پیرس واقعے کے ذمہ دار مسلمان؟

عبدالرحمٰن الراشد
عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

فرانس میں حالیہ دہشت گردانہ حملوں کے خلاف احتجاج پیرس کے بجائے مسلم ممالک کے دارالحکومتوں میں ہونا چاہیے تھا، کہ ان حملوں کا الزام مسلمانوں پر آیا ہے۔ اس کھڑی ہونے والی مصیبت کے حوالے سے توقع ہے کہ مسلمانوں کی معصومیت مان لی جائے گی۔ انتہا پسندی کی کہانی مسلم معاشروں سے شروع ہوتی ہے۔ انہی کی مدد اور خاموشی کے باعث انتہا پسندی دہشت گردی میں متشکل ہوتی ہے جو پوری دنیا کے لوگوں کے لیے نقصان کا ذریعہ ہے۔ فرانس کے لوگ جو اس دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں۔ ان کے باہر گلیوں میں نکل کر احتجاج کرنے کی وہ اہمیت نہیں ہے بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان کمیونٹی پیرس میں ہونے والی دہشت گردی سے لاتعلقی و براءت کا اعلان کرے اور عمومی انتہا پسندی سے لاتعلقی ظاہر کرے۔

ذرائع ابلاغ کی ممتاز شخصیت رپرٹ مردوخ نے پیرس واقعے کے حوالے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے ''ممکن ہے مسلمانوں کی اکثریت پر امن ہو، لیکن جب تک وہ اپنے ہاں موجود اور پنپنے والے جہادیوں کا اعتراف نہیں کرتے اور انہیں ختم کرنے کی ذمہ داری نہیں لیتے سب مسلمانوں کو دہشت گردی کا ذمہ دار سمجھا جانا چاہیے۔'' اپنے ایک اور ٹویٹ میں یہ ممتاز دانشور یوں گویا ہوئے: ''جہادیوں کا خطرہ فلپائن، افریقا، یورپ اور امریکا تک ہر جگہ ابھر رہا ہے، سیاسی سچائی کے ذریعے ہی اس امر واقعہ کی تردید اور انکار کے ماحول سے نکلا جا سکتا ہے۔''

اس آسٹریلوی دانشور کے یہ سخت الفاظ دراصل ان بہت سارے رہنماوں کے بیانات کی ہی باز گشت ہیں جو دہشت گردی کے اس طرح کے معاملات کے بار بار سامنے آنے سے تنگ آ چکے ہیں۔ ہم ذہن میں یہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ فرانس مغربی ملکوں سے آخری قلعہ ہے جو عرب دنیا کا ہمدرد اور ''عرب کاز'' کا حامی ہے۔ یہ فرانس ہی واحد یورپی ملک ہے جس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں فلسطینی ریاست کے حق میں آنے والی قرار داد کی حمایت میں ووٹ دیا۔ یہ بھی فرانس ہی ہے جو بشار الاسد رجیم کے خلاف کھڑا ہونے والا مغربی ملک ہے اور لبنان کے وزیر اعظم رفیق الحریری کے قتل کے موقع پر اسی نے حزب اللہ کی مخالفت کی تھی۔ اسی فرانس نے شامی انقلاب کی حمایت کی۔ اس لیے کسی عرب دانشور یا صحافی کے لیے یہ قطعاً جائز نہیں کہ وہ پیرس میں ہونے والے اس جرم کا جواز پیرس کے حوالے سے ظاہر کرے۔ ایسا کرنا کسی بھی طرح دہشت گردی کا ارتکاب کرنے والوں کے جرم سے کم تر جرم نہیں ہے۔

ہمیں ضرور اس معاملے پر گول مول موقف رکھنے یا خاموش رہنے کی سنگینی کا اندازہ ہونا چاہیے۔ ہمیں ضرور علم ہونا چاہیےکہ اہل مغرب کی انیسویں صدی کے دوران اور بیسویں صدی کے پہلے نصف تک خوب تعریف کی جاتی تھی، تاہم جب جرمن عوام انتہا پسندی کی طرف مائل ہوئے اور انہوں نے نازی نظریات اختیار کیے تو اہل مغرب نے مغرب کو توڑ پھوڑ دیا اور چالیس ملین افراد ہلاک ہو گئے۔ اسی انتہا پسندی کی لہر اب مسلم دنیا میں ہے۔ اس نے دنیا کو ایک خوفناک تباہی سے دوچار کر رکھا ہے۔ یہ صورت حال دنیا کو تصادم کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ چند معزز افراد جو اس وقت اسلام اور مسلمانوں کا دفاع کرتے ہیں انہیں خاموش ہونا پڑے گا۔ اس کے مقابلے میں مسلمانوں کو کینڈے میں لانے کی اکثریتی آوازیں موثر ہو جائیں گی۔

واقعہ یہ ہے کہ دنیا سے تحمل کا خاتمہ ہو رہا ہے۔ دنیا لوگوں کو اسلام کے نام پر ذبح ہوتے دیکھ رہی ہے۔ بچوں کو اغواء ہوتے دیکھ رہی ہے۔ شمالی عراق میں خواتین کی آبروریزی بھی کی جا رہی ہے۔ اس ماحول میں اقوام مغرب خاموش نہیں رہ سکتی ہیں۔ خصوصاً جب یہ جرائم ان کے اپنے ہاں لندن، پیرس، نیویارک اور ماسکو میں ہونے لگیں گے تو ان کے لیے انہیں برداشت کرنا ممکن نہ رہے گا۔

عالمی رائے عامہ اب مسلمانوں سے نفرت کرتی ہے اور انتہا پسندوں یا عام مسلمانوں کے درمیاں امتیاز کرنے کو تیار نہیں ہے۔ یہ صورت حال سیاستدانوں کو اس امر پر مجبور کر دے گی کہ وہ تصادم کی راہ پر آ جائیں۔ اس ماحول میں میری توقع ہے کہ عربوں کے ساتھ ہمدردی رکھنے والے فراس کے موجودہ صدر فرانسو اولاند کو بھی عربوں کے لیے اپنی حمایت کی قیمت ادا کرنا پڑے گی اور ان کا جانشین کوئی ایسا ہو گا جو اسلام اور مسلمانوں کا سخت مخالف ہو گا۔

اس مرحلے پر ذمہ داری داعش یا اس محض اس کے رہنما ابوبکر البغدادی کی بنتی ہے، نہ النصرہ فرنٹ کے ابو محمد الگولانی پر عاید کی جا سکتی ہے کہ وہ مسلمانوں کے بچاو کے لیے کردار ادا کریں۔ نہ ہی انتہا پسند مبلغین پر یہ کام چھوڑا جا سکتا ہے نہ اہل صحافت اس حوالے سے متحمل ہو سکتے ہیں۔ یہ ذمہ داری سیاستدانوں پر عاید ہوتی ہے کہ اپنے اپنے ملک میں عوامی نمائندگی کی قانونی ذمہ داری انہی پر ہے۔

اس معاملے میں ہم دہشت گردانہ ذہنیت کے یہاں تک پہنچنے کی ذمہ داری اسلامی مالک سے ہونے والی فنڈنگ پر ڈال سکتے ہیں۔ اس حد تک معاملہ پہنچنے کی ذمہ داری سیاتدانوں پر ہے کہ انہوں نے ایسا کوئی قدم نہ اٹھایا جس سے اسے روک لگتی کہ وہ اپنے ملکوں مین انتہا پسندوں سے خوفزدہ رہے اور انہوں نے اس کی پروا نہ کی کہ ان کی عدم توجہی سے سرحدوں کے پار کوئی جلتا رہے گا مرتا رہے گا۔ جیسا کہ اب چارلی ہیبڈو والا واقعہ ہوا ہے۔ اس سے پہلے نائن الیون کا واقعہ ہوا تھا جس میں تین ہزار لوگ مارے گئے تھے۔ سچی بات یہ ہے کہ یہ واقعات دنیا میں وسیع پیمانے پر ہونے والے تصادم کی راہ ہموار کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں