.

جنگ مگر کیسی؟

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اس شخص سے بڑا لعنتی کوئی نہیں ہو سکتا جو اس ملک کے معصوم شہریوں کی زندگیاں اجیرن کرنے والوں سے ہمدردی رکھے۔ اس کے جمہوریت پسند ہونے کا دعویٰ جھوٹا ہے جو بلاتفریق ہر قانون شکن یا دھونس دھمکی سے اپنی رائے مسلط کرنے والوں پرلعنت نہ بھیجے ۔وہ شخص مسلمان کہلانے کا مستحق نہیں جو خواتین‘ بچوں اور معصوموں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگنے والوں کو انسانیت کا دشمن نہ سمجھے اور وہ پاکستانی نہیں ہو سکتا جو عوام کی جان ومال کے تحفظ کے لئے حکومت یا ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون نہ کرے ،لیکن سوال یہ ہے کہ میری ریاست کس کے خلاف اور کس طرح لڑ رہی ہے ؟ اس ریاست کا دوست کون ہے اور دشمن کون ہے ؟ افسوس ہےکہ اس ملک کی قیادت پر جو دو مرتبہ کئی گھنٹے تک سر جوڑ کر بیٹھی لیکن مختاروں سے اصل سوال پوچھ سکی اور نہ بنیادی سوالات کا جواب تلاش کر سکی؟۔ عمران خان صاحب اے پی سی میں جانے کو تیار تھے اور نہ دھرنا ختم کرنے کو ۔ متعلقہ حلقوں کی طرف سے شاہ محمود قریشی سے کہا گیا کہ وہ خان صاحب کو سمجھائیں کہ اب دہشت گردی کے خلاف جنگ کے سوا کسی اور کام کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

چنانچہ قریشی صاحب نے خان صاحب کو اس طرح سمجھایا جس طرح کہ وہ سمجھاتے ہیں اور وہ شریفوں کی طرح شریف بن کر شریفانہ طریقے سے پہلے اے پی سی میں جانے اور پھر دھرنا ختم کرنے پر آمادہ ہوئے ۔ ظاہر ہے ہر قائد کی شان کے مطابق اسی طرح کا پیغام دیگر قائدین کو بھی ملا ہوگا ۔ اسی لئے تو عمران خان صاحب کے ساتھ حضرت مولانا فضل الرحمان صاحب اور جناب سراج الحق بھی خشوع و خضوع کے ساتھ اے پی سی کے اس اعلامیہ پر دستخط کرنے پر آمادہ ہوئے جس میں گڈ اور بیڈ طالبان کے خلاف بلاتفریق کارروائی کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا تھا ۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس سے قبل یہ حضرات قوم کے سامنے اپنی غلطی کا اعتراف کرکے اس سے معافی مانگتے کیونکہ یہی لوگ تھے جو گزشتہ تیرہ سال سےہمیں گڈ اور بیڈ طالبان کی تفریق اور تمیز سمجھارہے تھے ۔ہم جیسے بھی غلطی پر تھے جو یہ کہہ رہے تھے کہ عمران خان اور قادری صاحب کے دھرنے بے نتیجہ ثابت ہوئے ۔ ان دھرنوں کے نتائج تو اب سامنے آرہے ہیں ۔ میاں نوازشریف جن قوتوں کے گریبانوں پر ہاتھ ڈالنا چاہ رہے تھے‘ دھرنوں کی وجہ سے وہی ہاتھ ان قوتوں کے قدموں میں لے گئے ہیں ۔ اے این پی ‘ ایم کیوایم اور پیپلز پارٹی کے رہنما وزیراعظم ہائوس کے اندر جارہے تھے تو فوجی عدالتوں کے مخالف تھے لیکن باہر نکلے تو ان کی وکالت کررہے تھے ۔ اب بھی کوئی کہے کہ دھرنے ناکام ہوئے تو ان کی عقل پر ماتم کرنا چاہیے۔

تبدیلی بھی معمولی نہیں آئی بلکہ ایسی آئی کہ مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف ‘ اپنا موقف چھوڑ کر اے این پی کے راستے پر گامزن کر دی گئیں۔ وار آن ٹیرر کی مخالفت کی بنیاد پر سیاست کرنے والی یہ دونوں جماعتیں اب اسی طرح اس جنگ کی سیاسی آواز بنیں گی جس طرح کہ اے این پی بنی تھی اور خاکم بدہن جواب میں انہیں اسی ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا جو اے این پی کو کرنا پڑا۔ وزیراعظم کے مشیر و معاونین جو طالبان کے زبردست وکیل سمجھے جا رہےتھے ‘ اب اس جنگ کی اسی طرح وکالت کریں گے جس طرح کہ پرویز مشرف کے دور میں شیخ رشید احمد کیا کرتے تھے۔ لیکن ایک بات کی سمجھ نہیں آئی کہ پی ٹی آئی ‘ جماعت اسلامی ‘ اے این پی ‘ پیپلز پارٹی اور ایم کیوایم جیسی جماعتیں اس وزیراعظم سے کیوں خوفزدہ ہیں جو اب صرف نام کے وزیراعظم یا پھر صرف بجلی ‘ خزانے اور سڑکوں کے انچارج وزیر رہ گئے ہیں۔ وہ اگر سہمے نہیں تھے تو پھر تجاویز پر دستخط کرنے سے قبل یہ سوال کیوں نہیں اٹھایا کہ اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہے تو پھر وہ نیشنل سیکورٹی ‘ خارجہ امور اور وزارت دفاع کی ٹیم تبدیل کرکے میرٹ پر لوگ تعینات کیوں نہیں کرتے؟

انہوں نے یہ کیوں نہیں پوچھا کہ اس حکومت نے اپنی بنائی ہوئی اندرونی سلامتی پالیسی پر ذرا بھر عمل کیوں نہیں کیا اور جس نیکٹا کو فعال کرنے کی وہ بات کررہے ہیں اس نیکٹا کو عضومعطل کس نے بنایا ہے ؟۔ وہ یہ کیوں پوچھ نہ سکے کہ پوری حکومتی مشینری ایک منظور نظر جونئیر بیوروکریٹ سے چلانے کی بجائے ان بیوروکریٹ کو اہمیت کیوں نہیں دی جاتی کہ جو انتہا پسندی اور دہشت گردی کے مسئلے کی مختلف جہتوں کو سمجھتے ہیں ؟۔ کسی نے بھی یہ ہمت نہیں کی ان سے پوچھتے کہ اگر یہ جنگ اس حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے تو پھر تمام قبائلی علاقوں کا سالانہ ترقیاتی فنڈ صرف انیس ارب روپے اور صرف اسلام آباد میٹرو کا خرچہ چالیس ارب روپے سے زائد کیوں ہے ؟۔ پھر ایک ایسے شخص کو صدر کی حیثیت سے قبائلی علاقوں کا چیف ایگزیکٹیو کیوں بنایا گیا ہے کہ جنہوں نے کبھی قبائلی علاقوں کے کسی ایک انچ پر قدم نہیں رکھا۔ بہر حال اب جبکہ پوری سیاسی اور عسکری قیادت نے ایک ایکشن پلان پر دستخط کر لیا ہے تو ہم جیسوں کے پاس ان فیصلوں کے آگے سرتسلیم خم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں لیکن کیا یہ ضروری نہیں کہ آگے قدم بڑھانے سے قبل یہ فیصلے کرنے والے قائدین چند سوالو ں کا جواب قوم کے سامنے رکھ دیں تاکہ حکومت اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ تعاون آسان ہو۔

سوال نمبر(1) : آپ لوگوں نے تو عزم ظاہر کردیا کہ اب گڈ اور بیڈ طالبان کی تفریق نہیں ہوگی لیکن کیا حکومتی ترجمان یہ بتاسکتے ہیں کہ گڈ طالبان کون ہیں اور بیڈ طالبان کون ہیں؟

سوال نمبر (2) : پاکستان کے اندر جو جہادی تنظیمیں سرگرم عمل ہیں اور جن کو ابھی تک ریاستی سرپرستی بھی حاصل تھی ‘ وہ کس کیٹگری میں آتے ہیں ۔ ہم میڈیا والوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ان عناصر کو ٹی وی پر کوریج نہ دیں ۔ اب ہم حافظ محمد سعید صاحب کو ٹی وی پروگراموں میں مدعو کر سکیں گے یا نہیں؟ ہم ان تنظیموں کو ریاست کے لئے اثاثہ سمجھیں یا کہ مصیبت ؟

سوال نمبر (3) : فقہ اور مسلک کی بنیاد پر جو سنی‘ شیعہ‘ دیوبندی اور بریلوی تنظیمیں بنی ہیں ‘ ان کی حیثیت کیا ہے؟ ہم ان کو کوریج دے سکیں گے یا نہیں؟

سوال نمبر (4) : طالبان کے ہمدردوں یا معاونین سے کیا مراد ہے ؟ جنرل حمید گل‘ جنرل اسلم بیگ‘ جنرل شاہد عزیز اور جاوید ابراہیم پراچہ جیسے لوگ اس کیٹگری آتے ہیں یا نہیں؟

سوال نمبر(5): وزیر داخلہ صاحب فرماتے ہیں کہ صرف دس فی صد مدارس دہشت گردی میں ملوث ہیں ۔ وہ ان میں سے کم ازکم سو دو سو کی فہرست جاری کر دیں تاکہ قوم جان سکے کہ کون سے مدارس ان کی ریاست کے ساتھ جنگ کرنے والوں کے ساتھ ہیں۔

سوال نمبر (6): لال مسجد سرکاری مسجد ہے ۔ اس کے خطیب کا تقرر حکومت کرتی ہے ۔ مولانا عبدالعزیز صاحب ابھی تک حکومت کی منظوری سے لال مسجد کے خطیب ہیں ۔ ان کی حفاظت پر اسلام آباد پولیس کے دستے بھی مامور ہیں۔ وہ اگر مجرم ہیں تو پھر جیل کے اندرنہیں اور اگر مجرم نہیں تو پھر میڈیا میں ان کے آنے پر اعتراض کیوں کیا جارہا ہے؟۔

سوال نمبر (7) :انتہا پسندی سے کیا مراد ہے اور دہشت گرد کی تعریف کیا ہے؟ خصوصا سلمان تاثیر کو مارنے والے ممتاز قادری کیا ہیں؟

سوال نمبر (8) :کراچی اور بلوچستان میں جو گروہ فوج اور پولیس کے ساتھ لڑ رہے ہیں‘ ان سے بھی وہی سلوک کیا جائے گا جو طالبان کے ساتھ کیا جا رہا ہے یا نہیں؟۔ کیا بے ریش اور باریش عسکریت پسند میں تفریق کی جائے گی یا نہیں اور اگرجواب نہیں میں ہے تو پھر کیا نواب اکبر بگٹی کو شہید کہنے والوں کے ساتھ بھی اسی طرح کا سلوک کیا جائے گا کہ جو طالبان کے ہمدردوں کے ساتھ کیا جا رہا ہے یا نہیں۔

سوال نمبر (9) :جہاد اور قتال کی کونسی تعبیر کو ہماری ریاست مانتی ہے ۔ وہ جو جماعت اسلامی اور جے یو ائی کے علمائے کرام کر رہے ہیں یا وہ جو بریلوی مسلک کے علمائے کرام اور جاوید احمد غامدی جیسے لوگوں نے کی ہے۔

کیا کسی فرد یا گروہ کو مسلح جہاد کی اجازت دی جا سکتی ہے؟ اگر نہیں تو پھر ہماری ریاست کہیں نہ کہیں اس طرح کی تنظیموں سے ہمدردی کیوں رکھتی ہے اور وزیراعظم کے دائیں بائیں ایسے لوگ کیوں بیٹھے ہیں جو افغان طالبان اور جہادی تنظیموں کے زبردست سپورٹر رہے ہیں اور جنہوں نے لال مسجد کے خلاف پرویز مشرف کی کار رسوائی کے خلاف سینکڑوں صفحات سیاہ کئے؟

ان سوالوں کا جواب دیئے بغیر اگر دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ اسی طرح برپارہے گی یا ہم اسے تیز کریں گے تو کیا ہم وہی کام نہیں کریں گے جو نائن الیون کے بعد امریکہ نے کیا اور کیا یہ جنگ پرویز مشرف کی شروع کردہ وہی جنگ نہیں ہوگی جس کو وزیراعظم کے معاون کبھی اندھی جنگ اور کبھی بے چہرہ جنگ کے نام سے یاد کیا کرتے تھے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.