.

عثمانی ترکی زبان کے احیا ءکی تیاریاں

ڈاکٹر فرقان حمید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ذرا سوچئے۔آپ اس وقت کیا محسوس کرینگے جب آپ رات سونے کے بعد اٹھیں اور آپ کو یہ بتا دیا جائے کہ اب آپ پڑھنے اور لکھنے کے قابل نہیں ہیں تو آپ کا کیا ردعمل ہوگا؟ ظاہر ہے آپ ایسی کسی بھی صورتحال کو قبول نہیں کرینگے اور اپنے پڑھے لکھے یا خواندہ ہونی کا ثبوت فراہم کرینگے لیکن اگر آپ سے تمام ہی ثبوت چھین لئے جائیں تو پھر آپ کے پاس سر تسلیم خم کرنے کے سوا کوئی اور چارہ کار باقی نہیں بچے گا۔ اسی قسم کی صورتِ حال کا سامنا ترک قوم کو 1928ء میں کرنا پڑاتھا۔ پڑھی لکھی قوم جب ایک رات کی نیند لینے کے بعد اٹھی تواس نےاپنے آپکو ان پڑھ پایاجیسا کہ انگریزوں کے ہندوستان پرقبضے کے موقع پرمقامی باشندے ایک ہی رات میں ان پڑھ قرار دے دیئے گئے تھے اور ان کو سرکاری ملازمتوں سے نکال باہر کیا گیا تھا۔

سلطنتِ عثمانیہ کے زوال کےبعدغازی مصطفےٰ کمال اتاترک نے اسی سلطنت کے ملبے پر ایک جدید اور نئی مملکت ’’جمہوریہ ترکی ‘‘ کے نام سے تشکیل دی اورجمہوریہ ترکی کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے ملک بھر میں انقلابات برپا کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ان برپا کیے جانیوالے انقلابات میں سب سے اہم انقلاب 1928ء میں برپا کیا جانیوالا’’ حرف انقلاب‘‘ تھا جس کے ذریعے ملک بھر میں استعمال کی جانے والی ترکی زبان( عثمانی ترکی زبان) کاجو عربی رسم الخط میں تحریر کی جاتی تھی کا رسم الخط تبدیل کرتے ہوئے لاطینی رسم الخط استعمال کرنے کے احکامات جاری کر دئیے گئے اور اس دن سے ملک بھر میں استعمال کی جانیوالی ترکی زبان کو لاطینی یا پھر رومن رسم الخط میں تحریر کیاجانے لگا اور اسکو ملک بھر میں متعارف کرانے میں مصطفےٰ کمال نے خود بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور ایک معلم کی طرح ہاتھ میں چاک لئے اساتذہ کو تختہ سیاہ پر نئے حروفِ تہجی کو متعارف کرانا شروع کر دیا حالانکہ تقریباً تمام ہی ماہرین نے انکو کم از کم دس سالوں کے اندر اپنی قوم کو نیا رسم الخط سکھانے میں کامیاب ہونے سے آگاہ کیا تھا لیکن اتاترک نے ان ماہرین کی رائے کی ذرا بھی پروا نہ کرتے ہوئے آگے بڑھے اور لاطینی یا رومن رسم الخط سے ناواقف ترک باشندوں کو نئے حروفِ تہجی ’’لاطینی یا رومن رسم الخط‘‘ کو سکھانا شروع کر دیا اور چند ماہ کے اندر اندرلاطینی یا رومن رسم الخط کو سکھا کرایک معجزہ کر دکھایا۔

