.

تو طغرل کیا کرتا؟

نازیہ مصطفیٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دسویں صدی عیسوی کی نویں دہائی کے آخری سال میں پیدا ہونیوالاابوطالب محمد بن میکائیل عظیم یوریشیائی اسٹیپس کے وحشی اور جنگجو ترک قبائل کو اتحاد کی لڑی میں پرو کر ایک نئی سلطنت کی بنیاد رکھنے والا پہلا ترک فاتح تھا۔ ابو طالب نے اپنے زیر نگیں علاقے میں صدیوں سے قائم بڑی بڑی بادشاہتوں کا تختہ اُلٹ کر ایک وسیع علاقے پر اپنی حکمرانی کے جھنڈے گاڑ دیے تھے۔ اسکے نسب میں سے چغری بیگ، ابراہیم انیال اور قتلمش اگرچہ بڑے جنگجو اور بہادرتھے لیکن چونکہ وہ اجتماعی مفاد کے برعکس ہمیشہ محض اپنی طاقت کو بڑھانے اور اپنی اپنی ذات کیلئے سرگرم رہتا تھا، اس لیے اُن میں سے کوئی بھی بڑی سلطنت قائم کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔

یہ کامیابی صرف ابو طالب کے حصے میں آئی تھی جس نے ایک جانب مشرق کی طرف پیش قدمی میں کامیابیاں سمیٹیں تو دوسری طرف مشرقی ایران کے محاذ پر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ترکوں کی دہشت اور دھاک بٹھا دی۔ صرف جرجان اور طبرستان کے زیاریوں نے ہی سالانہ خراج ادا کرنے کی شرط کیساتھ ابو طالب کی اطاعت قبول نہ کی بلکہ قزوین اور ہمزان نے بھی اس کا سکہ تسلیم کر لیا اور تو اور اصفہان کے بادشاہ فرامرز نے بھی ایک خطیر رقم ابو طالب کو ادا کرنے کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے اپنا سر اسکے سامنے جھکا دیا تھا۔ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد جب فرامرز نے سالانہ خراج ادا کرنے میں پس و پیش سے کام لیا تو ابو طالب نے سزا کے طور پر آگے بڑھ کر اصفہان پر قبضہ کر لیا۔ غصے میں کھولتے ابو طالب نے اصفہان پر قبضے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ وہ مزید آگے بڑھا اور دوسرے علاقوں پر قبضہ کرتا ہوا بغداد تک جا پہنچا جہاں خلیفہ نے ابو طالب کی طاقت دیکھتے ہوئے اسکے ساتھ بنا کر رکھنے میں ہی عافیت جانی۔ عباسی خلیفہ القائم باللہ نے ابو طالب کو رام کرنے کیلئے اسکے ساتھ اپنی بیٹی بھی بیاہ دی جس کے بعد ابوطالب جب نیشاپور میں داخل ہوا تو اس کا نام پہلی مرتبہ خطبے میں پڑھا گیا، جسکے بعد اس نے پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھا اور دیکھتے ہی دیکھتے یوریشیا کے علاقوں کو فتح کرکے سب سے عظیم مسلم سلطنت کی بنیاد رکھ دی۔ اسی سلطنت کی کوکھ سے بعد میں سلطنت عثمانیہ نے جنم لیا۔ ماور النہر کے اطراف سے لیکر دریائے دجلہ کے اس پار تک اپنوں اور پرایوں کے سر جھکا کر عظیم مسلم سلطنت کی بنیاد رکھنے والا یہ حکمران کوئی اور نہیں بلکہ خاندانِ سلجوقیہ کا بانی رکن الدین ابو طالب طغرل بیگ تھا۔

