.

لڑائی کیلئے دوست اور صلح کیلئے دشمن!

نازیہ مصطفیٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اُس نے پہلی جنگ عظیم کے دوران کمزور ہوتی سلطنت عثمانیہ کے علاقے فلسطین میں ایک کاشتکار یہودی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ اسکے والدین یوکرین سے ہجرت کرکے فلسطین میں آباد ہوئے تھے، جہاں اُس نے چودہ سال کی عمر میں یہودیوں کی دفاعی ملیشیا ’’ہیگنا‘‘ میں شمولیت اختیار کرلی اور اپنی خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر جلد ہی شب خون مارنے والے جوشیلے یہودی عسکریت پسندوں میں اُس کا نام دہشت کی علامت بن گیا۔ تیس کی دہائی کے آخری سال میں شب خون مارنے والے یہودیوں کے ایک گروپ کے تینتالیس افراد کارروائی کیلئے ایک جگہ چھپے تھے کہ برطانیہ کی زیر نگرانی کام کرنے والی یروشلم کی عرب پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا، یہودی ملیشیا کے گرفتار ہونیوالے اس گروپ کو اِرغون کی ایکر جیل میں رکھا گیا۔ موشے کارمل اس گروپ کا ڈپٹی کمانڈر تھا، اس نے جھوٹ سچ بول کر تفتیش کاروں کو پکڑے جانیوالوں کے بے گناہ ہونے کا بہت یقین دلانے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہا، یوں 23 روز کی تفتیش کے بعد گروپ کے زیادہ تر ارکان کو دس سال کی قید کی سزا سنا دی گئی۔ کارمل ناکام ہوا تو کاشتکار یہودی خاندان کے اُس گوریلے نے تفتیش کاروں سے بات کرنے کی اجازت مانگی، جس پر گروپ کمانڈر نے اُسے اجازت دیدی۔

حیرت انگیز طور پر اُس کاشتکار یہودی نے اپنی گفتگو سے تفتیش کاروں کو رام کر لیا اور یوں اُسے رہا کر دیا گیا، جس کے کچھ عرصہ بعد باقی گرفتار افراد کو بھی رہائی مل گئی۔ یہ پہلا موقع تھا جب وہ یہودیوں کی صف اول کی قیادت کی نظروں میں آیا۔ اپنی رہائی کے دو سال بعد یہ کاشتکار یہودی ایک محاذ پر شام اور لبنان کیخلاف فوجی کارروائی کے دوران ایک عمارت کی چھت پر چڑھ کر دشمن کو تاک رہا تھا کہ مخالف سمت سے آنیوالی ایک گولی سیدھی اسکی بائیں آنکھ سے آن ٹکرائی، جس سے اسکی آنکھ ضائع ہوگئی تھی۔ آنکھ ضائع ہونے کے باوجود وہ یہودیوں کے عسکری منصوبوں اور اسرائیل کے قیام کے بعد اسرائیلی فوج کا اہم حصہ رہا۔ یروشلم پر قبضے کی جنگ اپنے عروج کو چھو چکی اور ہزاروں افراد خاک و خون میں نہلائے جا چکے تو اطراف نے جان لیا کہ اب مذاکرات کے سوا کوئی چارہ نہیں لیکن بہت زیادہ قتل و غارت کی وجہ سے مذاکرات کی کوئی راہ سجھائی نہ دے رہی تھی۔ حالات ایسے تھے کہ عربوں سے زیادہ یہودی امن معاہدہ کرنا چاہتے تھے۔ اِس موقع پر گوریلے نے پھر اپنی خدمات پیش کیں تو یہودیوں کی اعلیٰ قیادت نے اسکی خدمات قبول کر لیں۔ خصوصی نمائندہ مقرر ہونے پر گوریلے نے براہ راست یروشلم کے عرب فوجی گورنر عبداللہ التل کو پیغام بھجوایا کہ وہ اس سے ملنا چاہتا ہے۔ عبداللہ التل کے ساتھ پہلی ملاقات میں ہی دونوں کے درمیان یروشلم میں جنگ بندی کا معاہدہ ہوگیا۔ اگلے برس اِس گوریلے نے اردن کے شاہ عبداللہ کے ساتھ علیحدگی میں مسلسل پانچ ملاقاتیں کیں، جس کے نتیجے میں اسرائیل اور اردن کے درمیان طویل المدتی امن معاہدہ ممکن ہوگیا۔ عسکری، سفارتی اور سیاسی صلاحیتوں سے مالا مال اسرائیل کا یہ کاشتکار یہودی کوئی اور نہیں بلکہ ایک آنکھ والا جنرل موشے دایان تھا۔ موشے دایان جو ایک آنکھ ضائع ہونے کے باجود 1952ء میں اسرائیلی فوج کا چیف آف جنرل اسٹاف مقرر ہوا اورحیرت انگیز صلاحیتوں کی وجہ سے ریٹائرمنٹ کے بعد پہلے وزیر دفاع بنا اور اپنی موت سے کچھ عرصہ پہلے انیس سو اناسی تک وزیر خارجہ بھی رہا۔

صلاحیتوں میں صرف یہودی ہی دنیا کو حیران نہیں کرتے بلکہ اور بھی بہت سے لوگ ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کر ایک عالم دنگ رہ جاتا ہے۔ اب عمران خان کو ہی لے لیں، چند ماہ پہلے کون کہہ سکتا تھا کہ ایک کھلنڈرا سا کھلاڑی احتجاجی سیاست میں بھی نئے نئے ریکارڈ قائم کریگا۔ لگ بھگ ساڑھے تین ماہ پہلے عمران خان نے 2013ء کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کیخلاف اپنی مہم شروع کی اور آزادی مارچ کی شکل میں لانگ مارچ لے کر اسلام آباد میں پڑاؤ ڈالا تو اس دوران بہت سوں نے عمران خان اور حکومت کے درمیان مذاکرات (صلح) کرانے کیلئے بھی اپنا سا زور لگایا۔ جب دھرنے پورے زوروں پر تھے تو اُس وقت دھرنے والے نہیں مان رہے تھے اور اب جب ایک دھرنا بالکل ختم ہوچکا اور دوسرے دھرنے کا بھی محض جسد خاکی پڑا ہے تو اب حکومت نہیں مان رہی۔ اسکے باوجود صورتحال یہ ہے کہ کوئی کتنے ہی عذر تراشے اور کتنی ہی دلیلیں اور تاویلیں پیش کرے، عمومی طور پر تاثر یہی مل رہا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف اور عمران خان دونوں موجودہ صورتحال سے تھک چکے ہیں اور دونوں ہی اس صورتحال نکلنا چاہتے ہیں، لیکن انکے دائیں بائیں موجود حضرات اِن دونوں کو اس صورتحال سے نکلنے نہیں دے رہے۔ عمران خان کے دائیں بائیں کھڑے افراد اگر جلاؤ گھیراؤ کرنے اور ’’کام تمام‘‘ کرنے کی باتیں کرتے ہیں یا اے بی سی ڈی جیسے بے سروپا پلانوں کے ذریعے اچھے بھلے ’’ہیرو‘‘ کو زیرو بنانے پر تلے ہیں تو وفاقی کابینہ میں بھی عمران خان کو مزا چکھانے کی باتیں کرنیوالے وزراء اچھے خاصے موجود ہیں جو دراصل موجودہ صورتحال کو جوں کا توں رکھنے پر تلے ہوئے ہیں۔

قارئین کرام!! اگر یہ تاثر واقعی درست ہے کہ نواز شریف اور عمران خان ذاتی طور پر دونوں ہی صلح یا مذاکرات کرنا چاہتے ہیں تو پھر اُنہیں موشے دایان کے فارمولے پر عمل کرنا ہوگا۔ موشے دایان سے کسی نے اُس کی عسکری، سفارتی اور سیاسی کامیابیوں کا راز پوچھا تو اس نے کہا تھا کہ ’’جب بھی مجھے لڑنے کی ضرورت پیش آئی تو میں نے اپنے دوستوں سے بات کی اور ان سے مشورہ لیا اور اسکے برعکس جب بھی مجھے صلح یا امن مذاکرات کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو میں نے دوستوں کی بجائے براہ راست دشمن سے بات چیت کی‘‘۔ میاں نواز شریف اور عمران خان کے اردگرد کھڑے لوگ بھی یقینا اِن دونوں کے خیر خواہ اور سچے دوست ہی ہیں لیکن موشے دایان نے انسانی نفسیات کی جو گرہ اپنے ابتدائی کیریر میں ہی کھول لی تھی، وہ بھی یقینا حقیقت ہے کہ ایک سچا دوست کبھی اپنے دوست کو پسپا ہوتے یا زمین سے اُس کی پشت لگتے نہیں دیکھ سکتا، لہٰذا وہ اس کی ہمت بندھاتا رہتا اور اسے لڑنے مرنے پرآمادہ کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے اس لیے جب صلح کی بات ہو تو انسان کو اپنے دوستوں سے مشاورت نہیں کرنی چاہیے، بلکہ سیدھا دشمن سے بات کرنی چاہیے۔ عمران خان اور نواز شریف بھی جب تک اپنے دائیں بائیں موجود لوگوں سے اس موضوع پر بات کرتے رہیں گے، وہ کبھی امن یا صلح کی طرف نہیں بڑھ سکیں گے، امن اور صلح کیلئے میاں نواز شریف اور عمران خان کی آپس میں براہ راست ملاقات ضروری ہے۔ یہ ملاقات ون ٹو ون اور چائے کی ایک سادہ پیالی پر ہی ہوگئی تو سمجھیں کہ ساڑھے تین ماہ سے چائے کی پیالی میں پیدا ہونے والا طوفان بھی جھاگ کی طرح بیٹھ جائیگا۔ میاں صاحب اور خان صاحب! امن اور صلح کیلئے کارآمد فارمولہ وہی موشے دایان کا ہے، بس عمل آپ نے کرنا ہے کہ لڑائی کیلئے دوست اور صلح کیلئے دشمن!

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.