.

یہ سرکس کا کھیل کب ختم ہوگا

ایاز امیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قدرتی یا پیدائشی طور پر بے خبر افراد بھی اس حقیقت سے آگاہ تھے کہ اگر پشاور میں بچوں کی ہلاکت کا سانحہ نہ پیش آتا تو ہماری قومی قیادت بے حس وحرکت رہتی۔ اس سے پہلے انھوں نے اپنی آنکھیں دہشت کے اُس طوفان سے بند کررکھی تھیں جو اس سرزمین پر جا بجا تباہی اور بربادی کی داستانیں رقم کررہا تھا لیکن اُن کی راحت پسندطبیعت کو نہ فوجی تنصیبات پر حملوں نے جھنجھوڑا نہ پشاور چرچ میں ہونے والی خونریزی نے اورنہ ہی فوجی جوانوں کے گلے کٹنے سے اُن کے سکون پذیر ضمیر پر خراش تک آئی۔

نہیں، یہ صلح جو روحیں صرف مذاکرات اور امن کی راگنی ہی چھیڑ سکتی ہیں اور اگر فعالیت کا مرحلہ درپیش ہو تو کل جماعتی کانفرنس کی ڈھال کے پیچھے پنا ہ کا آپشن موجود رہتا ہے۔ کاسابلانکا( ایک مشہور فلم) میں ایک پولیس افسر، رینالٹ ، سب کو یاد ہوگا۔ جب بھی کوئی واقعہ پیش آتا تھا تو ایک ہی رٹا رٹایا جملہ بولا کرتا تھا۔۔۔’’مشتبہ افراد کو گرفتار کرلو۔‘‘کسی بھی بحران کے موقع پر پاکستانی قیادت کا رد ِعمل بھی ایسا ہی ہوتا ہے…’’کل جماعتی کانفرنس بلائو‘‘…اور پھر اُس کانفرنس میں آپ انہی چہروں کو دیکھیں جنہیں گزشتہ تیس برسوںسے دیکھ دیکھ کر تنگ آچکے ہیں۔

یقین کرلیں، اس وقت چاہے یہ کوئی سرکس کا کھیل ہو یا کچھ اور، ان میں جو تحریک دکھائی دے رہی ہے ، یاان کا لہجہ جس توانائی کا مظہر ہے ، اُسے فوج کے دبائو نے مہمیز دیا ہے۔ یہ آرمی چیف تھے جنھوں نے سزائے موت کے قانون پر پابندی اٹھانے کا کہا۔ اس پر وزیر ِ اعظم بے بسی کی تصویر دکھائی دیتے ہوئے ’’پرعزم ‘‘ نظر آنے لگے۔ یہ فوج ہے جس نے فوری فیصلہ کرنے والی عدالتوں، جن کی سربراہی فوجی افسران کریں گے، کی تجویز پیش کی جبکہ رہنمائوں نے طویل تقاریر اور ’’جمہوری اعتراضات‘‘ کے بعد افہام و تفہیم کی فضا پیدا ہونے کا تاثر دیتے ہوئے یہ تجویز منظور کرلی۔۔۔ سبحان اﷲ!

