.

نریندرمودی کے گماشتے

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارتی ریاست گجرات میںدو ہزار مسلمانوں کاخون پینے والا بھیڑیا نریندر مودی جب سے اپنے ملک کی وزرات عظمی کی مسند پر فروکش ہوا ہے ، وہ خون آشامی کی تمام حدیں پھلانگ چکا ہے،ایک طرف ضرب عضب کو متائثر کرنے کے لئے اس نے اپنی افواج کو ورکنگ باﺅنڈری اور کنٹرول لائن پر جارحیت کی کھلی چھٹی دے دی ہے، دوسری طرف اس نے اپنے گماشتے پاکستان کے طول و عرض میں گھسیڑ دیئے ہیں جو بہروپ بدل کر پاکستانیوں کا خون ناحق بہا رہے ہیں، ماڈل ٹاﺅن میںمنہاج القرآن کے نہتے اور بے گناہ چودہ افراد کو شہید کر کے وہ نو دو گیارہ ہو گئے، کل فیصل آباد میں ان گماشتوں نے گولیاں چلائیں اور نوجوانوں کو خون میں نہلا دیا، ان میں سے ایک نوجوان کی ایک ماہ بعد شادی ہونے والی تھی مگر اسے خون کا غسل دے دیا گیا۔رنگ تو خون کا بھی حنائی ہوتا ہے۔

حکومت پاکستان نے ٹھیک اعلان کیا ہے کہ جو شخص فیصل آباد میں قاتل کا اتا پتا بتائے گا ، اسے پچاس لاکھ کی خطیر رقم انعام میں پیش کی جائے گی مگر سب لوگ جانتے ہیں کہ یہ مبینہ قاتل فائرنگ کے بعد سلیمانی ٹوپی پہن کر سرحد پار کر گیا تھا اور اس وقت اپنے آقا نریندر مودی کی پناہ میں ہے۔

حکومت پاکستان نے عمران خان کے دھمکی آمیز بیا نات کی تشہیر کر کے بھی ایک قومی فریضہ ادا کیا ہے۔ حکومت جانتی ہے کہ بے چاری تحریک انصاف اس قابل کہاں کہ اتنی بڑی تشہیری مہم کا بیڑہ اٹھا سکے۔حکومت کی اس غریب پروری کی دا د دینی چاہئے۔
رانا ثنااللہ نے ماڈل ٹاﺅن والی روایات کو آگے بڑھانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، نہ تو منہاج القران کے خلاف بربریت میں ان کا کوئی ہاتھ تھا اور نہ فیصل آباد کی ہلاکو خانی سے ان کا کوئی تعلق واسطہ ہے۔ وہ تو صرف اس لئے بدنام ہو رہے ہیں کہ فیصل آباد کے رہائشی ہیں اور ن لیگ کی کور کمیٹی کے رکین رکین۔ایک زمانے میں نواب کالا باغ کا نام لے کر مائیں اپنے بچوں کو ڈراتی تھیں ، اب میڈیا کی بدولت رانا ثناللہ کی ہیبت کا ڈنکا بج رہا ہے اور کم از کم عمران خان کے جلسوں میں شریک ہونے والی خواتین کبھی مائیں بن پائیں اور اللہ کرے کہ وہ جلد سہاگن ہو ںمگر وہ رانا ثناا للہ کا نام نامی اسم گرامی لےکر اپنے نونہالوں پر خوف طاری کیا کریں گی۔رانا اثناللہ بھی کہتے پھرتے ہیں کہ مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے ، اور وہ بھی کسی نے کہہ رکھا ہے کہ بد اچھا بدنام برا،یا شاید یہ محاورہ زیادہ حسب حال ہو کہ بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا۔

عمران نے پہلے توچند شہر بند کرنے کا پروگرام دیا،آخر میں پاکستان بند کرنے کا ، حکومت کو یہ پروگرام زیادہ جچا نہیں ،اس نے کوشش کی ہے کہ سب کچھ فی الفور ہو جائے۔فیصل آباد کیا بندہوا کہ سارا ملک ہی بند ہو گیا، اور ابھی تک بند پڑا ہے، میں آج اپنے دفتر بھی نہیں پہنچ پایا، لاہور شہر کے جو کوچہ و بازار کھلے رہ گئے تھے، وہ پولیس نے بند کر چھوڑے ہیں۔آدھاملک حکومت نے بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے بند کیا ہوا ہے، باقی گیس کی لوڈ شیڈنگ نے بند کر رکھا ہے۔غریب کا چولھا مہنگائی نے ٹھنڈا کر دیا۔