وسطی ایشیا اور یوریشیا کے علاقوں میں اسلام طغرل بیگ کے دم سے ہی اپنی جڑیں مضبوط کرنے میں کامیاب ہوا، لیکن ایک جانب اگر طغرل بیگ نئے علاقوں میں اسلام کو پھیلانے میں ممد و معاون ثابت ہوا تو دوسری جانب اس کا دامن ایک ایسے واقعے سے بھی داغدار ہوا جس کی عالم اسلام میں اُس سے پہلے کوئی نظیر نہیں ملتی تھی۔ دراصل طغرل جب بغداد میں داخل ہوا تو اسکے کچھ فوجیوں نے اُس وقت تک دنیا کا سب سے بہترین کتب خانہ جلا دیا۔ یہ کتب خانہ ’’دارالعلم‘‘ کہلاتا تھا۔ دارالعلم اسلامی دنیا کا سب سے پہلا عمومی کتب خانہ تھا جسے ابو نصر شاپور وزیر بہاء الدولہ نے381ھ میں بغداد کے محلہ کرخ میں قائم کیا تھا۔ اِس کتب خانے میں دس ہزار سے زائد ایسی کتب موجود تھیں جو خود مصنفین یا مشہور خطاطوں کی لکھی ہوئی تھیں۔ دنیائے اسلام کے بہتر سے بہترین کتب خانے دیکھنے اور کھنگالنے والا بارہویں صدی عیسوی کا مشہور مؤرخ یاقوت الحموی الرومی ’’عالم اسلام‘‘ میں لکھتا ہے کہ ’’دنیا میں اُس وقت تک ’’دارالعلم‘‘ سے بہتر کوئی کتب خانہ موجود نہ تھا۔‘‘ فاطمین مصرکے دور میں قاہرہ کے قصر شاہی کا عدیم النظیرکتب خانہ تمام اسلامی دنیا کے کتب خانوں پر سبقت لے گیا تھا جسے سلطان ایوبی کی فوج نے تباہ کردیا تھا۔ رے فتح ہوا تو وہاں صاحب بن عباد وزیر کا عظیم الشان کتب خانہ جو ’’دارالکتب رے‘‘ کے نام سے معروف تھا، اسے محمود غزنوی کی فوج نے جلا کر تباہ کر دیا۔ چُھٹی صدی ہجری کے وسط میں ترکوں کے ایک گروہ نے ماوراء النہر سے آ کر نیشا پور کے کتب خانے جلا دیئے جبکہ 586ھ میں ملک الموید نے نیشا پور کے باقی ماندہ کتب خانوں کو جلا کر تباہ کر دیا۔

اسلامی دنیا میں باہمی چپقلشوں اور بیرونی قوتوں کے ساتھ لڑائی میں نشانہ بننے والا یہ کوئی واحد کتب خانہ نہیں تھا بلکہ اسلامی تاریخ ایسے افسوسناک واقعات سے بھری پڑی ہے۔ مثال کے طور پر بغداد میں ہی ابو جعفر محمد بن حسن طوسی کا کتب خانہ 385ھ سے 420ھ کے درمیان کئی مرتبہ نذرِ آتش کیا گیا، آخری مرتبہ 448ھ میں تو اِس بُری طرح سے جلایا گیا کہ پھر اس کا نام بھی باقی نہ بچا۔ ہلاکو خان کی فوج نے سقوط بغداد کے وقت بیت الحکمہ کو تباہ کر دیا تھا، ہزاروں قیمتی تاریخی دستاویزات اور طب سے لیکر علم فلکیات تک کے موضوعات پر لکھی گئی نادر اور نایاب کتب کو دریائے دجلہ میں پھینک دیا گیا، ہلاکو خان کے حملے میں زندہ بچ جانے والوں کیمطابق دریائے دجلہ کا پانی اِن کتب کی سیاہی کی وجہ سے سیاہ پڑ گیا تھا۔ دریائے دجلہ میں غرق کی جانیوالی اِن کتب کی تعداد چھ لاکھ سے متجاوز تھی۔ سید رضی موسوی کا کتب خانہ جہاں نہج البلاغہ جیسی معرکہ الآرا کتاب تالیف ہوئی، وہ بھی تاتاری حملہ آوروں کی جنگی حکمت عملی کی وجہ سے دریا بُرد ہو گیا تھا۔ ایک بغداد ہی نہیں بلکہ تاتاریوں کا یہ سیلاب ترکستان، ماوراء النہر، خراسان، فارس، عراق، جزیرہ اور شام سے گزرا تو وہاں بھی تمام علمی یادگاریں مٹاتا چلا گیا۔ صلیبی جنگوں کے دوران صلیبی افواج نے مصر، شام اور دیگر اسلامی ممالک کے کتب خانوں کو بُری طرح جلا کر تباہ و برباد کر دیا تھا۔ صلیبی افواج کے ہاتھوں تباہ ہونے والی اِن کتب کی تعداد تیس لاکھ سے زائد تھی۔ طرابلس میں ایک لاکھ سے زیادہ کتب کا حامل قاضی ابن عمار کا عالیشان کتب خانہ بھی صلیبی افواج نے برباد کر دیا تھا۔ سپین میں عیسائی غلبے کے بعد مسیحی انتہا پسند بادشاہ فرڈیننڈ نے وہاں کے اسلامی کتب خانے جلوا دیئے تھے، ہسپانوی کارڈینل ’’فرانثیسکو خیمینیث دی ثیسنیروس‘‘ نے ایک ہی دن میں 80 ہزار کتب نذر آتش کر دی تھیں۔

قارئین کرام! جنگوں اور لڑائیوں میں کتب خانوں اور علمی خزانوں کو تباہ کرنا تاریخ میں معمول رہا ہے۔ کتب خانے جلائے جانے کی اول وجہ تو یہ رہی کہ جنگجوؤں کی نظر میں علم کی کبھی اہمیت نہ ہوتی تھی اور دوم وہ لائبریریوں اور کتب کو دشمن کی ثقافت کا ماخذ اور فروغ کا باعث سمجھا کرتے تھے۔ حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ دوسری عالمی جنگ میں مختلف ممالک میں ہزاروں کی تعداد میں لائبریریوں میں لاکھوں کتب ضائع ہو گئیں اور یوں علم کا بہت بڑا خزانہ بھی تباہ ہوگیا، لیکن کروڑوں لوگوں کو لقمہ اجل بنانے والی اس عالمی جنگ میں کسی فریق کی جانب سے کسی تعلیمی ادارے پر بھی حملہ نہیں کیا گیا، یعنی ماضی میں کتب تو جلائی گئیں لیکن کتب بین کو کچھ نہ کہا گیا، لیکن سانحہ پشاور میں تاریخ نے ایک نیا موڑ لیا اور علم کو مٹانے کی بجائے تشنگان علم کو مٹانے کی نہایت تکلیف دہ روایت شروع کی گئی ہے۔ اس ایک سانحے نے تاریخ کا وہ المناک باب بھی لکھ ڈالا جو ہلاکو خان بھی نہ لکھ پایا۔ کہا جاتا ہے کہ سلجوق سلطان طغرل کو جب پتہ چلا کہ اس کی فوج نے کتب خانہ جلا دیا ہے تو وہ کئی راتوں تک سو بھی نہ سکا۔ سلطان طغرل نے کہا تھا ’’میرا بس چلے تو علم کو جلانے والوں کو بھی اُسی طرح جلا دوں۔‘‘ تاریخ کے نازک موڑ پر کئی دنوں سے ایک ہی سوال ذہن میں کلبلا رہا ہے کہ کتب کے جلانے پر آگ بگولہ ہونیوالے اُس علم دوست حکمران کوگھروں سے حصولِ علم کیلئے نکلنے والے بچوں کے گولیوں سے بھونے جانے کا پتہ چلتا تو طغرل کیا کرتا؟

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.