فوجی عدالتیں اور چانڈیو کا گھڑا

نازیہ مصطفیٰ
نازیہ مصطفیٰ
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

یہ اسی کی دہائی کے ابتداکی بات ہے۔ صوبے میں امن و امان کی صورتحال انتہائی ناگفتہ بہ تھی، چوریاں عام تھیں، اغوا برائے تاوان کی وارداتوں سے ہر طرف خوف وہراس پھیلا ہوا تھا، رہزنی کے واقعات معمول بن چکے تھے، ڈکیتی کی وارداتیں زیادہ ہو رہی تھیں لیکن خوف کی وجہ سے یہ وارداتیں رپورٹ بہت کم ہو رہی تھیں۔ ڈاکو ہر طرف دندناتے پھرتے تھے، کیا دیہی اور کیا شہری علاقے، کوئی بھی جگہ ڈاکووںکے شر اور دستبرد سے محفوظ نہ تھی۔ سندھ بالخصوص اندرون سندھ کا علاقہ اِن سماج دشمن عناصر کے رحم و کرم پر تھا۔ حکومت وقت کیلئے تشویش کی بات یہ تھی کہ ملک میں اُس وقت جمہوریت اور جمہوریت پسند کئی برسوں سے پابند سلاسل چلے آ رہے تھے اور ملک کے ایوانِ اقتدار کے ساتھ ساتھ ہر ادارے پر فوجی پرچم پھڑپھڑا رہے تھے، یہی وجہ ہے کہ امن و امان کی مسلسل بگڑتی ہوئی صورتحال فوجی حکومت کیلئے پریشان کن تھی اورمسلسل بدنامی کا باعث بن رہی تھی۔ اِنہی حالات میں مارشل لا ایڈمنسٹریشن نے دگرگوں صورتحال سے نمٹنے کیلئے اندرون سندھ کے علاقوں میں آپریشن لانچ کیا۔

آپریشن کے دوران سکھر میںمقامی مارشل لا ایڈمنسٹریشن کو علاقے میں چانڈیو نامی ایک بدنام ِ زمانہ ڈاکو کی موجودگی کا پتہ چلا تومقامی فوجی کمانڈر کی ہدایت پر فوج کی ایک کمپنی نے علاقے کی ناکہ بندی کر لی اور سکھر روڈ سے گزرنے والی تمام بسوں ، ٹرکوں اور گاڑیوں کی تلاشی لی جانے لگی تاکہ ڈاکو فوج کی ناکہ بندی توڑ کر بھاگ نہ سکے۔ بسوں اور دیگر گاڑیوں کی چیکنگ جاری تھی کہ چیک پوسٹ پر ایک بس پہنچی جس کی چھت پر ایک بڑا سا مٹکا رکھا تھا، کمپنی کمانڈر نے چھڑی گھماتے ہوئے بس کے ڈرائیور اور کنڈکٹر سے پوچھا ’’بس کی چھت پر یہ بڑا سا مٹکا (گھڑا) کیوں رکھا ہے؟‘‘ ڈرائیور نے ہاتھ جوڑ کر قدرے آگے کی طرف جھکتے ہوئے کہا ’’سائیں! گرمی کا موسم ہے، راستہ طویل ہے، راستے میں مسافروں کو پیاس لگتی ہے ناں، تو اِس گھڑے میں مسافروں کیلئے پانی رکھا ہے۔‘‘۔ اُس فوجی کمانڈر کو ڈرائیور کی یہ بات بہت اچھی اور بھلی لگی تھی۔ کمانڈر نے بس کو جانے کی اجازت دیتے ہوئے فوراً اپنے جوانوں کو حکم دیا ’’جوانو! چانڈیو ڈاکو کے ساتھ ساتھ اب یہ بھی چیک کرو کہ کس کس بس کی چھت پر پانی کے گھڑے نہیں رکھے؟ جن بسوں میں یہ گھڑے نہ ہوں، اُن ''ظالموں'' کو فوری طور پر جرمانے کیے جائیں۔‘‘ ریٹائرڈ کرنل چودھری یہ واقعہ ایسے سنا رہے تھے جیسے یہ کسی بڑی فوجی مہم کا حصہ ہو۔ کرنل چودھری دراصل 80 کی دہائی میں لفٹین تھے اور بسوں میں گھڑے چیک کرنیوالی کمپنی میں شامل تھے۔

