.

تصورات کی جنگ

ڈاکٹر رسول بخش رئیس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کسی معاشرے، قوم اور سماج کی تشکیل میں کسی بھی چیز سے زیادہ تصورات کا عمل دخل ہوتا ہے۔ اب جہاں اچھے تصورات ہوتے ہیں، وہاں برے تصورات بھی اپنا وجود رکھتے ہیں ۔ یہ متضاد تصورات مخالف نتائج کے حامل بھی ہوتے ہیں۔ ایک اچھا معاشرہ اور ریاست پر امن ، اجتماعیت پذیر اور روادار نہ سوچ اور طرزِ عمل کی حامل ہونے کے ساتھ ساتھ فکر و نظر کی وسعت کو اپنی اندر سمو لینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ایسے معاشروں کی تشکیل ان تصورات کی مرہونِ منت ہوتی ہے جوانسانی جان کی حرمت اور شخصی آزادیوں کو یقینی بناتے ہیں۔ تمام اچھے معاشروں، چاہے ان کی تاریخ ، ثقافت اور سیاسی نظام کی جہت مختلف ہی کیوں نہ ہو، میں عالمی سطح پر قابلِ قبول تصورات کی عمل داری دکھائی دیتی ہے۔

ایک طویل عرصے سے ہماری ریاست اور معاشرہ امن، انصاف، قانون کی حکمرانی اور شخصی مساوا ت جیسے اچھے تصورات سے انحراف کرتا دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ یہاں اقتدار کی سیاست اور اس کے غیر معمولی معروضات نے ان اداروں کے ساتھ ساتھ اُن اقدار کو بھی تباہ کردیا جن کی وجہ سے مستحسن تصوارت معاشرے میں اپنا وجود قائم رکھ سکتے تھے۔ وجود میں آنے کے چند سال بعد ہی پاکستان میں پروان چڑھنے والے منفی تصورات، جیسا کہ مذہبی انتہا پسندی، فرقہ واریت، مذہبی اور مسلکی اختلافات، لسانیت اور نسلی تعصبات نے سماجی تصورات اور سیاسی خدوخال کو متاثر کرنا شروع کر دیا۔ بابائے قوم محمد علی جناحؒ کے سیکولر اور لبرل تصورات ان کی آنکھ بند ہوتے ہوئے معاشرے سے عنقا ہوگئے۔ ان کے بعد ہمیں ایسا کوئی مخلص، باصلاحیت اور دلیر رہنما میسر نہ آیا جو ان کی وضح کردہ راہوں پر چلتے ہوئے قوم کی راہنمائی کر سکے۔

درحقیقت کسی رہنما کے پاس ریاست اور معاشرے کے لیے کوئی تصورات تھے ہی نہیں، اس لیے وہ معاشرے کے طاقتور حلقوں سے مستعار لیے گئے تصورات کی ترویج کرتے ہوئے وقت گزارتے رہے۔ محض اپنے ذاتی مفاد کے لیے سیاسی اور فوجی حکمرانوں نے ملک و قوم کی تعمیر و ترقی کے ضروری ہر اچھے تصور اور اصول کو پامال کر دیا۔

اب جبکہ ہم پشاور حملے میں اپنے بچوں، اساتذہ اکرام اور بہادر سپاہیوں کی شہادت پر نوحہ کناں ہیں، ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کیوں اور کیسے اپنی راہ گم کر بیٹھا؟ کن مقاصد کے حصول کے لیے ہم نے زہریلے ڈریگنز کی فصل کاشت کی یہاں تک کہ اُنھوں نے ہمیں ڈنگ مارنا شروع کر دیا؟ افسوس، جدید جمہوری اور سیکولر تصورات (جن کے مطابق ریاست مذہبی معاملات میں غیر جانبدار رہے) سے انحراف کی پالیسی ہمارے ہاں مستقل طور پر اپنائی گئی۔

سیاسی رہنماؤں کی منافقت، جیسا کہ محض سیاسی فوائد حاصل کرنے کے لیے مذہبی انتہا پسندوں کو خوش کرنے کی پالیسی سے بھی دریغ نہ کرنا، کی وجہ سے معاشر ے میں مذہب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے اور عدم برداشت اور تشدد آمیز رویوں کی ترویج دیکھنے میں آئی ہے۔ اس کے نتیجے میں مذہبی انتہا پسندی، قومی مفاد اور سکیورٹی اپریٹس ہماری سیاسی اور سماجی زندگی پر حاوی ہوگئے اور پاکستان میں جمہوری اقدار ، قانون کی حکمرانی اور شہری آزادی کی بات کرنے والوں کی آواز دبتی چلی گئی۔ عام شہریوں، جن کا طاقت کے اس کھیل میں کوئی کردار اور عمل دخل نہیں، کی تنقیدی رائے اور مثبت سوچ کا اثر ناپید ہوتا گیا حالانکہ مہذب معاشروں میں اصل اہمیت عام آدمی کی سوچ اور رائے کو ہی ہوتی ہے۔ اس طرح ہم مذہبی انتہا پسندی میں فزوں تر مگر تہذیبی گرواٹ کے اعتبار سے پستی کی طرف گامزن رہے۔

