.

زرداری صاحب کا مقابلہ

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آصف علی زرداری بہادر انسان ہیں یا مصلحت پسند سیاستدان۔ اس کا فیصلہ کرنا زیادہ مشکل نہیں، ان کی پچھلے پانچ سال کی حکومت سے سب کچھ عیاں ہو جاتا ہے۔ اب انہوں نے کھلا چیلنج دیا ہے کہ فوج بتائے کہ وہ بلے کے پیچھے رہ کر سیاست کرنا چاہتی ہے یا خود میدان میں اترنا چاہتی ہے تاکہ سیاستدانوں کوپتہ چلے کہ ان کا اصل مقابلہ کس سے ہے۔ زرداری صاحب کی ملاقات کبھی اپنے سسر ذوالفقار علی بھٹو سے ہوئی یا نہیں، اللہ جانے ہوئی ہوتی تو ان سے پوچھ سکتے تھے کہ بھٹو صاحب نے سیاست کرنے کے لئے فوج کا سہارا کیوں لیا، اور وہ بھی ایک فیلڈ مارشل کا وزیر بن کر پھر قوم نے تو ان کو سیکنڈ لارجسٹ پارٹی کا مینڈیٹ دیا مگر انہوں نے شیخ مجیب الرحمن کی فرسٹ لارجسٹ پارٹی کو حکومت بنانے سے یہ کہہ کر کیوں روکا کہ ا دھر تم، ادھر ہم اس کج بحثی میں پاکستان ٹوٹ گیا، جو پاکستان بھٹو صاحب کو ورثے میں ملا، اس میں انہوں نے سویلین چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بن کر حکومت سنبھالی، یہ ایک نرالی مثال تھی، مجھے بہت زیادہ تحقیق کرنا پڑے گی کہ دنیا میں ایسی اور بھی کوئی مثال موجود ہے یا نہیں، قارئین میں سے کوئی رہنمائی فرمائے اور مجھے تحقیق کی مشقت سے بچا لے۔ آج پیپلز پارٹی ملٹری کورٹس کو زہریلا گھونٹ قرار دے رہی ہے مگر سویلین چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے طور پر بھٹو صاحب نے یہی ملٹری کورٹیں بنائیں اور مخالفین کو انہی کے ذریعے فکس اپ کیا پھر جمہوریت بحال بھی ہو گئی تو مخالفین کا نمدا کسنے کے لئے ایف ایس ایف کھڑی کی اور اس کے ذریعے گولیوں سے لوگوں کو بھونا۔ان میں سے ایک گولی ان کے کھاتے میں چلی گئی جس کی وجہ سے وہ پھانسی پا گئے۔

زرداری صاحب پانچ برس تک اس ملک کے صدر رہے، جب انہوںنے یہ عہدہ سنبھالا تو آئین کے تحت ان کے پاس لا محدود اختیارات تھے، اس قدر اختیار شاید ہی امریکی صدر کو کبھی میسر آئے ہوں، اگرچہ یہ دور پارلیمانی جمہوری کہلاتا ہے مگر کیا مجال کہ زرداری صاحب نے حکومتی یا پارٹی کے اختیارات میں کسی کا عمل دخل برداشت کیا ہو ، وہ تھے اور ڈاکٹر سومرو، ان کا سکہ چلتا رہا۔وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے پر پرزے نکالے تو انہیں عدلیہ کے ہاتھوں بے توقیری سے بے دخل ہونے دیا گیا۔زرداری صاحب نے پورے دور میں بلّے کی پالیسیوں کو جاری رکھا، وار آف ٹیرر بھی جاری رہی، امریکی حلیف بھی بنے رہے اور جو امریکی دودھ اکیلا بلا پیتا رہا ، اب اکیلے زرداری صاحب نے ہڑپ کرناشروع کر دیا، اس رویئے کو دیکھ کر امریکہ نے کیری لوگر بل پاس کیا کہ اب امداد حکومت کو نہیں، براہ راست عوام کو دی جائے گی ۔زرداری صاحب کے چہیتے حسین حقانی نے میمو گیٹ کی سازش تراشی،حکومت اور فوج میں براہ راست مقابلہ ہوا، حسین حقانی اپنا منصب چھوڑ کر فرار ہو گئے اور زرداری صاحب دوبئی کے ہسپتال میں جا لیٹے۔ یہ تھا ان کا دو بدو مقابلے کا ایک انداز زرداری صاحب کے لئے فوج اس وقت بہت اچھی تھی جب آئی ایس آئی چیف کے طور پر جنرل کیانی دوبئی جا کر ان کی بیگم محترمہ بے نظیر بھٹو سے این ا ٓر او کے مذاکرات کرتے رہے۔ بلّے کے پیالے کا دودھ مل جائے تو وہ محاورہ صادق آتا ہے کہ میٹھا میٹھا ہپ ہپ، کڑوا کڑوا تھو تھو۔ فوج بری لگتی ہے تو پھرا مریکہ کے ساتھ مل کر اس کی چھیڑی ہوئی جنگ کو زرداری صاحب پاکستان کی جنگ کیوں کہتے رہے۔ اس کو سیاسی ، عوامی حکومتی اونر شپ کیوں دی۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ زرداری نے فوج کو کوئی چیلنج دیا ہو، کم از کم دو بار اسی گڑھی خدا بخش میں وہ وارننگ دے چکے ہیں کہ پہلے افغان مہاجرین کی تعداد تیس چالیس لاکھ تھی ،پاکستان کے اٹھارہ بیس کروڑ عوام نے ان کو پناہ دے دی لیکن اسی پاکستان کے اٹھارہ بیس کروڑ عوام کو مہاجر بننا پڑا تو خطے میں کونسا ملک ایسا ہے جو ان کا بوجھ برداشت کرے گا یا کھلے بازووں سے انکا استقبال کرے گا۔ زرداری صاحب بتائیں کہ یہ دھمکی وہ کسے دے رہے تھے اور ان کا مخاطب کون تھا۔

