.

ہمارے ٹارزن اور ان کی فعالیت

ایاز امیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ویسے ہر شخص کیا توقع لگائے بیٹھا تھا؟ کیا لوگ یہ سوچ رہے تھے کہ کل جماعتی کانفرنس کرنے والے اکابرین یکایک ٹارزن کی طرح چست و چالاک ہو کر دلیری کی انمٹ داستانیں رقم کر دیں گے اور انسانیت کے دشمنوں کو آسمان تلے کہیں پناہ نہیں ملے گی؟ اس وقت میڈیا کے پنڈتوں کا شور و غوغا بلند ہوتا جا رہا ہے۔ افسوس کا اظہار کیا جارہا ہے کہ پشاور حملے کے بعد سے حکومت نے میٹنگز کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جبکہ عملی طورایک تنکا بھی نہیں دہرا کیا گیا۔ میں اس ماتم گری کو دیکھ کر ہنسے بغیر نہیں رہ سکتا۔ہمارے حکمرانوں نے ہماری آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے اپنی اصلیت نہیں چھپائی تھی، وہ ایسے ہی ہیں۔ اگر تیس سالہ ٹھوس شہادت کے باوجود ہم ان پر توقعات لگا کر خود کو دھوکا دینے پر تلے ہوئے ہیں تو اس میں ان کا کوئی قصور نہیں۔

اپنی تازہ سوانح عمری، ’’Power Failure‘‘ میں عابدہ حسین یاد کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ نواز شریف نے 1990ء کے انتخابات کے موقع پر ایک جلسے سے خطاب کرنے کے لئے جھنگ کادورہ کیا۔ وہاں ہرے بھرے کھیتوں کو دیکھ کر اُنھوں نے عابدہ حسین سے پوچھا کہ وہ یہاں کوئی شوگر مل کیوں نہیں لگا لیتیں؟ طوہ کہتی ہیں کہ اُنھوں نے دھیمے لہجے میں نواز شریف سے مفادات کے ٹکرائو کی بات کی ، لیکن اُنھوں نے سنی ان سنی کرتے ہوئے فوراً کہا کہ اگر وہ خود وہاں ایک شوگر مل قائم کرلیں تو اُنہیں کوئی اعتراض تو نہ ہوگا۔ اس سیاسی دورے کے دوران ہرے بھرے کھیتوں کو دیکھ کر ذہن میں ابھرنے والے خیال کا نتیجہ آخر کار رمضا ن شوگر مل کی صورت ظاہر ہوا۔

میں نے یہ کہانی صرف اس بات کی وضا حت کرنے کے لئے بیان کی ہے کہ جو معاملات میاں صاحبان کی دلی ترجیح ہوتے ہیں، ان کے بارے میں فیصلے کرنے کے لئے اُنہیں کسی سے مشاورت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ اپنے میدان میں کسی سے کم نہیں۔ عظیم الشان صنعتیں ایسے ہی نہیں لگ جاتیں۔ ہو سکتا ہے کہ ہر کوئی ان کے خواب دیکھے لیکن اس خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لئے درکار فہم و فراست ، عزم، منصوبہ سازی اور بزنس کی مہارت ہما شما کے بس کی بات نہیں۔ اس کے لئے آپ کو ایک خاص قسم کی چھینا جھپٹی کرنے والی فطرت درکار ہوتی ہے کیونکہ بنکوں کے کنسورشیم سے نوّے کی دہائی میں چار بلین روپے قرض لے کر ان بیس سالوں میں ایک پائی بھی واپس نہ کرنا بچوں کا کھیل نہیں۔ ایسا کرنے کے لئے خصوصی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔تاہم جب ریاست کے معاملات کی بہتری کی بات ہوتو پھر یہ ایک مختلف صورتِ حال دکھائی دیتی ہے۔

