.

دہشت گردوں کیخلاف قوم کا عزم

نصرت مرزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

16 دسمبر 1971ء سقوطِ مشرقی پاکستان کا زخم بھی بھرا نہیں کہ یہ 16 دسمبر 2014ء جس میں اب تک 134 بچے اور اسٹاف ممبران سمیت 143 جانیں جاں آفریں کے سپرد ہوئیں۔ اس 16 دسمبر 2014ء نے ہماری زندگی بدل ڈالی جس کے بعد پاکستانی ایک قوم بن کر ابھرے، عمران خان نے بھی دہشت گردوں کی حمایت نہیں کی کوئی بھی کیونکر کسی ایسے گروپ کی حمایت کرنے کی جسارت کرسکتا ہے جس نے بچوں کو مارا تھا۔ یہ دہشت گرد انسان کہلانے کے قابل نہیں۔ میں امریکن کورٹس جنہوں نے جاپانیوں کو دوسری جنگ عظیم کے بعد انسان ماننے سے انکار کردیا تھا کا ناقد تھا مگر جب اسکول کے بچوں کو چن چن کر مارا جائے تو ہماری سمجھ میں منطق بھی آئی اور اس کو ہم نے درست بھی قرار دیا اور انسان نما درندوں کے خلاف ہر قسم کی کارروائی کا مطالبہ کیا۔

ڈرنے والے علماء اور انسان نما درندوں کے خلاف فتویٰ نہ دینے والوں کو آواز دی کہ اپنی پوزیشن واضح کریں، کچھ علماء کرام نے اِس کی مذمت کردی مگر کچھ اب بھی لیت لعل سے کام لے رہے ہیں۔ ہم چاہیں گے کہ وہ اِن کے خلاف واضح موقف اختیار کریں اور اسی طرح کریں جس طرح پشاور میں آل پارٹیز اجلاس کے بعد قومی ایکشن پلان کمیٹی قائم کی گئی تھی۔ اُسکے شرکاء نے ٹھیک سات دن میں 17 تجاویز پر مشتمل اپنی سفارشات پیش کردیں۔ جن میں نیکٹا کو موثر بنانے، سرعت رفتار فورس کی تشکیل، مذہبی اجتماعات پر پابندی، مقدمات کی تیزی سے سماعت اور فیصلہ کرنے کیلئے 6 ماہ تک فوجی عدالتوں کے قیام کی سفارش، نیکٹا کے تحت ریڈ بک تیار کرنے کا حکم، افغان مہاجرین کی واپسی، فاٹا کے بارے میں قانون سازی، بے گھر افراد کی واپسی اور انہیں باعزت طریقے سے بسانے، قابل اعتراض مواد شائع ہونے اور اُس کی تشہیر کا سدباب، کسی مسلک کے خلاف نفرت پھیلانے پر پابندی، کراچی اور بلوچستان کے حالات بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ دھماکہ خیز مواد اور اسلحہ پر کنٹرول کے بارے میں صوبائی حکومتوں سے کہا گیا کہ صوبوں کو اسلحہ سے پاک کریں، دہشت گردوں کا مواصلاتی نیٹ ورک توڑنے، مذہبی و سیاسی گروپوں پر پابندی، دہشت گردوں کی مالی اعانت کرنے والوں پر ہاتھ ڈالنے، اُنکے ہمدردوں کو پکڑنے، دہشت گردوں کو ہیرو کے روپ میں پیش نہ کرنے اور اُن کا بلیک آئوٹ کرنے کی تجویز، دہشت گردوں کے ترجمان کی اشاعت یا نشر کرنے پر پابندی کا بھی کہا گیا ہے۔ 23 دسمبر کو ہی وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی ملاقات ہوئی اور ایکشن پلان کی منظوری دی گئی۔ اِسکے بعد نواز شریف نے کہا کہ وہ دہشت گردوں کیخلاف جنگ کی قیادت کریں گے چاہے نتائج کچھ بھی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے نظریے کو شکست دینا ہوگی، آپریشن جاری رہے گا۔ اسی روز افغانستان کے مسلح افواج کے سربراہ شیر محمد کریمی اور ایساف کے سربراہ جنرل کیمبل نے جی ایچ کیو کا دورہ کیا اور انہوں نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو یقین دلایا کہ وہ پاکستان کا ساتھ دیں گے جواباً جنرل راحیل شریف نے افغان اور ایساف کے کمانڈروں کی پاکستان دشمن طالبان کے خلاف افغانستان میں کارروائی پر تعریف کی جبکہ جنرل کریمی اور جنرل کیمبل نے پشاور کے سانحہ پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ اور آپریشن ’’ضربِ عضب‘‘ میں پاکستان کی کامیابیوں پر پاک فوج کو مبارکباد دی۔ ملاقات میں پاک افغان انٹیلی جنس شیئرنگ پر تبادلہ کیا گیا اور سرحد پر دہشت گردوں کے خلاف مربوط کارروائیوں پر اتفاق کیا گیا اور اس بات کا بھی عزم کیا کہ سب مل کر دہشت گردوں کا خاتمہ کریں گے۔ میاں محمد نواز شریف نے 25دسمبر 2014ء کو آل پارٹیز کانفرنس دوبارہ بلائی اور قومی ایکشن پلان کی متفقہ منظوری دی۔ اس پر جماعت اسلامی، پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کو اعتراضات تھے۔ جنرل راحیل شریف نے بھی خود اپیل کی تھی کہ قومی ایکشن پلان پر فوری عمل درآمد کیا جائے، اِس کے بعد سب نے اپنی اپنی قیادت سے رجوع کیا اور یہ کہہ کر قبول کیا کہ معروضی حالات میں اس کو قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ اس طرح ایکشن پلان پر پوری قوم متحد ہوگئی۔ جس سے قومی عزم کا اظہار بھی ہوا اور ساتھ ساتھ فوج کے ساتھ قوم بھی تیار ہوئی۔

