.

ترکی میں انتخابی شرحِ حدبندی پر بحث و مباحثہ.

ڈاکٹر فرقان حمید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کالم کے آغاز ہی میں اپنے قارئین کو انتخابی شرحِ حد بندی(Electoral threshold) سے آگاہ کرتا چلوں تاکہ اس کے نظام سے نا آشنا لوگوں کو اس کے بارے میں آگاہی حاصل ہو سکے۔ انتخابی شرحِ حد بندی سے مراد کُل ووٹوں سے ایک خاص حدتک ( مختلف ممالک میں مختلف شرحِ حد بندی پرعمل درآمد کیا جاتا ہے ) ووٹ حاصل نہ کرنے والی جماعتوں کو پارلیمنٹ میں داخل ہونے کی اجازت نہ دینا ہے۔ اس انتخابی شرحِ حد بندی کو مقرر کرنے کا مقصد ملک میں چھوٹی چھوٹی سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ انتہا پسندی کے نظریات رکھنے والی جماعتوں کو پارلیمنٹ میں جانے سے روکنا ہے۔ ایسا کرنے سے ایک طرف تو ملک میں سیاسی استحکام قائم کرنے میں مدد ملتی ہے تو دوسری طرف ملک میں مخلوط حکومتوں کے قیام کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور یوں ملک میں سیاسی استحکام کو جاری رکھنا مقصود ہوتا ہے تاکہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن رہے۔

یورپ کے مختلف ممالک میں سیاسی استحکام کے لئے مختلف انتخابی شرحِ بندی پر عمل درآمد کیا جاتا ہے مثال کے طور پر جرمنی، بلجیم، ایسٹونیا، ہنگری، پولینڈ ، جمہوریہ چیک اور سلواکیہ میں کُل ووٹوں کا پانچ فیصد، آسٹریا، بلغاریہ،اٹلی، ناروئے ، سلوانیہ اور سویڈن میں چار فیصد ، اسپین، یونان، رومانیہ اور یوکرائن میں تین فیصد اورڈنمارک میں دو فیصدووٹ حاصل کرنا لازمی ہے جبکہ دنیا میں اس وقت سب سے زیادہ انتخابی شرحِ حد بندی دس فیصد پر ترکی میں عمل درآمدکیا جاتا ہے یعنی ترکی میں کوئی بھی جماعت کُل ووٹوں کا دس فیصدسے کم لیتی ہے تو وہ پارلیمنٹ میں داخل نہیں ہو سکتی ہے چاہے اس جماعت نے 9.5 فیصد ہی ووٹ کیوں نہ حاصل کئے ہوں۔ مثال کے طور پر گزشتہ عام انتخابات میں 52 ملین رائے دہندگان میں سے چار ملین رائے دہندگان کے ووٹ ضائع گئے کیونکہ ان ووٹروں کی جماعتیں دس فیصد کی انتخابی شرحِ حد بندی عبور نہ کرسکیں۔

دس فیصد کی انتخابی شرحِ حد بندی عبور نہ کرنے والی جماعتوں کے حاصل کردہ ووٹ پہلے ، دوسرے اور تیسرے نمبر پر آنے والی جماعتوں میں تقسیم کر دئیے جاتے ہیں اور ان جماعتوں کو ملنے والی نشستیں بھی پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والی جماعتوں کا حاصل ہو جاتی ہیں۔ ترکی کے بعدسات فیصد کی انتخابی شرحِ حد بندی پر روس میں عمل درآمد کیا جاتا ہے۔

انتخابی شرحِ حد بندی یا تھریش ہولڈ پر روشنی ڈالنے کے بعد اب آتے ہیں ترکی میں شروع ہونے والے شرحِ حد بندی سے متعلق بحث و مباحثے کی جانب۔ ترکی میں 12 ستمبر 1980ء کے فوجی مارشل لا کے بعد تیار کئے گئے آئین جسے سات نومبر 1982ء میں کروائے جانے والے ریفرنڈم کے نتیجے میں اکیانوے فیصد سے زائد ووٹوں سے قبول کرلیا گیا جسکی شق نمبر 33 کے تحت ترکی میں کسی بھی جماعت کو پارلیمنٹ کی نشستیں حاصل کرنے کے لئے کل ووٹوں کا دس فیصد حصہ حاصل کرنا لازمی قرار دے دیا گیا اور اس وقت سے ترکی میں دس فیصد کی انتخابی شرحِ حد بندی پر عمل درآمد کا سلسلہ جاری ہے۔

اب جبکہ ترکی میں عام انتخابات میں سات ماہ کا عرصہ باقی رہ گیا ہے چھوٹی چھوٹی جماعتیں ملک میں انتخابی شرحِ حد کو دس فیصد سے کم کرتے ہوئے پانچ یا پھر تین فیصد کرنے پر زور دے رہی ہیں ۔ اس سلسلے میں سعادت پارٹی ، ڈیموکریٹک لیفٹ پارٹی اور گرانڈ یونین پارٹی نے آئینی عدالت سے بھی رجوع کر رکھا ہے اور چند دنوں تک آئینی عدالت کی جانب سے اس سلسلے میں فیصلہ کئے جانے کی توقع کی جا رہی ہے۔

