.

16 دسمبر، یحییٰ اور کپتان

وکیل انجم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا کسی نے سچ کہا ہے اور خوب کہا ہے۔ اقتدار پانے اور بچانے کا کھیل صدیوں سے جاری ہے اور جاری رہے گا۔ کپتان سیاست کی جو بازی کھیل رہے ہیں۔ اس کے نتائج جو بھی نکلیں گے وہ تو بعد کی بات ہے مگر سیاسی قلا بازی کھاتے نظر آتے ہیں۔ کپتان کے اوپنر بیٹسمین پرویز خٹک جو پرانے سیاسی کھلاڑی ہیں ۔ اسمبلیوں کے ٹوٹنے بگڑنے کا کھیل کا مشاہدہ چار بار کر چکے ہیں۔ چوہدری نثار علی خان نے ان کے بارے میں انکشاف کیا ہے کہ جب سے دھرنا، جلسوں اور ملک کو بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔ پرویز خٹک اس صورت حال سے خوش نہیں ہیں وہ بے شک کپتان کے سٹیج پر ’’خٹک ڈانس‘‘ کی جھلک دکھاتے نظر آتے رہے مگر سچ تو یہ ہے کپتان کامیاب ہو یا نہ ہو لیکن پرویز خٹک کسی صورت اپنے اقتدار کو کھونا نہیں چاہتے۔

اس سلسلے میں وہ چوہدری نثار سے بات چیت کا عمل جاری رکھے ہوئے تھے۔ خیر یہ کوئی نئی بات نہیں سیاست کے اس کھیل میں سب جائز ہے نیچے سے لے کر اوپر تک سب تہیہ کیے ہوئے ہیں آصف علی زرداری جو پاکستان کی سیاست میں ایک طاقت ور حیثیت کے مالک ہیں آج کل کپتان کو سمجھانے کا فریضہ ادا کر رہے ہیں۔ دبے لفظوں اُنہیں مشورہ دیا ہے وہ جلسے اور دھرنے میں لوگوں کی تعداد پر نہ جائیں سچ بات ہے۔ مجمع لگانے کا عمل قاصد پرانا ہے۔ طاقت اور سازش کے کھیل سے ہٹ کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ 16 دسمبر کے ذکر سے ہمیں وہ ساری سازشی کہانیاں یاد آنے لگی ہیں جب اقتدار کی خاطر لوگوں نے ملک ہی توڑ دیا۔ سازش تھی اور کیا خوب تھی۔ ہم 16 دسمبر کا ماتم کرتے کرتے تھک چکے ہیں۔

ہر سال اس کی یاد ہمارے زخموں کو کریدتی ہے، سیاست میں ایسی ایسی چیزیں ہو رہی ہیں جو ماضی سے کئی گنا زیادہ تھیں۔ ہم نے دیکھا اسلام آباد میں گزرے چند مہینوں میں جو کچھ ہوا، وہ تو شیخ مجیب الرحمن کے خیالات اور مطالبات کی طرح سے ہی تھا۔ اُس نے ستر کے انتخابات تک اپنی جو بھی سیاست کی، جس طرح کی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ وزیراعظم بننا اُن کا حق تھا۔ مگر حکمرانوں نے 3 مارچ 1971ء کو قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا، جس میں قومی اسمبلی کے ممبران نے حلف اٹھانا تھا۔ مگر وہ اجلاس ہی ملتوی کر دیا۔ مشرقی پاکستان میں مجیب الرحمن کے پاس قومی اسمبلی کے 160 ووٹ تھے۔ جو عددی اعتبار سے قومی اسمبلی میں 50 فیصد سے زیادہ تھی۔

اُس کے ساتھ آپ نے سیاست شروع کر دی، یحییٰ اور بھٹو ایک پیج پر آ گئے۔ اور اجلاس نہ ہونے دیا۔ مجیب الرحمن نے چھ نکات پیش کیے وہ درست تھے یا غلط جب آپ نے انتخابی مہم جو 1970ء کے پورے سال چلتی رہی اُس کا پرچار کیا، اُسے کسی نے نہیں روکا جب نتیجہ آیا سب کو چھ نکات یاد آ گئے۔ چھ نکات جو بھی تھے اس سے یقیناًنظریہ پاکستان کی بنیادوں پر ضرب لگتی تھی اس کی تشہیر اور حوصلہ افزا ئی میں حکمرانوں نے خود حصہ لیا تھا، چھ نکات کا کھڑاک مشرقی پاکستان میں نہیں کیا گیا تھا بلکہ اس حصہ میں مجیب الرحمن نے کیا تھا اُس نے لاہور کا انتخاب کیوں کیا۔ دروغ بر گردن راوی یہ نکات تھے تو پرانے مگر اس کی تشہیر کیوں ہوئی۔

ان کے بارے میں کہا جاتا ہے یہ معاہدہ تاشقند کے بعد منظر عام پر آئے تھے اور اُس وقت آئے جب 1965ء کی جنگ کے بعد روی کی مدد سے تاشقند میں بھارتی وزیراعظم سے ایک معاہدہ ہوا تھا اس معاہدے کی شرائط اس حد تک پاکستان کے بنیادی مفادات سے متصادم تھیں جس پر خود حکومت کے اندر سے مخالفت کی آوازیں آ رہی تھیں۔ اپوزیشن کی جماعتوں نے جو 1965ء کے صدارتی انتخابات کے بعد خاصی متحرک، طاقتور اور متحدہ ہو رہی تھیں۔

ایوب خان کے خلاف ایک منظم آواز اٹھنے والی تھی۔ اُس میں مجیب الرحمن نے آکر چھ نکات کا کھڑاک کر دیا۔ ان نکات کا خالق کون تھا۔ الطاف گوہر یا کوئی اور مگر حقیقت یہ تھی کہا جاتا ہے یہ نکات نواب امیر محمد آف کالا باغ جو اسی زمانے میں مغربی پاکستان کے گورنر تھے اُن کی ایما پر پیش کیے گئے تھے ۔ حکمرانوں کا مقصد حل ہو گیا وہ فائدہ جو تاشقند معاہدے سے اپوزیشن اٹھانا چاہتی تھی نہ اٹھا سکی۔ آپس میں ایک دوسرے سے دست و گریبان ہوئی۔ مجیب الرحمن نے اس صورت حال کا خوب فائدہ اٹھایا اور وہ ایسی سرگرمیوں میں ملوث اور گرفتار ہو گئے جو بغاوت کا راستہ تھا۔ گرفتار ہوئے الزامات لگے، الزامات بھی وہی تھے کہ اگر تلہ کے مقام پر انہوں نے پاکستان کے خلاف منصوبہ بنایا ہے۔

پھر یہ کیس اگر تلہ سازش کے عنوان سے مشہور ہوا۔ اس میں کچھ سول اور سرکاری لوگ تھے مقدمہ پورا ایک سال چلا۔ جب ایوب خان کو ہٹانے کا فیصلہ ہوا تو اس وقت سیاست دانوں کی بڑی تعداد اس طرف ہو گئی جو سازش سے ایوب خان کو اقتدار سے محروم کرنے کا منصوبہ بنا چکی تھی۔ 1968ء میں جب ایوب خان علیل ہوئے ۔ سچ بات تو یہی ہے کہ یحییٰ خان نے اُن کے سرکاری اور نجی رابطوں کو کاٹ دیا، ایوان صدر میں ایسا محسوس ہونے لگا تھا جیسے ایک انقلاب اپنا راستہ بنا چکا ہے۔ سیاست دانوں کے بارے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ان کو کچھ مقتدر حلقوں کی حمایت حاصل تھی۔ اور یہ پیغام بھی بالواسطہ ان کو مل چکا تھا اگر ایوب خان کے خلاف کوئی زور دار احتجاجی تحریک چلتی ہے تو اس کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔ اور ایسا عملاً سامنے بھی آیا یہ تحریک اتنی زور دار تھی کہ اس نے جنگل کی آگ کی طرح طاقت پکڑی۔

عوام کی محرومیاں ایک ایک کر کے سامنے آنے لگیں۔ یہ تحریک اس لیے زور پکڑنے لگی تھی اس کو روکنے والے گورنر ریٹائرڈ ہو کر کالا باغ جا چکے تھے۔ صورت حال یہ ہو چکی تھی شیخ مجیب الرحمن جو غداری کا مقدمہ بھگت رہے تھے اُن پر جو الزامات لگے تھے انہیں خود ایوب خان نے اپنے ہاتھوں سے ختم کر دیا ۔ ان کے خلاف بغاوت اور سازش کا مقدمہ ختم کر کے انہیں گول میز کانفرنس میں لایا گیا۔ اپوزیشن کے تمام مطالبات ایوب خان مان چکے تھے وہ پارلیمانی جمہوریت جس کے وہ سب سے بڑے دشمن تھے وہ بحال کرنے پر راضی ہو گئے تھے یہاں تک وہ آئندہ صدارتی انتخاب جو گول میز کانفرنس کے ایک سال بعد ہونے والے تھے اس میں حصہ نہ لینے کا اعلان بھی کر دیا تھا۔

دلچسپ ڈرامہ تو یہ تھا 1962ء کا آئین جس کے وہ خالق تھے ۔ اُس سے انحراف کرتے ہوئے یحییٰ خان کو خط لکھا وہ اقتدار اُن کو سونپ رہے ہیں۔ حالانکہ انہیں اقتدار یحییٰ خان کو نہیں سپیکر قومی اسمبلی کو سونپنا چاہتے تھے۔ دستوری انحراف انہوں نے خود کیا انہوں نے سوچا جب اُن کی اصلاحات، نظام اور طرز سیاست سب کچھ ڈوب گیا وہ اس آئین کا کیا کریں گے۔ یوں یحییٰ خان نے دستور پاکستان کا قصہ تمام کر کے مارشل لاء لگا دیا، یہ سارا کچھ انہوں نے اس لیے کیا کیونکہ یحییٰ خان نے یہاں تک پہنچنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ ایوب خان کی بیماری سے رخصتی تک کے تمام معاملات طے شدہ تھے۔ ایوب خان صدارت سے الگ ہو رہے تھے۔ یحییٰ خان نے اس سے طویل ملاقات کی اور اُن کی نصیحت اور تجاویز سننے کی بجائے انہیں صرف اتنا بتایا آپ کا کھیل ختم ہو چکا ہے۔ آپ بات مجھ پر چھوڑ دیں میں اپنا راستہ خود متعین کروں گا۔

یحییٰ خان نے آئین کی جگہ لیگل فریم آرڈر سے گزرا کیا۔ افسروں کی بہت بڑی تعداد کو رخصت کر دیا جو سیاست میں آلودہ ہو چکی تھی، ون یونٹ توڑ دیا جو مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان برابری کے اصول کو طے کرتا تھا۔ یحییٰ خان کا سیاست کرنے اور سیاست میں رہنے کا منصوبہ تھا۔ مگر ہنگاموں، تشدد اور ہڑتالوں سے ملک ٹوٹ گیا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.