2015 کی سیاسی پیش گوئیاں

نجم سیٹھی
نجم سیٹھی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

اگر دہشت گردی، سیاسی عدم استحکام اور سول ملٹری تنائو کے حوالے سے 2014ء پاکستان کیلئے برا سال تھاتو2015بھی کچھ حوالوں سے منفی امکانات کا حامل ہے، تاہم اس میں کچھ توانا مثبت اشارے بھی مل رہے ہیں۔ سب سے پہلے جس چیز کا امکان دکھائی دے رہا ہے وہ یہ ہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کا ٹرائل جاری رہے گا لیکن اس کی وجہ سے سول ملٹری تعلقات میں کوئی بڑا ہنگامہ نہیں کھڑ اہوگا۔ خصوصی عدالت نے جنرل مشرف کو اجاز ت دے دی ہے کہ وہ سابق وزیر اعظم شوکت عزیز، سابق وزیر ِقانون زاہد حامد اور سابق چیف جسٹس آف پاکستان عبد الحمید ڈوگر کو بھی اس کیس شامل کرلیں ۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اب مشرف پر سے کیس کا فوکس کم ہو کر بٹ جائے گا اور پھر مختلف اپیلوں اور تاخیری حربوں کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ فوج اور حکومت کے لئے یہی صورت ِحال مناسب ہے کیونکہ حکومت کہہ سکتی ہے کہ وہ پوری تندہی سے کیس کی پیروی کررہی ہے جبکہ فوج کو اطمینان ہوگا کہ اب اس کے سابق چیف کوکوئی نقصان نہیں پہنچے گا اور نہ ہی اس ادارے کو اپنے دامن پر کوئی داغ برداشت کرنا پڑے گا۔ 2015کے دوران ہی جنرل مشرف دو طرح کی کوششوں میں مصروف دکھائی دیں گے.... ایک تو میڈیا کو دئیے گئے انٹرویوز کے ذریعے اعلیٰ پائے کا ’’قومی سطح کا رہنما‘‘ دکھائی دینے کی کوشش کی جائے گی جبکہ اس دوران یہ تاثر بھی دیا جائے گاکہ اُنہیں اسٹیبلشمنٹ کا تحفظ بھی حاصل ہے۔ اس کے علاوہ وہ میڈیکل یا فیملی معاملات کی وجہ سے ملک چھوڑ کر جانے کی کوشش بھی کرتے دکھائی دیں گے۔ تاہم ا ُن کی طر ف سے ایک طاقت ور سیاسی جماعت بنانے کی کوشش ناکامی سے دوچار ہوگی۔

اس سال اسحٰق ڈار تجارتی خسارہ جی این پی کا ساڑھے چار فیصد کم کرنے کی کوشش میں ناکام رہیں گے کیونکہ تیل کی قیمت میں کمی کی وجہ سے امپورٹ ڈیوٹی کم وصول ہوگی۔ اگرچہ حال ہی میں پٹرولیم کی مصنوعات پر پانچ فیصد اضافہ جی ایس ٹی عائد کیا گیا ہے لیکن ٹیکس ریونیوکا ہدف پورا نہیں ہوگا۔ اس پر آئی ایم ایف شکایت کرے گا کہ پاکستان طے شدہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے، چنانچہ اس سال کے دوسرے نصف میں ملنے والی اقساط کامعاملہ کھٹائی میں پڑنے کا اندیشہ لاحق ہوجائے گا۔ حکومت کی طرف سے ریاستی انٹر پرائززکو نجی تحویل میں دیتے ہوئے اضافی فنڈز حاصل کرنے کی کوشش کا دارومدار ملک میں دہشت گردی اور سیاسی استحکام کے گراف پر ہے۔
چینی کمپنیوں کے ساتھ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کے لئے دستخط کیے گئے ایم ایو یوزکئی ماہ تک متحرک نہیں ہوں گے۔ ہو سکتا ہے کہ مہنگائی کا تناسب ڈبل فگر سے کم رہے لیکن اگلے دو سال تک، یعنی 2016-17 میں بھی توانائی کا بحران حل ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ لوڈ شیڈنگ میں کمی لانے کے لئے ضروری ہے کہ فرنس آئل، پانی، کوئلے ، ہوا، شمسی توانائی اور گیس کے مزید منصوبوں پر عمل کیا جائے گا۔

دہشت گردی کے عفریت سے نمٹنے کے لئے نیشنل ایکشن پلان میں مزید وسعت پذیری دکھائی دے گی۔ اس کے لئے وزیر ِ اعظم پہلے ہی پندرہ ذیلی کمیٹیاں قائم کرچکے ہیں، تاہم دیکھنا یہ ہوگا کہ حکومت اپنے دعووں پر عمل کیسے کرتی ہے؟اسی تناظر میں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ اس کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کیسے تعلقات ہیں۔ اس کا لٹمس ٹیسٹ یہ ہوگا کہ عمران خان کی پی ٹی آئی ’’کسی کی آنکھ کی شہ ‘‘ پاتے ہوئے انتخابی دھاندلی کو جواز بنا کر دھرنوں اور احتجاجی سیاست کی طرف تو نہیں لوٹ جائے گی؟اسی طرح برق رفتار انصاف کے لئے قائم کردہ فوجی عدالتیں اور سزا کا عمل دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لئے کافی نہیں ہوں گے ۔ صرف ان کی مدد سے اس پہاڑ جیسے فتنے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا مشکل ہوگا۔ حکومت میں اتنی ہمت نہیں ہوگی کہ وہ دہشت گردی کی اصل وجہ ، جو مذہبی انتہا پسندی ہے، کا تدارک کرسکے۔ وہ انتہا پسند گروہوں، جیسا کہ لشکر ِ طیبہ، جیش ِ محمد ، حرکت المجاہدین اور لشکر ِ جھنگو ی اور اس طرح کی بہت سی تنظیموں کے خلاف کارروائی کرتی دکھائی نہیں دے گی۔ ان کو ملنے والے فنڈز کا راستہ بھی نہیں روکا جا سکے گا۔ ان تمام گروہوں کا ماضی میں خفیہ اداروں کے ساتھ تعلق رہا ہے کیونکہ انہیں علاقائی سکیورٹی کے معاملات میں پراکسی کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ موجودہ سال کے دوران بھی اسٹیبلشمنٹ کی پالیسی میںکوئی بڑی تبدیلی دکھائی نہیں دے گی۔

سنہ 2013 کے عام انتخابات میں ہونے والی دھاندلی کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن کے قیام کے لئے پی ٹی آئی اور پی ایم ایل (ن) کے درمیان ہونے والے معاہدے کا کوئی قابل ِ ذکر نتیجہ نکلتے دکھائی نہیں دیتا ہے۔ اب عمران خان چاہتے ہیں کہ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات عدلیہ کرے جبکہ پی ایم ایل (ن) کا اصرار ہے کہ عمران خان کا اصل الزام یہ تھا کہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری صاحب ، نواز شریف ، الیکشن کمیشن، ریٹرننگ آفسیرز اورنگران صوبائی حکومتیں دھاندلی میں ملوث تھیں اور ان سب نے مل کر ’’انتخابات کو ہائی جیک‘‘ کرتے ہوئے نتائج تبدیل کردئیے ورنہ پی ٹی آئی کامیاب ہوجاتی۔ چونکہ ایسی’’ عظیم الشان دھاندلی ‘‘کو محض چھ ہفتوںمیں ، جیسا کہ عمران خان کا مطالبہ ہے، کے دوران بے نقاب نہیں کیا جاسکتا،اس لئے یہ معاملہ بھی لٹک جائے گا۔ اس کی وجہ سے ہونے والے مذاکرات میں تعطل آجائے گا اورعمران خان ایک مرتبہ پھر عوام کو شریف حکومت کے خلاف بھڑکاتے دکھائی دیں گے۔اس سے ملک ایک مرتبہ پھر سیاسی عدم استحکام کا شکار ہوجائے گا۔ تاہم ایک فرق پڑے گا کہ ملک میں ہونے والی دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے کسی ادارے کی طرف سے عمران خان کو اشارہ نہیں ملے گا اور نہ ہی 2015 انتخابات کا سال ہوگا۔

بھارت اور پاکستان کے تعلقات بدستور مشکلات کا شکار رہے ہیں کیونکہ سرحدپر نریندر مودی کی ’’جارحانہ دفاعی پالیسی‘‘ پر عمل درآمد موقوف نہیں کیا جائے گا۔ ان دونوں ممالک کے درمیان قیام ِ امن اور معمول کے تعلقات کے امکانات کم ہوتے جارہے ہیں۔ اسی طرح پاک امریکی تعلقات کا انحصار پاک افغانستان تعلقات کی نوعیت پر ہوگا۔ تاہم اس کے لئے پاکستان یہ دیکھے گا کہ ایساف اور افغان فورسز افغانستان میں موجود پاکستانی طالبان کو ختم کرنے میں کیا کردار ادا کرتے ہیں۔ دوسری طرف ایساف اور افغان حکام دیکھیں گے کہ کیا پاکستان اپنے علاقوں میں موجود افغان انتہا پسندوں کے خلاف کوئی کارروائی کرتا ہے یا اُنہیں کابل کے ساتھ بات چیت کرنے پر مجبور کرتا ہے یا نہیں۔ اگر کوئی فریق اپنا وعدے سے انحراف کرتا دکھائی دیا تو ان پیچیدہ تعلقات میں تنائو آجائے گااور پراکسی جنگ شروع ہوجائے گی۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں