.

ہمیں کتنے ماہرین درکار ہیں؟

ایاز امیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لارڈ سلیس بری (Lord Salisbury) کا کہنا ہے کہ زندگی میں ملنے والا ہر سبق تجربے کے دائرہ کار سے اتنا دور ہوتا ہے کہ ہمیں ماہرین پر بھروسہ نہیں کرنا چاہئے۔ اگر آپ ڈاکٹروں پر یقین کرلیں تو پھر کوئی چیزصحت بخش نہیں ہے۔ اگر آپ مذہبی طبقے پر یقین کرلیں تو کوئی بھی معصوم نہیں، اگر آپ سپاہیوں پر یقین کرلیں تو کچھ بھی محفوظ نہیں ہے۔‘‘ ہمارے سول حکمرانوں کے ذہن میں تو ہر قسم کے تصورات کا داخلہ ممنوع تھا۔ اُنھوں نے نہ کبھی جنگ کا سوچا تھا....برسبیل ِ تذکرہ کبھی سوچا بھی ہوگا تو اتنی سنجیدگی سے نہیں۔ چنانچہ ان سے یہ توقع کیسے کی جاسکتی ہے کہ ان کے پاس ان مسائل کا کوئی حل ہوگا۔

جب جنرلوں نے آئینی ترامیم کرتے ہوئے فوجی عدالتوں کے قیام کا تصور پیش کیا تو وہ اس پوزیشن میں نہیں تھے کہ اس پر اعتراض کرسکیں ۔ ان کی طرف سے کچھ احمقانہ سے اعتراضات سامنے آئے لیکن اُنہیں آسانی سے مسترد کردیا گیا۔ اعتراضات میں اس وقت وزن ہوتا ہے جب ان کے پیچھے کوئی دلیل ہو۔ یہاں کسی کے پاس کوئی متبادل تک نہ تھا۔ چنانچہ ہر سیاست دان نے اپنی من پسند پناہ گاہ، آئین، کے پیچھے پناہ لینے میں بہتری سمجھی۔ کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ وہ لوگ آئین کی ڈھال کے پیچھے چھپ رہے ہیں جن کا ہر قدم بڑی ڈھٹائی سے آئین کا مذاق اُڑاتا ہے۔ وکلا کی عظیم الشان تحریک اور اس کے نتیجے میں معزول شدہ عدلیہ کی بحالی کی سے امید لگائی گئی تھی کہ انصاف کا دور دورہ ہوگا اور خوشحالی آئے گی.... جس کے دوران اور اس کے بعد سے وکلا اور بار ایسوسی ایشنز کے ارکان مکہ بازی کے میدان میں اپنی مہارت کا لوہا منوا چکے ہیں۔ ان میںسے کئی ایک لاس ویگاس کے سنڈی کیٹس میں بآسانی اپنی جگہ بنا سکتے ہیں۔ افسوس ہے اُن پر جو ان کی مخالفت کرتے ہوئے ان کے سامنے آئیں۔ تاہم یہی گروہ قانون کی حکمرانی کے نعرے بھی لگاتا دکھائی دیتا ہے۔ اگر دنیاکے ہمارے حصے میں ایسے تضادات نہ ہوتے تو یقینا زندگی بے کیف ہوتی۔

ایسے ہی تضادات ممنوع چیزوں کے حوالے سے کھل کر دکھائی دیتے ہیں۔ سرکاری طور پر ہم ممنوعہ امکانات کا ملک ہیں۔ ہمیں حکومت ہر قدم پر پارسا بنانے پر تلی ہوئی ہے، لیکن غیر سرکاری طور پر یہاں ایک بالکل ایک مختلف کہانی دکھائی دیتی ہے۔یہاں کچھ مشروبات سرکاری طور پر منع ہیں لیکن عملی طو ر پر یہ مشروب یہاں اس قدر پیا جاتا ہے کہ یہ ہمارے ہاں اہم ترین کاروبار بن چکا ہے۔ اگرکوئی جلد دولت مند ہونا چاہتا ہے تو اس میدان میں سفر شرط ۔ پھر آپ کو ’’ہزار ہا شجر ِ سایہ دار ‘‘راہ میں تعاون پر آمادہ دکھائی دیں گے۔ ٹیلی کام کی طرح اس میں بھی بہت پیسہ ہے۔ بلکہ آج کل یہ کاروبار بھی موبائل فون پر ہی ہوتا ہے، چنانچہ دونوں لازم و ملزوم۔

اب دوبارہ موجودہ اپنی ا صل کہانی پر واپس آ جائیں۔ ہم کب تک پھانسی دینے یا نہ دینے کی سولی پر لٹکے رہیں گے؟ کیا فوج تمام جنگجوئوں پر ہاتھ ڈالے گی؟ تکلیف دہ شکوک و شبہات کی وجہ یہ ہے کہ یہاں بھی کچھ ممنوعات ہیں... عزیز، اسحٰق، لدھیانوی اور بہت سے دوسرے جو اپنے اپنے عقیدے کے لئے محو ِ کارزار رہے ہیں۔ اس میں کسی کو حیرانی نہیں کہ ان کا ماضی میں تعلق کسی نہ کسی حد تک قومی سلامتی کے نگہبانوں، جن کا دفتر آب پارہ کے آس پاس ہے، کے ساتھ رہا ہے۔ یقینا یہ ماضی تھا ،لیکن حال میں شکوک کے سائے پیچھا کیوں نہیں چھوڑتے؟ اچھے اور برے طالبان کے درمیان امتیاز کو شاید وزیرستان آپریشن نے ختم کر دیا ہو... اور یہ اچھی بات ہے.... لیکن یہ منظر ابھی آنکھ سے اوجھل ہونا باقی ہے کہ داخلی طور پر قابلِ قبول اور ناپسندیدہ شدت پسندوںکے درمیان امتیاز کا خاتمہ ابھی باقی ہے۔ جب تک یہ امتیاز ختم نہیں ہو جاتا، یہ یقین کرنا دشوار ہے کہ نظریہ پاکستان کو آب پارہ کی حدود سے نکال کر سویلین کی گود میں دے دیا گیا ہے۔

