.

ہمارا جرم ضعیفی

عبدالقادر حسن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صحافتی زندگی میں ایک ایسے سانحہ پر بھی لکھنا تھا جس پر لکھا نہیں جا رہا، نہ ہاتھوں میں طاقت باقی ہے نہ ذہن میں توازن باقی ہے میرے اتنے بچے شہید کر دیے گئے کہ لگتا ہے پاکستان میں آج کوئی بچہ بھی سلامت نہیں ہے کچھ بچے فاقوں اور بیماری سے مر رہے ہیں تو کچھ دشمنوں کی گولیوں سے۔ بچوں کے دونوں قسم کے قاتلوں کا مجھے علم ہے، فاقوں سے مرنے والے ہماری آپ کی وجہ سے ہیں جو ہر کھانے کے بعد ہاضمے کے لیے چورن تلاش کرتے ہیں اور گولیوں سے مرنے والے بچے ہمارے پیدائشی دشمن بھارت کی وجہ سے ہیں۔

ہمارے سیاستدان بزدلانہ، منافقانہ اور غدارانہ بیانات جاری کر رہے ہیں جب کہ سب کو پتہ ہے کہ ایسی منظم دہشت گردی کوئی غیر سرکاری دہشت گرد تنظیم نہیں کر سکتی۔ بھارت نے ایک جشن تو 43 برس قبل 16 دسمبر کو منایا تھا جب اندرا نے پارلیمنٹ کو اپنی اور بھارت کی کامیابی پر مبارک دی تھی۔

دوسرا جشن آج بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی علانیہ مسلمان اور پاکستان دشمنی میں ایک پرانی کامیابی کو یاد کرتے ہوئے منایا ہے اور عین سقوط ڈھاکا کے دن پشاور میں ایک اسکول پر حملہ کر دیا ہے جس میں سو ڈیڑھ سو پاکستانی بچوں کی موت نے دنیا کو ہلا دیا ہے اور شاید ہمارے حکمرانوں کو بھی جنھیں ان کے بقول پاکستانیوں نے بھاری تعداد میں ووٹ اس لیے دیے تھے کہ وہ بھارت کے ساتھ دوستی کر سکیں۔ بھارت کے نئے وزیراعظم نے اپنی سیاسی کامیابی اور وزارت عظمیٰ کا اصل جشن پاکستانی بچوں کے خون سے ہولی کھیل کر منایا ہے اور ان کے لہو سے چراغ روشن کیے ہیں۔

سقوط ڈھاکا کے بعد پاکستان کے اس بڑے سانحے پر جہاں سیاستدانوں نے اپنی پرانی بزدلانہ روش نہیں چھوڑی اور دشمن کا نام خوف یا لالچ کی وجہ سے گول کر دیا ہے وہاں اس ملک کے مولویوں نے پوری جرات اور قومیحمیت کا کھل کر ثبوت دیا ہے۔ لاہور میں ایک سیمینار میں کھل کر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ سقوط ڈھاکا کی طرح سانحہ پشاور میں بھی بھارت ملوث ہے۔ معصوم بچوں کے قتل اور فساد برپا کرنے کو جہاد میں نہ ڈالا جائے۔

بھارت نے جو مظالم کیے ہیں اب ان کی حد ہو چکی ہے اور بھارت کے ٹوٹنے کی باری آ گئی ہے۔ پاکستانی مفاد کا تقاضا تھا کہ اس سانحے پر ہمارے سیاستدان کھل کر بات کریں جنہوں نے اس ملک کو کھایا ہے اور کھائے چلے جا رہے ہیں لیکن بقول ایک بڑے نامور سیاستدان کے ان کے ٹکڑوں پر پلنے والے مولویوں نے اپنی ’’روزی‘‘ خطرے میں ڈال کر وہ بات کہہ دی ہے جو ہر پاکستانی کی آواز ہے۔

پروفیسر حافظ محمد سعید (جماعۃ الدعوۃ) جمعیت العلماء پاکستان کے صدر پیر اعجاز ہاشمی، جماعت دعوت کے سیاسی امور کے سربراہ حافظ عبدالرحمن مکی، جمعیت اہل حدیث کے ناظم اعلیٰ ابتسام الٰہی ظہیر، جماعت اہل حدیث کے امیر حافظ عبدالغفار روپڑی، جمعیت علماء اسلام (ف) کے رہنما مولانا امجد خان اور کئی وکلاء بھی اس مجاہدانہ اعلان میں شامل ہیں۔ ان سب نے متفقہ طور پر کہا کہ اگر ہمارے سیاستدان متفق ہوتے تو ہم بھارت سے سقوط ڈھاکا کا بدلہ لے چکے ہوتے لیکن اب قوم بھارت کو معاف نہیں کرے گی۔ حد ہو چکی ہے۔

ہمارے سیاستدانوں کی مصلحت کوشی یا بزدلی کا یہ حال ہے کہ ہمارے ایک سابق وزیر داخلہ رحمن ملک اپنی حکومت ختم ہونے تک کہتے رہے کہ بلوچستان میں ایک غیر ملکی ہاتھ ملوث ہے کبھی بھارت کا نام نہیں لیا لیکن جب وزارت سے الگ ہو گئے تو انھیں یاد آیا کہ یہ ہاتھ تو بھارت کا تھا چنانچہ وہ پھر بھارت کا نام لینے لگے۔ آج بھی یہی حالت ہے کہ سب سیاستدان جانتے بوجھتے ہوئے بھی بھارت کا نام نہیں لیتے لیکن جو کچھ جس منظم طریقے سے ہوا ہے کیا وہ کوئی پرائیویٹ تنظیم کر سکتی ہے۔

ان کا جدید ترین اسلحہ اور تباہی مچانے والا دوسرا سامان جو اسکول پر حملہ آور دہشت گردوں کے پاس تھا یہ کسی عام تنظیم کے پاس ہونا ممکن ہی نہیں۔ فوج کے ایک ادارے کی طرف سے جو بیان آیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ساری بات معلوم ہے کہ کس نے ان کو تیار کیا، کس نے ان کو لمحہ بہ لمحہ ہدایات دیں اور ان کی واردات کی نگرانی کی اور کون ان کا اصل سرپرست تھا۔

یہ سب معلوم ہونے کے بعد بھی اگر ہم اپنے بچوں کا خون ہضم کر جائیں تو یہ ایک بہت بڑی اور تاریخی بے غیرتی ہو گی۔ اگر ہم اسی طرح چپ رہے تو بھارت کسی واردات پر بھی بس نہیں کرے گا اور اپنے اصل پروگرام کی طرف بڑھتا رہے گا جو پاکستان کو ختم کرنے کا ہے۔ اگر ہم سقوط ڈھاکا پر خاموش نہ ہو جاتے اور اس کے عوض باقی ماندہ پاکستان پر محض حکومت لے کر چپ نہ ہو جاتے تو آج پشاور ہمارے بچوں کے خون سے رنگین نہ ہوتا لیکن اگر ہم ایک کمینہ دشمن کے سامنے چپ رہیں گے تو پھر کئی حادثوں پر تیار رہیں اور پشاور کیا سقوط ڈھاکا کی طرح کسی حتمی حادثے پر بھی تیار رہیں۔

ہمارے ایک شاعر نے ہمیں وارننگ دے رکھی ہے کہ ع ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات۔ مگر ہم چھوٹی موٹی سزا کی پروا نہیں کرتے۔ یہ پشاور والا حادثہ کیا مرگ مفاجات نہیں تو اور کیا ہے اور حقیقت میں ایک کمزور دشمن نے ہم پر ایک کاری وار کر دیا ہے۔ بھارت بلاشبہ رقبے اور آبادی میں بڑا ملک سہی لیکن انسانوں کے اندر کی جو طاقت کسی مسلمان کے پاس ہوتی ہے وہ کسی ہندو کے پاس نہیں ہو سکتی۔ اگر مسلمانوں کی قیادت کسی ہندونما لیڈر کے پاس ہو گی تو پھر اصلی ہندو ہی ہم پر قابض ہوں گے۔

ایک بات لازماً عرض کرنی ہے کہ ہم جس قدر خطرات میں گھرے ہوئے ہیں اسی قدر اپنی سیکیورٹی سے غافل ہیں۔ ہماری پولیس کا جو کردار سامنے آیا ہے اور اس قسم کے دوسرے اداروں میں جو کاہلی اور فرض سے غفلت پیدا ہو چکی ہے اس کا سدباب لازم ہے جس دیدہ دلیری سے پشاور کے اسکول میں واردات کی گئی ہے وہ ہماری نالائقی کا ایک ثبوت ہے کیا ہم ایسی ناگہانی آفات کا نشانہ بنتے رہیں گے۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.