باقی کیا رہ گیا جو عمران خان بند کرے گا، وہ تو ویسے ہی کریڈٹ لینا چاہتا ہے۔ اصل میں عمران اور حکومت کے درمیان دوڑ لگی ہوئی ہے کہ دونوںمیں سے کون ملک کو زیادہ احسن طریقے سے اور مکمل طور پر بند کرتا ہے، مگر عمران حکومت کا کیا مقابلہ کرپائے گا،کیا پدی کیا پدی کا شوربہ۔ ن لیگ اس وقت حکومت میں ہے اور جب بھی حکومت میںہوتی ہے یا نہیں ہوتی تو جو چاہے بند کر دیتی ہے۔تاجرا ور صنعتکاراس کے ساتھ ہیں۔ سارے ہتھ چھٹ اس کے ساتھ ہیں، وہ سپریم کورٹ کو بند کروا سکتے ہیں ، ایوان صدر خالی کروا سکتے ہیں اور آرمی چیف کو گھر بھجوا سکتے ہیں۔

یہ الگ بات ہے کہ ایک کے بعد دوسرے کے اوپر ہاتھ صاف کرنے کی کوشش میں خود چت ہو گئے۔وزیر اعظم جونیجو ہوں یا محترمہ بے نظیر ،ان کا ناطقہ بند کر سکتے ہیں، عمران کو یہ فنکاری سیکھتے سیکھتے کئی برس لگ جائیں گے، ابھی تو وہ وکٹ گرانے کی مہارت رکھتا ہے مگر مصیبت یہ ہے کہ میچ سیاستدانوں کے ساتھ ہے ، کرکٹروں کے ساتھ نہیں اور سارے ملک کے سیاستدان اپنے اپنے مفاد کے لئے نواز شریف کے گرد حصار بنا کے کھڑے ہیں۔عمران کے پاس کوئی مکتی باہنی بھی نہیں کہ کوئی جنرل اروڑہ اس کی مدد کو آ سکے۔

حکومت کو ریلوے بند کرنے کا ہنر بھی آتا ہے، ا س فن میں سعد رفیق ید طولی رکھتے ہیں۔پی آئی اے کو بند کرناا س کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے، یہ الگ بات ہے کہ ابھی اس نے سب کچھ بند کرنے کے لئے سارے پتے شو نہیں کئے۔ جس دن حکومت اپنی آئی پہ آ گئی تو عمران کو دن میں تارے نظرا ٓ جائیں گے۔ایک عمران کو کیا ، ملک کو بھی نظرا ٓ جائیں گے۔ طاہرالقادری سے پوچھ کر دیکھو کہ حکومت کتنی تگڑی ہے۔میرا گوڈا 1999 میں ٹوٹا، دوسرا گوڈا اسکے انجام سے آج بھی خوفزدہ ہے۔نجم سیٹھی نے اپنا بھلا سوچا کہ مزید مار سے بچنے کے لئے ن لیگ کی چھتری تلے آ گیا اور حسین حقانی ملک ہی چھوڑ گیا۔باقی ماندہ عقلمند نکلے ،زیادہ تر وہ حکومتی تنخواہ دار بن گئے اور کالم کار یا تجزیہ کار کہلاتے ہیں۔

موجودہ پنجاب حکومت کے دور میں یہ تیسرا قتل ہے جس پر سرخ آندھی بھی اپنی چوکڑی بھول گئی، ایک قتل گورنر سلمان تاثیر کا ہوا، دوسرا قتل ماڈل ٹاﺅن میںہو اور اکٹھے چودہ افراد موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے اور اب فیصل آباد میں قتل کی تیسری واردات ہے، یہ ساری وارداتیں دن دیہاڑے ہوئیں مگر کوئی قاتلوں کی گرد تک نہیں پہنچ سکا۔ مگرجاتی امرا میں قتل کی ایک واردات ہوئی تھی۔اس میں نشانہ بننے والے مور کا انتقام لینے کے لئے جنگلی بلوں کی شامت آگئی تھی۔

ہمارے حکمران چین جاتے ہیں، جرمنی جاتے ہیں، لندن جاتے ہیں، امریکہ بھی چلے جاتے ہیں،گڈ گورننس کا سبق وہیں سے سیکھتے ہوں گے جو راوی ہر سو چین لکھ رہا ہے۔ملک میں کوئی تھوڑی بہت گڑ بڑ ہے تو عمران کی وجہ سے ہے اورا س سے نبٹنا حکومت کے لیئے چنداںمشکل نہیں۔وہ توچند اور اشتھاروںکی مار ہے، باقی اگر کوئی کسر رہ گئی تو نریندر مودی کے گماشتے کس دن کام آئیں گے، نریندر مودی کو خون آشامی کا سبق اچھی طرح سے از بر ہے اوراسکے گماشتے اس سے بھی دو ہاتھ ا ٓگے ہیں۔ عمران نے زیادہ گڑ بڑ کرنے کی کوشش کی تو بھٹو والا دلائی کیمپ کا دور واپس آ سکتا ہے، آخر نواز شریف کچھ دیر اس کی پارٹی میں رہے ہیں، اس سے کچھ تو سیکھا ہو گا، نہیں سیکھا تو امریکہ نے گوانتا نامو بے کا بے مثال نمونہ پیش کیا۔ وہ بھی کام آ سکتا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.