لئے عملی ، نہ کہ وقتی اور جذباتی اُبال کی ضرورت ہے۔ فی الحال عمران خان جذباتی اُبال کا شکار ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.