.

ایٹمی طاقت۔ سراب نہیں حقیقت

نصرت مرزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اگلے روز کراچی یونیورسٹی کے ماس کمیونیکیشن کے طلباء سے تبادلہ خیال کے دوران ایک پروفیسر نے سوال کیا کہ ہم ایٹمی اسلحہ کی حفاظت کر رہے ہیں یا ایٹمی اسلحہ ہماری۔ میرا جواب سادہ تھا کہ ایٹمی طاقت بننے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان کوئی جنگ نہیں ہوئی، کارگل میں بھی جنگ نہیں جھڑپ تھی۔ ایٹمی اسلحے کی وجہ سے جنگ میں تبدیل نہیں ہو سکی۔ سابق امریکی وزیر دفاع ڈونالڈ رمزفیلڈ نے واضح طور پر کہا کہ شمالی کوریا پر حملہ نہیں کر سکتے اس لئے کہ وہ ایک ایٹم بم رکھتا ہے، دوسرے پاکستان نے جس طرح ایک سپر طاقت کے ساتھ مناسب پنجہ آزمائی کی وہ بھی ریکارڈ ہے، پورا 2011ء اِس کشمکش میں گزرا۔ 27 جنوری 2011ء ریمنڈ ڈیوس کا واقعہ ہوا، 2 مئی ایبٹ آباد میں دخل اندازی اور پھر 26 ستمبر سلالہ پر حملہ مگر اِس کے بعد خاموشی طاری ہوگئی۔ سابق امریکی وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن کی دھمکی ریکارڈ پر موجود ہے کہ اگر پاکستان نے اس کا جواب دیا تو یہ خطرناک بات ہوگی، اس کے باوجود یہ ہوا کہ 38 امریکی سیل فوجی 6 اگست 2011ء کو چنکوک ہیلی کاپٹر کے حادثے میں مارے گئے۔ مہران بیس پر حملہ ہوا تو کامرہ ایئربیس میں دہشت گرد گھسے، کراچی ایئرپورٹ کا واقعہ کو لے لیں مگر نہ پڑوسی ملک اور نہ سپر طاقت حملہ کرسکی۔ اگرچہ وہ اندرونی خلفشار بڑھانے کے لئے کوشاں ضرور ہے اور ایسے اقدامات کرتی رہتی ہے کہ پاکستان عدم استحکام کا شکار ہو۔

دوسری طرف ایک فلسفیانہ انداز ہے کہ ایٹمی اسلحہ کے استعمال سے انسانیت کو نقصان پہنچے گا۔ یہ درست تو ہے مگر پھر ہم تو ایٹمی اسلحہ بنانے والے تاحال آخری ملک ہیں اور اسلئے کہ دشمن نے عالمی طاقتوں کیساتھ مل کر پاکستان کو دولخت کیا اور 1974ء میں ایٹم بم کا دھماکہ بھی کر ڈالا۔ جسکے بعد ہمارے پاس جواز پیدا ہوا کہ ہم دشمن کو آگے بڑھنے سے روکیں۔ چنانچہ ایٹمی اسلحہ بنانا پڑا۔ اس کے بعد امریکہ و مغرب ہمیں ایٹمی طاقت کے طور پر ابھی قبول نہیں کرتا جبکہ وہ بھارت کو قبول کر رہا ہے۔ اِس وجہ سے ایک غیرمحفوظ قوم کو اپنی حفاظت کے لئے مزید اقدامات کرنا پڑیں گے کیونکہ مخالف اور دشمن ملک کو قرار نہیں، دونوں کے ایٹمی طاقت بننے کے بعد صلح کی بات ہونا چاہئے اور ایسے راستے متعین کرنا چاہئے تھے کہ مل کر کام کریں مگر وہ باز نہ آیا اور اس نے کولڈ اسٹارٹ ڈوکرائن بنا کر پاکستان کے ایٹم بم کے استعمال کی صلاحیت کو بے اثر کرنے کی کوشش کی۔ کولڈ اسٹارٹ ڈوکرائن کے تحت دشمن، آٹھ ایسے مقامات میں اچانک پوری طاقت کے ساتھ گھس کر پاکستان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دینا چاہتا تھا۔

