عمران خان کی شادی اور موجودہ حالات

خلیل احمد نینی تال والا
خلیل احمد نینی تال والا
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

پاکستانی قوم بھی عجیب جذباتی قوم ہے جو موسم کے ساتھ ساتھ بدلنے میں مہارت رکھتی ہے ۔ اسی وجہ سے 68سال گزرنے کے باوجود مستقل مزاجی اس میں آج تک نہیں آ سکی اورتمام سیاستدان ان کے جذبات سے کھلواڑ کر کے اپنا الّو سیدھا کرتے گئے ۔ شروع شروع میں مسلم لیگ اور قائد اعظم کے نام پر 11سال بہکائے گئے بعد اذاں 10سال مارشل لا کی نذرہو گئے۔3سال الیکشن کے نام پر پھر ملک دولخت ہو گیا، قوم سہم گئی مگر سیاستدان ویسے کے ویسے ہی رہے ۔ نیا پاکستان اور روٹی ، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگا تو قوم پھر اس کے سائے میں چل پڑی ۔ روٹی ، کپڑا اور مکان کہاں ملنا تھا سوشلزم پر تجربہ ناکام ہوا ، نئے پاکستان کو پھر نظر لگ گئی ،معیشت جم گئی، مہنگائی کا نہ بند ہونے والا درکھل گیا، مذہب کو دوبارہ میدان میں اتارنے کیلئے تمام مکتبہ ہائےفکر سوشلزم کو کاؤنٹر کرنے کیلئے نظام مصطفی کا نعرہ لگا تے ہوئے ایک جھنڈے کے تلے تو جمع ہو گئے مگر کوئی ایک بھی کامیاب نہیں ہو سکا۔ پھر ضیاء الحق نے اسلام کا نعرہ لگایا۔ درمیان میں افغانستان میں روس کودا تو ہم بھی افغانستان کو بچانے کے لئے ہر اچھی اور بری توقع پر امریکہ کا ساتھ دیتے رہے اور روس بھاگ کھڑ ا ہوا۔

ہم مجاہدین اور 40لاکھ افغانیوں کے سرپرست بن گئے۔ وہ دن ہے اور آج کا دن ہم سکھ ، چین ، حرام ، حلال سب سے فارغ ہو گئے ۔ اب نہ ہم ایک قوم رہے نہ مسلمان اور نہ پاکستانی ، مذہب کو ہم نے فرقوں میں بانٹ دیا۔ مساجد جو امن گاہیں ہوتی تھیں سب سے زیادہ غیر محفوظ ہوگئیں ۔ مجاہدین طالبان کی شکل میں ہمارے تمام شہروں ، دیہات میں اپنی پناہ گاہیں بناتے گئے ۔ جمہوری دور پھر فوجی دور بھی آیا اور ختم ہو گیا، قوم ٹوٹتی گئی فرقہ واریت کی گردان ہوتی رہی ۔ خود کش حملے معمول بن گئے ، شہر والے بھتہ ، قربانی کی کھالیں ، زکوٰۃ وغیرہ وصول کرنے میں لگے رہے۔ سیاسی جماعتیں اب کاروباری انداز میں تبدیل ہو تی گئیں ۔کسی کو کچھ پرواء نہ رہی تھی ہر شخص ایمانداری اور بے ایمانی کی تکرار بھول کر اپنی جیبیں بھرنے میں لگ گیا ،خواہ وہ عام آدمی ہو ، مزدور ، کسان ، ہاری ، زمیندار ، تجارت پیشہ ، صنعتکار ، بنکرز ، وکیل ، انجینئر یا سرکاری ملازم سب ون پوائنٹ ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ یعنی مال ، مال اور صرف مال کیسے بنایا جائے ۔ حکمران تو پہلے ہی سے اس پر مکمل طورپر عمل کر رہے تھے ۔

پھر اچانک دہشت گردی میں شدت یہاں تک بڑھی کہ بچے بھی محفوظ نہ رہے اور سانحہ پشاور پیش آگیا۔ قوم بیدار ہوئی پھرکسی بھی چیز کی پرواء کئے بغیر سیاستدانوں کو ایک ٹیبل پر جمع کر کے دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا عزم کیا گیا اور پہلی مرتبہ اکثریت نے قومی اسمبلی میں فوج کی مکمل حمایت کا ووٹ دیا۔ اگرچہ آج بھی کچھ جماعتیں درپردہ یہ نہیں چاہتیں قوم کو ان سے ہوشیار رہنا ہوگا۔

ابھی قوم اس سوگوار سانحہ سے نہیں نکلی تھی اور فوجی عدالتیں اپنا کام کرنا چاہتی تھیں کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی شادی کی خبر نے قوم کادھیان بٹادیا۔ اخبارات اور میڈیا بھر پور طریقے سے عمران خان کی شادی کو موضوع بنا کر شادی کی خوبیوں اور خرابیوں پر بحث میں مصروف ہیں۔ میں حیران ہوں کہ عمران خان جو نئے پاکستان بنانے تک شادی نہ کرنے کا وعدہ کر چکے تھے ، آخراس موقع پر وہ بھی دیگر سیاستدانوںکی طرح اپنے پہلے ہی وعدے سے جان چھڑا کر ایک نیا محاذ بنانے میں مصروف ہیں۔کیا یہ شادی دھرنوں کا حاصل تھی تو پھر نوجوانوں کے جمگھٹے لگانے کی کیا ضرورت تھی۔ قوم ان کو سنجیدہ ذہن کا مالک سمجھ کر ان کے پیچھے چل نکلی تھی ۔ تمام سنجیدہ حلقے اس وقت مایوسی سے دوچار ہیں ، اس سے ان کی ماضی کی طرح ایک مرتبہ پھر سیاسی غیر پختگی نمایاں نظر آتی ہے۔کچھ بہت سے قلم کار جو پہلے ہی ان کے ہر کام پرکھلی تنقیدیں کرتے چلے آئے ہیں اور وہ جو خصوصاً موجودہ حکمرانوں کے گیت گاتے اور ان کو سراہتے نظر آتے ہیں اور وہ جوحکومتی شراکت میں رہ کر عمران خان کی مقبولیت پر کاری ضرب لگا کر انہیں پیچھے دھکیلنا چاہتے ہیں۔ وہ اب یقینا آگے بڑھ کر اس کا فائدہ حکومت کی جھولی میں ڈالنے کی پوری کوشش کرینگے ۔

عمران خان کھل کر قوم کو آگاہ کریں کہ ایسی کیا مجبوری تھی کہ ان کو اس نازک موقع پر شادی کرنا پڑی ۔اگر انہوں نے قوم اور خصوصاً نوجوانوں کو مطمئن نہ کیا تو آنے والے الیکشن میں ان کی ساکھ کو ناقابلِ تلافی نقصان تو پہنچے گا مگر اس کے ساتھ ساتھ قوم کا اعتماد پھر اچھے سیاستدانو ں پر سے بھی اُٹھ جائے گا۔ فوج کو دہشت گردی کے خلاف اٹھنے والے اقدامات سے ہر گز ہاتھ پیچھے نہیں ہٹانا چاہئے۔ نیز پی پی پی کے سربراہ سابق صدر آصف علی زرداری صاحب کا بھی سیاسی فیصلہ ایک عام سنگ میل ثابت ہوگا۔ اگر انہیں خراج تحسین نہ پیش کریں تو زیادتی سمجھی جائے گی۔ وہ پھر ایک مرتبہ قائدانہ صلاحیتیں منوانے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ ان چھوٹی بڑی کوتاہیوں کے باوجود فوجی عدالتیں جب کام شروع کریں گی تو دہشت گردوں اور ان کے ساتھیوں کے حوصلے ٹوٹ جائیں گےاور وہ پاکستان میں کہیں پناہ نہیں لے پا ئیں گے۔

بشکریہ روزنامی 'جنگ'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں