.

مسئلہ کشمیر کا حل

کلدیپ نائر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یہ استصواب رائے نہیں تھا جیسا کہ جموں وکشمیر کے سبکدوش ہونے والے وزیراعلیٰ عمر فاروق عبداللہ نے پولنگ سے پہلے کہا تھا بلکہ جموں وکشمیر کے اس انتخاب کا جھکاؤ بہت حد تک پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی طرف تھا جو وادی کی خود مختاری کا مطالبہ کرتی ہے اور یہی استصواب کے مطالبے کا اصل مقصد ہے۔

پی ڈی پی 28 نشستیں حاصل کر کے ریاست کی سب سے بڑی پارٹی ثابت ہوئی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ ریاست کی اصل آب و تاب بحال کرے گی جو بقول اس کے حکمران نیشنل کانفرنس (این سی) نے خراب کر دی تھی۔ شاید اسی کے نتیجے میں این سی کو شکست کا سامنا ہوا ہے۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ جو ریاست سیکولر ازم کے حوالے سے پورے ملک کے لیے ایک مثال تھی وہ بھی تقسیم در تقسیم کا شکار ہو چکی ہے۔

مسلم اکثریت والی وادی میں اب پی ڈی پی جیت گئی ہے۔ تاہم ریاست میں حالات کی خرابی کا زیادہ الزام بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر آتا ہے۔ اس نے معاشرے کو تقسیم کرنے کی اپنی سی پوری کوشش کی ہے۔ اس نے جو تحریک چلائی تھی اس کا ریاست کی یکجہتی سے کوئی تعلق نہیں تھا کیونکہ ریاستی امور میں ہندوؤں کی کوئی آواز ہی نہیں۔ یہ مہم اتنی کامیاب ہوئی کہ بی جے پی کو جسے 2008ء میں11 نشستیں ملی تھیں اب وہ 25 نشستیں جیت گئی ہے۔

ریاست کے اندر تقسیم در تقسیم نے اس کا حلیہ تبدیل کر کے رکھ دیا۔ جموں ہندوؤں کا گڑھ ہے جب کہ مسلمانوں کے اکثریتی علاقے وادی کشمیر سے بی جے پی کو ایک بھی نشست نہیں ملی جس کی کہ عمر عبداللہ نے پہلے ہی پیش گوئی کر دی تھی حالانکہ اس مقصد کے لیے ووٹوں کی تعداد بھی بڑھائی گئی تھی۔ یہ مسئلہ کوئی نیا نہیں ہے۔ اس وادی سے مسلمانوں کے انتخاب سے کشمیریوں کو اطمینان کا احساس ہوتا ہے کہ اب وہ باقی کے بھارت سے علیحدہ ہو چکے ہیں۔ جو امیدوار اس تاثر کو قائم رکھتے ہیں ان کو زیادہ حمایت ملتی ہے مگر یہ بھی کوئی نہیں بات نہیں۔

نیشنل کانفرنس نامی پارٹی شیخ عبداللہ نے قائم کی تھی جو کہ اس وقت بھی ایک مقبول عام لیڈر تھے جب ریاست پر مہاراجہ ہری سنگھ کی حکومت تھی۔ جب ریاست سے برطانوی حکومت کا 1947ء میں اقتدار ختم ہوا تو شیخ عبداللہ نے ریاست کی بھارت کے ساتھ شمولیت کی حمایت کی۔ مہاراجہ ہری سنگھ کو، جو ریاست کا ہندو حکمران تھا، دو تجاویز دی گئیں: کہ یا تو وہ آزاد رہیں یا بھارت اور پاکستان میں سے کسی کے ساتھ الحاق کر لیں۔

لیکن مہاراجہ نے آزاد رہنے کو ترجیح دی۔ مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمان اکثریت والی ریاست جموں و کشمیر پاکستان کے ساتھ شامل ہو سکتی تھی بشرطیکہ اس موقع پر صبروتحمل کا مظاہرہ کیا جاتا۔ مہاراجہ نے آزاد رہنے کا اعلان کر کے پاکستان کے ساتھ اپنی حیثیت برقرار رکھنے کا معاہدہ کر لیا تاہم بھارت نے ایسا معاہدہ قبول کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ اس کے خیالات مختلف تھے۔ اس موقع پر پاکستان نے بے صبری کا اظہار کرتے ہوئے وہاں اپنے نیم فوجی دستے بھیج دیے اور وادی پر بزور طاقت قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ اس پر مہاراجہ نے بھارت سے فوجی مدد طلب کر لی۔ اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے اس وقت تک راجہ کی کوئی مدد کرنے سے انکار کر دیا جب تک کہ ریاست بھارت کے ساتھ الحاق نہیں کرتی۔

اب مہاراجہ کے پاس اور کوئی متبادل نہیں تھا کہ بھارت کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کر دے۔ چنانچہ بھارت کی فوجیں عین وقت پر طیاروں کے ذریعے سری نگر پہنچ گئیں کیونکہ پاکستانی دستے بھی ایئر پورٹ تک پہنچ گئے تھے۔ اگر پاکستانی دستے ہلے گُلے سے گریز کرتے اور بارہ مولا سے نکلنے میں تاخیر نہ کرتے تو وہ سری نگر میں بھارتی فوج سے پہلے پہنچ سکتے تھے۔ تب کشمیر کی تاریخ مختلف ہوتی۔ کشمیر کا بھارت کے ساتھ الحاق بڑی افراتفری کے حالات میں ہوا حالانکہ شیخ عبداللہ بھی اس کی پوری حمایت کر رہے تھے۔ نہرو نے وعدہ کیا کہ جب حالات معمول پر آ جائیں گے تو عوام کی خواہشات کو مقدم رکھا جائے گا لیکن یہ موقع کبھی نہ آیا کیونکہ عالمی سطح پر غیر متوقع تبدیلیاں رونما ہو گئی تھیں۔

