پاکستان کو قومی اور عالمی پشت پناہی کی ضرورت ہے

اسد اللہ غالب
اسد اللہ غالب
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

پیرس میں ایک درجن لاشوں نے پوری دنیا کو فرانس کے شانہ بشانہ کھڑا کر دیا ہے، پہلے روز بھی لاکھوں کا احتجاجی جلوس نکلا، اور گزشتہ روز اس سے بھی بڑا اجتماع دیکھنے میںا ٓیا ، اس میں چالیس کے قریب عالمی رہنما بھی شامل تھے، مسلم اور غیر مسلم سبھی۔ شکر ہے کہ وہاںکسی کو یہ کہنے کا خیال بھی آیا کہ پاکستان بھی سنگین دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہے مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ چالیس عالمی رہنما تو کیا ،چار راہنما بھی اکٹھے پاکستان نہیں آئے، ہاں ابھی سولہ دسمبر کو پشاور میں ڈیڑھ سو بچوں کے سنگین سانحے کی شدت کو ہر کسی نے محسوس کیا، بھارت کے مودی اور اس کی پارلیمنٹ سے لے کر صدراوبامہ اور بان کی مون تک، مسلم راہنمائوں کی طرف سے بھی ہمدردی کے پیغامات جاری کئے گئے۔ مگر یہ معاملہ یہیں پر بس ہو گیا۔اب اکیلی فوج ہی شہید بچوں کے اقربا کے آنسو پونچھنے کے لئے رہ گئی ہے۔

عمران خان کو یہ وقت شادی کے لئے سوجھا اور زرداری اپنے دوستوں کی باراتیں بھگتا رہے ہیں۔ حکومت فضل الرحمن کے نخرے برداشت کر رہی ہے۔ان حضرت نے کوئی الٹی راہ ہی پکڑنا ہوتی ہے، انڈیا کے مسلمان الگ وطن بنا نے لگے تو ان کے والد محترم اس گناہ میں شریک نہ ہوئے اور اب اس ملک کی سلامتی کا سوال ہے تو فضل الر حمن اس گناہ کے ارتکاب کے لئے تیار نہیں ہیں۔عمران اور فضل الر حمن ایک گھاٹ پانی پینے کے لئے تیار نہیں مگر عمران اندر سے پورا فضل الرحمن ہے، اس نے اپنا ولیمہ ایک دینی مدرسے میں کیا ہے۔ اس کے حامی ا سے سادگی اور یتیم پروری کا لبادہ پہنانے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ عمران نے اپنے اس اقدام سے بتایا ہے کہ وہ دینی مدرسوں کے مسئلے پر مولانا فضل الرحمن کے ساتھ کھڑا ہے۔ قوم میں تفریق پید اکرنے کے لئے دوسری طاقتیں بھی سرگرم عمل ہیں، پیپلز پارٹی کے میاں رضا ربانی کئی دن بولتے ہی رہے مگر شاید اب زرداری صاحب کے ڈر سے خاموش ہو گئے ہیں۔ وہ ضمیر کے بوجھ سے اندر ہی اندر گھائل ہو رہے ہیں۔

نوکر شاہی باریک کام کرنے کی عادی ہے، اس نے کیلکو لیٹر پکڑے اور حکومت کو بتا دیا کہ سکولوں کی چاردیواری اونچی کرنے اور دیگر حفاظتی انتظامات کے لئے پیسہ نہیں مگر یہی نوکر شاہی پنڈی کی میٹرو بس کے لئے بجٹ کے کونے کھدرے سے اربوں روپے اکٹھے کرکے وزیراعلی کو دان کر رہی ہے۔ بہرحال سکول پھر بھی کھلے، مائوں نے بچوں کو دعائیں دے کر رخصت کیا اور نوکر شاہی کو سارا دن بددعائیں دینے میں گزارا۔ باریک کام کرنے میں زرداری بھی ماہر ہیں، وہ عمران کو نیازی کے نام سے پکارتے ہیں، ا س سے عمران کیوں چڑے گا۔ زرادری کا مقصد تو فوج کو یاد دلانا ہے کہ اس کا ایک جرنیل نیازی بھی تھا جس نے ڈھاکہ میں بھارتی جنرل اروڑہ کے سامنے سرنڈر کیا تھا مگر زرداری یہ بھول جاتے ہیں کہ سرنڈر کی ذلت میں بنیادی کردار ان کے سسر محترم نے پولینڈ کی جنگ بندی کی قرارداد پھاڑ کر ادا کیا تھا‘ یہ کام بھی اس باریکی سے کیا گیا کہ آج تک لوگ جنرل نیازی کو تو گالیاں دیتے ہیں مگر بھٹو کو نئے پاکستان کا ہیرو سمجھتے ہیں، عمران خان بھی ایک نیا پاکستان بنانے نکلا تھا۔ خدا خیر کرے، ابھی اس کے عزائم کا کچھ پتہ نہیں کہ کیا کر گزرے۔

