.

بشارالاسد کی حمایت میں روس کا سیاسی کردار

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حالیہ تبدیلیوں کو سمجھنے کے لیے ہمیں شام کی سیاسی اور فوجی صورت حال کا دوبارہ سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ہم شاید یہ سوال پوچھ سکتے ہیں:اگر روس نے بشارالاسد رجیم کی طرف داری اور حمایت نہ کی ہوتی تو کیا اس سے شامی انقلاب کا راستہ تبدیل ہوجاتا؟

روسیوں نے ایک بڑا اہم سیاسی کردار ادا کیا ہے اور یہ فیصلہ کن فوجی کردار سے زیادہ اہم ہے۔ہمیں ماسکو کی جانب سے دمشق حکومت کی شورش والے بہت سے علاقوں میں حزب اختلاف کی فورسز کو شکست دینے کے لیے حمایت کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔تاہم بشارالاسد تو اپنے بڑے اتحادی ملک ایران کے اسلحہ خانوں سے بھی جدید ہتھیار حاصل کرسکتے تھے اور اس نے دراصل عالمی مارکیٹ سے مختلف طریقوں اور ذرائع کو بروئے کار لا کر شام کی دفاعی ضروریات کو پورا کیا ہے۔

روس نے سب سے اہم سیاسی کردار یہ ادا کیا ہے کہ اس نے مختلف بین الاقوامی سیاسی منصوبوں کو سبوتاژ کردیا ہے۔اس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام سے متعلق فیصلہ کن قراردادوں کو بھی ویٹو کردیا تھا اور یوں مغربی ممالک کو شامی حزب اختلاف کی بھرپور حمایت سے ہاتھ کھینچ لینے پر مجبور کردیا تھا حالانکہ وہ تو پہلے ہی اس معاملے میں متردد تھے۔

ہم یہ دیکھ سکتے ہیں کہ ماسکو نے گذشتہ تین سال سے زیادہ عرصے سے دمشق میں تبدیلی کی راہ میں حائل ہونے کے لیے ایک خطرناک کھیل کھیلا ہے۔ماسکو شام میں انسانی المیے کی توسیع کا بھی ذمے دار ہے اور اس طرح کا المیہ پہلے خطے میں رونما نہیں ہوا تھا۔

مخمصے کا شکار

شامی قومی اتحاد کے رکن برہان غلیون اپنے حزب اختلاف کے ساتھیوں پر ماسکو کے دورے کا دعوت نامہ ملنے کے بعد پہلے طیارے پر سوار ہونے پر بجا طور پر تنقید کرتے رہے ہیں۔وہ اس مخمصے کا شکار ہیں کہ روسی صدر ولادی میر پوتین نے اپنا ذہن تبدیل کر لیا ہے اور وہ تعاون پر آمادہ ہیں۔

برہان غلیون کا کہنا ہے کہ ''بشارالاسد سے متعلق روس کا موقف کبھی تبدیل نہیں ہوا ہے ،البتہ ہم میں سے بعض روس کے بیانات کا مفہوم سمجھنے سے قاصر رہے ہیں۔سنہ 2011ء میں شامی قومی کونسل کے قیام کے بعد روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے اس کے ارکان کے ساتھ اپنی پہلی ملاقات میں کہا تھا کہ ''ان کی بشارالاسد کے ساتھ کوئِی شادی ہوئی ہے اور نہ ان کے شامی صدر کے ساتھ کوئی خصوصی تعلقات ہیں اور بشارالاسد نے ان سے بھی زیادہ مغربی ملکوں کے دورے کیے ہیں''۔

غلیون اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ''جب روسی یہ اشارہ دیں کہ وہ بشارالاسد کا دفاع نہیں کررہے ہیں اور وہ ان کی پشت پناہی بھی نہیں کررہے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا ہے کہ وہ انھیں اب تنہا چھوڑ رہے ہیں''۔روسی اپنے الفاظ میں جمع تفریق کرتے رہتے ہیں لیکن ان کا موقف ہمیشہ ایک ہی رہتا ہے۔وہ اس وقت تک بشارالاسد کے ساتھ ہیں،جب تک وہ زندہ ہیں اور دمشق میں صدارتی محل میں موجود ہیں۔خطے کے ممالک اس معاملے میں ماسکو کے ساتھ ابلاغ کرچکے ہیں۔اس امید کے ساتھ کہ وہ اپنے موقف میں نرمی لائے گا لیکن ابھی تک ان کی اس کوشش کے کوئی قابل ذکر نتائج برآمد نہیں ہوئے ہیں''۔

ماسکو کا مصر سے متعلق موقف بھی پہلے سے طے شدہ تجزیے پر مبنی ہے اور وہ یہ کہ امریکا واشنگٹن کے خلاف قاہرہ کے ساتھ ہے۔ مغربی محاصرے کی وجہ سے روسی رجیم کو جس بڑے چیلنج کا سامنا ہے ،وہ یہ کہ روس ایک ایسا فریق نہیں ہے کہ جو شامی حزب اختلاف کی توجہ کا حق دار ہو۔

روس شام سے متعلق یا تنازعے کے کسی اور زون سے متعلق اپنے موقف کو تبدیل نہیں کرے گا۔اسی بنا پر غلیون کہتے ہیں کہ ''لاروف کے ساتھ ہر ملاقات کے موقع پر شامی حزب اختلاف جھانسے میں آگئی اور اس نے واہمے پھیلانا شروع کردیے۔پھر کہیں جا کر اس کو ماسکو کے حربوں اور دھوکے بازیوں کا پتا چلا مگر ماسکو نے اپنا موقف تبدیل نہیں کیا ہے''۔

اب شامی حزب اختلاف کے پاس یہی آپشن رہ جاتا ہے کہ وہ اپنی صفوں میں نظم پیدا کرے اور برسرزمین ملٹری آپریشن کے پلڑے میں اپنی حمایت ڈال دے۔یہی ایک طریقہ ہے کہ اس کے بعد امریکی اور روسی بات سنیں گے۔روسی اور امریکی حکومتیں بشارالاسد اور سفاکانہ دہشت گردی کے درمیان پھنسی ہوئی ہیں اور ان کے پاس حزب اختلاف کے ساتھ معاملہ کرنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہے۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.