.

جماعت اسلامی کی جمہوریت پسندی پر فتوی

وجاہت مسعود

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی مملکت میں پرندوں کا حال اچھا نہیں ہے۔ ہم جانتے ہیں پرندہ پرواز کا نشان اور آزادی کا استعارہ ہے۔ تھر میں معصوم بچوں کے مرنے کی اطلاعات تو اب آنا شروع ہوئی ہیں ۔ کوئی سال بھر پہلے سے معلوم ہو گیا تھا کہ تھر میں مور مر رہے ہیں۔ انتظار حسین کے سوا کسی کو توفیق نہ ہوئی کہ تھر کی ریت پر رنگوں کا کا یہ میلہ اجڑنے پر آواز اٹھائے۔ ایک کم نصیب پرندہ تلور ہے ۔ ہماری دھرتی پر پائے جانے والے اس نایاب پرندے کی بدقسمتی یہ ہے کہ صحرائے عرب کے دولت مند بدو اس کے شکار میں تسکین پاتے ہیں۔ یوں پاکستان میں تلور کے شکار پر پابندی ہے لیکن آئے روز خلیج کے امرا ٔکو تلور شکار کرنے کے استثنائی اجازت نامے جاری کیے جاتے ہیں۔ خلیج کے خطے سے ہمارا رشتہ عجب ہے۔ ہمارے پرندوں کی نسل کشی کرتے ہیں اور ہماری زمین پر لہو کی ہولی کھیلنے والے انتہا پسندوں کی مالی معاونت کرتے ہیں۔ ہماری پرواز پر گرہ لگائی جاتی ہے اور ہماری آزادیوں سے عناد ہے۔ مار ہی ڈالیں جو یوسف سا برادر ہووے۔ جمہوریت بھی ایک خوش رنگ اور خوش آواز پرندہ ہے۔

یہ خوبصورت پرندہ ہر طرح کے جغرافیائی ماحول سے مطابقت پیدا کر سکتا ہے۔ ایشیا کے گرم مرطوب خطوں میں جہاں اس نے گھونسلا بنایا بستیاں آباد ہو گئیں۔ یورپ کے برف پوش منطقوں میں جمہوریت کے پرندے کی چہکار نے عجب رنگ باندھ رکھا ہے۔ بہترین انسانوں نے صدیوں کی محنت شاقہ اور قربانیوں سے جمہوریت کے پرندے کی پرورش کی ہے۔ ہم نے اپنے ملک میں اس پرندے کی حالت خراب کر رکھی ہے۔ جینیاتی تبدیلی کی کوئی مشق ایسی نہیں جو ہم نے اس معصوم پرندے پر نہیں آزمائی۔ کبھی اس کے پیروں میں نظریے کی رسی باندھ کر گلی کوچوں میں لڑکے لپاڑوں کے سپرد کر دیتے ہیں ۔ کبھی اس کے پر نوچ کر نعرہ بلند کرتے ہیں کہ ہم نے جمہوریت کے پرندے کو مقامی حالات میں ڈھال لیا ہے۔ کبھی اس کی خوراک میں تعصب ، امتیاز اور استحصال کے کنکر ملا دیتے ہیں او رپھر ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ اتنی تگ و دو کے باوجود جمہوریت کے پرندے پر رونق کیوں نہیں آتی۔ اس کی پکار میں اداسی کے سُر کیوں سنائی دیتے ہیں۔ پرندوں کے ساتھ ہمارا سلوک اچھا نہیں اور جمہوریت کے پرندے کے ضمن میں تو ہم نے غفلت اور ظلم کی انتہا کر رکھی ہے۔

پلڈاٹ نام کا ایک ادارہ کوئی بارہ برس سے سیاسی جماعتوں میں جمہوری رویوں اور شفافیت کی تحقیق کر رہا ہے۔ 2001 ء میں اس ادارے کی بنیاد رکھی گئی تو جنرل پرویز مشرف راج سنگھاسن پر جلوہ افروز تھے۔ شہری تعلیم یافتہ طبقے نے جنرل صاحب کی آمریت سے بڑی امیدیں باندھ رکھی تھیں۔ گراس روٹ ڈیموکریسی کے نام پر جمہوریت کی جڑیں کھودی جا رہی تھیں۔ جنرل صاحب نے پارلیمنٹ کے ارکان پر گریجویشن کی شرط لگا کرجمہور کی اکثریت کو حق نمائندگی سے محروم کر دیا تھا۔ مقامی حکومتوں کا چرچا تھا۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں پر تالے لگے تھے۔ روشن خیالی کے خیمے میں ان گروہوں کو پناہ دی جا رہی تھی جن کے بارے میں پچھلے ہفتے ہمارے جملہ قائدین سر جوڑ کر بیٹھے تھے کہ قوم کے خیمے سے انتہا پسندی کے اونٹ کو کیسے باہر نکالا جائے۔

یہ وہی دن تھے جب اسلام آباد کے ہوٹلوں میں پڑھے لکھے مرد اور عورتیں جنرل تنویر نقوی جیسے نابغہ عصر کے گرد ہالہ کیے غور و فکر کیا کرتے تھے کہ جمہوریت کو سیاست دانوں سے کیسے نجات دلائی جائے۔ کھاد کی فیکٹریوں سے منیجر، بینکوں سے اکائونٹنٹ اور دفتری فائلوں پر عمدہ زبان میں نوٹ لکھنے والے عبقریوں کو جمع کیا جا رہا تھا تاکہ ملک میں نئی قیادت پیدا کی جا سکے۔ پلڈاٹ کا ادارہ اسی دور میں نمودار ہوا۔ اب تک کئی درجن تحقیقی رپورٹیں شائع کر چکا ہے۔ گزشتہ دنوں اس ادارے نے سیاسی جماعتوں میں داخلی جمہوریت کے موضوع پر ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں داخلی جمہوریت کے پیمانوں پر جماعت اسلامی پہلے درجے پر آتی ہے۔ نیز یہ کہ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی جمہوری کارکردگی اچھی نہیں ہے۔

تیری آواز مکے اور مدینے۔ کئی بار عرض کیا کہ جمہوریت کی ثقافت مشمولہ ہے اور جمہوریت اسمائے صفت کی کثافت برداشت نہیں کر سکتی۔ کسی سیاسی جماعت میں داخلی جمہوریت کا سوال تو تب اٹھے گا جب اجتماعی زندگی میں جمہوریت کے اصولوں سے متعلقہ جماعت کی وابستگی طے پا جائے۔ پیپلز پارٹی نے گیارہ برس ضیاالحق کی آمریت کا اس جذبے سے مقابلہ کیا کہ ہماری جمہوری تاریخ میں ایک شاندار باب کا اضافہ ہوا۔ مسلم لیگ نواز نے پرویز مشرف کی آمریت کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے۔ ہر دو ادوار میں جماعت اسلامی نے اپنی چونچ پروں میں چھپائے رکھی۔ضیاالحق نے آئین میں آٹھویں ترمیم کا درندہ داخل کیا تو جماعت اسلامی نے اس کا ساتھ دیا۔پرویز مشرف نے سترہویں آئینی ترمیم کی مدد سے آئین کا حلیہ بگاڑا تو قاضی حسین احمد پرویز مشرف کے ساتھ کھڑے تھے۔ 12 اکتوبر 1999ء کی شام اسلام آباد میں آمریت کے ورود کی نشانیاں ظاہر ہوئیں تو لاہور میں جماعت اسلامی کی قومی مجلس عاملہ کا اجلاس جاری تھا۔

اس روز قاضی حسین احمد کی تقریر اس کتاب کا حصہ ہے جو جماعت اسلامی نے اپنے ادارے سے شائع کی ہے۔ 14 اکتوبر کو اس اجتماع کے اختتامی اجلاس میں قاضی حسین احمد کی تقریر بھی اس کتاب میں شامل ہے۔ فرید احمد پراچہ بحث اور خطابت کے جملہ رموز پر دسترس رکھتے ہیں۔ قاضی حسین احمد کی دونوں تقریروں میں کسی ایک جملے کی نشان دہی کر دیں جس میں آمریت کی مزاحمت تو ایک طرف ، مذمت بھی کی گئی ہو۔ جو سیاسی جماعت جمہوریت کو قتل کرنے والی آمریت کی مخالفت کا یارا نہیں رکھتی اسے جمہوریت سے وابستگی کا سرٹیفکیٹ دینا مناسب نہیں۔

جمہوریت ایک ایسا سیاسی بندوبست ہے جس میں ریاست کے تمام شہریوں کے لیے حق حکمرانی تسلیم کیا جاتا ہے۔ شہریوں کی سیاسی ، قانونی اور معاشرتی مساوات کو تسلیم کیے بغیر جمہوریت کی تصویر مکمل نہیں ہوتی۔ جماعت اسلامی کی رکنیت پاکستان کے تمام شہریوں کے لیے نہیں، بلکہ صرف ان افراد تک محدود ہے جو جماعت اسلامی کے اپنے طے شدہ ضابطوں کی روشنی میں رکنیت کے اہل قرار دیے جاتے ہیں۔ جو جماعت اپنی رکنیت کے لیے ملک کے تمام شہریوں کو اہل نہیں سمجھتی وہ حکومت بنانے کی صورت میں ریاستی بندوبست میں ان شہریوں کے ساتھ کیسے انصاف کر سکتی ہے جو اس جماعت کی فکر سے اختلاف رکھتے ہیں۔

جمہوریت میں منتخب نمائندوں کا حق قانون سازی مطلق ہے۔ جمہوری ریاست میں پارلیمنٹ بالادستی ادارہ ہے جس کے حق قانون سازی پر کسی غیر منتخب فرد یا گروہ کی مداخلت قبول نہیں کی جا سکتی۔ جماعت اسلامی پارلیمنٹ کے حق قانون سازی کے مطلق ہونے سے انکارکرتی ہے اور اس حق کو اپنی مذہبی تفہیم کے تابع قرار دیتی ہے۔ جماعت اسلامی کا جمہوری خاکہ نامکمل ہے اور جمہوریت کی روح سے متصادم ہے۔ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی داخلی تنظیموں میں بہت سے عیب پائے جاتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان دونوں جماعتوں سمیت ہماری تمام سیاسی قوتوں کو اپنے داخلی ڈھانچوں میں زیادہ جمہوریت اور شفافیت پیدا کرنے کی ضرورت ہے لیکن یہ کہنا اس ملک کے لوگوں کے جمہوری فہم کی توہین کے مترادف ہے کہ جماعت اسلامی جمہوری پیمانوں پر دیگر جماعتوں سے بہتر درجہ رکھتی ہے۔ جمہوری سوچ میں داخلی اور خارجی کی تفریق کا فتویٰ جماعت اسلامی کے دامن پر لگے ان دھبوں کو دور نہیں کر سکتا جو پاکستان کے لوگوں کے حق حکمرانی سے انحراف کے نتیجے میں نمودار ہوئے ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.