.

نوری المالکی: کرپشن چھپانے کے ماہر کے طور پر

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں پچاس ہزار گھوسٹ فوجیوں کا سکینڈل سامنے آنے کے ساتھ ہی عراق کا سابق وزیر اعظم نوری المالکی شام، ایران اور حزب اللہ کے مقدس دفاع کے فریضے کے بارے میں بول پڑا ہے۔ نوری المالکی شاید یہ سمجھتا ہے کہ اپنے دور حکومت کی ان بدترین ناکامیوں اور بدعنوانیوں پر پردہ ڈالنے کا یہ حربہ کامیاب ہو سکتا ہے۔ جن ناکامیوں اور بدعنوانیوں میں دہشت گرد تنظیم کے ہاتھوں ہلا دینے والی شکست اور گھوسٹ فوجیوں کی بھرتیوں کا انکشاف شامل ہے۔

بغداد کے گرین زون کا سابق گورنر مذہبی قیادت کو پکارنے سے ملک میں خطرات پیدا کر رہا ہے ۔ وہ نئے وزیر اعظم حیدر العبادی کے لیے سبکی کا باعث بن رہا ہے۔ وزیر اعظم حیدر العبادی نے ایک روز پہلے ہی اپیل کی ہے کہ سابقہ دور حکومت میں فوجی قیادت کی طرف سے وسیع پیمانے پر کی گئی غلطیوں کی اصلاح کے لیے عراقی عوام متحد ہو جائیں۔

اپنے دور حکومت میں ہونے والی کرپشن اور بدعنوانی کی تفتیش کے لیے خود کو پیش کرنے کے بجائے نوری الماکی نے لبنان کے سیاحتی دورے پر جانا پسند کیا۔ جہاں ایک سیاح کے طور پر مزے سے گھوم رہا ہے۔ دوسری طرف اہل عراق ہیں کہ خود کو داعش سے ملک کو بچانے کے لیے کوشاں ہیں۔ لیکن نوری الماکی کو ایران، شام اور حزب اللہ کے تحفظ کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ ایران، شام اور حزب اللہ کے لیے وہ نوری المالکی پریشان ہے جو اپنے دور اقتدار میں عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل کا تحفظ کرنے میں ناکام رہا۔ جس نے شہر کو داعش کے حوالے کر کے تباہ کر دیا۔ کہ اسے اپنے اقتدار کے دوران صرف کرپشن کرنا تھی۔ یوں عراق عسکری تنظیموں اور گروہوں کے قبضے میں چلا گیا۔

سکینڈل اور ناکامیاں

انہی سکینڈلز اور ناکامیوں کی وجہ سے خود نوری الماکی کی اپنی جماعت الدعوۃ میں بغاوت ہو گئی۔ سبھی جماعتیں اس کے خلاف ہوتی گئیں، حتیٰ کہ شیعہ لیڈ ر بھی اس سے خوش نہ رہ سکے۔ نوری المالکی اپنے سیاسی مخالفین کو بلیک میل کرنے کو بھی اپنے حکومتی اسلوب کے طور پر جاری رکھے ہوئے تھا۔ اس نے ہر ایک کے خلاف کئی سال تک اپنی طاقت اور اختیار کا ایک نئے صدام حسین کے طور استعمال کیا۔ یہ چیز اس وقت اور بھی نمایاں ہوتی رہی جب وہ مزید چار سال کے لیے اقتدار کے لیے حریص نظر آیا۔

اپنی آٹھ سالہ وزارت عظمیٰ کے دوران اس نوری الماکی نے سات وزارتوں کو اپنے ہاتھ میں رکھے رکھا۔ اس کے دور آمریت میں سکینڈلز نے اس کے افسروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لیے رکھا۔ روسی اسلحے کے حوالے سے رشوت سکینڈل بھی سامنے آیا۔ جس میں مشرقی یورپ کے پرانے اسلحے کا چرچا رہا۔ فوجی عہدے داروں کی اقربا پروری کے حوالے سے تقرریاں بھی کی جاتی رہیں۔

کرپشن میں غیر معمولی بڑھاوا اور موزوںیت کی حامل حکمرانی میں مکمل ناکامی کی وجہ سے 11 جون کا تباہ کن واقعہ پیش آیا۔ جس کے نتیجے میں صرف 2000 سے بھی کم عسکریت پسندوں کا مقابلہ کرنے کے بجائے المالکی کی فوج موصل سے بھاگ گئی۔ نوری الماکی کے اقدامات کی وجہ سے ہزاروں لوگ مارے گئے۔ اگر عراقی سیاسی قوتیں جلد ایکشن کر کے اس کی حکومت کا خاتمہ نہ کرتیں تو آج عراق کے متحد رہ پانے کا امکان باقی نہ رہتا۔

غیر ملکی مداخلت نے بھی بغداد کو بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اگر یہ مداخلت نہ ہوتی تو بغداد بھی اب تک داعش کے ہاتھوں میں جا چکا ہوتا۔ ان حالات میں اگر العبادی باریک بینی کو بروئے کار لا کر ان نوع در نوع مسائل کو قابو میں لانے کی کوشش نہ کرتے اور مالکی کی پالیسیوں کے مضر اثرات کو نہ روکتے تو آج عراق ایک خوفناک خانہ جنگی میں مبتلا ہوتا۔

اس لیے آخر میں پوچھنا چاہتا ہوں کیا نوری المالکی ایسا ایک بدعنوان شخص اپنے تفریحی اور سیاحتی دورے پر لبنان کے جنوبی صوبے میں ہوتے ہوئے نصیحت کر نے کا حق رکھتا ہے۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.