کرنل چودھری جب اپنی ''مہم جوئی'' کا قصہ سُنا رہے تھے تواس وقت ایوان صدر میں صدر مملکت قومی اسمبلی اور سینیٹ سے پاس ہونیوالے آرمی ایکٹ اور آئین میں ترمیم کے بلوں پر دستخط کر رہے تھے، ان دستخطوں کے بعد دونوں ترامیم باقاعدہ آئین اور قانون کا حصہ بن گئیں۔ آئین میں ترمیم اور خصوصی فوجی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ دسمبر کے وسط میں پشاور کے آرمی پبلک سکول پر شدت پسندوں کے اُس حملے کے بعد کیا گیا تھا، جس میں سکول کے طلبہ سمیت ڈیڑھ سو افراد شہید کر دئیے گئے تھے۔ اِس واقعے کے بعد پہلی مرتبہ حکومت، فوج اور تمام سیاسی جماعتیں ایک پیج پر نظر آئیں۔ اِن ترامیم پر سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے تحفظات دور کرنے کی بھی کوشش کی گئی، یہی وجہ ہے کہ منظوری سے قبل آئینی بل میں ترمیم کے ذریعے رجسٹرڈ مذہبی جماعتوں کو فرقے کے دائرہ کار سے خارج کر دیا گیا ۔

مذہبی جماعتوں کی تجویز پرہی آرمی ایکٹ ترمیمی بل میں تبدیلی کی گئی اور دو سال کے بعد اس قانون میں توسیع کی مزید گنجائش ختم کر دی گئی، یعنی دو سال کے بعد یہ قانون خود بخود غیر موثر ہو جائیگا، لیکن اسکے باوجود پارلیمنٹ سے بلوں کی منظوری کے وقت پاکستان تحریک انصاف، جمعیت علماء اسلام اور جماعت اسلامی کے ارکان نے اپنے اپنے عذر تراش کر رائے شمار ی میں حصہ نہیں لیا ،جبکہ دھرنا ختم کرنے کے باوجود پی ٹی آئی کے ارکان تو پارلیمنٹ میں ہی نہیں آئے۔

تبدیل شدہ آرمی ایکٹ کے تحت جو فوجی عدالتیں بنیں گی اُن میں پاکستان کیخلاف جنگ کرنیوالے کو عبرت کا نشان بنایا جاسکے گا، فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملہ کرنیوالے کو قرار واقعی سزا دی جاسکے گی، اغوا برائے تاوان کے مجرم کو ’’مہم جوئی‘‘ پر مزا چکھایا جاسکے گا اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کو مالی معاونت فراہم کرنیوالے کو’’سیدھی‘‘ راہ دکھائی جاسکے گی۔ ترمیمی قانون کے تحت مذہب اور فرقے کے نام پر ہتھیار اٹھانے والے کو ’’اوقات‘‘ میں لایا جاسکے گا، دہشت گرد تنظیموں کے اراکین کوانسان بنایا جاسکے گا،سول اور فوجی تنصیبات پر حملہ کرنیوالے کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاسکے گا اور دھماکہ خیز مواد رکھنے یا کہیں لانے لے جانے میں ملوث افراد کو ’’باربرداری‘‘ کے اِس دھندے سے تائب کرانے کے بعد کسی اچھے کام پر لگایا جاسکے گا۔

آرمی ایکٹ اور آئین میں ترامیم کے بعد دہشت اور عدم تحفظ کا ماحول پیدا کرنیوالے کوبھاری قیمت ادا کرنا پڑیگی اور بیرونِ ملک سے آ کر پاکستان میں دہشتگردی کرنیوالے ناسور کا خاتمہ کیا جاسکے گا۔ آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ حکومت کی پیشگی منظوری کے بعد چلایا جائے گا اور فوجی عدالت کو مقدمے کی منتقلی کے بعد مزید شہادتوں کی ضرورت نہیں ہو گی،اسکے علاوہ وفاقی حکومت سول عدالتوں میں زیرِ سماعت مقدمات بھی فوجی عدالتوں میں بھیج سکے گی۔

قارئین کرام!! آئین اور آرمی ایکٹ میں ترامیم کے بعد کرنل چودھری کے ذہن میں سکھر روڈ کی چیک پوسٹ پر مسافر گاڑیوں پر پانی کے گھڑے چیک کرنے کا منظر گھوم کر رہ گیا۔’’ہمہ وقت مستعد فوجی مسافر گاڑیوں کی چھتوں پر پانی کے گھڑے تلاش کرتے رہ گئے لیکن اُس ایک کسی گاڑی کے سوا کسی بس کی چھت پر اُنہیںکوئی گھڑا یا مٹکا نہ ملا،یوں سکھر روڈ پر چالان اور جرمانہ بھگتنے والی گاڑیوں کی طویل قطار لگ گئی۔ بعد میں تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ جس ایک بس کی چھت پر گھڑا موجود تھا، اس گھڑے میں پانی نہ تھا بلکہ اُس بڑے گھڑے میں چانڈیو ڈاکو موجود تھا جو فوجیوں کی سادگی اور خلوص کا فائدہ اٹھاکر جُل دیتا ہوا اُس مٹکے میں چھپ کر فرار ہوگیا تھا۔ چانڈیو تو آسانی کے ساتھ فرار ہو گیا لیکن کسی فوجی نے اُس گھڑے کے سوراخ دیکھے نہ ہی ان سوراخوں سے جھانکتی چانڈیوکی دو آنکھیں دیکھیں''۔ کرنل چودھری کے لہجے میں اچانک کئی اداس دریا بہنے لگے تھے '' ہم فوجی بہت مخلص ہوتے ہیں اور جتنے مخلص ہوتے ہیں ،اتنے ہی سادہ بھی ہوتے ہیں۔

چالاک لوگ فوجیوں کی اِس سادگی کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور بدنامی فوج کی ہوتی ہے‘‘ کرنل چودھری ایک لمحہ رُک کر پھر بولے ’’آئین میں ترمیم کے بعد سیاستدانوں نے اپنا بوجھ فوج کے کاندھوں پر ڈال دیا ہے، اب اگر فوجی عدالتوں کے باوجود دہشت گردی ختم نہ ہوئی تو بدنامی سیاستدانوں کے نہیں بلکہ فوج کے حصے میں آئیگی، مجھے خدشہ ہے کہ بہت سے چالاک دہشتگرد فوجی منصفوں کے خلوص ، سادگی اور نیک نیتی کا فائدہ اٹھا کر صاف بچ نہ نکلیں، میرے اس خدشے کی وجہ یہ ہے کہ اِن فوجی عدالتوں میں فوجی منصفوں کو بے جا مقتل سجانے کا اختیار نہیں دیا گیا بلکہ انصاف کا ترازو تھما دیا ہے، فوجی ججوں نے بھی فیصلے تو قانون کے مطابق ہی کرنے ہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ فوجی منصفوں نے فیصلے بے خوف ہو کر کرنے ہیں، اس لیے خدشہ ہے کہ دہشت گردکہیں فوجی منصفوں کی سادگی کا فائدہ اٹھا کر فوجی عدالتوں کو چانڈیو کا گھڑا نہ بنالیں اور اس ''گھڑے'' میں چھپ کر ''فرار'' نہ ہونا شروع کردیں''کرنل چودھری نے آخری جملہ کہا اور اپنی نشست اُٹھ کر فکرمندی میں ٹہلنے لگے ''۔ اگر میری مانیں تو میں مشورہ دوں گا کہ فوجی منصف پوری کوشش کریں کہ انصاف ہوتا ہوا بھی دکھائی دے اور فوجی عدالتیں چانڈیو کا گھڑا بھی ثابت نہ ہوں۔‘‘

بہ شکریہ روزنامہ "نوائے وقت"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں