.

چھوٹے تابوت اٹھانے میں بھاری

انجم نیاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلام آباد سے ایک دوست نے ای میل میں یہ جملہ لکھا۔ سچی بات یہ ہے کہ یہ الفاظ ہمارے سر شرم سے جھکانے کے لیے کافی ہیں کہ دھشت گردوں نے ہمیں یہ دن دکھایا۔ اس وقت تمام پاکستان معصوم بچوں کی ہلاکت پر غمزدہ ہے۔ چھوٹے چھوٹے ، پھولوں جیسے نازک اور ہنستے مسکراتے بچوں کو نزدیک سے ان کے چہروں اور سروں میں گولیاں مار کر ہلاک کیاگیا۔ کیا یہ گولیوں سے چھلنی اور خون میں لت پت بچوں کی تصاویر دیکھ کر آپ کا کلیجہ نہیں پھٹا؟ کیا آپ ابھی تک صرف غصے کے لیے عالم میں ہیں؟ کیا آپ کا دل ماتم کناں ہے؟ کیا آپ اب بھی یہی سوچ رہے ہیں کہ ’’نہیں یہ کسی انسان کا کام نہیں ہو سکتا، یا کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کو قتل نہیں کرسکتا؟‘‘

اب ہمارے ہاں کیا ہو گا؟ دعوے جو بھی کیے جارہے ہوں، ایک مرتبہ سوگ کی لہر میں اتار آجائے تو آپ الزام تراشی کا امنڈتا ہوا طوفان دیکھیں گے کہ اس میں کس کا قصور تھا؟ سکول کو محفوظ کیوں نہیں بنایا گیا؟یہ کس کی ذمہ داری تھی؟کیا سکیورٹی میں خلا رہ گیا تھا یا جان بوجھ کر پیدا کیا گیا؟ پشاور کے ایک شہری کا دعویٰ ہے کہ سکول کی سکیورٹی برائے نام تھی۔ اگرچہ اُس طرف آنے والی تینوں سڑکوں پر سکیورٹی اداروں کی چیک پوسٹس موجود تھیں اور وہ وہاں سے گزرنے والی ہر گاڑی کو چیک کرتے تھے لیکن اگر کوئی شیطانی کام کرنے پر تل جائے تو کون روک سکتا ہے؟ہتھیاروں سے بھری ہوئی گاڑی وہاں سے کیسے گزری؟

ایک مثالی صورتِ حال تو یہ ہونی چاہیے تھی کہ اپریشن ضربِ عصب کی وجہ سے پشاور اورصوبے کے دیگر حساس مقامات پر ریڈ الرٹ رہتا لیکن حالات واقعات بتاتے ہیں کہ ایسا نہیں تھا۔ اگردفاعی اداروں اور سول انتظامیہ کی باتوں پر یقین کریں تو لگتا ہے کہ وہاں کسی پرندے کو بھی پر مارنے کی اجازت نہیں لیکن جب زمینی حقائق کی طرف دیکھیں تو ایک سو پچاس کے لگ بھگ بچوں کی گولیوں سے چھلنی لاشیں ان دعووں کی سختی سے تردید کرتی ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے شمالی وزیرستان میں اپریشن کے بارے میں ایک فوجی افسر سے بات ہوئی تووہ بہت بڑے بڑے دعوے کررہے تھے۔ ہمیں ایک حقیقت سے کا اعتراف کرنے میں کوئی تامل نہیں ہونا چاہیے کہ جب ہم جنرل یحییٰ خان، جنرل ضیا الحق اور جنرل مشرف کو دیکھتے ہیں تو احساس دل کو کچوکے لگانے لگتا ہے کہ اس اہم ترین ادارے میں ضروری نہیں کہ بہترین افراد ہی سلیکٹ ہوکر آگے آئیں۔ تاہم آرمی کے موجودہ چیف کو بہترین انتخاب کہا جاسکتا ہے۔ شاید قوم کی کوئی نیکی کام آگئی ہے کہ جب اس کی سیاسی قیادت انتہائی تساہل یا تامل پسند ہے تو اسے بہترین آرمی چیف میسر آ گیا۔

اس وقت قوم کے رہنما سرجوڑے بیٹھے ہیں(کم از کم تاثر یہی دیا جارہا ہے) کہ دھشت گردی کے مسلے کا حل کیا ہے؟امریکیوں کی عادت ہے کہ وہ ہونے والے جرائم کی تمام ذمہ داری میکسیکو کے باشندوں یا سیاہ فام امریکیوں پر ڈال دیتے ہیں ۔ ہمارے ہاں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ ہر بڑا افسر ذمہ داری چھوٹے پر ڈال دیتا ہے اور آخر میں کسی مشین کا نقص نکل آتا ہے۔ کیا اس سانحے پر کسی کو ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ نہیں دینا چاہیے تھا؟ چوہدری نثار کے پاس ان حالات میں قوم کو خوش کرنے کا بہترین موقع تھا، لیکن نصیب اپنا اپنا۔ ہمارے سامنے سوال سادہ نہیں ہے… ملا فضل اﷲ کو کون پکڑے گا؟ یقیناً کسی چھوٹے پولیس افسر کی ڈیوٹی اس کام پر تو نہیں لگائی جائے گی۔ ان سے چھوٹے بھی نہیں پکڑے جاتے، ان بڑوں کو پکڑنے اور کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے بہت کچھ کرنا پڑے گا۔ ہو سکتا ہے کہ حقانی واپس کرنا پڑ جائے۔

ڈاکٹروں کے ساتھ ایک مسلۂ ہوتا ہے کہ جب وہ بہت سے افراد کو بستر پر بیماریوں سے مرتے دیکھتے ہیں تو وہ کسی قدر بے حس ہوجاتے ہیں۔ شاید سیاست دان بھی ایسے ہی ہیں، اس لیے وہ نہایت مشینی انداز میں کمیٹیاں بنا کر ’’کام‘‘ ان کے سپر د کردیتے ہیں۔ ایسا کرنے سے رات کو سونے میں آسانی رہتی ہوگی۔ شہروں میں بھی کسی قدر بے حسی پیدا ہوجاتی ہے۔ پیہم صدمات اور مسائل عوام کو ایک دوسرے سے، اور بعض اوقات خود سے، لاتعلق کردیتے ہیں۔ اب ہمارے ہاں کوئی بم دھماکہ، کوئی قتل ، کوئی غبن اور ایسی ہی معمول کے جرائم نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ کسی زمانے میں بوری بند لاشیں دھشت پھیلا دیتی تھیں لیکن اب ایسا نہیں ہوتا۔پاکستان کے شہروں میں پشاور نے دھشت گردی کے سب سے زیادہ صدمات سہے ہیں۔

یہ شہر اس جنگ میں فرنٹ لائن پر ہے۔تاہم اس کے شہری بے حس نہیں ہوئے۔ تاہم وہ ٹی وی سیاست دانوں کی روایتی بے حسی کو دیکھ کر اتنے ہی اذیت میں ہیں جتنے معصوم بچوں کی لاشوں کو دیکھ کر۔ منافقت کے بہت سے مواقع ہوسکتے ہیں، ان کی زندگی رہی تو اور بھی آئیں گے، پہلے کون سی کمی تھی، لیکن کاش، اس موقع پر ایسا نہ کرتے۔ طبیعت پر جبر تو محسوس ہوتا لیکن دل پر پتھر رکھ کر دل کی بات کرلیتے۔بتادیتے کہ ان کی رگوں میں بھی خون ہے… وہ خون جس کے بارے میں اجڑی ہوئی دہلی کے زندہ شاعر نے کہا تھا…’’جو آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے۔‘‘ قوم بتادیتے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو ختم ہوگئے ہیں، اب خون اور پھر جوئے خون بن کر ان نہنگوں نے نشیمن تہہ و بالا کردیتے۔ آئندہ کسی کو بچوں کی طرف گن تو کیا آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی بھی ہمت نہ ہوتی ،لیکن یہاں سات دن اور پھر کمیٹی در کمیٹی، ایکسپرٹ در ایکسپرٹ۔

ہمارے ہاں قائم شدہ انسدادِ دھشت گردی کی عدالتیں بھی ایک معمہ ہیں۔ یہاں قانونِ شہادت بھی ایک مسلہ ہے… کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔ امریکہ کو دیکھیں قیدیوں کو گانتاموبے میں قید کرنے کے لیے کیسی قانون سازی کی۔ ہمیں کیا مسلۂ ہے؟ کیا تمام انسانی قدریں اُس وقت بیدار ہونی ہوتی ہیں جب کوئی دھشت گرد، جو رنگے ہاتھوں موقع سے پکڑا گیا ہو، کو لٹکانا ہو تو کوئی قانون ہی ہاتھ نہیں آتا؟پاکستانی اور امریکی ارکان پارلیمنٹ میں فرق یہ ہے کہ وہ دھشت گردی کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں رکھتے۔ اُنھوں نے نائن الیون کے بعد اٹھ ملین صفحات پر مشتمل گواہی اکٹھی کرکے شائع کردی، لیکن پاکستان میں ہم اس پر انتہائی کنفیوژن کا شکار ہیں۔ ہمارے سکیورٹی ادارے کسی کو کچھ نہیں بتاتے ہیں اور کچھ دیر بعد قوم کو خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔

سیاسی طبقہ تساہل کا شکار ہوتو ہو لیکن دھشت گرد نہیں۔ ان کے سامنے پورا پاکستان ہے ، ان کے ہمدرد اور سہولت کار ہر جگہ ہیں اور کہیں بھی وار کرسکتے ہیں۔ موقع اور وقت اور جگہ کا تعین اُنھوں نے خود کرناہے۔ اس دوران ہم نے صرف الزام تراشی کرنی ہے اور پھر ایک اور سانحہ ہورونما ہوجائے گا۔ اس چکر سے ہم کب اور کیسے نکلیں گے۔ یہی بداعتمادی ہے کہ اس وقت تمام قوم سیاست دانوں کی بجائے فوج کی طرف دیکھ رہی ہے۔ پھر کہتے ہیں کہ بالا دستی نہیں ملی۔ لوگ سوچ رہے ہیں کہ اچھا ہوا کہ…۔ پاکستانی میڈیا اس مسلے پر بھی ریٹنگ کا شکار ہے لیکن یہ بات تسلیم کی جاتی ہے کہ نائن الیون کے بعد امریکی میڈیا نے انتہائی قومی ذمہ داری کا احساس کیا اور اپنی آزادی کی قربانی دی۔ کیا ہم بھی کسی قربانی کے لیے تیار ہیں؟اگر نہیں تو پھر مزید قربانیاں دینی پڑیں گی۔

بشکریہ روزنامہ "دنیا"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.