اسلام آباد کے دھرنوں کے دوران پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا، اس کا ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیجئے اور مرد حر نمبر دو سید خورشید شاہ کی تقریروں کا جائزہ لے لیجئے، کتنے گنے چنے الفاظ قادری اور عمران پر خرچ ہوئے اور کتنے فقروں پہ فقرے فوج پر داغے گئے۔ یہی پیپلز پارٹی ہے جس نے جنرل اسلم بیگ کو سٹنگ آرمی چیف کے طور پر تمغہ جمہوریت عطا کیا تھا۔ کس منہ سے، کاہے کو
زرداری صاحب کا ان کے بیٹے نے جو حال کر چھوڑا ہے، اس کے پیش نظر ان سے کہنا تو یہ چاہیئے کہ تجھ کو پرائی کیا پڑی ، اپنی نبیڑ تو پیپلز پارٹی کی بھد حالیہ الیکشن میں جو اڑی، اس کے بعد اس کی قیادت تو بولنے کے لائق نہیں رہ گئی تھی، اس کا یہ حال میاں منظور احمد وٹو نے کیا، اس شخص کو کس میرٹ پر پنجاب کی باگ ڈور سونپی گئی، کیا تعلق تھا اس کا پیپلز پارٹی کی ہسٹری سے، اس نے پیپلز پارٹی پر جو احسانات کئے تھے، ان کی ساری تفصیل ان کی خود نوشت میں موجود ہے، اس کتاب کے ہوتے ہوئے وٹو کو پارٹی کی کمان دینے کا مطلب یہ تھا کہ اس کاخاتمہ بالخیر عمل میں آ جائے، اور پنجاب میں تو یہ اس حال کو پہنچ چکی، سندھ میں قائم علی شاہ کی بزرگی اپنا کمال دکھا رہی ہے، تھر میں روز بچے مر رہے ہیں، وزیر اعلی کہتے ہیں کہ یہ پہلے بھی مرتے تھے، ضرور مرتے تھے مگر کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہو پاتی تھی، اب میڈیا کا دور ہے اور گورننس کا بھرم کھل جاتا ہے۔

کراچی میں آگ لگنے سے وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور بحث یہ ہے کہ موقع پر کون بعد میں پہنچا،اسی شہر میں روز نعشیں گرتی ہیں، کوئی تو گراتا ہے، زرداری کو خطرہ ہے کہ کہیں وہ ا ور نواز شریف جیلوں میں نہ ڈال دیئے جائیں، لیکن اگر نعشیں اسی طرح گرتی رہیں توکسی نہ کسی کو جیل جانا ہے، جو بھی اس کے لئے قصور وار ہے، جیل جانے سے کیسے بچ سکتا ہے، کیا صرف فوج کے خلاف الزام تراشی کر کے کھال بچائی جا سکتی ہے۔ یہ تو دہشت گرد بھی کہہ سکتے ہیں کہ ملٹری کورٹس ان کی پکڑ دھکڑ کے لئے بنائی جا رہیں تو کیا یہ شور مچانے سے وہ گرفت سے بچ جائیں گے، ملٹری کورٹس سے شاید بچ جائیں ، مگر ایک اللہ کی پکڑ بھی ہے جو اسی کے الفاظ میں بڑی سخت پکڑ ہے، اس سے کون بچائے گا۔

زرداری صاحب سیاستدان کے بجائے مدبرانہ کردار ادا کریں، افغانستان سے نیٹو کاا نخلا ہو رہا ہے، اس انخلا سے ایک خلا واقع ہو گا، کیا یہ خلا بھارتی فوج پر کرے گی یا پاک فوج، زرداری صاحب اور ملک کے سبھی سیاستدانوں کے لئے سوچنے کی ا صل بات یہی ہے۔

بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.