پشاور خونریزی سے پیدا ہونے والے اشتعال کی وجہ سے اُس ہال میں جمع ہونے والے رہنمائوں ، جو ۔۔۔’’جیسے تصویر لگادے کوئی دیوار کے ساتھ‘‘ ۔۔۔ کی مانند متحیر، خاموش، خواب گرفتہ مگر اب مجبور، میں عمران خان بھی شامل تھے جو اس سے پہلے طالبان کے ساتھ امن کے سب سے بڑے داعی تھے۔ آپ اسے خاں صاحب کی تعلیم قرار دے سکتے ہیں کیونکہ اس سے پہلے پیش آنے والے دیگر واقعات نے اُن کا بال بھی بیکا نہیں کیا تھا۔ہزاروں گردنیں ان کی طالبان کے ساتھ ہمدردی کے آئینے میں بال نہ ڈال سکیں، لیکن پشاور کا واقعہ تھا ہی اتنا دلخراش،اندوہناک اورجانگسل کہ سیاسی حلقوں میں موجود طالبان کے تمام حامی سکتے میں آگئے۔ دل میں انتہا پسندوں سے الفت و یگانگت کے جذبات کتنے ہی قوی سہی،ان پر پردہ ڈالنا پڑا۔ تاہم بے خبری کے تمام تر ریکارڈ وزیر ِ اعظم کی خدمت میں دست بستہ پیش کہ اُن کی ہر حرکات وسکنات سے ایسا تاثر گیا کہ جیسے یہ حقیقت اُن پر ابھی ابھی منکشف ہوئی ہو کہ یہ دیس دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی کے اژدہوں کی لپیٹ میں ہے۔

فی الحال بھول جائیں کہ وہ ڈیڑھ سال سے اقتدار میں ہیں، ان کے آخری چھ ماہ پر نظر دوڑائیںجب سے شمالی وزیرستان میں موجودہ فوجی آپریشن شروع ہوا تھا۔ یہ اب تک ہونے والے تمام آپریشنز سے زیادہ وسیع اور اہم تھا ، لیکن وزیر ِ اعظم کی طرف سے نہ کوئی ایکشن پلان، نہ اس کی حمایت میں مناسب الفاظ کہے گئے ، نہ اس ضمن میں کچھ فعالیت دکھائی دی۔ باتیںکی جاتی ہیں کہ ایک پیج پر ہیں، جبکہ شواہد بتاتے ہیں کہ پیج تو کیا ان کی کتابیں ہی مختلف ہیں۔۔۔ فوج شمالی وزیرستان آپریشن میں اپنے جوانوں اور افسران کی قربانی دے رہی ہے جبکہ وزیر ِ اعظم میگا پروجیکٹس کے کھیل، جس میں کمیشن نامی بہت سے کھلونے ہاتھ آجاتے ہیں، میں مگن ہیں۔

چلیں اب کہہ سکتے ہیں گزشتہ را صلوۃ، اب آگے کی سوچیں اور ’’دیر آید ، درست آید ‘‘کی تاویل سامنے رکھتے ہوئے اس پرچم کے سائے تلے سب کو متحد ہوکر، اختلافات کو ایک طر ف ہٹا کر طالبان کے خلاف جنگ لڑنی چاہئے اور دل میں کسی شبے کو ہرگز جگہ نہیں دینی چاہئے ۔ بہت خوب، درست، اب قنوطیت کی اس سرزمین پر کوئی جگہ نہیں، مان لیتے ہیں ، لیکن پہلے مجھے جنرل راحیل شریف کےا سٹیمنے کی داد تو دینے دیجیے کہ اُنھوں نے ان جانبازوں کی باتیں دن بھر سنیں۔ یقینا وہ جسم وجاں کی اعلیٰ ترین برداشت کے حامل ہیں، ورنہ جب میں ایم این اے تھا اور مجھے پی ایم ایل (ن) کی پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ میں شرکت کرنا ہوتی تھی ،جہاں یہی نغمہ کانوں میں گونجتا تھا…’میاں صاحب، اس قوم کے اٹھارہ کروڑ افراد آپ کے منتظر ہیں‘‘