پاکستان، جس کا کشمیر پر دعویٰ تھا، اس نے مغرب کے ساتھ فوجی معاہدے کر لیے اور ان سے اسلحہ حاصل کرنے لگا۔ یہ سرد جنگ شروع ہونے کا زمانہ تھا۔ پاکستان کے اقدام کو مغرب بلاک کے ساتھ شمولیت کی علامت تصور کیا گیا۔ نہرو نے کہا کہ اب کشمیریوں کے ساتھ کیا ہوا ان کا وعدہ پورا نہیں ہو سکتا کیونکہ پاکستان نے مغرب سے ہتھیار حاصل کر لیے ہیں۔ پاکستان حکومت نے نہرو پر وعدہ خلافی کا الزام لگایا لیکن اس کے مغربی بلاک سے ہتھیار لینے سے کشمیر پر اس کے کلیم کو تحلیل کر دیا۔کشمیر کے لیے پاکستان یا بھارت سے الحاق کا معاملہ کئی عشروں تک لٹکا رہا۔ کچھ وقت تک کشمیریوں نے اپنے لیے مکمل آزادی اور خود مختاری کا مطالبہ شروع کر دیا لیکن چاروں طرف سے خشکی میں گھری ہوئی (لینڈ لاکڈ) ریاست بھارت یا پاکستان کے ساتھ الحاق کے بغیر اپنی آزادی کس طرح قائم رکھ سکتی تھی کیونکہ بصورت دیگر ریاست کا بیرونی دنیا سے رابطہ ممکن نہیں تھا۔ تاہم یہ آزادی کا مطالبہ ہی ہے۔

جس نے کشمیریوں کے پاؤں اکھاڑ رکھے ہیں۔ پاکستان جس نے ایک موقع پر اس تجویز کی مخالفت کی تھی اب اپنا اعتراض ختم کر دیا ہے۔ اس کی یہ توقع ہے کہ آزاد کشمیر بالآخر اپنے ہم مذہب مسلمانوں کے ساتھ پاکستان میں شامل ہو جائے گا۔ تاریخ کا جو بھی نقطہ نظر ہو حقیقت یہ ہے کہ بھارت کبھی بھی کشمیر کو پاکستان کے حوالے نہیں کر سکتا اور نہ ہی پاکستان بزور طاقت بھارت سے کشمیر لے سکتا ہے۔ دونوں ملکوں کو عوام کی بہتری اور خطے کے حالات کو معمول پر لانے کے لیے کسی پرامن تصفیے پر پہنچنا ہو گا۔ انھوں نے تین باقاعدہ جنگیں لڑیں اور ایک چھوٹی جنگ کارگل پر لڑی گئی۔ دونوں ملک ایٹمی قوت بھی ہیں۔ لیکن دشمنی کا کوئی انت نہیں۔ بے شک اس مسئلے کے حل کے لیے بے شمار ناکام کوششیں کی جا چکی ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ پاکستان کشمیر کو تقسیم ہند کا نامکمل کام سمجھتا ہے جب کہ یہ ریاست اب قانونی طور پر بھارت کے ساتھ شمولیت اختیار کر چکی ہے۔

مفاہمت کی تمام تجاویز بے نتیجہ رہی ہیں کیونکہ دونوں ملک حقیقت میں مفاہمت چاہتے ہی نہیں بلکہ اپنے اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ دونوں ملکوں نے مسئلہ کشمیر کا کوئی حل تلاش کرنے کے لیے 67 سال ضایع کر دیے ہیں۔ دونوں ملک مزید 67 سال بھی ضایع کر سکتے ہیں اگر وہ اپنے بے لچک موقف پر اسی طرح اصرار کرتے رہے۔ پاکستان نے اس مسئلے میں مذہب کو شامل کر کے اسے اور زیادہ ناقابل حل بنا لیا ہے۔ اور یہ تجویز کہ ہندو اکثریت والا جموں بھارت کے ساتھ اور مسلمان اکثریت والی وادی کشمیر پاکستان کے ساتھ شامل ہو جائے اس سے تقسیم ہند کے زخم پھر ہرے ہو جائیں گے۔

اس مسئلے کا کوئی یکطرفہ حل نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے افہام و تفہیم ہونی چاہیے۔ ہاں برطانوی کیبنٹ مشن پلان کی بنیاد پر اس مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے جس نے بھارت کی تقسیم کے باوجود اسے اکٹھا رکھا۔ اسی وجہ سے تقسیم کا فارمولا کامیاب ہو گیا۔ایک نئی تجویز جو میں پیش کرتا ہوں وہ یہ کہ کشمیر کا دفاع اور امور خارجہ نئی دہلی حکومت کے پاس رہیں اسی طرح جو کشمیر پاکستان کے پاس ہے اس کا دفاع اور امور خارجہ اسلام آباد کے پاس رہیں۔ باقی تمام محکمے کشمیریوں کے پاس ہوں اور ان کے درمیان سرحد ختم کر دی جائے۔ ممکن ہے اس طرح نئے تعلقات قائم ہو سکیں جن میں عدم اعتماد اور عداوت کا عنصر موجود نہ ہو۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.