یہ بات یاد رہے کہ دُنیا میں جنگیں قومیں لڑا کرتی ہیں، اکیلے فوج نہیں لڑ سکتی۔ حال ہی میں میری جنرل پرویز مشرف سے ملاقات ہوئی تھی، اُن کا کہنا تھا کہ 18دسمبر 2014ء کو آل پارٹیز کانفرنس کے بعد حکومت کو جو مینڈیٹ ملا تھا وہ کافی تھا۔ اس کے بعد حکومت انتظامی فیصلے کرتی۔ میرا کہنا تھا کہ قوم کو ساتھ ملا کر چلنے میں دیر تو ہوتی ہے مگر کامیابی یقینی ہوجاتی ہے۔ اِس سلسلے میں اگرچہ ہمیں میاں نواز شریف کی طرزِحکمرانی پر اعتراض ہے کہ انہوں نے اپنے خاندان کی حکومت بنا ڈالی ہے۔ اس معاملے کو اُن کو ضرور دیکھنا چاہئے کیونکہ اس طرح اُن کے اچھے کام بھی متاثر ہوں گے، جیسے میاں نواز شریف وہ پہلے شخص تھے جو پشاور واقعہ کے بعد سب سے پہلے پشاور پہنچے۔ اگرچہ چیف آف دی آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کوئٹہ میں تھے وہ بھی روانہ ہوگئے تھے مگر ٹی وی چینلز سے اُن کے ارادے کا اظہار سب سے پہلے ہوا اور انہوں نے پھر اے پی سی بلائی اور ساری پارٹیوں کو متحد کرنے کے لئے آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی۔

اس سے اُن کو یہ فائدہ بھی ہوا کہ عمران خان نے دھرنا ختم کیا جو عمران خان کے حق میں بھی گیا تاہم پیغام یہ گیا کہ پاکستان کے مفاد میں پوری قوم متحد ہے۔ نتیجے میں 25 دسمبر کو قوم کے نمائندوں نے اپنے گیارہ گھنٹے کےاجلاس میں فوج کو قانونی طور پر وہ اختیارات دے دیئے جو فوج چاہتی تھی۔ جس پر جنرل راحیل شریف نے کہا کہ قومی اتفاق رائے کو عملی اقدام میں بدل دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قومی و سیاسی قیادت کی جانب سے اصلاحات اور انتظامی اقدامات قابل تحسین ہیں۔ سیاسی قیادت کو سراہتے ہوئے جنرل راحیل شریف نے کہا کہ سیاسی قیادت نے ہم پر غیرمتزلزل اعتماد کا اظہار کیا، قوم کے اعتماد پر پورا اتریں گے، اِس صورتِ حال سے واضح ہوگیا کہ اب فوج، سول حکومت اور عوام ایک صفحے پر ہیں اور قوم مکمل طور پر انسان نما درندوں کے خلاف جنگ کے لئے صف آرا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.