.

پلان سی کا پہلا مرحلہ!

بشریٰ اعجاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عمران خان کے پلان سی کا مذاق اڑانے والوں نے جس طرح اس کافیصل آباد میں استقبال کیا اور پُرامن احتجاج کو تشدد کی راہ دکھائی، اس کے بعد یہ کہنا کچھ غلط نہ ہو گا کہ اگر مزید اس معاملے میں چشم پوشی اختیار کی گئی اور تحریک انصاف کو ممی ڈیڈی، برگر پارٹی اور ناچ بھنگڑا شو جماعت مان کر اس کا تمسخر اڑایا گیا، تو نقصان صرف ن لیگ کا نہ ہو گا بلکہ پورا ملک انتشار اور بے چینی کا شکار ہو جائے گا جس کا مظاہرہ فیصل آباد میں ریاستی تشدد کے نتیجے میں تحریک انصاف کے کارکن کی ہلاکت کے بعد دیکھنے میں آیا جس کے بعد سارا دن نہ صرف فیصل آباد کی گلیاں، بازار اور سڑکیں میدانِ جنگ بنی رہیں بلکہ ملک کے تمام بڑے شہروں میں بھی تحریکِ انصاف کا احتجاج جنگل کی آگ کی طرح پھیل گیا۔! ممی ڈیڈی، برگر پارٹی اور ناچ بھنگڑہ کے شوقینوں نے چشم زدن میں ملک کی اہم شاہراہیں بند کر دیں اور حکومت کو بتا دیا وہ ڈی جے بٹ کی تال پر نہیں بلکہ پارٹی کی کال پر حرکت میں آتے ہیں اور رقص کی تہمت کے باوجود لڑنا مرنا جانتے ہیں۔

مگر یہ لڑنا مرنا اور محاذ آرائی جو اس وقت تحریکِ انصاف اور حکومت کے مابین دکھائی دے رہی ہے، اگر اسے بروقت ختم نہ کیا گیا تو اس کا نتیجہ کسی کے حق میں بھی اچھا نہ نکلے گا۔۔۔ جس کا اندازہ ہر گزرتی ساعت سے لگایا جا سکتا ہے جس میں سیاسی درجہ حرارت بڑھتا جا رہا ہے۔ عمران خان کا 30 نومبر کے جلسے میں پلان سی کا اعلان اور اس کا پہلا مرحلہ جس کا آغاز ن لیگ کے لڑھ فیصل آباد سے ہوا، اُسے دیکھ کر پلان سی کے بقیہ حصوں کی شدت اور سنجیدگی کے متعلق کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی اور عمران خان کا یہ دعویٰ کہ 16 کو پورا ملک بند کر دیں گے، اس کا ثبوت پلان سی کے پہلے مرحلے پر حکومت نے بھی دیکھ لیا اور حکومتی ’’پہلوانوں‘‘ نے بھی جب تحریکِ انصاف نے ملک کے طول وعرض میں اپنے احتجاج کے ذریعے ملک کو جزوی طو رپر بند کر کے یہ ثابت کر دیا کہ آئندہ اپنے عزائم میں وہ کس قدر پختگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔

فیصل آباد جسے ن لیگ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، وہاں کپتان کے پلان سی کا سوا ستیاناس کرنے کی تیاریوں سے ن لیگ کے وزیر پوری طرح لیس بیٹھے تھے۔ یہ ٹاسک جن ’’سپہ سالاروں‘‘ کو دیا گیا، انہوں نے شاید برگر پارٹی، ممی ڈیڈی جماعت اور ناچ بھنگڑا گروپ کا یہ روپ پہلے نہ دیکھا تھا۔ چنانچہ جب فیصل آباد کے آٹھوں بازاروں کے شٹر دھڑا دھڑ گرائے جا رہے تھے اور گلیاں، بازار اور سڑکیں وقت کے مقبول نعرے سے گونجتی تھیں، تو نواز لیگ کے پرانے مرکز میں خود نواز لیگ پرانے سامان کی طرح کونے سے لگی دکھائی دیتی تھی، وہ ’’نامعلوم‘‘ اسلحہ بردار جس نے اچانک کہیں سے نمودار ہو کر اک بے گناہ کی جان لے لی، اس کے بعد منظرنامے میں جو تبدیلی آئی اور رات گئے تک پورا ملک جس ہیجان اور افراتفری کا شکار رہا، اس کے بعد آنے والے دنوں میں کپتان کا پلان سی حکومت پر کتنا دباؤ بڑھانے والا ہے اور عمران خان کو ریاست کے لئے خطرۂ عظیم ثابت کرنے والوں کے لئے کس قدر مہلک ثابت ہونے والا ہے، اس کا اندازہ میاں نوازشریف کا عمران خان سے مذاکرات کا اعلان ہے۔!