کیا ہمارے ہاں پائے جانے والے غیر یقینی پن کاخاتمہ ہوگیا ہے؟ کیا نظرئیے کے محافظوں نے اپنے طرزِعمل میں تبدیلی برپا کی ہے؟ ہمارے ہاں نظریات کے تحفظ کو ہمیشہ جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ پر فوقیت دی گئی ہے.... مشرقی پاکستان کا المیہ اس کی روشن مثال ہے۔ ہماری مغربی سرحدوں پر ، فاٹا کے سنگلاخ پہاڑوں میں انتہا پسندوں کے خلاف لڑے بغیر چارہ نہ تھا ، لیکن مشرقی سرحد کے بارے میں کیا خیال ہے؟

جہاں تک مشرقی سرحد کا تعلق ہے، یہاں پر ہمیشہ سے ہی کنفیوژن موجودرہا ہے۔جماعت الدعوہ کے رہنما حافظ سعیدکو ہمارے ’’قومی جہادی‘‘ کا درجہ حاصل رہا ہے۔ اس میدان میں ان کا دور دور تک کوئی حریف نہیں۔ ان کی زندگی کشمیر کی آزادی کے لئے وقف ہے اور اُنھوں نے کبھی بھی اپنے جذبات کو کوئی اور رنگ دینے کی کوشش نہیں کی۔ ان کے قومی نظرئیے کے نگہبانوں سے تعلقات کبھی بھی کوئی راز نہیں رہے۔ یقینا مینار پاکستان یا کہیں بھی اور جلسے کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اور پھر کشمیر کی آزادی کے لئے جہاد کی تبلیغ کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ اس کے علاوہ جماعت الدعوہ امدادی اور فلاحی کاموں میں بھی مصروف ہے۔ اس کی ورک فورس کو ان کاموں کا تجربہ اور ٹریننگ بھی ہے۔

تاہم ایک حساس موضوع اور اس پر ایک نازک سوال یہ ہے کہ کیا وہ ابھی تک اپنے عملی جہاد پر موجود ہیں؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر انڈیا جو بھی کہتا رہے، ہمیں اس کی کوئی پروا نہیں۔ ہم کسی کے کہنے پر کوئی کارروائی نہیں کریں گے۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہے اور مقبوضہ کشمیر میں لڑنے والوں کے نقشِ قدم ہماری سرزمین سے ہو کر گزرتے ہیں تو پھر یقینا مسئلہ ہوسکتا ہے۔ ماضی میں ایسا کرنے میں کوئی شاید کوئی سنگین خطرہ لاحق نہ ہوتا لیکن افسوس، وہ دن ہوا ہوئے۔ اب طالبان اور دہشت گرد ہماری شہ رگ کے درپے ہیں۔ ہم اپنی سرحدوں پر کسی تنائو کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ہم مغربی سرحد پر سنجیدہ جنگ میں مصروف ہیں اور مذہبی انتہا پسندی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ اس میں کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ ہماری مشرقی سرحد پر امن رہے۔ ایسا کرتے ہوئے ہم مودی کی کسی خواہش کا احترام نہیں کریں گے بلکہ یہ ہماری اشد ضرورت ہے۔

ہو سکتا ہے کہ اگلے دس سال تک بھی بھارت کے ساتھ مذاکرات معطل رہیں، تاہم اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہمیںبھارتی وزیرِ اعظم کے لئے ساڑھیوں کے تحائف بھی بجھوانے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں سیاسی اور سفارتی معاملات میں جذباتی حماقتوں کی ضرورت نہیں۔ ہمیں وہاں ریٹائرڈ جنرلوں کے بیانات کی ضرورت نہیں کہ بھارت ہماری بحری ناکہ بندی نہیں کر سکتا۔ ہمیں اپنے اوپر اعتماد کی ضرورت ہے۔ ہم نے یہ وطن دنیا بھر کو فوجی دبائو میں رکھنے کے لئے حاصل نہیں کیا تھا۔ اگر سرحد پار جہاد کے کچھ امکانات ابھی تک موجود ہیں تو اُنہیں ختم کرنا ہوگا۔ اس عالم میںکسی قسم کی جہادی سرگرمیوں کا مطلب آگ سے کھیلنا ہوگا۔ ہمیں موقف تبدیل کیے بغیر کشمیر پر طرز عمل میں سمجھوتے کے لئے بھی تیار رہنا چاہیے کیونکہ ہماری پہلی اور آخری ترجیح داخلی دہشت گردی ہے۔ اگر کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی ہوتی ہے تو ہم اس کے لئے اخلاقی اور سفارتی سطح پر آواز بلند کر سکتے ہیں۔

دنیا یقینا ہماری آواز سنے گی لیکن اس سے زیادہ کا دور اب ختم ہوچکا ہے۔ دراصل اُس دور کی موت کارگل کے ساتھ ہی ہوگئی تھی۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہماری کشمیر کے بارے میں وہی پالیسی ہوگی جو چین کی تائیوان کے بارے میں ہے.... اپنا سخت موقف لیکن لڑائی جھگڑا نہیں۔ اس وقت ہمارے سامنے صرف مذہبی انتہا پسندی کا عفریت ہے، جس سے ہمیں نمٹنا ہے، باقی سب کام بعد میں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.