.

چینی وزیراعظم، روسی صدر اور پھر امریکی صدر بھارت میں

حسن اقبال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برصغیر کی جغرافیائی سیاست کا یہ المیہ ہے کہ بھارتی وزیراعظم مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد دنیا کے چوٹی کے ممالک کے سربراہان یا تو بھارت کا دورہ کر چکے ہیں یا کرنے والے ہیں۔ چین کے وزیراعظم نے ستمبر 2014ء میں بھارت کا دورہ کیا۔ ابھی روس کے صدر نے بھارت کا حال ہی میں دورہ کیا ہے۔ اگرچہ یہ دورہ مختصر تھا لیکن اس کے باوجود اس کی اپنی اہمیت ہے۔ جنوری 2015ء میں امریکہ کے صدر بھارت کا دورہ کرنے والے ہیں۔ ان تمام اہم ملکوں کے بھارت کے ساتھ اقتصادی اور فوجی تعلقات اگرچہ دوطرفہ ہیں لیکن جغرافیائی سیاست میں یہ تعلقات براہ راست پاکستان کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے میں یہ خبریں آئیں کہ پاکستان نے روس کے ساتھ جنگی ہیلی کاپٹروں کی فراہمی کے معاہدے پر دستخط کئے ہیں جو کہ ایک حوصلہ افزاء خبر تھی۔ اس کے پس منظر میں یہ تاثر بھی ابھرا کہ روس اور بھارت کے تعلقات سردمہری کا شکار ہیں اور بڑے عرصے سے دونوں ممالک کے درمیان کوئی خاطر خواہ رابطہ نہیں ہوا جو حالات کو مزید بہتری کی طرف لے جانے کی کوشش ہو۔ اس صورت حال میں روسی وزیر دفاع کا پاکستان کا دورہ اور معاہدے پر دستخط کچھ مثبت اشارے پاکستان کے حق میں مل رہے تھے۔ لیکن یکایک روسی صدر پیوٹن کا بھارت کا دورہ اور وہ بھی امریکی صدر کے دورہ کے اعلان سے صرف تقریباً ایک ماہ قبل ایک نئی صورت حال کا پیش خیمہ ہے۔ اگرچہ روسی صدر کے دورہ بھارت کی خبر امریکہ کے لئے بھی حیران کن ثابت ہوئی۔ لیکن امریکہ کی طرف سے اس حیرانی کو چھپاتے ہوئے تاثرات کو اس طرح سے بیان کیا ’’اب روس کے ساتھ تعلقات کو پرانی نہج پر رکھنے کا زمانہ نہیں‘‘۔ اس کے ساتھ ساتھ اس خیال کا بھی اظہار کیا ہے کہ روسی صدرکے دورہ بھارت سے امریکی صدر کے دورہ بھارت پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہوں گے لیکن اس کے باوجود یہ بھی کہہ دیا ’’دیکھتے ہیں کہ اس دورے سے کیا نتائج نکلتے ہیں۔ انتظار کرنا چاہئے‘‘۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ کے لئے امریکی صدر کے دورہ بھارت سے قبل روسی صدر کا دورہ بھارت غیرمعمولی ہے اور اس دورے کے نتائج کا انتظار ہے۔ امریکہ کے لئے واقعی دورہ غیرمعمولی ہونا چاہئے کیونکہ ماضی قریب میں امریکہ نے جس طرح سے بھارت کو عالمی قوانین اورضابطوں سے ہٹ کر جورعائتیں دی ہیں وہ نہ صرف خلاف توقع ہیں بلکہ روایات سے بھی ہٹ کر ہیں۔ ان میں سب سے اہم سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی ہے۔ بھارت نے ایٹمی دھماکہ کیا جس پر پابندیاں عائد کی گئیں۔ بھارت نے سی ٹی بی ٹی پر بھی دستخط نہ کئے۔ لیکن اس کے باوجود بھارت کو یہ سہولت فراہم کی گئی ہے جو کہ خطے کے دوسرے ممالک خاص طورپرپاکستان کے خلاف ناروا سلوک کی واضح مثال ہے۔ دوسری طرف ایران جس نے ابھی تک ایٹمی دھماکہ تو نہیں کیا لیکن مختلف قیاس آرائیوں کی بنا پر یہ کہا جا رہا ہے کہ ایران ایٹمی دھماکہ کرنے جا رہا ہے اور نیوکلیئر ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس لئے اس پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ اس کے نتیجے میں ایران سے پاکستان، بھارت اور دوسرے ممالک کے لئے آنے والی گیس کے لئے بچھائی جانے والی پائپ لائن کا کام روک دیا گیا۔ بھارت کو گیس پائپ لائن نہ ملنے کی وجہ سے امریکہ نے سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے انتظامات کئے لیکن اس میں پاکستان کونظرانداز کردیا گیا۔ اگرچہ ایران سے گیس پائپ لائن رکنے سے سب سے زیادہ نقصان پاکستان نے اٹھایا۔ اب امریکہ شش و پنج میں ہے کہ اتنی سہولتوں کے باوجود روسی صدر کادورہ بھارت چہ معنی دارد۔ روس کے صدر نے بھارت کا ہنگامی دورہ کر لیا۔ بین الاقوامی مبصرین نے اس دورے پر بڑے دلچسپ خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ’’اگرچہ روس نے مغرب سے پریشان ہو کر بھارت کا دورہ تو کر لیا لیکن اب وہ ایسا دوست ہے جس کے مفادات کہیں اور ہیں‘‘۔