یاد رہے پلان سی کے آغاز سے صرف ایک روز پہلے حکومتی کیمپوں سے مذاکرات کا مذاق۔۔۔ رات اڑاتے ہوئے حکومت کے ایک ضدی وزیرنے عمران خان کو پلان سی کا شوق پورا کرنے کا مشورہ دیا تھا اورکہا تھا، ’’اس کے بعد دیکھا جائے گا، پہلے فیصل آباد کو بند کرنے کا شوق پورا کر لیں‘‘۔

اب صورت حال یہ ہے فیصل آباد میں حکومت تحریکِ انصاف کے ساتھ محاذ آرائی کے بعد ، گرچہ مذاکرات پر اس وقت پوری طرح مائل دکھائی دیتی ہے اور چاہتی ہے کہ کسی طرح پلان سی کا اگلا مرحلہ شروع ہونے سے پہلے اسے روک دیا جائے، مگر شاید فی الوقت تحریکِ انصاف اس مطالبے پر غور کرنے کو تیار نہیں۔ یہ سطور لکھنے کے دوران ملک بھر میں یومِ سوگ منایا جا رہا ہے، جس میں عوامی تحریک، سنی تحریک اور ق لیگ نے بھی شمولیت کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھنے اور اس میں اضافے کے پورے امکانات دکھائی دیتے ہیں۔ عمران خان کے پُرامن احتجاج کو تشدد کی راہ دکھانے اور فیصل آباد میں بلاوجہ طاقت کا مظاہرہ کر کے حالات بگاڑنے والی حکومتی مشینری کی بے بسی اُس وقت قابل دید تھی، جب شہر شہر سڑکیں بند کر کے اسے یہ پیغام دیا جا رہا تھا کہ 16 دسمبر کو اگر کپتان چاہے گا تو پورا ملک تھم جائے گا۔! اور اس کی ذمہ داری حکومت کے متکبر اور غیرسنجیدہ رویوں پر ہو گی جس نے حالات کو آج اس نہج پر پہنچا دیا ہے۔

تحریکِ انصاف ملک کی واحد اپوزیشن جماعت کے طور پر سامنے کھڑی سارے کرپٹ نظام کو للکار رہی ہے اور اس کے ہمراہ جو لوگ کھڑے دکھائی دیتے ہیں، ان میں بڑی تعداد ان لوگوں پر مشتمل ہے جو ن لیگ کی غلط پالیسیوں، غیرسنجیدہ رویوں اور ضدی، نااہل اور خودغرض ٹیم سے نالاں ہو کر تحریکِ انصاف کے ساتھ آ کر کھڑے ہو گئے ہیں، ان لوگوں کی تعداد میں کس قدر تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اس کا اندازہ فیصل آباد میں عمران خان کی حمایت میں نکلے لوگوں کے جم غفیر کو دیکھ کر ہوتا ہے، جس پر گندے انڈے، پتھر اور پانی کی بوچھاریں کر کے اُسے منتشر کرنے کے روایتی حیلے اور حربے استعمال کئے گئے، مگر وہ ہجوم بڑھتا چلا گیا اور یہ ہجوم اسی طرح بڑھتا چلا جائے گا اگر حکومت نے حالات کی سنگینی اور سیاسی بحران کی شدت کا اندازہ نہ لگایا تو۔!

عمران خان کو پانی کا بلبلہ ثابت کرنے پر اپنی طاقت صرف کرنے والے میاں نوازشریف کے خوشامدی وزیر، جو اپنی زبان سے عوام الناس میں حکومت کے خلاف نفرت بڑھانے کا اضافی کام کر کے خود اپنے اور حکومت کے لئے مشکلات کا پہاڑ کھڑا کر چکے ہیں، اگر اب بھی انہوں نے اپنا لب و لہجہ نہ بدلا اور بدلتے وقت کا ادراک نہ کیا تو 16 دسمبر کا دن ان کے لئے بدشگونی کا ایسا پیغام لائے گا، جسے وصول کرنے سے وہ عاجز دکھائی دیں گے۔ عمران خان جس پر لندن پلان، فوجی حمایت، امپائر کی طاقت وغیرہ جیسے الزامات کے علاوہ جاوید ہاشمی جیسے چلے ہوئے کارتوس آزما کر حکومت اب چین کی نیند سو رہی تھی اور اپنے تئیں بحرانوں سے نکل آئی تھی اور حکومتی نمائندگان کی ’’شوخیاں، شرارتیں‘‘ جو دراصل عمران خان کی کھلی تضحیک پر مبنی تھیں، عروج پر تھیں، جب پلان سی کا اعلان ہو رہا تھا۔!

اس پلان کو پہلے ہی مرحلے میں قبر میں اتارنے کی کوشش حکومت کو مہنگی پڑ چکی ہے، عمران خان جس کی جماعت پڑھے لکھے پُرامن نوجوانوں کی جماعت سمجھی جاتی تھی اور جس کا دفاعی اور تنظیمی ونگ کمزوری کی علامت تھا اُس نے چند گھنٹوں میں جزوی طور پر ملک کو بند کر کے جہاں پرانے تاثر کی نفی کی ہے، وہاں حکومت اور اس کے کارندوں کو یہ پیغام بھی ارسال کر دیا ہے، آئندہ اس ضمن میں وہ کیا کچھ کر سکتے ہیں! مگر کیا یہ ملک جو تیزی سے انتشار کی جانب بڑھ رہا ہے، اس کا متحمل ہو سکتا ہے؟ یہی وہ سوال ہے جو آہستہ آہستہ سنجیدہ صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔! تحریکِ انصاف کو گنجائش دے کر، حکومت ٹکراؤ سے بچنے کی کوشش کرے تو شاید کوئی بہتری کی شکل نکل آئے اور ملک انتشار سے بچ نکلے وگرنہ۔۔۔؟؟

بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.