اتاترک کو ترکی زبان کو رومن یا لاطینی رسم الخط میں لکھوانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ اس کی سب سے بڑی وجہ عثمانی ترکی زبان کا عربی رسم الخط میں تحریر کیا جانا تھا اور ترکی زبان کی اپنی مخصوص آوازوں کو بھی اس زبان میں تحریر کئے جانے کے باعث یہ زبان اور بھی مشکل بن گئی تھی جسے پڑھنے میں بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا اورعوام کی اکثریت بلکہ نوئے فیصد سے زائد آبادی ناخواندہ یا ان پڑھ تھی جس کی وجہ سے ترکی یورپی ممالک کے مقابلے میں بہت پیچھے رہ گیا تھا اور ترکی کو اس وقت’’مردِ بیمار‘‘ کے نام سے یاد کیا جانے لگا تھا۔ اس صورتِحال کو دیکھ کر ہی اتاترک نے تعلیم کے شعبے میں اصلاحات لانے کا فیصلہ کیا اور پھر ملک میں شرح خواندگی جو کہ دس فیصد سے بہت کم تھی۔ چند سالوں کے اندر پچاس فیصد سے تجاوز کرگئی اورموجودہ دور میں یہ شرح تمام اسلامی ممالک میں سب سے زیادہ اور اس وقت سو فیصد کے لگ بھگ ہے۔

اس رسم الخط کو متعارف کروانے کی کئی اور وجوہات بھی تھیں جس کے بارے میں ترکی کے اُس وقت کے وزیراعظم عصمت انونو ’’نے کہا تھا کہ’’ حرف انقلاب‘‘ کا واحد مقصد حتیٰ کہ سب سے اہم مقصد ملک میں شرح خواندگی بڑھانا ہی نہیں ہے بلکہ ہمارا اصل مقصد نئی نسل کا ماضی سے رابطہ منقطع کرنا،ماضی کے دروازے بند کرنا اور عالمِ عرب سےاپنے تعلقات منقطع کرنا اور ترک معاشرے پر مذہبِ اسلام کی چھاپ اور اثر و رسوخ کو کمزور بنانا ہے۔ نئی نسل قدیم ترکی زبان سے لا تعلق رہے گی اور ہم اس نئے رسم الخط کے ذریعے نئی نسل پر اپنا کنٹرول قائم رکھیں گے۔ نئی نسل مذہبی کتابوں کو عربی رسم الخط میں پڑھنے سے یکسر محروم رہے گی اور اس طرح ان پر براہ راست مذہب اثر انداز نہیں ہو سکے گا۔" (یا داشتِ عصمت انونو، جلد دوئم ، ص،223) عصمت انونو نے مئی 1960ء کے مارشل لا کے بعد بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ’’انقلابات دراصل دنیا کے قدیم اور فرسودہ نظریات کو ایک طرف رکھتے ہوئےجدید حالات کے مطابق پیش کیے جانیوالے نظریات ہی کو انقلاب کہا جاتا ہے۔مثال کے طور پر حرف انقلاب قدیم ترکی زبان کے رسم الخط کے مشکل ہونےکی وجہ سے برپا نہیں کیا گیا ہے کیونکہ جاپان اپنی 400 کریکٹروں یا الفاط پر مشتمل زبان آج بھی استعمال کر رہا ہے۔ ہم نے حرف انقلاب ایک خاص ذہن ( اسلامی) اور نظریات کو ختم کرنے کیلئے برپا کیا ہے۔ (یادداشتِ عصمت انونو۔ جلد سوئم، ص، 268)۔