البتہ بھارتی میڈیا اب بھی اس دورے سے حاصل ہونے والے فوائد کا قائل ہے۔ اس کا خیال ہے کہ اس سے بھارت اور روس کے تعلقات میں جو سردمہری آئی ہے اس کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ اس دورے کے حوالے سے بھارتی میڈیا نے روس بھارت تجارت کے فروغ کے حوالے سے بڑی توقعات ظاہر کی ہیں۔ 2010ء میں بھارت اور روس نے دونوں کی تجارت جو کہ 20 ارب ڈالر تک تھی 2015ء تک دگنا کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن اس میں بعد میں کوئی پیش رفت نہ ہو سکی اور تجارتی حجم آج بھی وہیں پر ہے جہاں 2010ء میں تھا۔ البتہ دونوں ممالک زیورات اور قیمتی پتھروں کی تجارت میں ایک دوسرے سے خوب فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ بھارت دنیا میں زیورات اور قیمتی پتھروں کی تجارت میں 60 فیصد کا حصہ دار ہے۔ بھارت اس تجارت سے منسلک خام پتھر درآمد کرتا ہے جس کی مالیت 2013ء کے اعدادوشمار کے مطابق 16.34 ارب ڈالر ہے جبکہ ان زیورات اور پتھروں کی برآمدی مالیت 20.23 ارب ڈالر تھی۔ اگر روس اور بھارت اس میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں تو بھارت کی برآمدات کو اس شعبے میں 36.04 ارب ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے اور یقیناًاس شعبے میں بھارت روس سے تعاون چاہے گا۔ جس کے لئے اس دورہ میں بطور خاص انتظام کیا گیا لیکن بھارت کے لئے کیا روس کے ساتھ صرف اتنے ہی تعلقات بڑھانے ہوں گے۔ بھارت یقیناًروس سے اس سے کہیں زیادہ توقعات رکھے ہوئے ہے اور وہ روس سے بھارت کے لئے افغانستان سمیت وسط ایشیائی ریاستوں میں بھی تعاون کا طلب گار ہو گا جو کہ بھارت کا دیرینہ خواب ہے۔ اس کے علاوہ فوجی تعاون کے امکانات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔بھارت میں ستمبر 2014ء سے جنوری 2015ء کے درمیان اتنے اہم ممالک کے سربراہان کے دورے خطے میں ہونے والی غیرمعمولی سیاسی تبدیلیوں کے غماز ہیں۔ پوری دنیا نے اپنی نظریں اس خطے پر مرکوزکر رکھی ہیں۔ اگرچہ اس دوران روس اور امریکی صدر کا دورہ پاکستان میں تو متوقع نہیں تھا۔ البتہ چینی وزیراعظم نے پاکستان کا دورہ کرنا تھا جو کہ پاکستان کی اندرونی سیاسی کشمکش کی وجہ سے وقوع پذیر نہیں ہو سکا۔ اس کا پاکستان کے لئے کس قدر نقصان ہے اس کا اندازہ اب بخوبی کیا جا سکتا ہے اور جغرافیائی سیاست میں بھارت کو جو اہمیت مل رہی ہے اس کی وجہ پاکستان کی اندرونی سیاسی کشمکش ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو چینی وزیراعظم کے دورہ پاکستان کے نتائج مزید نہ صرف بہتر ہوتے بلکہ جلد ان کے فوائد لوگوں تک پہنچائے جا سکتے۔ بھارت نہ صرف بین الاقوامی صورت حال سے فائدہ اٹھا رہا ہے بلکہ خطے کی سیاسی صورت حال سے بھی خوب مستفید ہو رہا ہے۔ خاص طور پر پاکستان میں پائی جانے والی اندرونی سیاسی مشکلات بھی بھارت کے حق میں جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ امن وامان کی صورت حال مشکلات میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔ ان حالات میں پاکستان کے لئے خطے میں اہم کردار ادا کرنا مشکل ہو رہاہے۔ دوسری طرف ہندوستان ٹائمز روسی صدر کے وژن کو اس طرح سے بیان کرتا ہے ’’روس اور بھارت کے نئے تعلقات جدید ہتھیاروں کی ترقی اور تیاری، جدید ٹیکنالوجی میں تعاون جس میں نیوکلیئر ٹیکنالوجی، خلائی تجربات شامل ہیں میں ایک دوسرے سے بطورخاص فائدہ اٹھا سکتے ہیں‘‘۔ روس اور بھارت کے تعلقات سردمہری کے دور سے گرم جوشی کے دور میں داخل ہوتے ہیں یا نہیں یہ توآنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن پاکستان کے لئے سوچوں کے زاویے تبدیل کرنے اور نئی راہیں تعین کرنے کا وقت ضرور ہے۔ کیا ہم اسی طرح سال ہا سال تک دہشت گردی کی جنگیں لڑتے گزار دیں گے یاہم بڑی طاقتوں کے درمیان زور آمائی کے لئے میدان جنگ بنے رہیں گے۔ یا ہم بھی اقتصادی ترقی کے ان خوابوں کو پورا کریں گے جو ہماری قوم طویل عرصے سے دیکھ رہی ہے۔ بین الاقوامی سیاست سے فائدہ اٹھانا اپنے ملک کے لئے نہایت اہم ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ نئی بات

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.