بزنس میں خداداد صلاحیتیں سرچڑھ کر بولیں تو سیاست میں قسمت نے ہاتھ پکڑلیا اور وہ سیاسی میدان میں ابھرنے اور ناکامی کے صحرا میں گرد پوش ہو جانے والے اہم افراد سے زیادہ خوش قسمت ثابت ہوئے۔ کھوڑے، نون، دولتانے اور ددیگر خاندان سیاست کے میدان میں یکے بعد دیگرے ناکام ہوتے گئے لیکن نواز شریف، جو ملک کے صف اول کے صنعت کار ہیں، تیسری مدت کے لئے وزارت ِ اعظمیٰ سے سرفراز ہیں۔ گورنر غلام جیلانی ان کے سیاسی سرپرست، جنرل ضیا محسن او ر آئی ایس آئی وہ اسکول تھا جہاںاُنھوں نے عملی سیاست کی تربیت حاصل کی۔ تاہم یہ جاننے کے لئے کسی کمپیوٹر پروگرام کے ذریعے کھوج لگانے کی ضرورت نہیں کہ بزنس اور اس جیسے دیگر معاملات میں نابغہ ٔ روزگار ہونے کے باوجودسیاسی فیصلہ سازی کے وقت ان کا ذہن سراسیمگی اور کنفیوژن کا شکار ہوجاتا ہے۔ رمضان شوگر مل اور اس جیسی ایک درجن ملیں قائم کرنا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ، لیکن اس اہم لمحے میں ان سے فیصلے کی توقع کرنے کا نتیجہ قوم دیکھ رہی ہے۔ یہ تمام کمیٹیاں، نہ ختم ہونے والی میٹنگز اور کانفرنسیں ہی ان کی کل دانائی ہیں۔ وزیرِ اعظم اور ان کے ارد گرد موجود افراد کسی کے گرد گھیرا تنگ نہیں کرنے جا رہے ہیں، نہیں،وہ ایسے افراد نہیں ہیں۔ ان کی سیاسی عملیت....

نعرے لگانا، بیان بازی کرنا ، للکارنا وغیرہ .... زیادہ سے زیادہ یہی ہے جس کا وہ گزشتہ تین ہفتوںسے مظاہرہ کررہے ہیں اور قوم دیکھ رہی ہے اور دیکھتی رہے گی یہاں تک کہ یہ سال بھی گزر جائے گا۔ ان سے کچھ اور توقع کرنا غیر حقیقی طرز ِ فکر ہے۔ ہو سکتا ہے (خدا نہ کرے) اور بھی سانحات پیش آجائیں، لیکن ان کی کارکردگی کایہی تسلسل رہے گا۔اگر کوئی اضافہ ہوتا دکھائی دیا تو یہی ہوگا کہ مزید نعرے، مزید بیان بازی اور مزید بڑھکیں سنائی دیں گی اور آنیا ں اور جانیاں نظر آئیں گی۔

2014ء میں تاثر یہ ملا کہ میاں صاحبان عسکری قیادت سے کچھ کھچے کھچے سے رہے، چنانچہ اُن کی غلطیوں اور غلط اقدامات کے نتیجے میں اُن کے اور محافظوں کے درمیان ایک جنگ کی صورتِ حال پیدا ہو گئی۔ تاہم پشاور خونریزی.... جو قوم کے لئے ایک عظیم سانحہ لیکن کچھ کے لئے بہت بڑا موقع تھی..... کے بعد اب ان کی بیان بازی ایسی حب الوطنی اور جنگی جوش سے لبریز ہے کہ ایک لمحے کے لئے تو جنرل بھی دنگ رہ جاتے ہیں۔ تاہم اب تک میڈیا اور سیاسی حلقے جان چکے ہیں.... کچھ کو تو پہلے بھی خوش فہمی نہ تھی....کہ اس جنگی جنون کی معراج کیا ہے۔ اس کی عکاسی لافانی شاعر منیر نیازی نے اس طرح کی تھی.... کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ‘‘۔اب تک ہر کسی کو یقین آچکا ہے کہ اس کنفیوژن، جو ہماری قسمت میںلکھا جاچکا ہے، سے مستقبل قریب میں بھی مفر ممکن نہیں۔ ہم ایک ایسے مقام پر کھڑے ہیں جہاں عسکری ادارے اور سول حکمران بالکل ایک دوسرے سے مختلف سمتوں میں کام کررہے ہیں۔ سول قیادت تمام تر گرما گرم بیان بازی کے باوجود اس جنگ میں قوم کی کسی واضح سمت میں رہنمائی میںبری طرح ناکام ہے۔ اور اس وقت پاکستان کو کسی بھی چیز سے زیادہ قیادت کی ضرورت تھی۔

یہ بات بھی فراموش نہیں کرنی چاہئےکہ جنرل بھی فرشتے نہیں لیکن جس دوران سول حکومت اپنی سراسیمگی کی وجہ سے بے عملی کا خلا پیدا کر چکی ہے، وہ (جنرل ) ابھی بھی کسی نظام کے تحت کام کرنا چاہتے ہیں ۔ اس وقت وہ دہشت گردوں کو سزا دینے کے لئے خصوصی عدالتوں کے قیام کی بات کررہے ہیں۔ اس مطالبے نے سول قیادت کو مزید تقاریر کرنے اور بحث مباحثے سے اتفاقِ رائے پیدا کرتے ہوئے وقت ضائع کرنے کا موقع دے دیا کیونکہ اس نے انہیں عملی اقدامات اٹھانے کی کوفت سے بچالیا۔ اس بے عملی کی وجہ سے جنرلوں کی تشویش میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ تاہم اس پر ہم کسی عالمی سازش کو موردِ الزام نہیں ٹھہراسکتے ہیں کیونکہ میاں صاحب ہمارے سیاسی افق پرگزشتہ تیس سال سے ہیں اور ایسے ہی ہیں۔ان کے گزشتہ دور بھی اتنے کامیاب نہیں تھے لیکن زرداری حکومت کی افسوس ناک ناکامی نے قوم کو مجبور کر دیا کہ وہ ایک مرتبہ پھر نواز شریف کی طرف دیکھے۔ چنانچہ ا گر یہ ہمارا جمہوری سفر ہے تو ایک دائرے میں ہے۔

عام تاثر یہ تھا کہ اسلام آباد دھرنوں نے حکومت کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے، تاہم یہ حقیقت نہیں ہے۔ اگر دھرنے نہ ہوتے تو کیا نواز شریف جنگی روم قائم کرتے ہوئے چرچل بن جاتے؟ آدمی جیسے ہوتے ہیں، وہ ویسے ہی رہتے ہیں۔ ان میں تبدیلی نہیں آتی، تبدیلی کا تاثر دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جب آپ کی عمر 65 سے تجاوز کر رہی ہو تو ویسے بھی کسی تبدیلی کا نہیں سوچا جاسکتا۔ ایک اور بات، موجودہ حکمرانوں کا انداز حکمرانی کسی اور وقت کے لئے ٹکسال کیا گیا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب اسٹیبلشمنٹ کو پی پی پی مخالف کوئی سیاست دان درکار تھا۔ میاں صاحب کی سیاست اُس دور میں پی پی پی مخالف نہج پر ڈھالی گئی، لیکن آج جب پی پی پی سیاسی منظر پر موجود نہیں تو ان کی سیاسی ضرورت بھی بے معانی ہوچکی ہے۔ اب تک پاکستان ایک قدم آگے بڑھ چکا ہے، آج اس کے مسائل مختلف ہیں، ترجیحات مختلف۔ آج بہت کچھ بدل چکا ہے۔ اس وقت پشاور سانحے کے بعد ہمارے سیاسی ڈھانچے، خاص طور پر فوجی اور سول حکومت کے درمیان دراڑیں بڑھ رہی ہیں۔ ایک کی تیز فعالیت اوردوسرے کی بے عملی ان دراڑوں کو مزید گہرا اور وسیع کر دے گی۔ ہم ان کے مزید کتنے متحمل ہو سکتے ہیں؟

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.