اب آتے ہیں اس موضوع کی جانب کہ ترکی میں کیونکر ترکی زبان کو ایک بار پھر عربی رسم الخط میں تحریر کیے جانے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے؟ اس بارے میں گزشتہ دنوں ترکی کے صدررجب طیب ایردوان نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ’’دنیا میں مجھے ایسی کوئی قوم بتا دیں جو اپنی تاریخ اور تہذیب کے اصلی نسخوں ہی کو پڑھنے سے محروم ہو؟ کیا دنیامیں ایسی کوئی قوم ہے جو اپنے باپ دادا کی قبروں کے کتبوں کو پڑھنے کی صلاحیت ہی سے عاری ہو ’’کیا دنیا میں ایسی کوئی قوم ہے جو اپنے قابلِ فخر شعراء ادیبوں، مصنفین ، مفکرین اور عالموں کے تحریر کردہ شاہکاروں کو پڑھنے ہی سے قاصر ہو؟ زبان انسانوں کے درمیان رابطے کا کام بھی سر انجام دیتی ہے۔ اگر آپ کسی معاشرے سے ان کی زبان کو تحریر کرنیکا حق چھین لیں تو وہ معاشرہ اپنی زبان،مذہب، فن و ادب سے بھی، محروم ہو جاتا ہے۔ ہماری تہذیب نے تلواروں یا قوتِ بازو سے فروغ نہیں پایا ہے بلکہ یہ تہذیب الفاظ ، تحریر، کاغذوں اور کتابوں سے پھلی پھولی ہے۔استنبول ہمیشہ ہی مختلف تہذیبوں کا گہوارہ رہا ہے۔ اس کے تمام گوشے تحریر اور خطاطی سے اٹے پڑے ہیں لیکن بد قسمتی سے خطاطی کے ان نمونوں کو قوم سمجھنے ہی سے قاصر ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی نئی نسل کو عثمانی ترکی زبان سیکھنےکا موقع فراہم کریں۔ ہمیں تو عثمانی ترکی زبان سیکھنے کا کو ئی موقع ہی فراہم نہیں کیا گیا ہے لیکن اب ہماری نئی نسل کو اس حق سے محروم نہیں رکھا جانا چاہئے۔‘‘ صدر ایردوان کےاس بیان کے بعد ملک بھر میں اسکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں عثمانی ترکی زبان کو پڑھانے اورخاص طور پر مذہبی اسکولوں جنھیں امام خطیب اسکولوں کے نام سے یاد کیا جاتا ہے میں اور یونیورسٹیو ں کے سوشل سائنسز ڈیپارٹمنٹوں میں لازمی طور پر عثمانی ترکی زبان کے پڑھانے کے احکام جاری کیے گئے ہیں جس پر ملک بھرمیں نہ ختم ہونے والا بحث مباحثہ شروع ہو گیا ہے۔

حزب اختلاف کی جماعت ری پبلکن پیپلز پارٹی نے ایردوان کے اس بیان اور احکامات کے بعد اپنے شدید ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے سیکولرازم پر کاری ضرب قرار دیا ہے اورپارٹی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اب ماضی کے گڑے مردے اکھاڑنے کی بجائے ملک کو تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن کر نے کی ضرورت ہے۔ جبکہ صدرایردوان اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ماضی میں تحریر کردہ شاہکاروں کو قوم براہ راست پڑھنے سے قاصر ہے اور پھر ان شاہکاروں کو ترکی کے جدید رسم الخط میں تحریر کرتے ہوئے شائع کیا جاتا ہے اور ایسا کرتے ہوئے کئی ایک غلطیوں کا احتمال بھی پایا جاتا ہے اور پھر ان کو جدید رسم الخط میں شائع کرنے کیلئے کافی وقت درکار ہوتا ہے جس کی وجہ سے ابھی تک لاکھوں کی تعداد میں عربی رسم الخط میں تحریر کی گئی کتابوں کو جدید ترکی زبان میں نہیں ڈھالا جاسکا ہے۔ علاوہ ازیں مذہب سے لگائو رکھنے والے افراد کو بھی قرآن ِ کریم کو پڑھنے میں دشواری کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا بہترین حل یہ ہے کہ جدید رسم الخط کو جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ اس کے پرانے رسم الخط یعنی عربی رسم الخط کو بھی سیکھنے کا موقع فراہم کیا جائے تاکہ ماضی کے تمام ورثے تک رسائی حاصل ہوسکے اور لوگ کسی کا سہارا لئے بغیر خود قرآن کریم پڑھ سکیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.