.

کیا ہم بھارت سے کچھ سیکھ سکتے ہیں؟

تنویر قیصر شاہد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نئے سال کے طلوع ہوتے ہی بھارت نے بغیر کسی اشتعال کے پاکستان رینجرز کے دوجوانوں اور ایک پاکستانی خاتون کو شہید کردیا ہے۔ شکرگڑھ کی سرحد پر سالِ نَو کے آغاز ہی میں یہ خونی اقدام کرکے بھارت نے اقوامِ عالم کو بتا دیا ہے کہ وہ پاکستان اور اس کے حکمرانوں کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔

نیو یارک میں نائن الیون کا سانحہ پیش آیا تو اس میں تین ہزار کے قریب انسان مارے گئے تھے۔ امریکا اپنے ان شہریوں کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے اب تک عراق، افغانستان، پاکستان اور شام کے چھ لاکھ سے زائد انسانوں کو قتل کر چکا ہے اور ایک ہم ہیں کہ بھارت ہماری سرحدوں پر مامور ہماری فورسز کے کئی جوانوں کو مسلسل شہید کرتا جا رہا ہے لیکن ہم ہاتھوں پر ہاتھ رکھے خاموش بیٹھے ہیں۔ بس احتجاج ہی کو کافی سمجھتے ہیں۔

عجب وقت آپڑا ہے کہ یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا ہم خارجی اور داخلی محاذ پر، اپنے ملک کے تحفظ و قوت کے لیے، بھارتی فیصلوں سے کوئی سبق لے سکتے ہیں؟ بھارت ہمارا ہمسایہ اور حریف ملک ہی نہیں بلکہ کئی ایسے مسائل ہیں جن سے مشترکہ طور پر ہم گزر رہے ہیں۔ دہشت گردی، انتہا پسندی، علیحدگی پسند عناصر۔ تقابل کریں تو ہم دیکھتے ہیں کہ بھارت ہم سے کہیں زیادہ بہتر انداز میں ان مسائل سے نمٹ رہا ہے۔ 80ء کے عشرے میں مشرقی پنجاب کے سکھوں نے، سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ کی قیادت میں، بھارتی آئین و قانون سے بغاوت کرتے ہوئے ’’خالصتان‘‘ کا پرچم بلند کیا۔

بھنڈرانوالہ، جو نفرت و حقارت میں وزیراعظم اندرا گاندھی کو ’’کراڑ دی کُڑی‘‘ کے نام سے پکارتے تھے، نے زبردست تحریک چلائی اور آخر کار سکھوں کے سب سے مقدس مقام (گولڈن ٹیمپل، جسے اکال تخت بھی کہا جاتا ہے) میں پناہ لے کر مزاحمت اور تصادم پر آمادہ ہو گئے۔

ساری دنیا میں ’’خالصتان‘‘ کا غلغلہ بلند ہو رہا تھا اور کینیڈا، برطانیہ، یورپ اور شمالی امریکا میں لاکھوں کی تعداد میں آباد بھارتی نژاد سکھوں نے اپنے علیحدہ وطن کے بلند خواب دیکھنا شروع کر دیے۔ اس کے لیے انھوں نے ’’خالصتان‘‘ تحریک کے لیے اپنی جیبوں اور تجوریوں کے منہ کھول دیے۔

بھارتی حکمرانوں اور اسٹیبلشمنٹ کو یہ منظر قطعی ناپسند تھا؛ چنانچہ انھوں نے فیصلہ کن اور وحشیانہ انداز میں، جب کہ بھارت کا صدر بھی ایک سکھ تھا، اکال تخت کی ’’عظمت و تقدیس‘‘ کی پروا کیے بغیر اس کے خلاف ملٹری آپریشن کر دیا۔ فوج، ٹینکوں اور ائیرفورس نے یکساں بمباری کی۔ گولڈن ٹیمپل کو زمین بوس کردیا گیا، بھنڈرانوالہ سمیت سیکڑوں سکھوں کو بھون ڈالا اور صدیوں پرانے ’’گرنتھ صاحب‘‘ کو جلا دیا۔

یہ سنہرا موقع تھا کہ پاکستان آگے بڑھ کر ’’خالصتان‘‘ اور خالصتانیوں کی اعانت کرتا، جیسا کہ بھارت نے مشرقی پاکستان میں بنگالیوں کی مدد کی تھی۔ یوں ہم بہانے سے مشرقی پاکستان کا بدلہ بھی لے سکتے تھے لیکن ہمارے حکمرانوں کو یہ توفیق نہ مل سکی۔

آج کہاں ہے خالصتان اور کہاں ہے سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ؟ ’’مقدس‘‘ اکال تخت بربادی اور خونریزی کا طوفان دیکھنے کے بعد آج پھر سے بروئے کار ہے۔ کوئی سکھ اس کی بے حرمتی کا ذکر بھی نہیں کرتا اور پورے بھارت میں بلند آواز سے خالصتان کا نام لینے والا بھی آج کوئی نظر نہیں آتا۔ (دلچسپ اور سنگدلی کی بات یہ بھی ہے کہ اندرا نے یہ خونی آپریشن ایک سکھ فوجی افسر، میجر جنرل کلدیپ سنگھ براڑ سے کروایا) اندرا گاندھی نے اس فوجی تہ تیغی، جسے آپریشن بلیو اسٹار کا نام دیا گیا تھا، کے عوض اپنی جان تو دے دی لیکن ملک کی اکائی کا مقدمہ جیت گئیں۔ اور ایک ہم ہیں کہ ہمارے حکمران اور ہماری اسٹیبلشمنٹ اسلام آباد کے مولوی صاحب، جو آئینِ پاکستان کے بھی انکاری ہیں اور کھُلم کھلا ریاست مخالف دہشت گردوں کے مبینہ ہمنوا بھی، کو بے دخل کرنے کی ہمت نہیں رکھتے۔ اگر ہماری حکمران طاقتیں مسز اندرا گاندھی ایسا حوصلہ اور عزم رکھتیں تو اسلام آباد میں بغاوت کا یہ منظر کبھی نہ ابھرتا۔ بھارت نے تاملوں کو اپنے جوتے تلے رکھنے کے لیے بڑی زیادتیاں کیں۔ اس کے بدلے راجیو گاندھی کو اپنی جان دینا پڑی لیکن وہ جاتے جاتے بھارتی حاکمیت کے مستحکم نشان چھوڑ گئے۔

بھارتی میڈیا نے ان کی اور ان کی آنجہانی والدہ کی ملک کے تحفظ کے لیے دی گئی قربانیوں کو اتنی شدت سے ابھارا کہ دہشت گرد اور خود کش حملہ آور دب کر رہ گئے۔ اور ایک ہم ہیں کہ ہم سے بلوچستان کے مرکزِ گریز عناصر سنبھالے نہیں جارہے۔ ہمارا ’’آزادی پسند‘‘ میڈیا ریاست مخالف پروپیگنڈے پر اتر آتا ہے۔ ایک ’’ماما قدیر‘‘ ہی ہم سے سنبھالا نہیں جاتا۔ ایسے میں ریاست مخالف عناصر کو دھاڑنے اور للکارنے کی ہمت کیوں نہ ہو؟

جب بھارتی پارلیمنٹ اور ممبئی کے تاج محل ہوٹل پر حملہ ہوا تو بھارت نے خارجہ محاذ پر اپنی پوری طاقت سے دنیا بھر میں پروپیگنڈہ کیا کہ یہ پاکستان اور اس کے خفیہ اداروں کے ایجنٹوں کی کارستانی ہے۔ بھارتی میڈیا نے طبلِ جنگ بجاتے ہوئے اتنی ہم آہنگی اور یکجائی کے ساتھ پاکستان کے خلاف زبان درازیاں کیں کہ ڈر کے مارے ہمارے حکمران اس بزدلانہ عمل پر بھی تیار ہوگئے کہ پاکستان کی ایک خفیہ ایجنسی کا سربراہ بھارت جائے اور بھارتی حکمرانوں سے معذرت کرے۔ گویا اپنے ناکردہ گناہوں کو بھی تسلیم کرے۔ خدا کا شکر ہے ایسا نہ ہوسکا۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں 16 دسمبر کو پشاور کا خونریز سانحہ پیش آیا ہے تو ہمارے ہر قسم کے حکمرانوں نے یہ بیان دیا کہ ہمارا اصل دشمن ہمارے اندر ہے، باہر نہیں۔

اگر ایسا ہی ہے تو پھر سرکاری اور غیر سرکاری حلقوں سے مسلسل یہ کیوں کہا جاتا رہا ہے اور ہنوذ کہا جارہا ہے کہ ہمارا ایک بیرونی دشمن (جو ہمارا ہمسایہ بھی ہے) بلوچستان میں مداخلتیں کر رہا ہے اور وہ افغانستان کے راستے فاٹا کو ہدف بناتے ہوئے پاکستان بھر کو خون کا غسل بھی دے رہا ہے؟ پھر یہ بات سرکاری سطح پر کیوں کہی گئی کہ ہمارے ایک سابق وزیراعظم نے مصر کے تفریحی مقام (شرم الشیخ) پر ایک سابق بھارتی وزیراعظم کو وہ فائل ’’بطور ثبوت‘‘ پکڑائی تھی جس میں مبینہ طور پر بلوچستان میں بھارتی خفیہ اداروں کی شیطانیوں اور شرارتوں کی کئی داستانیں رقم تھیں؟ یہ بات وثوق اور یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ اگر بھارت کے کسی علاقے میں 16 دسمبر 2014ء ایسا سانحہ رونما ہوتا تو بھارت پوری شدت سے دنیا بھر میں شور مچاتا ہوا پاکستان کے خلاف فوری طور پر الزامات کے طومار باندھ دیتا۔

بھارتی الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا بھی کسی سے پیچھے نہ رہتا۔ ہم مگر بوجوہ ایسا نہ کرسکے کیونکہ ہم ’’بڑے بھائی‘‘ کی ناراضی مول لے سکتے ہیں نہ اس سے دوری برداشت کرسکتے ہیں۔ ہم تو اتنے بے بس اور بے کس ہیں کہ مودی سرکاری میں شامل متشدد ہندو مذہبی جماعتوں نے مبینہ طور پر درجنوں مسلمانوں کو زبردستی ہندو بنا لیا ہے لیکن ہمارے حکمران اس کی مذمت میں ایک لفظ ادا نہ کرپائے۔ اس کے برعکس اگر سندھ میں کسی ہندو سے زیادتی کی جاتی ہے یا کسی غریب ہندو بچی کو مبینہ طور پر زبردستی مسلمان بنا کر نکاح میں لانے کی خبر شایع یا نشر ہوتی ہے تو بھارت منہ پھاڑ کر پاکستان کے خلاف آگ اگلنا شروع کر دیتا ہے۔

بھارت میں موہن داس گاندھی، اندرا گاندھی، راجیو گاندھی کو دہشت گردوں نے قتل کردیا۔ یہ اہم ترین لوگ اس لیے مار ڈالے گئے کہ وہ اپنے ملک کے مفادات میں جٹے ہوئے تھے لیکن ہر سال دھوم دھڑکے کے ساتھ ان کی برسیاں منائی جاتی ہیں نہ اخبارات میں ان کے حق میں رنگین ایڈیشن شایع کیے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں؟ اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی بھی اپنی پارٹی کے سربراہ تھے اور بھٹو و بے نظیر بھی لیکن ایک طرف ان کے ایّامِ قتل پر محترم خاموشی اختیار کی جاتی ہے جب کہ دوسری جانب ’’عرس‘‘ منائے جاتے ہیں حالانکہ دونوں ممالک میں ان چاروں مقتول افراد کی خاندانی پارٹیوں کو عوام نے مسترد کر دیا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.