اِس سے اسکے پاکستان کے بارے میں عزائم کا پتہ چلتا ہے اور ایٹمی طاقت کے خوف کا بھی اور جواباً ہماری پریشانی کا بھی کہ مشرقی پاکستان میں زخم خوردہ ملک اپنی بقا کے لئے آج بھی جدوجہد کر رہا ہے۔ دشمن اُس کے وجود کو تسلیم کرکے نہیں دے رہا بلکہ کسی نہ کسی طرح اسے توڑنے یا سرنگوں کرنے کے در پے ہے۔ کولڈ اسٹارٹ ڈوکرائن کے تحت وہ ساری مسلح افواج جس میں عام فوج، ایئرفورس، میکنائزڈ دستے، اسٹرائک فورس جو الگ الگ ہوتی ہیں اور اُن کی حرکات و سکنات ہماری نظر میں ہوتی ہے۔ اُن سب کو ملا کر انہوں نے آٹھ چھوٹی مکمل فورسز تیار کیں کہ وہ پاکستان کی آٹھ کمزور سرحدوں کے اندر گھس آئیں مگر جواباً پاکستان نے چھوٹے ایٹمی ہتھیار اور کم فاصلہ پر مار کرنے والے میزائل بنا ڈالے جو 60 کلومیٹر کے 1500 کلومیٹر تک ایٹمی ہتھیار لے جاسکتے ہیں اور صحیح صحیح نشانہ لگا سکتے ہیں۔ اِس میں ایٹمی جنگ کے خطرے کی سطح بھی نیچے گرگئی۔ کوئی نہیں کہہ سکے گا کہ ہم نے ایٹم بم استعمال کیا۔

فلسفی حضرات کے لئے ہم یہ عرض کرتے ہیں، انسانیت کی بقاء کے لئے جنگ سم قاتل ہے مگر اِس جنگ سے روکنا عبادت ہے۔ کسی غیرذمہ دار ملک کو جنگ سے باز رکھنا اور اُس کا ڈرا دینا کہ اگر اس نے غلطی کی تو اُس کو سزا ملے گی۔ اُس کو حملہ کرنے یا جنگ کرنے سے روکتی ہے اور ہماری کاوشیں اسی سمت پر ہیں۔

جہاں تک ہتھیار غیرذمہ دار ہاتھوں میں پڑنے کا سوال ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ نریندر مودی کا کیس یہی ہے اور اُس کو بھی جنگ کرنے یا ایٹم بم استعمال کرنے سے باز رکھنے کیلئے دوسرے حملے کی صلاحیت کا ہونا ضروری ہے۔ جو پاکستان نے حاصل کرلی ہے۔ ایک عرصہ ہوا کہ بیلسٹک میزائل بنانے کی صلاحیت حاصل کرچکے تھے۔ اب آئیڈیا 2014ء میں اس بات کا اظہار کر دیا ہے اور آبدوز سے حملہ کرنے کی صلاحیت کا اظہار کسی نہ کسی دن ہوجائے گا۔

شاید ہمیں جلدی کرنا پڑے اور یہ بتانا پڑے کہ دشمن کے سارے بحری اڈے ہمارے عین نشانے پر ہیں، کسی کا طیارہ بردار جہاز اب کوئی معنی نہیں رکھتا، لیزر ٹیکنالوجی اُس کیلئے کافی ہے۔ اس پر ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ آیا وہ ہمارے پاس ہے یا نہیں تاہم اتنا کہنا کافی ہے کہ یہ کوئی نایاب چیز نہیں رہی۔

دوسرے ہمارے مالی وسائل لامحدود ہیں، کرپشن اور غیرملکی اثر اس کا اظہار کرنے سے روک رہا ہے مگر یہ بھی چند دنوں کی بات ہے۔ اسلئے جو لوگ اِس خیال کے حامی ہیں کہ ایٹمی صلاحیت ایک سراب ہے اور اُس کو انسانی اور فلسفیانہ انداز میں غلط ثابت کرتے ہیں وہ انسان کی فطرت سے صرفِ نظر کررہے ہیں۔ ازل سے طاقت ایک حقیقت ہے، ٹیکنالوجی اور بہتر اسلحہ نے ہمیشہ کامیابی حاصل کی۔ منجنیق کے استعمال سے لیکر ایٹم بم تک اور منجمد کرنے کے آلات سے بارش، سیلاب، سونامی، زلزلہ لانے کے آلات تک دُنیا میں اپنی برتری قائم کرنے کیلئے ممالک کوشش کرتے ہیں ۔ جو قومیں اِس کی تیاری نہیں کرتیں وہ مشرقی پاکستان جیسی شکست کے کرب سے گزرتی ہیں۔ تو کوئی ایسا کیوں چاہتا ہے کہ ہم ایسے المیے سے دوچار ہوں، اسی لئے اب چاک و چوبند اور مستعد اور حالت تیاری میں رہنا ضروری ہے، پاکستان ایسا ہی کررہا ہے، تو کیا غلط کررہا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.