ترکی میں انتخابی شرحِ حد بندی میں رد و بدل کرنے سے متعلق بحث و مباحثے کا آغاز اس وقت ہوا جب آئینی عدالت کے سربراہ ہاشم کلیچ نے یورپی کونسل کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’جلد ہی مختلف جماعتوں کے نمائندوں کی جانب سے شخصی طور پر آئینی عدالت سے انتخابی شرحِ حد بندی کو کم کرنے سے متعلق دائر کی جانے والی درخواست کے بارے میں فیصلہ سنا دیا جائے گا اور آئین کی خلاف ورزی کو دور کر دیا جائے گا۔‘‘ اس سے قبل ترکی کی کئی ایک جماعتوں نے یورپ کی حقوقِ انسانی کی عدالت سے رجوع کیا تھا اور یورپی انسانی حقوق کی عدالت نے اگرچہ اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا تھا لیکن ترکی کے سیاسی استحکام کے لئے فیصلہ کرنے کا اختیار ترکی ہی کو دے دیا تھا جس کے بعد کسی بھی سیاسی جماعت نے بعد میں اس مقدمے کو یورپ کی عدالت میں پیش کرنے کی کوشش ہی نہ کی ۔ اب حکومت نے آئینی عدالت کے سربراہ کے بیان پر شدید ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے عدالت سے ایسے معاملات کے بارے میں فیصلہ کرنے سے گریز کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے جن کا آئینی عدالت کو اختیار ہی حاصل نہ ہو۔

حکومتی حلقوں نے یاد دہانی کرواتے ہوئے کہا ہے کہ 2005ء میں اس وقت کی جماعت SHP کی جانب سے انتخابی شرحِ حد بندی کو کم کروانے کے لئے جو درخواست جمع کروائی گئی تھی اس پر سنائے جانے والے فیصلے’’ ملک میں سیاسی استحکام کےلئے انتخابی شرحِ حد بندی دس فیصد بے حد ضروری ہے‘‘ پر اس وقت کی جیوری میں شامل موجودہ آئینی عدالت کے سربراہ ہاشم کلیچ کے بھی دستخط موجود ہیں۔

آئینی عدالت کے سربراہ ہاشم کلیچ کے بیان کے بعد ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ ہم نے ترکی میں عام انتخابات کے موضوع پر شرحِ حد بندی کو دس فیصد سے کم کرتے ہوئے پانچ فیصد بلکہ بالکل ختم کرنے کی بھی گزشتہ انتخابات کے موقع پر تجویز پیش کی تھی لیکن حزب اختلاف کی تمام جماعتیں ہماری مخالفت میں اتنی آگے نکل چکی تھیں کہ انہوں نے ہماری تجویز پر غور کرنا ہی مناسب نہ سمجھا ۔ وزیراعظم احمد داؤد اولو نے اس بارے میں کہا کہ ‘‘ جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (آق پارٹی) نے کبھی بھی دس فیصد کی انتخابی شرحِ حد بندی کو جاری رکھنے پر اصرار کیا ہے اور نہ ہی اس شرحِ حد بندی کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتی ہے کیونکہ ہماری جماعت نے گزشتہ صدارتی انتخابات کے موقع پر پچاس فیصد سے زائد ووٹ حاصل کئے۔

ہمیں اپنی قوتِ بازو پر یقین اور ووٹروں پر مکمل اعتماد ہے ان جماعتوں کا اصل مقصد آق پارٹی کے اراکین کی پارلیمنٹ میں نشستوں کو کم کرتے ہوئے ملک کے موجودہ سیاسی استحکام کو نقصان پہنچاناہے تاکہ آق پارٹی کو تنہا حکومت کرنے سے باز رکھا جاسکے اور ملک کو ایک بار پھر مخلوط حکومتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے۔ اس سے قبل ملی سلامت پارٹی، رفاہ پارٹی اور فضیلت پارٹی نے کئی بار ملک میں انتخابی شرحِ حد کو کم کرنے کے لئے کئی بار آئینی عدالت سے رجوع کیا تھا لیکن اُس وقت آئینی عدالت نے ان جماعتوں کی درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے دس فیصد کی شرح کو جاری رکھنے کا فیصلہ صادر کیا تھا۔‘‘

پارلیمنٹ میں موجود تینوں بڑی جماعتیں برسر اقتدار آق پارٹی، حزب اختلاف کی ری پبلیکن پیپلز پارٹی اور نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی اس موقع پر انتخابی شرحِ حد بندی میں کوئی زیادہ دلچسپی نہیں لے رہی ہیں تاہم یہ تینوں جماعتیں اس انتخابی شرحِ حد بندی کو دس فیصد سے کم کرتے ہوئے سات فیصد تک کرنے کے لئے تیار ہوسکتی ہیں تاہم اگر اس بارے میں اگر آئین میں ترمیم کر بھی لی جائے تو آئندہ سال ماہ اگست میں ہونے والے عام انتخابات کے موقع پر ان ترامیم پر عمل درآمد نہیں ہوسکتا کیونکہ آئین کی رو سے انتخابی قوانین پر عمل درآمد کے لئے ضروری ہے کہ یہ ترامیم انتخابات سے ایک سال قبل کی گئی ہوں۔

ویسے بھی آئینی عدالت سے رجوع کرنے والی جماعتیں جنہیں گزشتہ انتخابات میں ایک فیصد کے لگ بھگ ووٹ پڑے تھے اگر آئندہ انتخابات میں دگنے ووٹ بھی مل جائیں تو ان کی ووٹ حاصل کرنے کی شرح دو فیصد کے لگ بھگ ہو جائے گی جس کا آئینی عدالت کی جانب سے ان جماعتوں کے حق میں آنے کے باوجودان جماعتوں کو کچھ بھی حاصل نہ ہوگا۔ البتہ انتخابی شرحِ حد بندی بالکل ختم کرنے سے یہ جماعتیں پارلیمنٹ میں ایک دو نشستیں حاصل کرنے میں ضرور کامیاب ہو سکتی ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.