.

روس بھارت معاہدہ 2014ء

پروفیسر شمیم اختر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے صدر پیوٹن کا دورۂ بھارت اور مودی حکومت سے کی گئی 16 عدد مفاہمتی یادداشتوں پر طرفین کے دستخط کوئی غیر متوقع بات نہیں ہے بلکہ یہ دونوں ممالک کے مابین 57 سالہ تعلقات کا تسلسل ہے جو سوویت یونین کے ٹوٹنے اور قوم پرست حکومت کے برسراقتدار آنے سے قطعاً متاثر نہیں ہوئے۔ تاہم بعض مبصرین اسے یوکرین کے تنازے کے نتیجے میں (امریکہ اور یورپی یونین) اور وفاق روس کے تنازے کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں کیونکہ منموہن سنگھ کی حکومت کا میلان امریکہ کی جانب ہو چکا تھا جیسا کہ اس کے امریکہ سے بھاری اسلحہ کی خریداری سے ظاہر ہوتا ہے کیونکہ ابھی تک بھارت 70 فیصد سامان حرب روس سے خریدتا رہا ہے لیکن بھارت کے موجودہ وزیراعظم نے یہ اعلان کر دیا کہ دفاعی شعبے میں بھارت روس کا سب سے بڑا شراکت دار ہے۔

یہ صدر پیوٹن کے منہ دیکھی بات نہیں تھی کیونکہ نریندر مودی کی حکومت نے روس کو اس جدید ترین جوہری ری ایکٹروں کی تعمیر کا ٹھیکہ دے دیا۔ یہ بھی 2008ء اور 2010ء کے معاہدوں کا معاملہ ہے جن کی رو سے بھارت کے اشتراک سے جنوبی ہند کے علاقے کو دن اور کولام میں جوہری ری ایکٹر تعمیر کر چکا ہے۔ بھارت کی سابق حکومت نے امریکہ سے جوہری ٹیکنالوجی کی منتقلی کا معاہدہ کیا تھا جس سے اسے یہ توقع ہو گئی تھی کہ وہ امریکی امداد سے جوہری ری ایکٹر تعمیر کرے گا اور ماضی کی طرح دونوں حریفوں سے مطلوبہ جوہری منصوبے مکمل کرائے گا جیسے اس نے سوویت یونین اور امریکہ دونوں کی مالی و فنی امداد سے فولاد کے کارخانے بنا لیے تھے۔ اس بار امریکہ نے بھارت میں جوہری ری ایکٹر کی تعمیر کے سلسلے میں اس کے حفاظتی نظام پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امداد میں تاخیر کر دی تو نریندر مودی نے فوراً روس سے رجوع کیا جو مغربی ممالک کی عائد کردہ پابندیوں کو ناکام بنانے کے لیے ترکی اور پاکستان سے روابط استوار کرنا چاہتا تھا فوراً بھارت سے سودا کر لیا۔ اب جب اوباما جنوری میں بھارت کا دورہ کرے گا تو نریندر مودی اس سے ڈٹ کر سودے بازی کرے گا جبکہ اوباما اس پر دباؤ ڈالنے کی پوزیشن میں نہیں ہو گا۔

اس بار تو پاکستان نے بھی ذرا ہمت دکھائی اور روس کے وزیر دفاع کی میزبانی کرتے ہوئے جنگی ہیلی کاپٹر کی خریداری کر لی اور مزید سامان حرب کے حصول کی راہ ہموار کر لی۔ سوویت یونین اور وفاق روس کی برصغیر کی جانب پالیسی میں یہ فرق ہے کہ اول الذکر (سوویت یونین) 9 اگست 1971ء میں بھارت سے دوستی و تعاون کا معاہدہ کر کے ہند پاک تنازع میں فریق بن گیا اور سابق مشرقی پاکستان پر بھارت کی جارحیت کی حمایت کی لیکن صدریلسن اور پیوٹن دونوں نے برصغیر میں بھارت اور پاکستان کی جانب متوازن پالیسی اختیار کی۔ چنانچہ پیوٹن نے بھارت جانے سے قبل کہا کہ روس اور پاکستان تعلقات میں بہتری سے ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات میں بہتری آئے گی۔ کاش کہ ایسا ہو! اس سے کم از کم اتنا تو ہوا کہ جب روس پاکستان سے تعاون میں وسعت پیدا کرے گا تو وہ پاک بھارت تنازعے میں ہرگز فریق نہیں بنے گا۔

پھر روس کو اس کا خیال رکھنا ہو گا کہ چین اس کی تیل اور گیس کا سب سے بڑا خریدار ہے جسے وہ یہ دونوں اشیاء تیس سال تک فراہم کرنے کا پابند ہے۔ لہٰذا روس بھارت سے دوستی میں اس حد تک نہیں جائے گا کہ وہ چین کو ناراض کر دے۔ 60ء، 70ء اور 80ء کے عشروں کی اور بات تھی۔ ان تین عشروں میں چین اور روس کے تعلقات میں بڑی کشیدگی پیدا ہو گئی تھی لیکن اب وہ صورت حال نہیں رہی بلکہ اس کے برعکس دونوں اپنے سرحدی تنازعات طے کرنے کے بعد اچھے ہمسائے اور تجارتی ساجھے دار بن گئے ہیں۔

چنانچہ چین یہ کبھی نہیں پسند کرے گا کہ روس پاک بھارت تنازع میں ماضی کی طرح حریف بن جائے لیکن اس کے لیے پاکستان کو بھی روس سے اقتصادی و تجارتی تعلقات بڑھانے چاہئیں لیکن پاکستان ہمیشہ کی طرح روس سے تعلقات استوار کرنے میں لیت و لعل سے کام لیتا رہا ہے جبکہ روس نے پاکستان میں فولادی کارخانہ قائم کیا اور اندرون ملک تیل اور گیس کی نکاسی کے لیے نہ صرف مالی اور فنی امداد دی بلکہ ان کی نکاسی کے لیے مقامی افرادی قوت کو تربیت اور ٹیکنالوجی فراہم کر کے اسے اپنی مدد آپ کرنے کے قابل بنا دیا۔ ممکن ہے یہ کتابی بات لگے کہ ترقی پذیر ممالک کو اسلحے کی بجائے جدید پیداواری آلات مشینوں اور کارخانوں کی ضرورت ہے لہٰذا یہ بڑی طاقتوں کا فرض ہے کہ وہ متنازع علاقوں میں فریقین کو سامان حرب سے مسلح کرنے کی بجائے صنعتی ٹیکنالوجی درآمد کرے، بنیادی ڈھانچے تعمیر کرے نہ کہ اسلحہ ساز کارخانے لگائے۔

صدر پیوٹن کو سوویت یونین کے تجربے سے سبق حاصل کرنا چاہیے کہ میزائلوں، توپوں، آبدوزوں، جنگی طیاروں سے لیس ہونے کے باوجود اس کے حکمران اسے تحلیل ہونے سے نہیں بچا سکے اور روس ناقابل تسخیر ہونے کے باوجود دیوالیہ اور کنگال ہو گیا۔ یہ ان ریاستوں کے لیے انتباہ ہے کہ جو اپنا زر مبادلہ صنعتی، زرعی، ٹیکنالوجی کی بجائے طیارہ بردار جہازوں، لڑاکا اور بمبار طیاروں اور آبدوزوں پر صرف کر رہے ہیں جس کے باعث ان کے ممالک کی معیشت بحران اور قوم غربت اور انتشار کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔

اگر روس یا امریکہ بھارت کو اسلحہ فراہم کرتے ہیں تو انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ اسلحہ مقبوضہ کشمیر کے باشندوں یا پاکستان کے خلاف استعمال ہو گا۔ یہ اندیشہ مشرق پاکستان پر بھارت کے حملے کی وجہ سے حقیقی نوعیت اختیار کر چکا ہے۔ لہٰذا ہم روس کے اس اقدام کو امن کے لیے بالواسطہ خطرہ سمجھتے ہیں کہ وہ بھارت میں جدید ترین جنگی ہیلی کاپٹر اور بھاری اسلحہ کے کارخانے قائم کرے گا۔ کیا روس کی حکومت اور اس کے عوام اتنی سی بات نہیں سمجھ سکتے کہ بھارت کو اتنے جدید اسلحہ جات کی کیا ضرورت ہے؟ اور وہ یہ اسلحہ کس کے خلاف استعمال کرے گا؟

اگر یہ کہا جائے کہ اسے عوامی جمہوریہ چین سے خطرہ ہے لہٰذا وہ اپنے دفاع کے لیے اسلحہ سازی اور اسلحہ اندوزی پر مجبور ہے۔ کم از کم یہ بات تو بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ دونوں ہمسایوں میں زیادہ سے زیادہ سرحدی جھڑپیں تو ہو سکتی ہیں لیکن ان کے درمیان ہمالیہ پہاڑ حائل ہونے کی وجہ سے کوئی میدانی جنگ نہیں ہو سکتی۔ اگر دونوں میں میزائل کا تبادلہ ہو جائے تو دونوں کو نقصان پہنچے گا لیکن جب تک زمینی فوج نہ پہنچے کسی کا قبضہ نہیں ہو سکتا۔ البتہ اس کے مقابلے میں بھارت اور پاکستان کی زمین ہموار ہونے کی وجہ سے ان پر فوج کشی بہت آسان ہے یوں بھی دنوں میں دو اعلان شدہ اور دو غیر اعلان شدہ جنگیں تو ہو چکی ہیں اور آئے دن کنٹرول لائن اور سیالکوٹ کی سرحد کے آر پار گولے باری کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے جبکہ بھارت اقوام متحدہ کے مبصرین کو معائنے کی اجازت نہیں دیتا نہ ہی ان کی آراء کو مانتا ہے۔ اگر روس بھارت کو مسلح کرتا رہا اور پاکستان کو دفاعی اسلحہ دینے سے انکار کرتا رہا تو اگر برصغیر میں جنگ بھڑک اٹھی اور متحاربین میں جوہری اسلحہ کا تبادلہ ہوا تو نہ صرف برصغیر بلکہ وسط ایشیا، ایران، نیپال اور عوامی جمہوریہ چین تابکاری کی لپیٹ میں آجائیں گے اور اس کی ذمہ دار دو بڑی طاقتیں روس اور امریکہ ہوں گے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.