ہمارے ہاں کئی ایک مثالیں اور واقعات ظاہر کرتے ہیں یہاں سولین اور وردی پوش ’’داناؤں‘‘ کی کمی نہیں رہی۔ وہ ناخواندہ اور نیم خواندہ عوام کے جذبات سے کھیلتے ہوئے ان کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ یہی ہیں وہ رہنما جن کی وجہ سے اس ملک کا جسدِ قومی زخموں سے چور چور ہے۔ ہمیں اس خونی جنگل میں دھکیلنے والے یہاں سے واپسی کی راہ بھول چکے ہیں۔ ستم یہ کہ عوام کو ان چہروں کی اصلیت سے بھی شناسائی نہیں جن کی وجہ سے وہ اس حال کو پہنچے۔ اگر وہ اپنی تاریخ کا غیر جانبدار ہوکر معروضی انداز میں مطالعہ کریں تو اُنہیں علم ہوگا کہ کون سے چہرے تقدیس کے لبادے میں قومی جرائم کا ارتکاب کرتے رہے ہیں اور ان کا طریقۂ واردات کیا ہے ؟ اُنھوں نے طاقت اور اختیار کے ذریعے معاشرے کے لیے ہر اہم عنصر کو بے اثر، خاموش یا اپنا خوشامدی بنا رکھا ہے۔ ہمیں معاشرے میں پھیلی ہوئی انتہا پسندی، عدم برداشت اور دھشت گردی کو صرف بادی الظر نہیں دیکھنا چاہیے ، یہ دراصل کسی اور بیماری کی ظاہری علامات ہیں۔ مذہبی بنیادوں پر کیے جانے والے تشدد کے پیچھے دراصل وہ ذہنیت ہے جو سیاسی طاقت کے لیے مذہب کو استعمال کرتی ہے۔ ہم ایک طرف جہاں دھشت گردوں کے خلاف لڑ رہے ہیں، توہمیں اس کینسر کی جڑوں تک بھی پہنچنا ہوگا۔

بہت سے بنیادی تصورات نے جدید فلاحی معاشروں کی تشکیل میں مدد کی، تاہم اُن میں سیکولرازم اور جمہوریت کو ممتاز حیثیت حاصل ہے۔ ہمارے ہاں ان دونوں تصورات کو غلط سمجھا گیا، ان کی غلط تشریح کی گئی اور پائے جانے والے سیاسی افراتفری اور مذہبی منافرت سے لبریز ماحول میں ان کا غلط استعمال کیا گیا۔ سیکولرازم کا مطلب مذہب سے انکار نہیں بلکہ یہ تصور تمام شہریوں کو کسی بھی مذہب کا پیروکار بننے کا حق دیتا ہے جبکہ ریاست کسی مذہب کی سرپرستی نہیں کرتی ۔ تاہم ہمارے ہاں سیکولرازم سے مراد کفر لیا جاتا ہے۔

جمہوریت کا مطلب یہ نہیں کہ مورثی اقتدار یا فوجی وردی پوش حکمران اپنے ذاتی مفاد کے لیے اسلام یا حقیقی جمہوریت کے نعرے لگاتے ہوئے عوام کے استیصال پر مبنی گورننس قائم کریں، اس کا مطلب عوام کے ووٹ کی حرمت ہے ۔ دوسری طرف عوام پر بھی لازم ہے کہ وہ فروعی، مذہبی ، لسانی، نسلی اورقوم پرستی کے محدود جذبات سے بلند ہوکر ملک و قوم کی بہتری کے لیے کام کرنے والوں اور لبرل نظریات رکھنے والوں کو ووٹ دیں۔

پشاور کے سانحے نے جہاں ہمیں اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنے پر مجبور کیا ہے ، وہیں یہ ہم سے ماضی پر نگاہ ڈالنے کا بھی تقاضا کرتا ہے تاکہ ہم ماضی کی غلطیوں کو دہرانے سے بچیں اور ان کا ازالہ کرنے کی کوشش کریں۔ جمہوریت کی اصل روح اور ریاست کی مذہبی معاملات میں غیر جانبداری ہی تہذیب کی اساس ہیں۔ ہمیں انہیں بتدریج اپنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اپنے مستقبل اور بچوں کو قاتلوں سے محفوظ رکھنے کا واحد یہی طریقہ ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.