تو مجھے شام کو منہ کا خراب ذائقہ بدلنے کے لئےا سکاٹ لینڈکی عمدہ ترین مصنوعات میں سے ایک کی ضرورت پڑتی تھی۔ مجھے یقین ہے کہ وزیرستان میں اگلے مورچوں کے نصف درجن کے قریب دورے اتنے تھکادینے والے نہیں ہوں گے جتنا وزیر ِ اعظم ہائوس کے کانفرنس روم میں گزرا ہوا ایک دن۔ پتہ نہیں جنرل صاحبان نے اس کے بعد اپنے منہ کا ذائقہ کیسے بدلا ہوگا؟ٹی وی کلپس بتاتے ہیں کہ وہ کمرہ کوئی وار روم نہیں بلکہ سیمیناریا شادی ہال زیادہ دکھائی دے رہا تھا۔جو بھی تھا، ایسی جگہ ہرگز نہیں تھا جہاں دہشت گردی اور طالبان جیسے سفاک دشمن سے نمٹنے کے طریقے زیرِ غور ہوں۔

ہم اب بھی ہنگامی اقدامات اٹھاتے کیوں دکھائی نہیں دیتے؟ہم کہتے ہیں کہ ہم حالت ِ جنگ میں ہیں… سیاسی کھلاڑیوں نے بھی یہ صدا لگانا شروع کردی ہےـــ …لیکن ہمارے الفاظ اور افعال کے درمیان اتنا تفاوت کیوں ہے؟ایسا نہیں کہ ملک میں ہر طرف دھماکے ہورہے ہوں یا سائرن بج رہے ہوں تو ہی جنگ کا تاثر جائے، لیکن اقدامات سے کچھ تو اظہار ہو کہ ہم نے واقعی قومی زندگی کا ایک نیاورق پلٹ لیا ہے۔ تاہم قوم کے آتشیں جذبات کو آہنی فعالیت میں ڈھالنا سیاسی قیادت کا کام ہے، لیکن جب آپ اس اجتماع کو دیکھتے ہیں تو آپ کا اعتماد متزلز ل ہونے لگتا ہے۔

اب تک لامتناہی بیان بازی کی بجائے ہمیں فوجی عدالتوں کے لئے درکار لیگل کور بنا لینا چاہئے تھا۔ ان عدالتوں کے خلاف کوئی دلیل سننے کی ضرورت نہیں۔ اگر معمول کا نظام ِ عدل کام نہیں کررہا ، اگر تفتیشی عمل ناقص ہے، اگر گواہ پیش ہونے سے ڈرتے ہیں، اگر جج حضرات فیصلہ سناتے ہوئے گھبراتے ہیں،اگر سیاسی حکومتیں بھی فیصلوں پر عمل درآمد کرانے سے کتراتی ہیں تو پھر فوجی عدالتوں کے سوا کیا آپشن رہ جاتا ہے؟ اگر ہماری جمہوریت فعال ہوتی، اگر وزیر ِ اعظم اور ان کی کابینہ کو اپنی ذمہ داریوں کا قدرے احساس ہوتا اور ملک میںنظام عدل تسلی بخش ہوتا تو ہمیں ان عدالتوں کی کیا ضرورت تھی؟یہاں اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر کسی کو اندھا دھند لٹکاتے چلے جائیں یا پھانسیاں دینے سے یہ مسئلہ حل ہوجائے گا۔ ہمیں انتہا ئی جذباتی فیصلوں کی ضرورت نہیں ، لیکن یہ تو بتائیں کہ اگر ہمارے نظام میں خامیاں، کمزور ی اور خوف نہیں تو ملک اسحاق، لکھوی، لال مسجد کے مولانا عزیز جیسے افراد کیوں کر رہاہوجاتے ہیں یا پھر’’ عقیدے کے مجاہد‘‘ ممتاز قادری فی الحال سزا سے کیوں بچے ہوئے ہیں؟یہ کہنا بھی کافی نہیں کہ اب اچھے اور برے طالبان میں کوئی تمیز نہیں کی جائے گی، اہم بات یہ ہے کہ ہم ہر قسم کی انتہا پسندانہ سرگرمیوں کو روکیں۔ اب فوج تو قبائلی علاقوں میں کارروائی کررہی ہے لیکن سول حکومت نے شہری علاقوں میں دہشت گردوں کے پیچھے جاناہے۔ ان کی بنیاد فرقہ واریت میں ہے… اب ہے ہمت انہیں ہاتھ لگانے کی؟دوسری طرف دیکھیں تو ایک انتظامیہ جو ماڈل ٹائون سانحے میں بھی کچھ نہیں کرسکی، اس سے ہم کیا توقع کرسکتے ہیں؟جس شخص کو فیصل آباد میں پی ٹی آئی کے حامیوں پر گولی چلاتے ہوئے ٹی وی کیمروں نے دیکھا ، اُس کا نام الیاس عرف طوطی ہے۔ فیصل آبادکی پولیس اُسے جانتی تھی (یہ یقین کرنا مشکل تھاکہ رانا ثنااﷲ اُس کے بارے میں نہیں جانتے)۔ تاہم فیصل آباد پولیس نے کئی دن تک اُس کی شناخت چھپائے رکھی۔

یہ ہیں وہ انتظامی مسائل جن پر قابو پایا جانا ضروری ہے۔ ہمیں مزید ’’ریپڈ رسپانس فورسز‘‘ کی ضرورت نہیں، کیونکہ یہ محض اشک شوئی ہوتی ہے۔ کیا کچھ عرصہ پہلے پنجاب میں ایلیٹ فورس کو ایسا نہیں سمجھا گیا تھا لیکن اس سے کام کیا لیا جاتا ہے؟انگریز ایک نو آبادیاتی قوت تھے۔ اُنھوںنے عام پولیس،ا سپشل برانچ اور سی آئی ڈی بنائی تھی اور اس سے کام چلایا تھا۔ اب صوبائی حکومتوں نے یہ کرنا تھا کہ وہ ان شعبوں کی کارکردگی میں اضافہ کرتے۔

اس وقت پنجاب پولیس کی نفری موجودہ برٹش آرمی سے سائز میں دوگنا ہے۔ اگر آپ اسی فورس کو جدید خطوط پر استوار کردیں، اسے اپنی ذاتی فورس سمجھناچھوڑدیں، اپنی گزرگاہ پر ایک ہزار جوانوں کو گھنٹوں کھڑانہ کریں اور نہ ہی ان کی ایک بڑی تعداد کو اپنی رہائش گاہوں کے گرد تعینات کریں تو یہی فورس موجودہ مسائل سے نمٹ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ پنجاب کے وزیر ِ اعلیٰ کا کوئی کام نہیں کہ وہ پولیس افسران کو منتخب کرنے کے لئے اُ ن کے انٹرویو لیتے رہیں۔ اگرا ُنھوں نے ہی یہ کام کرنا ہے تو پھر آئی جی پولیس کا کیاکام ہے؟ کسی بہترین شخص ، جو آپ کاخوشامدی نہ ہو، کو آئی جی لگائیں اور پھر اُسے اپنا کام کرنے دیں۔ اگر وزیر ِ اعلیٰ حکمرانی کا یہ بنیادی سبق بھی نہیں سیکھ پائے ہیں تو پھر پاکستان میں گورننس کی زبوں حالی پر کسی کو حیرت نہیں ہونی چاہئے۔

ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ مذہبی انتہا پسندوں کا مقصود جنت ہے۔جب وہ خود کش حملے کرکے شہریوں کا خون بہاتے ہیں تو وہ عام سماجی مسائل سے اکتائے ہوئے لوگ نہیں(جیسا کہ ہمارے ٹی وی پر بحث چل نکلی ہے) بلکہ وہ جنت میں خوشنما زندگی، جس میں ان کی پسند کی حوریں وافر تعداد میں ہوں گی، کے طالب ہوتے ہیں۔اس بیتابی کو دیکھتے ہوئے تو اُنہیں ملٹری کورٹس کے قیام کا خیر مقدم کرنا چاہئے کہ وہ فی الفور اس دنیاوی عذاب سے جان چھڑا کر آخرت کی راہ لیں اور مزے کریں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.