میں نے پیرس کا ذکر کیا ہے جہاں عالمی رہنما جوق در جوق پہنچے، ایک زمانہ تھا جب پاکستان سے ایک عالمی لیڈر کا جہاز پرواز کر رہا ہوتا تھا اور دوسرے عالمی لیڈر کا جہاز رن وے پر لینڈنگ کے انتظار میں فضا میں چکر کاٹتا تھا، یہ زمانہ افغان جہاد کا تھا، ایسے لگتا تھا جیسے پوری دنیا اسلامی جہاد کے جذبوں سے سرشار ہے، وائٹ ہائوس میں پگڑیوں اور ڈاڑھیوں والوں کی آئو بھگت کی گئی، آج دنیا کے ہر ایئر پورٹ پر یہی پگڑی اور ڈاڑھی مشکوک سمجھی جاتی ہے۔

امریکہ نے وضاحت کی ہے کہ پاکستان کو ڈو مور کے لئے کہا جاتا ہے تواس کا مقصد دبائو ڈالنا نہیں بلکہ مسئلے کی سنگینی کی طرف توجہ دلانا ہے۔ امریکہ جو کہے گا‘ سچ کہے گا۔ امریکی میڈیا کھلے عام جنرل مشرف کو ڈبل گیم کے لئے مطعون کرتا رہا، اسی لئے نئی امریکی حکومت نے کیری لوگر بل منظور کیا اور دہشت گردی کی جنگ اور دیگر لوازمات کے لئے حکومت پاکستان کو براہ راست امداد دینے کا عمل ختم کر دیا‘ اب ہمارے ہاں اشتہار چھپتے ہیں، پاکستانی عوام کے لئے امریکی عوام کی طرف سے براہ راست۔

نائن الیون بہت بڑی دہشت گردی تھی، اس میں کوئی پاکستانی شامل نہیں تھا، پاکستان کی سرزمیں پر کسی نے تربیت بھی حاصل نہیں کی تھی مگر ہوا کیا کہ دہشت گردی کا سارا ملبہ پاکستان پر گرا دیا گیا، آج یوں لگتا ہے کہ پاکستان ہی دہشت گردی کاا یپی سنٹر ہے۔ڈرون کے سب سے زیادہ حملے بھی پاکستان پر ہوئے اور دہشت گردوںنے بھی خود کش حملوں کا ریکارڈ پاکستان کو نشانہ بناکر ہی قائم کیا۔حافظ سعید بہت کہتے ہیں کہ اس جنگ کو دشمن کی سرزمین پر دھکیل دو، تاکہ ہم میدان کارزار بننے سے بچ سکیں۔ضرب عضب نے اس نظریئے کی تکمیل کر دی ہے، دہشت گردوںنے سرحد پار پناہ لے لی ہے، پشاور کے دلدوز سانحہ کی سازش سرحد پار بیٹھ کرہی پروان چڑھائی گئی، ہمارے آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف فوری طور پر کابل پہنچے اور افغان حکومت کو احساس دلایا کہ وہ اپنے ہاں چھپے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کرے، لگتا ہے افغان حکومت نے سنی ان سنی کردی، آئی ایس آئی چیف کو پھر کابل جانا پڑا ، ایک بار پھر افغان حکومت نے وہی گھسا پٹا اعلامیہ جاری کر دیا کہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششیں تیز کی جائیں گی۔افغان حکومت کو آزادی عمل حاصل نہیں ، امریکہ اور نیٹو بدستور وہاں براجمان ہیں، بھارت بھی پوری پاک ا فغان سرحد پر اپنی سازشوں کا جال پھیلا چکا ہے، اس پر بھی چین نہیں تو بین الاقوامی سرحد ، ورکنگ بائونڈری اور کنٹرول لائن پر ستم ڈھا رہا ہے، اس کی کوشش ہے کہ پاک فوج دہشت گردوں پر توجہ مرکوز نہ کر سکے۔

افغانستان اور بھارت دونوں ہمارے ہمسائے ہیں، تیسرا ہمسایہ ایران ہے، تینوں نے ہماری سرحد گرم کر دی ہے، ایک ہمسایہ چین ہے جہاں دہشت گردی کرنے کے لئے ہماری سرزمین استعمال ہوتی ہے تو کونسا ہمسایہ ہمارے ساتھ ہے، باقی دنیا تو بہت دور ہے مگر چاہتی یہ ہے کہ قیام امن کا سارا بوجھ پاکستان برداشت کرے۔ بارہ برسوںمیں پاکستان ساٹھ ہزار جانوں کی قربانی دے چکا ، کھربوں کی معیشت تباہ ہو گئی،دہشت گردوں نے اب بچوں کو نشانہ بنا کر ہمارے مستقبل کو غیر محفوظ بنادیا ہے۔

دہشت گردی کی جنگ میں یہ نئی حکمت عملی بوکو حرام نے متعارف کرائی ہے، پہلے دو سو بچیوں کو اغوا کیا، اب آئے روز سکولوں سے بچے اغوا کئے جاتے ہیں، وہ کام ہمارے ہاں شروع ہو گیا ہے، آخر ہم نے ایسے ہی اپنے سارے سکول بند نہیں رکھے۔ لاہور کے کئی سکولوںکو دھمکیاں مل رہی ہیں۔ ان کے قرب و جوار میں دہشت گردوں نے اڈے بنا لئے ہیں۔ حکومت کہتی ہے کہ کرایہ داروں کی فہرست دو مگر کیا مجال جو کسی پراپرٹی ڈیلر نے ابھی تک ایک بھی کرایہ دار سے حکومت کو مطلع کیا ہو۔ پراپرٹی ڈیلر سمجھتے ہیں کہ اگر وہ مخبر بن گئے تو ان کا کاروبار ٹھپ ہو جائے گا۔ اور مکان براہ راست کرائے پر چڑھنے لگیں گے۔ پنڈ ارائیاں میں ایسے ہی کرایہ داروں نے قیامت برپا کی تھی اور کسی روز پتہ چل جائے گا کہ پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملہ کرنے والے دہشتگرد کس قریبی محلے میں گھات لگا کر بیٹھے رہے۔ وہ اڑن طشتریوں پر تو جائے واردات پر نہیں پہنچتے۔ ان عناصر پر ہمیں نظر رکھنا ہو گی اور اور ان کے اندرونی سرپرستوں کو بھی بے نقاب کرنا ہو گا‘ انہیں اگر عالمی شہہ حاصل ہے تو دنیا کو بھی ہماری مدد کے لئے آگے بڑھناہو گا، یہ ہماری مدد نہیں ، خود دنیا میں قیام امن کو یقینی بنانے کے لئے ضروری ہے۔ پیرس میں اکٹھے ہونے والے عالمی لیڈر ایک درجن لاشوں پر آنسو بہانے سے فارغ ہو لیں توہمارے ساٹھ ہزار شہیدوں کا شاہنامہ پڑھنے کے لئے بھی پاکستان آئیں۔ انہیں ہمارے ساتھ کھڑے نظر آنا چاہئے۔ ہمیں یکہ و تنہا چھوڑنے سے تو امن قائم نہیں ہو گا۔

بشکریہ روزنامہ"نوائے وقت"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں