.

کہیں عراق نہ بن جائے!

صبیح احمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں بھی عراق جیسے صورتحال نہ پیدا ہو جائے۔ یہ خوف آج کل امریکہ کو سدت کے ساتھ ستا رہا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اوبامہ افغانستان سے فوجی انخلا کے حوالے سے اپنے موقف میں بار بار ترمیم کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ اس سال کے اواخر تک غیر ملکی فوجیوں کے انخلا کے بعد بھی افغانستان میں کچھ امریکی فوجیوں کو رکھنے کے سلسلے میں نئی افغان حکومت کے ساتھ معاہدہ کے باوجود فوجیوں کی تعداد میں ترمیم کی جاتی رہی ہے۔

امریکہ کے ایوان اقتدار میں صدر اوباما کے سوائے شاید ہی کوئی اور ہوگا جو افغانستان سے باہر نکلنے کے لیے اتنا پرعزم ہو۔ صدر اوباما نے گزشتہ مئی میں اپنے خطاب کے دوران دسمبر کے اواخر تک امریکی فوجیوں کی تعداد کم کر کے 9800 تک کرنے کے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب صفحہ کو پلٹنے کا وقت آ گیا ہے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے 2016ء کے اواخر تک مکمل انخلا بھی اعلان کر دیا تھا۔ ابھی کچھ دنوں قبل تک یہ منصوبہ اپنی جگہ قائم دوائم تھا لیکن حالیہ کچھ دنوں میں اوبامہ کے موقف میں تبدیلیوں اور اس حوالے سے دیگر سرگرمیوں سے لگتا ہے کہ امریکہ ابھی افغان جنگ سے خود کو آزاد کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ وہ اسے مزید طول دینے کی کوشش میں ہے۔ اگر ایسا ہے تو وہ ایک بہت بڑی غلطی کا ارتکا کرنے جا رہا ہے۔

اوباما نے طے شدہ پلان کے برعکس 2015ء میں امریکی فوجیوں کے لیے مزید توسیع پسندانہ مشن کو منظوری دی ہے۔ طالبان اور دیگر شدت پسندوں کے خلاف مشن کو آگے بڑھانے کی اجازت دینے کے اوباما کے حکم نے امریکی فوجیوں کی راست طور پر میدان جنگ میں واپسی کا راستہ صاف کر دیا ہے۔ انہوں نے پہلے کہا تھا کہ انخلا کے بعد افغانستان میں تعینات کیے جانے والے فوجی صرف دہشت گردی مخالف آپریشن میں حصہ لیں گے جنکا نشانہ القاعدہ کے باقی ماندہ عناصر ہوں گے۔ نئے احکامات سے امریکی جیٹ اور ڈرون طیاروں کو افغان ملٹری مشن کی حمایت کرنے کی بھی اجازت مل گئی ہے۔ نئے افغان صدر اشرف غنی کے راست کے وقت چھاپہ ماری پر عائد پابندی کو ہٹانے کے فیصلے سے بھی امریکی فوجیوں کے راست طور پر جنگ میں حصہ لینے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

یہ پابندی انکے پیش روحامد کرزئی نے لگائی تھی۔ افغان خصوصی آپریشن فورسز 2015ء مین رات کی چھاپہ ماری مہم مین اب اپنے ساتھ امریکی مشیروں کو بھی شامل کرنے والی ہیں جنہیں امریکی فضائی سپورٹ بھی حاصل رہے گی۔ حالانکہ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ رات کے وقت اچانک چھاپہ ماری ایک مؤثر تکنیک ہے اور اس سے طالبان کو محدود کرنے میں مدد ملتی ہے لیکن عام شہریوں کی نظر میں اس طرح گھروں میں دراندازی انتہائی قابل اعتراض ہے اور اس سے امریکہ مخالف جذبات کی نئی لہر کو تقیت مل سکتی ہے۔
نئی حکمت عملی کے تحت دسمبر کے بعد افغانستان میں موجود رہنے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 1000 فوجیوں کا اضافہ کر کے 10,800 کر دیا گیا ہے۔ ناٹو اتحاد مین شامل دیگر ممالک اگلے سال 4000 فوجی بھیجنے والے ہیں جس سے افغانستا میں غیر ملکی فوجیوں کی تعداد 12000 سے لے کر 14000 تک پہنچ جائے گی۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا کہنا ہے کہ امریکی فوجیوں کی 9800 کی تعداد میں یہ اضافہ عارضی ہے۔ یہ فیصلہ دراصل ناٹو اتحادیوں کے فوجیوں کی تعداد کے ابھی تک طے نہ ہونے کے سبب لیا گیا ہے۔ اتحادی ممالک ابھی تک یہ طے نہیں کر پائے ہیں کہ وہ کتنے فوجی فراہم کریں۔

ایسا لگتا ہے کہ اوباما عراق میں داعش کے عروج اور ساتھ ہی عراقی فوج کی ناکامیوں کے بعد اپنی افغان پالیسی پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ افغانستان میں حالات کم و بیش اسی راہ پر گامزن ہیں جس طرح امریکی انخلا کے بعد عراق میں دیکھنے کو ملک رہے ہیں۔ شاید اوباما اس ممکنہ الزام سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں جو عراق کی طرح افغانستان کی صورتحال کے حوالے سے آئندہ سامنے آنے والے ہیں جہاں روز بروز طالبان کے حملوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ بہر حال امریکی صدر کو فوجی کمانڈروں کے مشوروں پر من وعن عمل کرنے سے گریز کرنا چاہیئے جو افغان جنگ میں دوبارہ امریکی فوجیوں کی وسیؑ پیمانے پر شمولیت پر زور دے رہے ہیں۔ اس بات پر سنجیدگی سے غور کیے جانے کی ضرورت ہے کہ جب ایک لاکھ سے زائد امریکی فوجی طالبان کو مکمل طور پر شکست دینے مین ناکام رہے تو اس بات پر غور کرنے کا کوئی جواز نہین ہے کہ امریکی فوجیوں کی محدود تعداد اب مؤثر ثابت ہوگی۔

اسکا مطلب یہ نہیں ہے کہ نئے افغان صدر کو حمایت نہیں دینی چاہیے یا انہیں جنگجوؤں کی بھیڑ میں تنہا چھوڑ دینا چاہیے۔ سابق صدر حامد کرزئی کے مقابلے اشرف غنی انتہا پسندی اور کمزور و بدعنوانی کے جال میں پھنسی معیشت جیسے اپنے ملک کے سلگتے مسائل اور چیلنجز سے ایمانداری کے ساتھ نمٹنے کے لیے زیادہ توانائی اور عزم کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

گزشتہ ستمبر میں متنازع صدارتی انتخابات میں فاتح قرار دیے جانے کے بعد جب سے اشرف غنی نے ملک کے نئے چیف ایکزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے ساتھ اختیارات کی شراکت کے معاہدہ کے تحت اقتدار سنبھالا ہے، کئی مورچوں میں بہتر پیش رفت ہوئی ہے جن میں امریکہ کے ساتھ سکیورٹی ایگریمنٹ، کابل بینک میں بدعنوانی کے معاملہ کی ازسرنو تحقیقات اور پاکستان سمیت اہم ممالک کے ساتھ رشوتوں میں بہتری کی کوششیں شامل ہیں۔ غنی نے ابھی حال ہی مین لندن میں منعقد ہونے والی افغانستان کے حوالے سے بین الاقوامی امداد دہندگان کی کانفرنس میں ملک میں بدعنوانی کے خاتمہ اور اقتصادی اصلاحات کے لیے حالانکہ نامکمل لیکن معنی خیز وژن پیش کیا ہے۔ اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کو ابھی کئی اور اہم فیصلے لینے ہیں جس میں پہلا کابینہ کی تشکیل ہے۔ اس سلسلے میں کہا گیا تھا کہ مذکورہ کانفرنس سے قبل کابینہ کی تقرری کر دی جائے گی لیکن اب اس میں مزید کئی ہفتے لگنے کی بات کہہ رہے ہیں۔ ملک کی خستہ حال سیکورٹی کے مد نظر سیاسی لیڈران اور گروپوں کے لی ےضروری ہے کہ وہ اپنے اختلافات ختم کر کے اس معاملے میں اتحاد کا مظاہرہ کریں لیکن ابھی تک اس سلسلے میں کوئی پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی ہے۔

گزشتہ 13 سال کے تلخ تجربات یہ سبق حاصل کرنے کے لیے کافی ہیں کہ کسی بھی غیر ملکی امداد، دسیوں ہزار فوجی، اربوں ڈالر کی رقم یا فوجی آلات سے حقیق معنوں می ںکوئی فرق پڑنے والا نہیں ہے جب تک افغان شہری خود حکمرانی کی اپنی ذمہ داریوں کو نہیں سمجھیں گے اور بدعنوانیوں سے پاک ایک اہل اور قابل بھروسہ حکومت کی تشکیل نہیں کریں گے۔ امریکی صدر کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے بنیادی منصوبے پر کابند رہیں، اس میں مزید ترمیم یا چھیڑ چھاڑ نہ کریں۔ انخلا کے بعد باقی ماندہ امریکی فوجیوں کو افغان فورسز کو مشورے اور تربیت دینے اور حسب ضرورت القاعدہ پر قدغن لگانے پر ہی اپنی توجہ مرکوز رکھنی چاہیے، جیسا کہ اوباما کے اصل منصوبہ میں وعدہ کیا گیا تھا۔ اس پلان کی کامیابی میں ہی امریکہ کے زیر قیادت ناٹو اتحاد کی کامیابی پنہاں ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’راشٹریہ سحارا‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.